Wednesday, October 21, 2026
FB
تازہ ترین

یمن میں حوثیوں کا میزائل حملہ، 73 افراد ہلاک

یمن کے جنوبی صوبے شبوا میں سرکاری سکیورٹی فورسز کے تربیتی مرکز پر حوثیوں کے میزائل حملے میں ہلاکتوں کی تعداد 73 ہو گئی ہے۔ مقامی حکام کے مطابق حملے میں 200 سے زائد افراد زخمی ہوئے جبکہ 14 افراد تاحال لاپتا ہیں۔ واقعے کے بعد یمن میں جاری لڑائی میں مزید شدت آنے کے خدشات بڑھ گئے ہیں۔

یمن میں حوثیوں کا میزائل حملہ، 73 افراد ہلاک

یمن میں حوثیوں کا میزائل حملہ، ہلاکتیں 73 ہو گئیں

یمن میں جاری مسلح تنازع کے دوران جنوبی صوبے شبوا میں سرکاری سکیورٹی فورسز کے تربیتی مرکز پر میزائل حملے کے نتیجے میں ہلاکتوں کی تعداد 73 تک پہنچ گئی ہے۔ مقامی حکام کے مطابق حملے میں 200 سے زائد افراد زخمی ہوئے، جبکہ 14 افراد تاحال لاپتا ہیں۔

یہ حملہ پیر کے روز نئے سکیورٹی اہلکاروں کی تربیت کے دوران کیا گیا۔ واقعے کے بعد زخمیوں کو طبی امداد فراہم کرنے اور لاپتا افراد کے بارے میں معلومات جمع کرنے کا سلسلہ جاری ہے۔

حملہ شبوا کے تربیتی مرکز پر کیا گیا

خبر رساں ادارے رائٹرز اور دیگر بین الاقوامی ذرائع کے مطابق حوثیوں نے صوبہ شبوا میں سرکاری فورسز کے تربیتی مرکز کو نشانہ بنایا۔ مقامی حکام کا کہنا ہے کہ حملے میں تین بیلسٹک میزائل استعمال کیے گئے۔

صوبے کے گورنر عوض الوزیر کے مطابق زخمیوں کی تعداد 200 سے تجاوز کر گئی ہے۔ ہلاکتوں میں اضافے کے بعد حکام زخمیوں کی حالت کا جائزہ لے رہے ہیں اور لاپتا افراد کی تلاش بھی جاری ہے۔

یہ مرکز یمن کی بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ حکومت سے وابستہ سکیورٹی فورسز کے اہلکاروں کی تربیت کے لیے استعمال ہو رہا تھا۔

حوثیوں اور یمنی حکومت کے درمیان کشیدگی

یمن میں حوثی تحریک اور بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ حکومت کے درمیان تنازع کئی برس سے جاری ہے۔ حکومت کو سعودی عرب کی قیادت میں قائم اتحاد کی حمایت حاصل ہے، جبکہ حوثیوں نے ملک کے شمالی علاقوں اور دارالحکومت صنعا پر اپنا کنٹرول برقرار رکھا ہوا ہے۔

حالیہ مہینوں میں لڑائی میں دوبارہ شدت آئی ہے۔ فریقین کے درمیان حملوں اور جوابی کارروائیوں کے باعث مختلف علاقوں میں سکیورٹی کی صورتحال مزید خراب ہوئی ہے۔

شبوا کا علاقہ اپنی جغرافیائی اور توانائی سے متعلق اہمیت کے باعث بھی نمایاں ہے۔ اس صوبے میں تیل اور گیس کے وسائل موجود ہیں، جبکہ اس کی پوزیشن خلیج عدن کے قریب ہونے کی وجہ سے اہم سمجھی جاتی ہے۔

حوثیوں کا مؤقف اور حملے کی نوعیت

حوثی فوجی ترجمان یحییٰ سریع نے دعویٰ کیا کہ مذکورہ تربیتی مرکز سعودی فورسز کے زیر انتظام تھا۔ تاہم، اس دعوے کی آزادانہ تصدیق سامنے نہیں آئی اور سعودی حکام کی جانب سے فوری طور پر کوئی جواب موصول ہونے کی اطلاع نہیں دی گئی۔

دوسری جانب مقامی حکام نے بتایا کہ حملے کے وقت نئے بھرتی ہونے والے اہلکار تربیتی سرگرمیوں میں مصروف تھے۔ اس واقعے نے سکیورٹی مراکز کے تحفظ اور بڑھتی ہوئی فوجی کشیدگی کے حوالے سے تشویش پیدا کی ہے۔

خطے کی صورتحال پر ممکنہ اثرات

یمن میں بڑھتی ہوئی لڑائی صرف مقامی سکیورٹی تک محدود نہیں رہی بلکہ اس کے اثرات پورے خطے پر مرتب ہو سکتے ہیں۔ بحیرہ احمر اور آبنائے باب المندب کے قریب کشیدگی بین الاقوامی بحری تجارت اور تیل کی ترسیل کے لیے بھی اہمیت رکھتی ہے۔

تاہم، اس حملے کے نتیجے میں عالمی تجارت یا تیل کی قیمتوں پر کسی مخصوص اثر کی تصدیق کے لیے مزید معلومات درکار ہیں۔ خطے میں مستقبل کی صورتحال کا انحصار فریقین کی فوجی کارروائیوں اور سفارتی کوششوں پر ہوگا۔

نتیجہ

یمن کے صوبے شبوا میں حوثیوں کے میزائل حملے میں 73 افراد کی ہلاکت اور 200 سے زائد کے زخمی ہونے کی اطلاعات ملک میں جاری تنازع کی سنگینی کو ظاہر کرتی ہیں۔ 14 افراد کے لاپتا ہونے کے باعث ہلاکتوں کی تعداد میں مزید تبدیلی کا امکان موجود ہے۔ اس واقعے کے بعد یمن میں انسانی جانوں کے تحفظ اور لڑائی میں کمی کی کوششوں کی اہمیت مزید بڑھ گئی ہے۔

Ammar abbas

Ammar abbas

چیف ایگزیکٹو آفیسر – دی پاک گلوبل اردو نیٹ ورک

# Ammar Abbas — صحافت سے CEO تک کامیابی کا سفر **عمار عباس** ایک باصلاحیت، متحرک اور وژن رکھنے والے صحافی ہیں، جنہوں نے صحافت کے میدان سے اپنے پیشہ ورانہ سفر کا آغاز کیا اور اپنی محنت، صلاحیتوں اور...

💬 تبصرے (0)

اپنا تبصرہ لکھیں

ابھی تک کوئی تبصرہ نہیں۔ پہلے تبصرہ کرنے والے بنیں!