Wednesday, September 23, 2026
FB
تازہ ترین

اقوام متحدہ اجلاس: شہباز شریف کی عالمی رہنماؤں سے اہم ملاقاتیں

وزیراعظم شہباز شریف نے نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس کے موقع پر کویت اور کینیا کے رہنماؤں سے ملاقاتیں کیں جبکہ آسٹریا اور صومالیہ کی قیادت سے بھی غیررسمی بات چیت ہوئی۔ ملاقاتوں میں دوطرفہ تعلقات، تجارت، سرمایہ کاری، توانائی، تعلیم، دفاع اور علاقائی و عالمی امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

اقوام متحدہ اجلاس: شہباز شریف کی عالمی رہنماؤں سے اہم ملاقاتیں

وزیراعظم شہباز شریف نے نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس کے موقع پر عالمی رہنماؤں کے ساتھ سفارتی رابطوں کا سلسلہ تیز کر دیا ہے۔ وزیراعظم نے کویت کے ولی عہد شیخ صباح خالد الحمد الصباح اور کینیا کے صدر ولیم روٹو سے الگ الگ ملاقاتیں کیں، جبکہ آسٹریا کے وفاقی چانسلر کرسٹیان اسٹوکر اور صومالیہ کے صدر حسن شیخ محمود سے بھی غیررسمی ملاقاتیں ہوئیں۔

ان ملاقاتوں میں پاکستان کے دوطرفہ تعلقات، معاشی تعاون، تجارت، سرمایہ کاری اور باہمی دلچسپی کے امور کے ساتھ ساتھ علاقائی اور عالمی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں پاکستان کی سفارتی سرگرمیاں

وزیراعظم شہباز شریف 81ویں اقوام متحدہ جنرل اسمبلی کے اعلیٰ سطحی اجلاس میں پاکستان کی نمائندگی کر رہے ہیں۔ وزیراعظم کے دورے کے دوران دوطرفہ ملاقاتوں کے علاوہ مختلف عالمی اور علاقائی معاملات پر پاکستان کا مؤقف بھی پیش کیا جا رہا ہے۔

پاکستانی حکام کے مطابق وزیراعظم 25 ستمبر کو جنرل اسمبلی سے خطاب کریں گے، جس میں علاقائی و عالمی سلامتی، تنازعات کے پرامن حل، مکالمے اور سفارت کاری سمیت اہم امور پر پاکستان کا مؤقف سامنے آنے کی توقع ہے۔

کویت کے ولی عہد سے ملاقات

وزیراعظم شہباز شریف نے کویت کے ولی عہد شیخ صباح خالد الحمد الصباح سے ملاقات میں پاکستان اور کویت کے درمیان قریبی اور برادرانہ تعلقات کا اعادہ کیا۔

ملاقات میں دونوں ملکوں کے دوطرفہ تعلقات کا جائزہ لیا گیا اور باہمی دلچسپی کے شعبوں میں تعاون مزید بڑھانے کے امکانات پر گفتگو ہوئی۔

وزیراعظم نے تجارت، سرمایہ کاری، توانائی اور انسانی وسائل کی ترقی کو ایسے شعبوں کے طور پر اجاگر کیا جہاں دونوں ممالک کے درمیان تعاون کو مزید وسعت دی جا سکتی ہے۔

دونوں رہنماؤں نے علاقائی اور عالمی پیش رفت پر بھی تبادلہ خیال کیا اور خطے میں امن، استحکام اور خوشحالی کے فروغ کی اہمیت پر اتفاق کیا۔

کینیا کے صدر سے اقتصادی اور تجارتی تعاون پر بات چیت

وزیراعظم شہباز شریف کی کینیا کے صدر ولیم روٹو سے ملاقات میں پاکستان اور کینیا کے دوطرفہ تعلقات کا جائزہ لیا گیا۔

دونوں رہنماؤں نے دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اظہار کیا۔ وزیراعظم نے سیاسی، اقتصادی، تجارتی، دفاعی، تعلیمی اور عوامی روابط سمیت مختلف شعبوں میں تعاون بڑھانے کی خواہش ظاہر کی۔

اقتصادی تعاون کے حوالے سے وزیراعظم نے دواسازی، ٹیکسٹائل، جراحی کے آلات اور زراعت سمیت مختلف شعبوں میں تجارت اور سرمایہ کاری کے امکانات کو اجاگر کیا۔

وزیراعظم نے کینیا کے سرمایہ کاروں کو پاکستان میں سرمایہ کاری کے مواقع، خصوصاً خصوصی اقتصادی زونز میں موجود امکانات سے فائدہ اٹھانے کی دعوت بھی دی۔

دونوں ممالک کے کاروباری طبقوں کے درمیان روابط بڑھانے پر بھی زور دیا گیا۔ وزیراعظم نے مشرقی افریقی برادری کے ساتھ پاکستان کے روابط مزید مضبوط بنانے میں دلچسپی کا اظہار کیا۔

پاکستان اور کینیا کے درمیان ادارہ جاتی روابط بڑھانے پر اتفاق

ملاقات کے دوران دونوں جانب سے دوطرفہ تعاون کے موجودہ ادارہ جاتی طریقہ کار کو مزید مؤثر بنانے کی ضرورت پر بھی زور دیا گیا۔

پاکستان اور کینیا کے درمیان دوطرفہ سیاسی مشاورت اور مشترکہ وزارتی کمیشن جیسے فورمز کے ذریعے رابطوں کو مزید مضبوط بنانے پر اتفاق کیا گیا۔

دونوں رہنماؤں نے پائیدار ترقی، عالمی امن اور بین الاقوامی سلامتی سمیت علاقائی و عالمی امور پر بھی خیالات کا تبادلہ کیا۔

کینیا کے صدر ولیم روٹو نے مغربی ایشیا اور خلیجی خطے میں حالیہ بحران کے دوران پاکستان کے ثالثی کردار کو سراہا۔

آسٹریا اور صومالیہ کی قیادت سے بھی ملاقاتیں

وزیراعظم شہباز شریف نے اقوام متحدہ جنرل اسمبلی کے افتتاحی اجلاس کے موقع پر آسٹریا کے وفاقی چانسلر کرسٹیان اسٹوکر اور صومالیہ کے صدر حسن شیخ محمود سے الگ الگ غیررسمی ملاقاتیں بھی کیں۔

ان ملاقاتوں کے دوران پاکستان اور متعلقہ ممالک کے درمیان دوطرفہ تعلقات میں پیش رفت اور باہمی دلچسپی کے امور پر گفتگو ہوئی۔

سرکاری رپورٹ کے مطابق یہ ملاقاتیں خوشگوار ماحول میں ہوئیں اور ان میں باہمی تعلقات کو مزید آگے بڑھانے سے متعلق امور زیر بحث آئے۔

پاکستان کے لیے سفارتی رابطوں کی اہمیت

اقوام متحدہ جنرل اسمبلی کا اعلیٰ سطحی اجلاس دنیا کے مختلف ممالک کے سربراہان اور اعلیٰ حکام کے ایک ہی فورم پر جمع ہونے کا موقع فراہم کرتا ہے۔ اس دوران دوطرفہ ملاقاتیں ممالک کو اپنے باہمی تعلقات کے ساتھ ساتھ علاقائی اور عالمی معاملات پر براہ راست تبادلہ خیال کا موقع دیتی ہیں۔

وزیراعظم شہباز شریف کی حالیہ ملاقاتوں میں تجارت، سرمایہ کاری، توانائی، انسانی وسائل، تعلیم اور دفاع جیسے عملی شعبوں کو بھی زیر بحث لایا گیا ہے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ پاکستان کی سفارتی سرگرمیوں میں سیاسی روابط کے ساتھ اقتصادی اور تجارتی تعاون بھی ایک اہم موضوع ہے۔

خاص طور پر کینیا کے ساتھ تجارت اور سرمایہ کاری کے شعبوں میں تعاون بڑھانے پر گفتگو پاکستان کے لیے افریقی منڈیوں کے ساتھ اقتصادی روابط کے تناظر میں اہم ہے۔ تاہم ان ملاقاتوں کے بعد کسی بھی نئے معاہدے یا عملی منصوبے کے نتائج کو اسی وقت حتمی سمجھا جا سکتا ہے جب متعلقہ حکومتیں ان کے بارے میں باضابطہ اعلانات کریں۔

جنرل اسمبلی سے وزیراعظم کا خطاب

وزیراعظم شہباز شریف 25 ستمبر کو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کریں گے۔ دستیاب بریفنگ کے مطابق ان کے خطاب میں علاقائی و عالمی امن، تنازعات کے پرامن حل، سفارت کاری، موسمیاتی تبدیلی، انسداد دہشت گردی، عالمی اقتصادی مسائل، اقوام متحدہ میں اصلاحات اور ترقی پذیر ممالک کو درپیش مسائل جیسے موضوعات شامل ہوں گے۔

پاکستان فلسطین اور مقبوضہ جموں و کشمیر کے معاملات بھی عالمی فورم پر اٹھانے کا ارادہ رکھتا ہے۔

نائب وزیراعظم اسحاق ڈار کی سفارتی سرگرمیاں

وزیراعظم کے ساتھ نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار بھی جنرل اسمبلی کے موقع پر مختلف اعلیٰ سطحی سرگرمیوں میں شریک ہیں۔

اسحاق ڈار نے اقوام متحدہ جنرل اسمبلی کے موقع پر مختلف وزرائے خارجہ سے ملاقاتوں اور کثیرالجہتی اجلاسوں میں پاکستان کے علاقائی اور عالمی مؤقف کو اجاگر کیا ہے۔ ان سرگرمیوں میں افغانستان، علاقائی سلامتی اور دہشت گردی سے متعلق پاکستان کے خدشات بھی زیر بحث آئے ہیں۔

آئندہ کی اہم سرگرمیاں

وزیراعظم شہباز شریف کی نیویارک میں سرگرمیاں ابھی جاری ہیں۔ ان کے دورے کا اہم مرحلہ 25 ستمبر کو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب ہوگا۔

اس دوران مختلف عالمی رہنماؤں کے ساتھ مزید ملاقاتیں بھی ممکن ہیں، تاہم کسی ملاقات یا اس کے ایجنڈے کو باضابطہ تصدیق کے بغیر حتمی طور پر بیان کرنا مناسب نہیں ہوگا۔

نتیجہ

اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے موقع پر وزیراعظم شہباز شریف کی عالمی رہنماؤں سے ملاقاتوں میں پاکستان کے دوطرفہ تعلقات، اقتصادی تعاون، تجارت، سرمایہ کاری اور علاقائی و عالمی امور پر توجہ مرکوز رہی۔ کویت اور کینیا کے ساتھ تعلقات کو مزید وسعت دینے کے امکانات پر بات چیت ہوئی جبکہ آسٹریا اور صومالیہ کی قیادت سے بھی باہمی دلچسپی کے امور زیر بحث آئے۔

وزیراعظم کا 25 ستمبر کو جنرل اسمبلی سے خطاب ان سفارتی سرگرمیوں کا اہم حصہ ہوگا، جس میں پاکستان کا مؤقف عالمی برادری کے سامنے پیش کیا جائے گا۔

Ammar abbas

Ammar abbas

چیف ایگزیکٹو آفیسر – دی پاک گلوبل اردو نیٹ ورک

# Ammar Abbas — صحافت سے CEO تک کامیابی کا سفر **عمار عباس** ایک باصلاحیت، متحرک اور وژن رکھنے والے صحافی ہیں، جنہوں نے صحافت کے میدان سے اپنے پیشہ ورانہ سفر کا آغاز کیا اور اپنی محنت، صلاحیتوں اور...

💬 تبصرے (0)

اپنا تبصرہ لکھیں

ابھی تک کوئی تبصرہ نہیں۔ پہلے تبصرہ کرنے والے بنیں!