Friday, September 25, 2026
FB
تازہ ترین

پولیو مہم کے پہلے تین روز 2 کروڑ 41 لاکھ بچوں کو ویکسین پلا دی گئی

پاکستان میں جاری خصوصی انسدادِ پولیو مہم کے پہلے تین روز کے دوران تقریباً 2 کروڑ 41 لاکھ بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلائے گئے۔ قومی ایمرجنسی آپریشن سینٹر کے مطابق 21 سے 27 ستمبر تک جاری مہم میں پانچ سال سے کم عمر 3 کروڑ 10 لاکھ سے زائد بچوں کو ویکسین دینے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔

پولیو مہم کے پہلے تین روز 2 کروڑ 41 لاکھ بچوں کو ویکسین پلا دی گئی

پاکستان میں جاری ذیلی قومی انسدادِ پولیو مہم کے پہلے تین روز کے دوران تقریباً 2 کروڑ 41 لاکھ بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلا دیے گئے ہیں۔ قومی ایمرجنسی آپریشن سینٹر کے مطابق ملک کے منتخب اضلاع میں جاری اس مہم کا مقصد پانچ سال سے کم عمر بچوں کو پولیو وائرس سے محفوظ بنانا ہے۔

ستمبر کی یہ خصوصی مہم 21 سے 27 ستمبر تک جاری ہے اور اس کے دوران ملک کے 115 مخصوص اضلاع میں 3 کروڑ 10 لاکھ سے زائد بچوں تک رسائی کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔ مہم کے لیے 2 لاکھ 73 ہزار سے زائد تربیت یافتہ فرنٹ لائن ورکرز خدمات انجام دے رہے ہیں۔

پہلے تین روز میں 2 کروڑ 41 لاکھ بچوں کی ویکسینیشن

قومی ایمرجنسی آپریشن سینٹر کے مطابق مہم کے ابتدائی تین دنوں میں تقریباً 24.1 ملین یعنی 2 کروڑ 41 لاکھ بچوں کو پولیو ویکسین دی گئی۔ یہ تعداد مہم کے لیے مقرر کیے گئے مجموعی ہدف کا بڑا حصہ بنتی ہے، جبکہ مہم کے باقی دنوں میں بھی پولیو ٹیمیں بچوں تک رسائی جاری رکھیں گی۔

حکام نے والدین اور بچوں کی دیکھ بھال کرنے والے افراد پر زور دیا ہے کہ پانچ سال سے کم عمر ہر بچے کو مہم کے دوران پولیو سے بچاؤ کے قطرے ضرور پلائے جائیں، چاہے بچے کو پہلے بھی پولیو ویکسین کی متعدد خوراکیں دی جا چکی ہوں۔

پنجاب، سندھ اور خیبر پختونخوا میں ویکسینیشن

قومی ایمرجنسی آپریشن سینٹر کے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق پہلے تین روز میں پنجاب کے منتخب اضلاع میں تقریباً 67 لاکھ 86 ہزار بچوں کو پولیو کے قطرے پلائے گئے۔

سندھ کے 30 منتخب اضلاع میں تقریباً 85 لاکھ 98 ہزار بچوں کی ویکسینیشن کی گئی، جبکہ خیبر پختونخوا کے 37 اضلاع میں تقریباً 63 لاکھ 55 ہزار بچوں کو پولیو سے بچاؤ کی ویکسین دی گئی۔

بلوچستان کے 32 منتخب اضلاع میں 18 لاکھ 41 ہزار سے زائد بچوں کو قطرے پلائے گئے۔ اسلام آباد میں 4 لاکھ 8 ہزار سے زائد جبکہ گلگت بلتستان کے دو منتخب اضلاع میں تقریباً ایک لاکھ 25 ہزار بچوں کو ویکسین دی گئی۔

گھر گھر پہنچ رہی ہیں پولیو ٹیمیں

مہم کے دوران پولیو ورکرز گھر گھر جا کر پانچ سال سے کم عمر بچوں کو ویکسین پلا رہے ہیں۔ اس کے علاوہ مختلف مقررہ مقامات پر بھی بچوں کو قطرے پلانے کے انتظامات کیے گئے ہیں تاکہ ایسے بچوں تک بھی رسائی ممکن بنائی جا سکے جو گھروں پر موجود نہ ہوں۔

پولیو پروگرام کے مطابق مہم میں ہائی رسک اور ہاٹ اسپاٹ علاقوں پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے، جہاں پولیو وائرس کی منتقلی کا خطرہ نسبتاً زیادہ ہے۔

مہم کا مجموعی ہدف کیا ہے؟

ستمبر کی ذیلی قومی انسدادِ پولیو مہم کے دوران ملک کے 115 ہائی رسک اضلاع میں پانچ سال سے کم عمر 3 کروڑ 10 لاکھ سے زائد بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔

یہ مہم بلوچستان، گلگت بلتستان، اسلام آباد، خیبر پختونخوا، پنجاب اور سندھ میں جاری ہے۔ پاکستان انسدادِ پولیو پروگرام کے مطابق مہم کو افغانستان میں جاری پولیو ویکسینیشن سرگرمیوں کے ساتھ بھی ہم آہنگ کیا گیا ہے تاکہ سرحدی خطے میں وائرس کی منتقلی روکنے کی کوششوں کو مؤثر بنایا جا سکے۔

پاکستان میں پولیو کی موجودہ صورتحال

پاکستان میں رواں سال پولیو کے چار تصدیق شدہ کیسز رپورٹ ہو چکے ہیں۔ سرکاری پولیو پروگرام کے مطابق ان میں تین کیسز خیبر پختونخوا اور ایک سندھ سے رپورٹ ہوا ہے۔

پولیو حکام کا کہنا ہے کہ بچوں میں وائرس کی موجودگی اور ماحولیاتی نمونوں میں وائرس کی نشاندہی اس بات کی اہمیت کو ظاہر کرتی ہے کہ ویکسینیشن کوریج برقرار رکھی جائے اور وائرس کی نگرانی کا نظام مؤثر بنایا جائے۔

وفاقی حکومت کے مطابق 2026 میں پولیو کیسز کی تعداد گزشتہ برسوں کے مقابلے میں کم ہوئی ہے، تاہم وائرس کی منتقلی مکمل طور پر رکنے تک ویکسینیشن اور نگرانی کی سرگرمیاں جاری رکھنا ضروری قرار دیا گیا ہے۔

والدین سے پولیو ٹیموں سے تعاون کی اپیل

پولیو حکام نے والدین اور بچوں کی دیکھ بھال کرنے والے افراد سے اپیل کی ہے کہ وہ اپنے پانچ سال سے کم عمر بچوں کو مہم کے دوران پولیو کے قطرے ضرور پلوائیں۔

حکام کے مطابق پولیو سے بچاؤ کے قطرے بار بار پلانا بچوں میں وائرس کے خلاف تحفظ مضبوط کرنے میں مدد دیتا ہے۔ اس لیے مہم کے دوران ان بچوں کو بھی دوبارہ قطرے پلانا ضروری قرار دیا گیا ہے جنہیں پہلے پولیو ویکسین دی جا چکی ہو۔

پولیو کے خاتمے کے لیے مسلسل ویکسینیشن کیوں ضروری ہے؟

پولیو ایک انتہائی متعدی بیماری ہے جو بالخصوص پانچ سال سے کم عمر بچوں کو متاثر کر سکتی ہے اور اعصابی نظام کو نقصان پہنچا کر مستقل معذوری کا سبب بن سکتی ہے۔ پولیو کا کوئی مخصوص علاج موجود نہیں، تاہم ویکسینیشن بیماری سے تحفظ کا مؤثر ذریعہ ہے۔

پاکستان اور افغانستان دنیا کے ان ممالک میں شامل ہیں جہاں جنگلی پولیو وائرس کی منتقلی اب بھی موجود ہے۔ اسی وجہ سے پاکستان میں بار بار انسدادِ پولیو مہمات کے ذریعے زیادہ سے زیادہ بچوں تک پہنچنے کی کوشش کی جاتی ہے۔

مہم کے باقی دنوں میں بھی ویکسینیشن جاری

پہلے تین روز میں 2 کروڑ 41 لاکھ بچوں کو ویکسین پلائے جانے کے باوجود مہم کا ہدف مکمل طور پر حاصل نہیں ہوا۔ 21 سے 27 ستمبر تک جاری مہم کے باقی دنوں میں بھی پولیو ٹیمیں مقررہ اضلاع میں بچوں تک پہنچنے کی کوشش جاری رکھیں گی۔

حکام نے خاص طور پر ایسے بچوں تک رسائی پر توجہ دینے کی ہدایت کی ہے جو کسی وجہ سے ابتدائی دنوں میں ویکسین سے محروم رہ گئے ہوں۔

پولیو پروگرام کے مطابق ہر مہم میں زیادہ سے زیادہ بچوں تک پہنچنا اور حفاظتی خلا کو ختم کرنا وائرس کی منتقلی روکنے کے لیے اہم ہے۔

نتیجہ

پاکستان میں جاری انسدادِ پولیو مہم کے پہلے تین روز میں تقریباً 2 کروڑ 41 لاکھ بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلائے گئے ہیں۔ 3 کروڑ 10 لاکھ سے زائد بچوں کے مقررہ ہدف کے حصول کے لیے مہم 27 ستمبر تک جاری رہے گی، جبکہ حکام نے والدین سے پانچ سال سے کم عمر بچوں کو لازماً پولیو کے قطرے پلوانے اور پولیو ٹیموں سے تعاون کرنے کی اپیل کی ہے۔

Ammar abbas

Ammar abbas

چیف ایگزیکٹو آفیسر – دی پاک گلوبل اردو نیٹ ورک

# Ammar Abbas — صحافت سے CEO تک کامیابی کا سفر **عمار عباس** ایک باصلاحیت، متحرک اور وژن رکھنے والے صحافی ہیں، جنہوں نے صحافت کے میدان سے اپنے پیشہ ورانہ سفر کا آغاز کیا اور اپنی محنت، صلاحیتوں اور...

💬 تبصرے (0)

اپنا تبصرہ لکھیں

ابھی تک کوئی تبصرہ نہیں۔ پہلے تبصرہ کرنے والے بنیں!