4 اکتوبر کے مارچ کے لیے خصوصی کنٹینر تیار
پشاور: پاکستان تحریک انصاف کے 4 اکتوبر کو اسلام آباد کی جانب مارچ کے اعلان کے بعد خیبرپختونخوا میں اس کی تیاریوں کا سلسلہ جاری ہے۔ تازہ اطلاعات کے مطابق وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کے لیے مارچ کے مقصد سے خصوصی کنٹینر تیار کرلیا گیا ہے۔
وزیراعلیٰ سہیل آفریدی حیات آباد ٹول پلازہ انڈر پاس کی افتتاحی تقریب میں شرکت کے لیے پہنچے تو وہ اسی خصوصی کنٹینر میں سوار تھے۔ ان کے ہمراہ صوبائی وزرا مینا خان اور شفیع جان سمیت دیگر افراد بھی موجود تھے۔
پی ٹی آئی نے مارچ کی نئی تاریخ کا اعلان کیا تھا
پی ٹی آئی کا اسلام آباد کی جانب مارچ پہلے 27 ستمبر کو شروع ہونا تھا، تاہم پارٹی کی سیاسی کمیٹی کے فیصلے کے بعد اسے 4 اکتوبر تک مؤخر کردیا گیا۔
وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا نے 25 ستمبر کو اعلان کیا تھا کہ مارچ 4 اکتوبر کو پشاور سے شروع ہوگا۔ پی ٹی آئی کے مطابق مارچ کا مقصد پارٹی کے بانی عمران خان کی رہائی سمیت دیگر سیاسی مطالبات کے لیے احتجاج کرنا ہے۔
مارچ کی تیاریوں میں تیزی
4 اکتوبر کی تاریخ قریب آنے کے ساتھ پی ٹی آئی کی جانب سے مارچ کے انتظامات کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔ 29 ستمبر کو وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کی زیر صدارت اجلاس میں بھی مارچ کی تیاریوں پر غور کیا گیا۔
پی ٹی آئی کے سیکریٹری اطلاعات شوکت یوسفزئی کے مطابق مارچ کو منظم اور پرامن رکھنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ پارٹی کی جانب سے یہ بھی بتایا گیا کہ صوابی یا اٹک کے علاقے میں ایک ٹینٹ سٹی قائم کرنے پر غور کیا گیا ہے اور آگے بڑھنے کے حوالے سے ہدایات پارٹی کی قیادت کی جانب سے دی جائیں گی۔
خصوصی کنٹینر کس مقصد کے لیے تیار کیا گیا؟
رپورٹس کے مطابق تیار کیا گیا خصوصی کنٹینر 4 اکتوبر کو پشاور سے اسلام آباد جانے والے مارچ کے لیے بنایا گیا ہے۔ وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کا اسی کنٹینر میں ایک سرکاری تقریب میں پہنچنا اس تیاری کی عملی موجودگی کو ظاہر کرتا ہے۔
پی ٹی آئی کے مطابق کنٹینر کو مارچ کے دوران استعمال کیا جائے گا۔ تاہم اس کی مکمل اندرونی سہولیات یا مارچ کے دوران اس کے استعمال کے تفصیلی طریقہ کار سے متعلق دستیاب رپورٹس میں تمام تفصیلات سامنے نہیں آئی ہیں۔
وفاقی حکومت کی جانب سے بھی سکیورٹی اقدامات
پی ٹی آئی کے مارچ کے اعلان کے بعد وفاقی دارالحکومت کی جانب آنے والے راستوں پر سکیورٹی انتظامات بھی کیے گئے ہیں۔ مختلف رپورٹس کے مطابق اسلام آباد کے اہم راستوں اور ریڈ زون کے اطراف کنٹینرز اور دیگر رکاوٹیں موجود ہیں۔
ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق اسلام آباد میں احتجاج کے خدشے کے پیش نظر اہم راستوں پر کنٹینرز رکھے گئے ہیں، جبکہ بعض راستوں پر ٹریفک کی روانی بھی متاثر ہوئی ہے۔
حکومت اور پی ٹی آئی کے مؤقف میں اختلاف
مارچ کے معاملے پر وفاقی حکومت اور پی ٹی آئی کے درمیان سیاسی اختلاف برقرار ہے۔ وفاقی حکام نے احتجاج کے دوران سڑکوں کی بندش اور معمولات زندگی متاثر ہونے کے خدشات کا اظہار کیا ہے، جبکہ پی ٹی آئی کا کہنا ہے کہ اس کا احتجاج پرامن ہوگا۔
وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی نے مارچ جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کیا ہے۔ دوسری جانب وفاقی حکومت کی جانب سے خیبرپختونخوا میں گورنر راج یا ایمرجنسی کے امکان سے متعلق بھی بیانات سامنے آئے ہیں۔ پارلیمانی امور کے وزیر طارق فضل چوہدری نے 30 ستمبر کو کہا تھا کہ وفاقی حکومت خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی کے نفاذ پر سنجیدگی سے غور کر رہی ہے۔ یہ حکومت کا بیان ہے، جبکہ اس معاملے پر سیاسی اختلاف موجود ہے۔
مارچ کہاں تک جانے کا منصوبہ ہے؟
پی ٹی آئی کی جانب سے 29 ستمبر کو سامنے آنے والے انتظامی پلان کے مطابق مارچ کو ابتدائی طور پر صوابی یا اٹک تک محدود رکھنے پر غور کیا گیا تھا۔ پارٹی کے مطابق اس کے بعد آگے بڑھنے کے وقت اور طریقہ کار سے متعلق ہدایات قیادت کی جانب سے دی جائیں گی۔
پارٹی سیکریٹری اطلاعات شوکت یوسفزئی نے کارکنوں اور منتظمین کو نظم و ضبط برقرار رکھنے اور ممکنہ صورتحال کے لیے تیار رہنے کی ہدایت کی تھی۔
حیات آباد انڈر پاس کا افتتاح
وزیراعلیٰ سہیل آفریدی جس تقریب میں شرکت کے لیے خصوصی کنٹینر میں پہنچے، وہ حیات آباد ٹول پلازہ انڈر پاس منصوبے کے افتتاح سے متعلق تھی۔
دستیاب رپورٹس کے مطابق اس منصوبے پر تقریباً 1.6 ارب روپے لاگت آئی اور اسے 90 روز میں مکمل کیا گیا۔ انڈر پاس کی مجموعی لمبائی تقریباً 500 میٹر بتائی گئی ہے۔
4 اکتوبر کے مارچ سے قبل صورتحال
4 اکتوبر کی تاریخ قریب آنے کے ساتھ سیاسی اور انتظامی سرگرمیوں میں اضافہ ہوا ہے۔ پی ٹی آئی کی جانب سے مارچ کی تیاریوں کا سلسلہ جاری ہے، جبکہ اسلام آباد میں ممکنہ احتجاج کے پیش نظر سکیورٹی اقدامات پہلے ہی کیے جا چکے ہیں۔
مارچ کے عملی راستے، مختلف مقامات پر کارکنوں کی موجودگی اور سکیورٹی صورتحال میں وقت کے ساتھ تبدیلی ممکن ہے، اس لیے 4 اکتوبر کو صورتحال تازہ انتظامی فیصلوں اور سیاسی اعلانات سے متاثر ہو سکتی ہے۔
سیاسی صورتحال پر ممکنہ اثرات
4 اکتوبر کا مارچ وفاقی حکومت اور خیبرپختونخوا حکومت کے درمیان پہلے سے موجود سیاسی اختلاف کے تناظر میں ہو رہا ہے۔ مارچ کی تیاریوں کے ساتھ وفاقی سطح پر سکیورٹی اور انتظامی اقدامات بھی زیر بحث ہیں۔
اس صورتحال میں اسلام آباد، راولپنڈی اور خیبرپختونخوا سے آنے جانے والے شہریوں کے لیے ممکنہ ٹریفک پابندیوں اور راستوں میں تبدیلی اہم معاملہ بن سکتی ہے۔ تاہم کسی مخصوص راستے کی بندش یا ٹریفک صورتحال کے بارے میں حتمی معلومات متعلقہ انتظامیہ کے تازہ اعلانات سے ہی واضح ہوں گی۔
نتیجہ
پی ٹی آئی کے 4 اکتوبر کے اسلام آباد مارچ کی تیاریوں کے دوران وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کے لیے خصوصی کنٹینر تیار کرلیا گیا ہے۔ وزیراعلیٰ اسی کنٹینر میں حیات آباد ٹول پلازہ انڈر پاس کی افتتاحی تقریب میں بھی پہنچے۔ پی ٹی آئی نے مارچ 4 اکتوبر کو پشاور سے شروع کرنے کا اعلان کیا ہے، جبکہ وفاقی اور صوبائی حکومت کے درمیان اس معاملے پر سیاسی اختلاف برقرار ہے۔
💬 تبصرے (0)
اپنا تبصرہ لکھیں
ابھی تک کوئی تبصرہ نہیں۔ پہلے تبصرہ کرنے والے بنیں!