Wednesday, October 28, 2026
FB
تازہ ترین

اوورسیز پاکستانیوں کیلئے بڑی خبر، کرپٹو سے ترسیلات زر سستی ہونے کا امکان

پاکستان میں کرپٹو کے بڑھتے ہوئے استعمال کے بعد اوورسیز پاکستانیوں کی ترسیلاتِ زر کے لیے اسٹیبل کوائنز استعمال کرنے کی تجویز سامنے آگئی۔ حکام کے مطابق منتقلی کی لاگت میں صرف ایک فیصد کمی سے پاکستان کو سالانہ تقریباً 40 کروڑ ڈالر کی بچت ہوسکتی ہے

اوورسیز پاکستانیوں کیلئے بڑی خبر، کرپٹو سے ترسیلات زر سستی ہونے کا امکان

اوورسیز پاکستانیوں اور کرپٹو سے متعلق بڑی خبر، ترسیلات زر میں بڑی بچت کا امکان

اسلام آباد: پاکستان میں کرپٹو کرنسی کے بڑھتے ہوئے استعمال کے ساتھ بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں کی جانب سے وطن بھیجی جانے والی رقوم کے نظام میں بھی بڑی تبدیلی کے امکانات پیدا ہوگئے ہیں۔ حکام کے مطابق ریگولیٹڈ اسٹیبل کوائنز کو ترسیلاتِ زر کے لیے استعمال کرنے سے پاکستان کو سالانہ کروڑوں ڈالر کی بچت ہوسکتی ہے۔

پاکستان ورچوئل ایسٹس ریگولیٹری اتھارٹی (PVARA) کے چیئرمین بلال بن ثاقب کے مطابق اگر اسٹیبل کوائنز کے ذریعے ترسیلاتِ زر کی منتقلی کے اخراجات میں صرف ایک فیصد کمی لائی جائے تو تقریباً 40 کروڑ ڈالر سالانہ کی بچت ممکن ہے۔ یہ اندازہ پاکستان میں سالانہ تقریباً 40 ارب ڈالر کی ترسیلاتِ زر کے حجم کو مدنظر رکھتے ہوئے پیش کیا گیا ہے۔

حکام کا کہنا ہے کہ ڈیجیٹل اثاثوں کے لیے ریگولیٹری نظام مضبوط ہونے کے بعد کرپٹو ٹیکنالوجی کو صرف سرمایہ کاری تک محدود رکھنے کے بجائے سرحد پار ادائیگیوں اور ترسیلاتِ زر جیسے شعبوں میں بھی استعمال کیا جاسکتا ہے۔

دوسری جانب سینیٹ کی قائمہ کمیٹی کو بریفنگ کے دوران بتایا گیا کہ پاکستان میں تقریباً 4 کروڑ افراد کے کرپٹو سے منسلک اکاؤنٹس موجود ہیں، جس کے باعث پاکستان دنیا کی بڑی کرپٹو مارکیٹوں میں شامل ہوگیا ہے۔ PVARA کے چیئرمین کے مطابق نوجوان آبادی میں ڈیجیٹل کرنسی کے حوالے سے بڑھتی ہوئی دلچسپی اس رجحان کی اہم وجہ ہے۔

اوورسیز پاکستانیوں کے لیے یہ پیش رفت اس لیے بھی اہم سمجھی جارہی ہے کہ پاکستان کی معیشت میں بیرونِ ملک سے آنے والی ترسیلاتِ زر بنیادی کردار ادا کرتی ہیں۔ اسٹیٹ بینک کے اعدادوشمار کے مطابق مالی سال 2025-26 کے پہلے نو ماہ میں کارکنوں کی ترسیلاتِ زر 30.319 ارب ڈالر رہیں، جو گزشتہ مالی سال کے اسی عرصے کے مقابلے میں 8.2 فیصد زیادہ تھیں۔

حکام کی جانب سے ڈیجیٹل ادائیگیوں اور ورچوئل اثاثوں کے لیے ریگولیٹڈ نظام متعارف کرانے کی کوششیں بھی جاری ہیں۔ تاہم ماہرین کے مطابق کرپٹو یا اسٹیبل کوائنز کے ذریعے رقم منتقل کرنے کے نظام میں صارفین کے تحفظ، شفافیت، منی لانڈرنگ کی روک تھام اور قانونی نگرانی کو بنیادی اہمیت حاصل ہوگی۔

اگر یہ نظام کامیابی سے نافذ ہوتا ہے تو مستقبل میں بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں کے لیے پاکستان رقم بھیجنے کا عمل زیادہ تیز، کم خرچ اور ڈیجیٹل ہوسکتا ہے، جبکہ ملک کو ترسیلاتِ زر کی مد میں ہونے والے اخراجات میں نمایاں کمی کا فائدہ ملنے کی توقع ہے۔

Ammar abbas

Ammar abbas

چیف ایگزیکٹو آفیسر – دی پاک گلوبل اردو نیٹ ورک

# Ammar Abbas — صحافت سے CEO تک کامیابی کا سفر **عمار عباس** ایک باصلاحیت، متحرک اور وژن رکھنے والے صحافی ہیں، جنہوں نے صحافت کے میدان سے اپنے پیشہ ورانہ سفر کا آغاز کیا اور اپنی محنت، صلاحیتوں اور...

💬 تبصرے (0)

اپنا تبصرہ لکھیں

ابھی تک کوئی تبصرہ نہیں۔ پہلے تبصرہ کرنے والے بنیں!