نوشہرہ میں چکن گنیا کا پھیلاؤ، محکمہ صحت متحرک، 200 سے زائد مشتبہ مریض سامنے آ گئے
نوشہرہ: خیبر پختونخوا کے ضلع نوشہرہ کے علاقے زیارت کاکا صاحب اور سپین کانڑی میں چکن گنیا کے پھیلاؤ کی اطلاعات کے بعد محکمہ صحت متحرک ہوگیا ہے۔ گزشتہ چند روز کے دوران 200 سے زائد مشتبہ مریض سامنے آنے کی اطلاع ہے، جبکہ مکمل طبی جانچ کے بعد 6 کیسز میں چکن گنیا کی تصدیق کی گئی ہے۔
صوبائی وزیر صحت خلیق الرحمان نے صورتحال کا فوری نوٹس لیتے ہوئے ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر نوشہرہ اور متعلقہ محکمہ صحت کے افسران کو ہنگامی بنیادوں پر مؤثر اقدامات کرنے کی ہدایت کی ہے۔ وزیر صحت کی ہدایات پر ڈی ایچ او نوشہرہ متاثرہ علاقے میں موجود کیٹیگری ڈی ہسپتال پہنچے اور وہاں طبی سہولیات اور صورتحال کا جائزہ لیا۔
محکمہ صحت کی ٹیمیں متاثرہ علاقوں میں پہنچ گئی ہیں اور مچھروں کی افزائش اور بیماری کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے اسپرے کا عمل شروع کر دیا گیا ہے۔ سرکاری ہدایات کے مطابق ہسپتال میں ضروری ادویات، ویکسینز، ڈاکٹروں، نرسز اور دیگر طبی عملے کی دستیابی یقینی بنانے کے اقدامات بھی کیے جا رہے ہیں۔
محکمہ صحت کی ٹیمیں متاثرہ آبادی میں گھر گھر جا کر ضروری ادویات فراہم کر رہی ہیں جبکہ شہریوں کو مچھروں سے بچاؤ کے لیے مچھر دانیاں بھی تقسیم کی جا رہی ہیں۔ حکام نے علاقے کی مسلسل نگرانی اور بیماری کے مزید پھیلاؤ کو روکنے کے لیے حفاظتی اقدامات جاری رکھنے کی ہدایت کی ہے۔
صوبائی وزیر صحت کے مطابق علاقے میں سامنے آنے والے بعض کیسز کو ابتدائی طور پر ملیریا سمجھا گیا تھا، تاہم بعد میں طبی تشخیص اور معائنے کے بعد چکن گنیا کی موجودگی کی تصدیق ہوئی۔ حکام کا کہنا ہے کہ صورتحال کو قابو میں رکھنے کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جا رہے ہیں۔
دوسری جانب مقامی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ نوشہرہ کے زیارت کاکا صاحب سمیت متعدد دیہات میں ملیریا اور ڈینگی کے مریض بھی سامنے آئے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق محکمہ صحت کی چار ٹیمیں علاقے میں کام کر رہی ہیں اور انتظامیہ کی جانب سے مچھر مار اسپرے کے لیے بھی اقدامات کیے گئے ہیں۔
حکام نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ گھبرانے کے بجائے احتیاطی تدابیر اختیار کریں، مچھروں سے بچاؤ کا انتظام کریں اور بخار، جوڑوں میں شدید درد یا دیگر علامات ظاہر ہونے کی صورت میں فوری طور پر قریبی مرکز صحت سے رجوع کریں۔
محکمہ صحت نے صورتحال کی نگرانی جاری رکھنے اور متاثرہ علاقوں میں طبی و حفاظتی سرگرمیوں کو مزید مؤثر بنانے کی یقین دہانی کرائی ہے۔ حکام کے مطابق عوام کو بروقت طبی سہولیات کی فراہمی اور بیماری کے مزید پھیلاؤ کی روک تھام اولین ترجیح ہے۔
💬 تبصرے (0)
اپنا تبصرہ لکھیں
ابھی تک کوئی تبصرہ نہیں۔ پہلے تبصرہ کرنے والے بنیں!