Wednesday, October 28, 2026
FB
تازہ ترین

پاکستان میں ڈینگی کیسز میں 11 سال کے دوران 3,000 فیصد سے زیادہ اضافہ

نئی تحقیق کے مطابق پاکستان میں 2012 سے 2022 کے دوران ڈینگی کیسز میں 3,000 فیصد سے زیادہ اضافہ ہوا، کیسز کا تخمینہ ایک لاکھ سے بڑھ کر 32 لاکھ 80 ہزار تک پہنچ گیا۔

پاکستان میں ڈینگی کیسز میں 11 سال کے دوران 3,000 فیصد سے زیادہ اضافہ

پاکستان میں ڈینگی کیسز میں 11 سال کے دوران 3,000 فیصد سے زیادہ اضافہ، نئی تحقیق نے خطرے کی گھنٹی بجا دی

اسلام آباد: پاکستان میں ڈینگی بخار کے پھیلاؤ کے حوالے سے ایک نئی تحقیق نے تشویشناک صورتحال کی نشاندہی کی ہے۔ تحقیق کے مطابق ملک میں ڈینگی کے کیسز میں 2012 سے 2022 کے دوران 3,000 فیصد سے زیادہ اضافہ ہوا، جس سے یہ بیماری پاکستان کے لیے ایک مسلسل اور بڑھتا ہوا عوامی صحت کا مسئلہ بن کر سامنے آئی ہے۔

تحقیق میں دستیاب اعداد و شمار اور تخمینوں کا جائزہ لیتے ہوئے بتایا گیا ہے کہ پاکستان میں ڈینگی کیسز کی تعداد 2012 میں تقریباً ایک لاکھ تھی، جو 2022 تک بڑھ کر اندازاً 32 لاکھ 80 ہزار تک پہنچ گئی۔ اس حساب سے 11 سال کے عرصے میں ڈینگی کے بوجھ میں غیر معمولی اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔

یہ اعداد و شمار صرف بیماری کے پھیلاؤ میں اضافے کی نشاندہی نہیں کرتے بلکہ پاکستان کے شہری علاقوں، صحت کے نظام، ماحولیاتی انتظام اور ڈینگی کی روک تھام کے موجودہ طریقہ کار کے لیے بھی اہم سوالات پیدا کرتے ہیں۔

11 سال میں ڈینگی کا پھیلاؤ کئی گنا بڑھ گیا

تحقیق کے مطابق 2012 میں پاکستان میں ڈینگی کیسز کی تعداد تقریباً ایک لاکھ کے قریب تھی۔ ایک دہائی بعد 2022 میں یہ تعداد اندازاً 32 لاکھ 80 ہزار تک پہنچ گئی۔

اعداد و شمار کا یہ فرق ظاہر کرتا ہے کہ ڈینگی کا مسئلہ محض موسمی بیماری تک محدود نہیں رہا بلکہ وقت کے ساتھ اس کا دائرہ وسیع ہوتا گیا ہے۔

محققین نے 11 سال کے عرصے میں بیماری کے رجحانات کا جائزہ لیا اور ملک میں ڈینگی کے پھیلاؤ کی زمانی اور جغرافیائی صورتحال کو سمجھنے کی کوشش کی۔ تحقیق کا مقصد یہ جاننا بھی تھا کہ پاکستان میں ڈینگی کی موجودگی کس طرح تبدیل ہوئی اور کن عوامل نے اس کے بڑھتے ہوئے بوجھ میں کردار ادا کیا۔

3,000 فیصد سے زیادہ اضافہ کیوں اہم ہے؟

ڈینگی کیسز میں 3,000 فیصد سے زیادہ اضافے کا ذکر اس لیے اہم ہے کہ یہ ایک طویل مدتی رجحان کی طرف اشارہ کرتا ہے۔

اگر کسی بیماری کے کیسز چند سال کے دوران مسلسل بڑھتے رہیں تو اس کا مطلب یہ ہوسکتا ہے کہ بیماری کی روک تھام کے لیے موجود نظام کو نئے حالات کے مطابق مزید مؤثر بنانے کی ضرورت ہے۔

پاکستان میں ڈینگی کے لیے عموماً مون سون اور اس کے بعد کا موسم زیادہ حساس سمجھا جاتا ہے، کیونکہ بارشوں کے بعد کھڑا پانی مچھروں کی افزائش کے لیے موزوں ماحول پیدا کرسکتا ہے۔ تاہم ڈینگی کا پھیلاؤ صرف ایک موسم تک محدود نہیں رہتا اور شہری ماحول، درجہ حرارت، بارشوں کے پیٹرن اور صفائی کی صورتحال بھی اس کے خطرے کو متاثر کرسکتی ہے۔

تحقیق میں 32 لاکھ 80 ہزار کیسز کا تخمینہ

تحقیق کی ایک اہم بات یہ ہے کہ 2022 کے لیے تقریباً 32 لاکھ 80 ہزار ڈینگی کیسز کا تخمینہ دیا گیا ہے۔

یہاں یہ وضاحت ضروری ہے کہ تحقیق میں استعمال ہونے والی یہ تعداد رپورٹ شدہ لیبارٹری سے تصدیق شدہ کیسز کی سادہ گنتی کے برابر نہیں ہے۔ خبر میں بیان کیے جانے والے تخمینے کو تحقیق کے ماڈل اور دستیاب معلومات کے تناظر میں سمجھنا چاہیے۔

پاکستان میں ڈینگی کے بہت سے کیسز طبی مراکز تک پہنچنے سے پہلے ہی غیر رپورٹ رہ سکتے ہیں، جبکہ بعض مریضوں میں بیماری کی شدت کم ہونے کی وجہ سے باقاعدہ تشخیص بھی نہیں ہو پاتی۔

اسی لیے وبائی امراض کے ماہرین بعض اوقات سرکاری طور پر رپورٹ ہونے والے کیسز سے زیادہ وسیع تخمینے استعمال کرتے ہیں تاکہ بیماری کے حقیقی بوجھ کا اندازہ لگایا جاسکے۔

ڈینگی صرف ایک شہر یا صوبے کا مسئلہ نہیں

پاکستان میں ڈینگی کو ماضی میں خاص طور پر پنجاب اور بڑے شہری مراکز کے حوالے سے زیادہ نمایاں کیا جاتا رہا ہے، لیکن وقت کے ساتھ ملک کے مختلف علاقوں میں اس بیماری کی موجودگی سامنے آتی رہی ہے۔

شہری آبادی میں اضافہ، آبادی کا بے ہنگم پھیلاؤ، پانی کے جمع ہونے کے مقامات، ناقص نکاسی آب اور ماحولیاتی تبدیلیاں مچھروں کے لیے سازگار حالات پیدا کرسکتی ہیں۔

اس صورتحال میں ڈینگی کی روک تھام کے لیے صرف کسی ایک شہر میں مچھر مار اسپرے یا عارضی مہم کافی نہیں ہوسکتی۔ مستقل نگرانی، صفائی، پانی کے ذخائر کا مناسب انتظام اور عوامی آگاہی بھی ضروری عناصر ہیں۔

شہری علاقوں میں خطرہ کیوں بڑھ سکتا ہے؟

ڈینگی پھیلانے والا مچھر عموماً ایسے ماحول میں افزائش پاتا ہے جہاں صاف یا نسبتاً صاف پانی تھوڑی مقدار میں جمع ہو۔

گھروں کی چھتوں، گملوں، پرانے ٹائروں، پانی کی ٹنکیوں، تعمیراتی مقامات، کھلے برتنوں اور دیگر مقامات پر جمع پانی مچھروں کی افزائش کا سبب بن سکتا ہے۔

بڑے شہروں میں آبادی کا زیادہ ارتکاز اور تعمیراتی سرگرمیاں اس مسئلے کو مزید پیچیدہ بنا سکتی ہیں۔

اگر بارش کے بعد پانی کئی دن تک کھڑا رہے اور اسے بروقت ختم نہ کیا جائے تو مچھروں کی افزائش کے امکانات بڑھ سکتے ہیں۔

موسمی تبدیلی بھی اہم عنصر بن سکتی ہے

پاکستان میں موسمی حالات میں تبدیلی بھی مچھروں سے پھیلنے والی بیماریوں کے لیے اہم معاملہ بنتی جارہی ہے۔

درجہ حرارت، بارشوں کے دورانیے اور نمی میں تبدیلی مچھروں کے افزائش کے ماحول اور بیماری کے پھیلاؤ کے انداز کو متاثر کرسکتی ہے۔

اس کا مطلب یہ ہے کہ ڈینگی سے نمٹنے کے لیے صحت کے اداروں کو صرف روایتی موسمی کیلنڈر پر انحصار کرنے کے بجائے موسم اور بیماری کے اعداد و شمار کی بنیاد پر زیادہ متحرک نگرانی کرنا ہوگی۔

اگر کسی علاقے میں بارشوں کے بعد مچھروں کی افزائش کے امکانات بڑھ رہے ہوں تو وہاں حفاظتی اقدامات پہلے ہی شروع کیے جاسکتے ہیں۔

2022 میں ڈینگی کا بڑا دباؤ سامنے آیا

پاکستان میں 2022 کا سال بھی ڈینگی کے حوالے سے اہم رہا۔ اسی سال ملک کے مختلف حصوں میں سیلاب اور شدید بارشوں نے صحت عامہ کے نظام کو بھی متاثر کیا۔

عالمی ادارہ صحت کے مطابق یکم جنوری سے 27 ستمبر 2022 کے درمیان پاکستان میں 25,932 تصدیق شدہ ڈینگی کیسز اور 62 اموات رپورٹ ہوئی تھیں۔ یہ تعداد رپورٹ شدہ اور تصدیق شدہ کیسز سے متعلق تھی، جو وسیع تر تخمینوں سے مختلف ہوسکتی ہے۔

یہ فرق اس بات کو سمجھنے کے لیے اہم ہے کہ سرکاری طور پر رپورٹ ہونے والے کیسز اور ماڈل یا تحقیقی تخمینوں کے درمیان نمایاں فرق کیوں ہوسکتا ہے۔

سیلاب اور کھڑا پانی بھی بڑا چیلنج

پاکستان میں 2022 کے تباہ کن سیلاب کے بعد کئی علاقوں میں پانی کے بڑے ذخائر اور نکاسی آب کے مسائل پیدا ہوئے تھے۔

ایسے حالات میں مچھروں کی افزائش کے لیے موزوں ماحول پیدا ہونے کا خطرہ بڑھ سکتا ہے، جبکہ دوسری طرف سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں صحت کے بنیادی ڈھانچے پر پہلے ہی اضافی دباؤ موجود ہوتا ہے۔

اس صورتحال میں ڈینگی سمیت مختلف مچھروں سے پھیلنے والی بیماریوں کی نگرانی زیادہ اہم ہوجاتی ہے۔

تاہم ڈینگی کے طویل مدتی اضافے کو صرف سیلاب سے جوڑنا درست نہیں ہوگا۔ تحقیق میں 11 سالہ رجحان کا جائزہ لیا گیا ہے، جس میں مختلف برسوں کے متعدد عوامل شامل ہوسکتے ہیں۔

ڈینگی کے پھیلاؤ میں صفائی کا کردار

ڈینگی پر قابو پانے کے لیے صفائی ستھرائی کا نظام بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔

اگر شہری علاقوں میں کوڑا کرکٹ، پانی کے برتن، پرانے ٹائر اور دیگر ایسی اشیا کھلے میں موجود رہیں جہاں پانی جمع ہوسکتا ہو تو مچھروں کی افزائش کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔

اسی طرح نالیوں اور گٹروں کے اردگرد صفائی کا فقدان بھی مجموعی ماحولیاتی صورتحال کو خراب کرسکتا ہے۔

ماہرین صحت عام طور پر اس بات پر زور دیتے ہیں کہ ڈینگی کی روک تھام صرف اسپتالوں یا محکمہ صحت کی ذمہ داری نہیں بلکہ شہری انتظامیہ، بلدیاتی اداروں اور عام شہریوں کی مشترکہ ذمہ داری بھی ہے۔

صرف اسپرے سے مسئلہ حل نہیں ہوگا

ڈینگی کے خلاف کارروائی میں مچھر مار اسپرے اہم کردار ادا کرسکتا ہے، لیکن صرف اسپرے کو مستقل حل سمجھنا مؤثر حکمت عملی نہیں ہوسکتی۔

اگر مچھروں کی افزائش کے مقامات ختم نہ کیے جائیں تو کچھ عرصے بعد دوبارہ مچھروں کی تعداد بڑھ سکتی ہے۔

اسی لیے ڈینگی کنٹرول پروگرام میں لاروا کی نگرانی، افزائش کے مقامات کا خاتمہ، صفائی، پانی کے ذخائر کا انتظام، بروقت تشخیص اور عوامی آگاہی جیسے اقدامات کو ایک ساتھ چلانا ضروری ہوتا ہے۔

عوامی آگاہی سب سے اہم ہتھیار

ڈینگی کے خلاف جنگ میں عوامی آگاہی بنیادی کردار ادا کرتی ہے۔

لوگ اگر اپنے گھروں اور اردگرد کے ماحول میں پانی جمع نہ ہونے دیں تو مچھروں کی افزائش کے کئی ممکنہ مقامات ختم کیے جاسکتے ہیں۔

گھروں میں پانی کی ٹنکیوں کو ڈھانپنا، گملوں اور دیگر برتنوں میں کھڑا پانی ختم کرنا، پرانے ٹائر اور ایسی اشیا مناسب طریقے سے ٹھکانے لگانا جن میں پانی جمع ہوسکتا ہے، بنیادی احتیاطی اقدامات میں شامل ہیں۔

اسی طرح بخار کی صورت میں خود سے دوا لینے کے بجائے طبی مشورہ لینا بھی ضروری ہے، خاص طور پر ایسے علاقوں میں جہاں ڈینگی کے کیسز رپورٹ ہورہے ہوں۔

ڈینگی کی علامات پر توجہ ضروری

ڈینگی میں بخار، شدید جسمانی درد، سر درد، آنکھوں کے پیچھے درد، متلی، الٹی اور بعض صورتوں میں جلد پر دانے جیسی علامات سامنے آسکتی ہیں۔

ہر بخار کو ڈینگی سمجھنا درست نہیں، لیکن ڈینگی والے علاقے میں بخار ہونے کی صورت میں طبی معائنہ ضروری ہوسکتا ہے۔

بیماری کی شدت بعض مریضوں میں بڑھ سکتی ہے، اس لیے خطرے کی علامات کو نظر انداز نہیں کرنا چاہیے۔

شدید پیٹ درد، بار بار الٹی، خون آنا، غیر معمولی کمزوری یا دیگر تشویشناک علامات کی صورت میں فوری طبی امداد حاصل کرنا ضروری ہے۔

صحت کے نظام پر بڑھتا ہوا دباؤ

ڈینگی کیسز میں اضافہ صرف مریضوں کی تعداد بڑھنے کا مسئلہ نہیں بلکہ صحت کے پورے نظام پر دباؤ ڈال سکتا ہے۔

اگر کسی شہر میں ایک ہی وقت میں بڑی تعداد میں مریض اسپتالوں اور کلینکس کا رخ کریں تو بستروں، طبی عملے، ٹیسٹنگ، ادویات اور نگرانی کی سہولیات پر اضافی دباؤ پڑتا ہے۔

اس لیے وبا آنے کے بعد ردعمل دینے کے بجائے پہلے سے تیاری کرنا زیادہ مؤثر حکمت عملی ہوسکتی ہے۔

ہسپتالوں کو ایسے موسم سے پہلے اپنی صلاحیت کا جائزہ لینا، طبی عملے کو ضروری رہنمائی فراہم کرنا اور تشخیصی سہولیات کو فعال رکھنا ضروری ہوسکتا ہے۔

ڈینگی کی نگرانی مزید مضبوط بنانے کی ضرورت

نئی تحقیق پاکستان میں ڈینگی کے طویل مدتی رجحان کی طرف توجہ دلاتی ہے، اس لیے بیماری کی نگرانی کے نظام کو مزید مضبوط بنانے کی ضرورت محسوس ہوتی ہے۔

اگر کسی علاقے میں کیسز بڑھ رہے ہوں تو صحت کے اداروں کو اس رجحان کی بروقت نشاندہی ہونی چاہیے۔

مؤثر نگرانی کے ذریعے یہ معلوم کیا جاسکتا ہے کہ کون سے علاقے زیادہ متاثر ہورہے ہیں، کس عمر کے افراد زیادہ متاثر ہیں اور بیماری کا پھیلاؤ کس موسم میں تیز ہوتا ہے۔

ایسے اعداد و شمار حکومتی اداروں کو وسائل زیادہ مؤثر انداز میں استعمال کرنے میں مدد دے سکتے ہیں۔

تحقیق نے پالیسی سازوں کے لیے اہم سوالات اٹھا دیے

ڈینگی کیسز میں طویل مدت کے دوران اتنا بڑا اضافہ پالیسی سازوں کے لیے ایک اہم سوال ہے کہ موجودہ روک تھام کی حکمت عملی کو مزید مؤثر کیسے بنایا جائے۔

اگر بیماری کا دائرہ مسلسل بڑھ رہا ہے تو صرف ہنگامی اقدامات کے بجائے طویل مدتی منصوبہ بندی کی ضرورت ہوگی۔

اس میں شہری منصوبہ بندی، نکاسی آب، صفائی، موسمی نگرانی، صحت کے بجٹ، بیماری کی تشخیص اور عوامی آگاہی سب شامل ہیں۔

مقامی حکومتوں کا کردار

ڈینگی کی روک تھام میں مقامی حکومتوں کا کردار بھی انتہائی اہم ہوسکتا ہے۔

گلیوں اور محلوں میں صفائی، پانی کی نکاسی، کچرے کو بروقت اٹھانا اور ایسے مقامات کی نشاندہی جہاں مچھروں کی افزائش ہوسکتی ہے، مقامی سطح پر کیے جانے والے بنیادی اقدامات ہیں۔

اگر شہری ادارے بیماری کے سیزن سے پہلے ہی ان علاقوں کی نشاندہی کرلیں جہاں پانی جمع ہونے کا امکان زیادہ ہے تو ڈینگی کے خطرے کو کم کرنے کے لیے پیشگی کارروائی کی جاسکتی ہے۔

شہریوں کی ذمہ داری بھی کم نہیں

حکومت اور محکمہ صحت کے اقدامات اپنی جگہ، لیکن ڈینگی پر قابو پانے کے لیے شہریوں کا تعاون بھی ضروری ہے۔

گھر کے اندر اور باہر پانی جمع ہونے سے روکنا ایک ایسا اقدام ہے جس کے لیے بڑے سرکاری بجٹ کی ضرورت نہیں بلکہ مستقل احتیاط کی ضرورت ہے۔

اسی طرح اگر کسی محلے میں کھلا پانی، کچرا یا مچھروں کی افزائش کے ممکنہ مقامات موجود ہوں تو متعلقہ بلدیاتی اداروں کو اطلاع دینا بھی شہری ذمہ داری کا حصہ بن سکتا ہے۔

پاکستان کے لیے طویل مدتی چیلنج

ڈینگی کیسز میں 11 سال کے دوران نمایاں اضافہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ پاکستان کو اس بیماری کے بارے میں طویل مدتی حکمت عملی اختیار کرنے کی ضرورت ہے۔

موسمی مہمات وقتی طور پر مددگار ہوسکتی ہیں، لیکن اگر شہری ماحول، نکاسی آب، صفائی اور بیماری کی نگرانی کے بنیادی مسائل برقرار رہیں تو ہر سال نئے چیلنجز پیدا ہوسکتے ہیں۔

اسی لیے ڈینگی کو صرف صحت کا مسئلہ سمجھنے کے بجائے اسے شہری منصوبہ بندی، ماحولیات اور عوامی صحت کے مشترکہ مسئلے کے طور پر دیکھنے کی ضرورت ہے۔

تحقیق کے اعداد و شمار کو سمجھنا کیوں ضروری ہے؟

تحقیق میں 2012 سے 2022 کے درمیان کیسز میں 3,000 فیصد سے زیادہ اضافے کا ذکر ایک اہم طویل مدتی رجحان کے طور پر سامنے آیا ہے، لیکن ان اعداد و شمار کو موجودہ 2026 کے کیسز کی تعداد سمجھنا درست نہیں ہوگا۔

تحقیق کا تجزیہ 11 سال کے عرصے تک محدود ہے اور 2022 تک کے تخمینوں پر مبنی ہے۔

لہٰذا موجودہ سال میں ڈینگی کی حقیقی صورتحال جاننے کے لیے تازہ سرکاری اور صحت کے اداروں کے اعداد و شمار کو الگ سے دیکھنا ضروری ہوگا۔

یہ فرق خبر کی درست رپورٹنگ کے لیے بھی اہم ہے تاکہ عوام کو تحقیق کے نتائج اور موجودہ وبائی صورتحال کے درمیان واضح فرق معلوم رہے۔

خلاصہ

پاکستان میں ڈینگی کے بڑھتے ہوئے خطرے کے حوالے سے نئی تحقیق نے اہم اور تشویشناک اعداد و شمار سامنے رکھے ہیں۔ تحقیق کے مطابق 2012 سے 2022 کے دوران پاکستان میں ڈینگی کیسز میں 3,000 فیصد سے زیادہ اضافہ ہوا، جبکہ کیسز کی تخمینی تعداد تقریباً ایک لاکھ سے بڑھ کر 2022 میں 32 لاکھ 80 ہزار تک پہنچ گئی۔

تحقیق پاکستان میں ڈینگی کے 11 سالہ زمانی اور جغرافیائی رجحانات کا جائزہ پیش کرتی ہے اور اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ بیماری کا بوجھ وقت کے ساتھ نمایاں طور پر بڑھا ہے۔

ماہرین اور متعلقہ اداروں کے لیے یہ صورتحال اس بات کی ضرورت اجاگر کرتی ہے کہ ڈینگی کی روک تھام کے لیے صرف موسمی مہمات پر انحصار کرنے کے بجائے مسلسل نگرانی، صفائی، نکاسی آب، مچھروں کی افزائش گاہوں کے خاتمے، عوامی آگاہی اور بروقت طبی سہولیات کو ایک مربوط حکمت عملی کا حصہ بنایا جائے۔

عوام کے لیے بھی ضروری ہے کہ گھروں اور اردگرد کے ماحول میں پانی جمع نہ ہونے دیں، صفائی کا خیال رکھیں اور ڈینگی کی ممکنہ علامات کی صورت میں بروقت طبی مشورہ حاصل کریں۔

سب سے اہم بات یہ ہے کہ تحقیق میں بیان کیا گیا 3,000 فیصد سے زیادہ اضافہ 2012 سے 2022 کے عرصے کے تخمینوں سے متعلق ہے، اسے 2026 میں رپورٹ ہونے والے موجودہ کیسز کی تعداد قرار نہیں دیا جاسکتا۔

Ammar abbas

Ammar abbas

چیف ایگزیکٹو آفیسر – دی پاک گلوبل اردو نیٹ ورک

# Ammar Abbas — صحافت سے CEO تک کامیابی کا سفر **عمار عباس** ایک باصلاحیت، متحرک اور وژن رکھنے والے صحافی ہیں، جنہوں نے صحافت کے میدان سے اپنے پیشہ ورانہ سفر کا آغاز کیا اور اپنی محنت، صلاحیتوں اور...

💬 تبصرے (0)

اپنا تبصرہ لکھیں

ابھی تک کوئی تبصرہ نہیں۔ پہلے تبصرہ کرنے والے بنیں!