پنجاب میں مون سون بارشوں کے بعد ڈینگی کا خطرہ، شہریوں کو احتیاط کی ہدایت
لاہور: پنجاب میں حالیہ مون سون بارشوں کے بعد مختلف علاقوں میں جمع ہونے والے پانی اور نمی کے باعث مچھروں کی افزائش کے امکانات بڑھ گئے ہیں، جس کے پیش نظر ڈینگی سمیت مچھروں سے پھیلنے والی بیماریوں سے بچاؤ کے لیے شہریوں کو خصوصی احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی ہدایت کی جا رہی ہے۔
ماہرین صحت کے مطابق بارش کے بعد گھروں، گلیوں، چھتوں، پارکوں، تعمیراتی مقامات اور دیگر جگہوں پر کھڑا پانی مچھروں کی افزائش کا سبب بن سکتا ہے۔ خاص طور پر صاف پانی والے چھوٹے برتن، گملوں کی پلیٹیں، پرانے ٹائر، کھلے ڈرم اور پانی کی ٹینکیاں مچھروں کے لیے افزائش کی جگہ بن سکتی ہیں۔
پنجاب میں مون سون کے دوران متعلقہ اداروں کی جانب سے اینٹی ڈینگی سرویلنس اور مچھر کی افزائش گاہوں کی نشاندہی کا عمل جاری رکھا جاتا ہے۔ فیصل آباد سمیت مختلف اضلاع میں مون سون کے دوران ڈینگی کی روک تھام کے لیے نگرانی اور احتیاطی سرگرمیوں میں اضافہ کیا گیا ہے۔
صحت کے ماہرین کا کہنا ہے کہ ڈینگی سے بچاؤ کے لیے سب سے مؤثر اقدامات میں اپنے گھروں اور اردگرد کے ماحول سے کھڑا پانی ختم کرنا، پانی ذخیرہ کرنے والے برتنوں کو ڈھانپ کر رکھنا اور مچھروں سے بچاؤ کے لیے مناسب حفاظتی اقدامات شامل ہیں۔
شہریوں کو مشورہ دیا گیا ہے کہ وہ دن کے اوقات میں بھی مچھر بھگانے والی تدابیر اختیار کریں، جسم کو زیادہ سے زیادہ ڈھانپ کر رکھیں اور ضرورت کے مطابق مچھر بھگانے والی ادویات یا ریپلینٹ استعمال کریں۔ ڈینگی پھیلانے والا ایڈیز مچھر عموماً دن کے اوقات میں بھی کاٹ سکتا ہے، اس لیے صرف رات کو مچھر دانی استعمال کرنا کافی نہیں سمجھا جاتا۔
بارشوں کے بعد صرف ڈینگی ہی نہیں بلکہ دیگر مچھروں سے پھیلنے والی بیماریوں اور آلودہ پانی سے پیدا ہونے والی بیماریوں سے بھی احتیاط ضروری ہے۔ سیلاب یا بارش کے پانی سے متاثرہ علاقوں میں صاف پینے کے پانی، صفائی اور نکاسی آب پر خصوصی توجہ دینا صحت کے لیے اہم قرار دیا جاتا ہے۔ عالمی ادارہ صحت نے بھی پاکستان میں سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں ڈینگی، ملیریا اور دیگر بیماریوں کے خطرات کے حوالے سے احتیاط پر زور دیا ہے۔
طبی ماہرین کے مطابق اگر کسی شخص کو اچانک تیز بخار، شدید سر درد، جسم میں درد، آنکھوں کے پیچھے درد، متلی یا غیر معمولی کمزوری جیسی علامات ظاہر ہوں تو خود سے دوا لینے کے بجائے ڈاکٹر سے رجوع کرنا چاہیے۔ ڈینگی کی تصدیق علامات کی بنیاد پر نہیں بلکہ طبی معائنے اور ضرورت کے مطابق ٹیسٹ سے کی جاتی ہے۔
صحت حکام کی جانب سے شہریوں پر زور دیا جا رہا ہے کہ وہ اپنے گھروں اور کاروباری مقامات کے اطراف صفائی برقرار رکھیں، پانی جمع نہ ہونے دیں اور مچھروں کی افزائش کے ممکنہ مقامات فوری طور پر ختم کریں۔
ماہرین کے مطابق ڈینگی کی روک تھام صرف سرکاری اداروں کی ذمہ داری نہیں بلکہ شہریوں کا تعاون بھی انتہائی اہم ہے۔ اگر بارش کے بعد جمع ہونے والے پانی کو بروقت ختم کیا جائے اور صفائی کے بنیادی اصولوں پر عمل کیا جائے تو مچھروں کی افزائش اور بیماریوں کے پھیلاؤ کے خطرے کو نمایاں طور پر کم کیا جا سکتا ہے۔
💬 تبصرے (0)
اپنا تبصرہ لکھیں
ابھی تک کوئی تبصرہ نہیں۔ پہلے تبصرہ کرنے والے بنیں!