Thursday, September 24, 2026
FB
تازہ ترین

احمدپورسیال میں ادویات کی قیمتوں پر شہری پریشان، ضروری علاج مزید مشکل ہونے کا خدشہ

احمدپورسیال اور گردونواح میں شہریوں نے مختلف ضروری ادویات کی قیمتوں اور ان کی دستیابی سے متعلق مشکلات پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ مقامی مریضوں اور لواحقین کا کہنا ہے کہ مسلسل علاج کے اخراجات ان کے لیے مالی دباؤ بڑھا رہے ہیں اور حکومت کو ادویات کی قیمتوں، دستیابی اور میڈیکل اسٹورز پر فروخت کی مؤثر نگرانی یقینی بنانی چاہیے۔ ملک گیر سطح پر بھی ادویات کی قیمتوں اور ضروری ادویات کی دستیابی کا معاملہ حالیہ مہینوں میں زیر بحث رہا ہے۔

احمدپورسیال میں ادویات کی قیمتوں پر شہری پریشان، ضروری علاج مزید مشکل ہونے کا خدشہ

احمدپورسیال میں ادویات کی قیمتوں پر شہری پریشان، علاج کے اخراجات بڑا مسئلہ بن گئے

احمدپورسیال (ذیشان ظفر گوندل، بیوروچیف کے قلم سے)

احمدپورسیال شہر اور گردونواح میں مختلف بیماریوں کے علاج کے لیے استعمال ہونے والی ادویات کی قیمتوں اور دستیابی کے حوالے سے شہریوں میں تشویش پائی جاتی ہے۔ مریضوں اور ان کے لواحقین کا کہنا ہے کہ مہنگائی کے موجودہ حالات میں مستقل بیماریوں کے لیے ہر ماہ ادویات خریدنا کم اور متوسط آمدنی والے خاندانوں کے لیے ایک بڑا مالی بوجھ بنتا جا رہا ہے۔

شہری حلقوں کے مطابق بیماری کی صورت میں خوراک، بجلی، تعلیم اور دیگر گھریلو اخراجات کے ساتھ ادویات کا خرچ بھی بجٹ کو شدید متاثر کرتا ہے۔ خصوصاً ایسے مریض جو طویل عرصے سے علاج کے لیے روزانہ ادویات استعمال کرتے ہیں، ان کے لیے دوا کا باقاعدگی سے حصول بنیادی ضرورت ہے۔

تاہم مقامی سطح پر کسی مخصوص دوا کی قیمت میں حالیہ اضافے کی آزادانہ طور پر مکمل تصدیق دستیاب نہیں ہے، اس لیے شہریوں کے بیان کردہ خدشات کو مقامی شکایات کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے۔ قومی سطح پر ادویات کی قیمتوں کے بارے میں بھی مختلف اوقات میں متضاد دعوے سامنے آئے ہیں، جبکہ ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی پاکستان نے مارچ 2026 میں ضروری ادویات کی قیمتوں میں نئی عمومی اضافے کی رپورٹس کی تردید کی تھی۔

مریضوں اور لواحقین کی مشکلات

مقامی شہریوں کا کہنا ہے کہ بعض مریضوں کے لیے دوا خریدنا روزمرہ زندگی کے دیگر اخراجات کی طرح مؤخر کرنا ممکن نہیں ہوتا۔ اگر کسی شخص کو بلڈ پریشر، ذیابیطس، دل، سانس یا کسی دوسری مستقل بیماری کے لیے باقاعدگی سے علاج کی ضرورت ہو تو ادویات کا خرچ ہر ماہ لازمی بجٹ کا حصہ بن جاتا ہے۔

شہریوں کے مطابق کم آمدنی والے خاندانوں کو ایسے حالات میں اپنے دوسرے اخراجات کم کرنا پڑتے ہیں۔ بعض خاندان علاج جاری رکھنے کے لیے گھریلو ضروریات کو مؤخر کرنے یا بجٹ میں دوسری کٹوتیاں کرنے پر مجبور ہوتے ہیں۔

مریضوں اور ان کے لواحقین کا کہنا ہے کہ حکومت کی جانب سے قیمتوں اور دستیابی کی مؤثر نگرانی ضروری ہے تاکہ کسی مریض کو صرف مالی مشکلات کی وجہ سے تجویز کردہ علاج میں رکاوٹ کا سامنا نہ کرنا پڑے۔

ملک بھر میں ادویات کی قیمتوں کا معاملہ

ادویات کی قیمتوں کا مسئلہ صرف احمدپورسیال تک محدود نہیں ہے۔ رواں سال ملک میں دوا کی قیمتوں، قیمتوں کے تعین کے طریقہ کار اور ضروری ادویات کی دستیابی پر مختلف فورمز پر بحث ہوئی ہے۔

مئی 2026 میں سینیٹ کی ایک قائمہ کمیٹی کو بریفنگ کے دوران بتایا گیا تھا کہ 2024 میں ادویات کی قیمتوں کے نظام میں تبدیلی کے بعد مختلف ادویات کی قیمتوں میں نمایاں اضافے کی شکایات سامنے آئی ہیں۔ اجلاس میں ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی سے واضح قیمتوں کا طریقہ کار وضع کرنے کے لیے بھی کہا گیا تھا۔

دوسری جانب ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی نے مارچ میں واضح کیا تھا کہ ضروری ادویات کی قیمتوں میں حالیہ عرصے کے دوران کسی نئی عمومی اضافے کی منظوری نہیں دی گئی۔ اتھارٹی کے مطابق مارکیٹ میں موجود بعض پیکٹس پر درج زیادہ قیمتوں کو بعض رپورٹس میں حالیہ اضافے کے طور پر پیش کیا گیا، حالانکہ وہ پہلے سے درج زیادہ سے زیادہ خوردہ قیمتیں تھیں۔

اس لیے ہر دوا کی موجودہ قیمت کے معاملے میں متعلقہ پیک پر درج قیمت، سرکاری قیمت اور دوا کے برانڈ کی درست تفصیل دیکھنا ضروری ہے۔

ضروری ادویات کی دستیابی بھی اہم مسئلہ

قیمت کے ساتھ ادویات کی دستیابی بھی مریضوں کے لیے اہم معاملہ ہے۔ جولائی 2026 میں ایک رپورٹ کے مطابق 100 سے زیادہ ضروری ادویات ملک کے مختلف حصوں میں دستیابی کے بحران کا شکار تھیں، جن میں کینسر، دل کے امراض اور دیگر سنگین بیماریوں کے علاج میں استعمال ہونے والی ادویات بھی شامل تھیں۔ رپورٹ میں اس صورتحال کو قیمتوں کے تعین میں تاخیر اور پیداوار کے مسائل سے بھی جوڑا گیا تھا۔

اسی طرح تقریباً 40 نئی جان بچانے والی ادویات کی قیمتوں کی حتمی منظوری اور نوٹیفکیشن میں تاخیر کے باعث ان کی قانونی مارکیٹنگ متاثر ہونے کی رپورٹ بھی سامنے آئی تھی۔ ان میں مختلف سنگین بیماریوں کے علاج کی ادویات شامل تھیں۔

یہ صورتحال واضح کرتی ہے کہ مریضوں کے لیے مسئلہ صرف دوا کی قیمت نہیں بلکہ دوا کا قانونی اور باقاعدہ طریقے سے دستیاب ہونا بھی ہے۔

احمدپورسیال میں مؤثر نگرانی کا مطالبہ

احمدپورسیال کے شہریوں نے مطالبہ کیا ہے کہ مقامی سطح پر میڈیکل اسٹورز اور فارمیسیز کی باقاعدہ نگرانی کی جائے۔

ان کا کہنا ہے کہ اگر کسی دوا کی سرکاری طور پر قیمت مقرر ہے تو اس سے زیادہ وصولی کی شکایت کا جائزہ لیا جانا چاہیے۔ اسی طرح شہری چاہتے ہیں کہ ادویات کے پیک پر درج قیمت اور فروخت کی قیمت کے حوالے سے بھی عوام کو واضح معلومات فراہم کی جائیں۔

مقامی شہریوں کے مطابق ضروری ادویات کی دستیابی، قیمت اور معیار تینوں معاملات پر نگرانی ضروری ہے تاکہ مریض غیرضروری مالی دباؤ اور غیرمستند ذرائع سے دوا خریدنے کے خطرے سے محفوظ رہیں۔

مصنوعی قلت کی شکایات کی جانچ بھی ضروری

شہریوں نے یہ بھی مطالبہ کیا ہے کہ اگر کسی مخصوص دوا کی مارکیٹ میں مسلسل عدم دستیابی کی شکایت سامنے آئے تو متعلقہ حکام اس کی وجوہات معلوم کریں۔

دوا کی قلت کی کئی وجوہات ہوسکتی ہیں، جن میں پیداوار، درآمد، سپلائی چین، قیمت کے تعین یا طلب میں اضافے جیسے عوامل شامل ہوسکتے ہیں۔ اس لیے کسی مخصوص میڈیکل اسٹور یا کمپنی پر مصنوعی قلت پیدا کرنے کا الزام بغیر ثبوت کے عائد کرنا درست نہیں ہوگا۔

البتہ اگر متعلقہ اداروں کو کسی دوا کی غیرمعمولی قلت یا مقررہ قیمت سے زیادہ وصولی کی شکایات موصول ہوتی ہیں تو ان کی باقاعدہ جانچ شہریوں کے اعتماد کے لیے اہم ہوسکتی ہے۔

جان بچانے والی ادویات کا معاملہ

زندگی بچانے والی ادویات کی قیمت اور دستیابی کا مسئلہ نسبتاً زیادہ حساس ہے۔ جولائی 2026 میں وفاقی کابینہ کی ایک ذیلی کمیٹی نے 52 جان بچانے والی ادویات کی قیمتوں کی منظوری دی تھی، تاہم اس وقت بتایا گیا تھا کہ حتمی منظوری وفاقی کابینہ سے مشروط ہے۔ وفاقی وزیر صحت کے مطابق ان میں کینسر اور ذیابیطس سمیت مختلف بیماریوں کے علاج کی ادویات اور ویکسینز شامل تھیں۔

ستمبر 2026 میں بھی جان بچانے والی بعض کینسر ادویات کی قیمتوں کے نوٹیفکیشن میں تاخیر پر تشویش سامنے آئی۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ قیمت کے تعین اور باقاعدہ دستیابی کا عمل مریضوں کے لیے عملی اہمیت رکھتا ہے۔

شہریوں کا حکومت سے کیا مطالبہ ہے؟

احمدپورسیال کے شہریوں نے حکومت اور متعلقہ محکمہ صحت سے مطالبہ کیا ہے کہ:

  • ضروری ادویات کی مارکیٹ میں دستیابی یقینی بنائی جائے۔
  • مقررہ قیمت سے زائد وصولی کی شکایات پر کارروائی کی جائے۔
  • میڈیکل اسٹورز اور فارمیسیز کی باقاعدہ چیکنگ کی جائے۔
  • ضروری ادویات کے نرخ اور قیمت کے تعین سے متعلق معلومات عوام تک آسان انداز میں پہنچائی جائیں۔
  • کسی دوا کی غیرمعمولی قلت کی صورت میں اس کی وجوہات کی جانچ کی جائے۔
  • مریضوں کو غیرمستند اور غیرقانونی ذرائع سے ادویات خریدنے سے بچانے کے لیے نگرانی بہتر بنائی جائے۔

شہریوں کا کہنا ہے کہ صرف قیمتوں کے اعلانات کافی نہیں بلکہ مارکیٹ میں عملی صورت حال بھی چیک کی جانی چاہیے۔

حکومت اور متعلقہ اداروں کی ذمہ داری

ادویات کی قیمتوں کا نظام وفاقی سطح پر ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی اور متعلقہ حکومتی اداروں کے دائرہ کار میں آتا ہے، جبکہ صوبائی سطح پر صحت کے متعلقہ ادارے اپنے دائرہ اختیار کے مطابق نگرانی اور نفاذ کے معاملات دیکھتے ہیں۔

مارچ 2026 میں ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی نے کہا تھا کہ وہ ادویات کی دستیابی اور سپلائی چین کی نگرانی کر رہی ہے اور ضروری ادویات کی قیمتوں میں یکطرفہ اضافے کی اجازت نہیں ہے۔

اسی تناظر میں احمدپورسیال کے شہری چاہتے ہیں کہ مقامی مارکیٹ میں بھی ادویات کی قیمتوں اور دستیابی سے متعلق شکایات کی بروقت جانچ کی جائے۔

علاج اور مہنگائی کا دباؤ

ملک میں مجموعی مہنگائی بھی گھریلو بجٹ پر اثر انداز ہوتی ہے۔ پاکستان بیورو آف اسٹیٹسٹکس کے اگست 2026 کے اعداد و شمار کے مطابق صارف قیمت اشاریہ کی سالانہ مہنگائی 11.1 فیصد رہی، جبکہ اسی ماہ ادویات اور طبی شعبے سے متعلق بعض اشاریوں میں بھی ماہانہ اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔

ایسے ماحول میں مستقل بیماریوں کے مریضوں کے لیے ہر ماہ ادویات خریدنے کا خرچ گھریلو بجٹ پر اضافی دباؤ ڈال سکتا ہے۔

تاہم مقامی سطح پر کسی مخصوص دوا کی قیمت میں اضافے کی وجہ اور شرح جاننے کے لیے اس دوا کا نام، برانڈ، پیک سائز اور موجودہ و سابقہ قیمت کی الگ سے تصدیق ضروری ہے۔

شہریوں کی شکایات کا باضابطہ جائزہ ضروری

احمدپورسیال کے شہریوں کی جانب سے سامنے آنے والی شکایات کے تناظر میں ضروری ہے کہ متعلقہ حکام مقامی میڈیکل مارکیٹ کا جائزہ لیں اور اگر کسی مخصوص دوا کی قیمت یا دستیابی کے بارے میں شکایات ہیں تو ان کی دستاویزی بنیاد پر جانچ کی جائے۔

اس سلسلے میں شہری بھی دوا خریدتے وقت پیک پر درج قیمت، دوا کا نام، طاقت، پیک سائز اور رسید کو محفوظ رکھ سکتے ہیں تاکہ کسی شکایت کی صورت میں درست معلومات فراہم کی جاسکیں۔

نتیجہ

احمدپورسیال میں ادویات کی قیمتوں اور دستیابی کے حوالے سے شہریوں کی شکایات نے ایک اہم عوامی مسئلے کی طرف توجہ دلائی ہے۔ اگرچہ مقامی سطح پر تمام ادویات کی قیمتوں میں حالیہ اضافے کی آزادانہ تصدیق دستیاب نہیں، تاہم ملک بھر میں دوا کی قیمتوں، ضروری ادویات کی قلت اور قیمتوں کے تعین کے نظام پر رواں سال بحث اور حکومتی سطح پر اقدامات سامنے آئے ہیں۔

احمدپورسیال کے شہریوں کا مطالبہ ہے کہ متعلقہ حکام مقامی میڈیکل اسٹورز کی مؤثر نگرانی کریں، مقررہ نرخوں پر ادویات کی دستیابی یقینی بنائیں اور زائد قیمت یا مصنوعی قلت کی مستند شکایات پر قانون کے مطابق کارروائی کریں تاکہ علاج عام شہری کے لیے مزید مشکل نہ بنے۔

Zeeshan zafar gondal

Zeeshan zafar gondal

بیورو چیف

💬 تبصرے (0)

اپنا تبصرہ لکھیں

ابھی تک کوئی تبصرہ نہیں۔ پہلے تبصرہ کرنے والے بنیں!