اوورسیز پاکستانیوں نے جولائی میں 3.63 ارب ڈالر بھیج دیے
اسلام آباد: بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں نے جولائی 2026 میں وطن کو 3.63 ارب ڈالر کی ترسیلاتِ زر بھیج کر ملکی معیشت میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ حکومت کی جانب سے جاری تازہ اعدادوشمار کے مطابق اوورسیز پاکستانیوں کی جانب سے آنے والی رقوم میں نمایاں اضافہ ہوا ہے، جس سے پاکستان کے زرمبادلہ کے ذخائر اور بیرونی ادائیگیوں کی صورتحال کو بھی سہارا ملا۔
حکومت کے مطابق جولائی کے دوران بیرونِ ملک پاکستانیوں کی ترسیلات 3.63 ارب ڈالر تک پہنچیں۔ اسی عرصے میں اسٹیٹ بینک کے زرمبادلہ کے ذخائر 17.08 ارب ڈالر تک پہنچ گئے، جبکہ کرنٹ اکاؤنٹ خسارے میں بھی گزشتہ سال کے مقابلے میں 38 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی۔
اوورسیز پاکستانیوں کی ترسیلات میں اضافہ
بیرونِ ملک پاکستانی کئی برس سے ملکی معیشت کے لیے زرمبادلہ کا اہم ذریعہ ہیں۔ جولائی 2026 میں بھی ترسیلاتِ زر نے پاکستان کے بیرونی مالیاتی دباؤ کو کم کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔
اسٹیٹ بینک کے مطابق جولائی میں کارکنوں کی ترسیلات تقریباً 3.6 ارب ڈالر رہیں، جو ماہانہ بنیاد پر 4.5 فیصد اور سالانہ بنیاد پر 13 فیصد اضافے کی عکاسی کرتی ہیں۔ وزیراعظم شہباز شریف نے بھی ترسیلات میں اضافے کو حوصلہ افزا قرار دیا تھا۔
ملکی معیشت کے لیے اہم پیش رفت
ماہرین کے مطابق بیرونِ ملک پاکستانیوں کی جانب سے بھیجی جانے والی رقوم پاکستان کی معیشت کے لیے انتہائی اہم ہیں، کیونکہ ان سے ملک میں ڈالر کی دستیابی بہتر ہوتی ہے اور بیرونی ادائیگیوں کے دباؤ کو کم کرنے میں مدد ملتی ہے۔
جولائی کے اعدادوشمار میں ترسیلات کے اضافے کے ساتھ پاکستان کے زرمبادلہ کے ذخائر بھی 17.08 ارب ڈالر تک پہنچے۔ حکومت کے مطابق اسی ماہ کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ گزشتہ سال کے مقابلے میں 38 فیصد کم ہو کر 328 ملین ڈالر رہ گیا۔
روشن ڈیجیٹل اکاؤنٹ میں بھی اضافہ
بیرونِ ملک پاکستانیوں کی پاکستان میں مالی شمولیت اور سرمایہ کاری کے لیے روشن ڈیجیٹل اکاؤنٹ بھی اہم ذریعہ بن رہا ہے۔ جولائی 2026 کے اختتام تک روشن ڈیجیٹل اکاؤنٹس کے ذریعے مجموعی ترسیلات 13.647 ارب ڈالر تک پہنچ گئیں، جو جون کے اختتام پر 13.365 ارب ڈالر تھیں۔
جولائی میں روشن ڈیجیٹل اکاؤنٹ کے ذریعے 282 ملین ڈالر کی آمد ریکارڈ ہوئی، جبکہ اکاؤنٹس کی تعداد بھی بڑھ کر 956,790 ہوگئی۔
اوورسیز پاکستانیوں نے روشن ڈیجیٹل اکاؤنٹ کے ذریعے مختلف سرمایہ کاری مصنوعات میں بھی رقم لگائی۔ جولائی کے اختتام تک نیا پاکستان سرٹیفکیٹس میں 684 ملین ڈالر، نیا پاکستان اسلامی سرٹیفکیٹس میں 1.316 ارب ڈالر جبکہ روشن ایکویٹی انویسٹمنٹ میں 151 ملین ڈالر کی سرمایہ کاری ریکارڈ کی گئی۔
حکومت کی اوورسیز پاکستانیوں کے لیے نئی پالیسی
حکومت نے بیرونِ ملک پاکستانی کارکنوں کے مسائل، روزگار اور فلاح و بہبود کے لیے رواں سال نیشنل ایمیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 بھی متعارف کرائی ہے۔
اس پالیسی میں بیرونِ ملک جانے والے پاکستانیوں کے لیے محفوظ ہجرت، ہنرمندی میں اضافہ، کارکنوں کے حقوق کا تحفظ، شکایات کے ازالے اور بیرونِ ملک روزگار کے بہتر مواقع فراہم کرنے پر توجہ دی گئی ہے۔
حکومت کے مطابق پاکستان سے باہر مقیم پاکستانیوں کی تعداد 11 ملین سے زیادہ ہے اور مالی سال 2025-26 کے دوران اوورسیز پاکستانیوں نے ریکارڈ 41.58 ارب ڈالر کی ترسیلات بھیجیں۔
بیرونِ ملک روزگار کے مواقع بڑھانے پر بھی توجہ
حکومت پاکستانی نوجوانوں کے لیے بیرونِ ملک روزگار کے مواقع بڑھانے کے لیے بھی اقدامات کر رہی ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف نے پاکستانی سفارت خانوں کو ہدایت کی ہے کہ مختلف ممالک میں دستیاب ملازمتوں کی معلومات حاصل کرکے پاکستانی کارکنوں تک پہنچائی جائیں۔
حکومت نے ہنر، زبان کی تربیت اور بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ سرٹیفکیٹس کے ذریعے پاکستانی افرادی قوت کو عالمی لیبر مارکیٹ کی ضروریات کے مطابق تیار کرنے پر بھی زور دیا ہے۔
اوورسیز پاکستانی معیشت کا اہم ستون
بیرونِ ملک پاکستانیوں کی جانب سے مسلسل بڑھتی ہوئی ترسیلات اس بات کی عکاسی کرتی ہیں کہ بیرونِ ملک پاکستانی ملکی معیشت میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔ حکومت کا کہنا ہے کہ ترسیلات کو قانونی اور رسمی ذرائع سے پاکستان منتقل کرنے کے ساتھ ساتھ سرمایہ کاری کے مواقع بڑھانا بھی معاشی استحکام کے لیے اہم ہے۔
جولائی 2026 کے تازہ اعدادوشمار میں ترسیلاتِ زر میں اضافہ، زرمبادلہ کے ذخائر میں بہتری اور کرنٹ اکاؤنٹ خسارے میں کمی پاکستان کے بیرونی مالیاتی شعبے کے لیے مثبت پیش رفت قرار دی جا رہی ہے۔
اوورسیز پاکستانیوں کی جانب سے آنے والی رقوم مستقبل میں بھی پاکستان کے زرمبادلہ کے ذخائر، گھریلو آمدنی اور معاشی سرگرمیوں کے لیے اہم کردار ادا کرتی رہیں گی۔
💬 تبصرے (0)
اپنا تبصرہ لکھیں
ابھی تک کوئی تبصرہ نہیں۔ پہلے تبصرہ کرنے والے بنیں!