Monday, September 28, 2026
FB
تازہ ترین

پاک بحریہ کی ہانگور آبدوز نے پہلی لائیو ویپن فائرنگ کامیابی سے مکمل کرلی

پاک بحریہ کی نئی شامل کی گئی پی این ایس/ایم ہانگور نے شمالی بحیرہ عرب میں پہلی لائیو ویپن فائرنگ کامیابی سے مکمل کرلی۔ آئی ایس پی آر کے مطابق آبدوز نے طویل فاصلے پر مقررہ ہدف کو اینٹی شپ کروز میزائل سے درستگی کے ساتھ نشانہ بنایا، جبکہ نیول چیف ایڈمرل نوید اشرف نے فائرنگ کا مشاہدہ کیا۔

پاک بحریہ کی ہانگور آبدوز نے پہلی لائیو ویپن فائرنگ کامیابی سے مکمل کرلی

پاک بحریہ کی نئی شامل کی گئی ہانگور کلاس آبدوز پی این ایس/ایم ہانگور نے شمالی بحیرہ عرب میں پہلی لائیو ویپن فائرنگ کامیابی سے مکمل کرلی ہے۔ پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق آبدوز نے مشق کے دوران طویل فاصلے پر موجود مقررہ ہدف کو اینٹی شپ کروز میزائل کے ذریعے کامیابی سے نشانہ بنایا۔

پاک بحریہ کے مطابق یہ فائرنگ ہانگور آبدوز کی عملی تیاری اور جنگی نظام کی کارکردگی کے حوالے سے ایک اہم مرحلہ ہے۔ چیف آف نیول اسٹاف ایڈمرل نوید اشرف نے فائرنگ کا مشاہدہ کیا اور آبدوز کی جنگی صلاحیت کو سراہا۔

ہانگور آبدوز کی پہلی لائیو ویپن فائرنگ

آئی ایس پی آر کے مطابق پی این ایس/ایم ہانگور نے شمالی بحیرہ عرب میں پہلی مرتبہ حقیقی ہتھیار کی فائرنگ کی۔ مشق کے دوران اینٹی شپ کروز میزائل نے مقررہ طویل فاصلے کے ہدف کو درستگی کے ساتھ نشانہ بنایا۔

فوج کے میڈیا ونگ نے اس پیش رفت کو آبدوز کی آپریشنل تیاری کے حوالے سے اہم قرار دیا ہے۔ پاکستان نیوی کے مطابق فائرنگ کے کامیاب تجربے سے ہانگور کے ہتھیاروں کے نظام اور جنگی تیاری کے مختلف پہلوؤں کی جانچ بھی ہوئی۔

نیول چیف نے فائرنگ کا مشاہدہ کیا

چیف آف نیول اسٹاف ایڈمرل نوید اشرف نے پی این ایس/ایم ہانگور کی لائیو ویپن فائرنگ کا مشاہدہ کیا۔ انہوں نے آبدوز کی جنگی صلاحیت اور عملے کی پیشہ ورانہ کارکردگی کو سراہا۔

آئی ایس پی آر کے مطابق نیول چیف نے زیرِ آب جنگی صلاحیتوں کو مزید مضبوط بنانے کی اہمیت پر بھی زور دیا۔ ان کے مطابق ایسی صلاحیتیں پاک بحریہ کی آپریشنل تیاری اور سمندری دفاع کے لیے اہم ہیں۔

پی این ایس/ایم ہانگور پاکستان کے بیڑے میں کب شامل ہوئی؟

پی این ایس/ایم ہانگور ہانگور کلاس کی پہلی آبدوز ہے جسے پاکستان نے اپنے بحری بیڑے میں شامل کیا ہے۔ آبدوز کو رواں سال اپریل میں چین کے شہر سانیا میں منعقدہ تقریب کے دوران پاکستان کے حوالے کیا گیا، جس میں صدر مملکت آصف علی زرداری اور چیف آف نیول اسٹاف ایڈمرل نوید اشرف بھی شریک تھے۔

بعد ازاں ہانگور جون 2026 میں کراچی پہنچی اور پاک بحریہ کے آپریشنل بیڑے کا حصہ بنی۔

آٹھ ہانگور کلاس آبدوزوں کا منصوبہ

پاکستان چین کے تعاون سے مجموعی طور پر آٹھ ہانگور کلاس آبدوزیں حاصل کر رہا ہے۔ پی این ایس/ایم ہانگور اس پروگرام کی پہلی آبدوز ہے جو پاکستان کے آپریشنل بحری بیڑے میں شامل ہوئی ہے۔

یہ منصوبہ پاک بحریہ کے بیڑے کو جدید بنانے اور زیرِ آب جنگی صلاحیتوں میں اضافہ کرنے کے وسیع پروگرام کا حصہ ہے۔ دستیاب اطلاعات کے مطابق ہانگور کلاس آبدوزوں میں جدید جنگی نظام، جدید سینسرز، ایئر انڈیپنڈنٹ پروپلشن ٹیکنالوجی اور کم نمایاں رہنے کی صلاحیتوں سے متعلق نظام شامل ہیں۔

ایئر انڈیپنڈنٹ پروپلشن کیا ہے؟

ہانگور کلاس آبدوز کی نمایاں خصوصیات میں ایئر انڈیپنڈنٹ پروپلشن یعنی اے آئی پی ٹیکنالوجی بھی شامل ہے۔ اس نوعیت کا نظام آبدوز کو زیرِ آب رہتے ہوئے روایتی طریقہ کار کے مقابلے میں زیادہ دیر تک آپریشن جاری رکھنے میں مدد دے سکتا ہے۔

آبدوز کی زیرِ آب موجودگی، خاموشی اور جدید سینسرز جیسی صلاحیتیں بحری کارروائیوں میں اہم سمجھی جاتی ہیں۔ تاہم موجودہ لائیو فائرنگ کے نتیجے سے آبدوز کی مکمل جنگی کارکردگی یا مستقبل کے تمام آپریشنل نتائج اخذ کرنا مناسب نہیں ہوگا۔

اینٹی شپ کروز میزائل سے ہدف کو نشانہ بنایا گیا

آئی ایس پی آر کے مطابق لائیو ویپن فائرنگ کے دوران پی این ایس/ایم ہانگور نے اینٹی شپ کروز میزائل فائر کیا جس نے طویل فاصلے پر مقررہ ہدف کو کامیابی سے نشانہ بنایا۔

سرکاری بیان میں میزائل کا نام، فائرنگ کا درست فاصلہ اور ہدف کی مزید آپریشنل تفصیلات ظاہر نہیں کی گئیں۔ اس لیے دستیاب معلومات کی بنیاد پر اتنا ہی کہا جا سکتا ہے کہ پاک بحریہ نے ایک طویل فاصلے کے مقررہ ہدف کے خلاف اینٹی شپ کروز میزائل کی فائرنگ کامیابی سے مکمل کی۔

وزیراعظم کی پاک بحریہ کو مبارکباد

وزیراعظم شہباز شریف نے پی این ایس/ایم ہانگور کی پہلی کامیاب لائیو ویپن فائرنگ پر پاک بحریہ اور اس کی قیادت کو مبارکباد دی۔

وزیراعظم آفس کے مطابق شہباز شریف نے طویل فاصلے کے ہدف کو اینٹی شپ کروز میزائل سے درستگی کے ساتھ نشانہ بنانے کو پاک بحریہ کی آبدوز فورس کی آپریشنل تیاری اور پیشہ ورانہ مہارت کا مظہر قرار دیا۔ انہوں نے چیف آف نیول اسٹاف اور ہانگور کی شمولیت و آپریشنلائزیشن سے وابستہ اہلکاروں کی کارکردگی کو بھی سراہا۔

پاکستان کی بحری دفاعی صلاحیت کے لیے اہم مرحلہ

ہانگور آبدوز کی پہلی لائیو ویپن فائرنگ ایسے وقت میں ہوئی ہے جب پاکستان اپنی بحری دفاعی صلاحیتوں کو جدید بنانے کے عمل میں ہے۔ نئی آبدوزوں کی شمولیت کا مقصد پاک بحریہ کے زیرِ آب بیڑے کو جدید ٹیکنالوجی سے لیس کرنا اور اس کی آپریشنل صلاحیتوں میں اضافہ کرنا ہے۔

لائیو ویپن فائرنگ کسی نئے بحری پلیٹ فارم کے لیے اہم مرحلہ ہوتی ہے کیونکہ اس میں ہتھیاروں کے نظام، عملے کی تیاری اور متعلقہ جنگی نظام کے عملی استعمال کی جانچ ہوتی ہے۔ تاہم ایک کامیاب فائرنگ کو مکمل جنگی صلاحیت یا کسی بڑے علاقائی عسکری توازن میں فوری تبدیلی کے برابر قرار دینا دستیاب معلومات سے آگے بڑھنا ہوگا۔

پاک بحریہ کی زیرِ آب صلاحیتوں پر توجہ

پاکستان نیوی کی جانب سے ہانگور کلاس آبدوزوں کو بیڑے میں شامل کرنا زیرِ آب جنگی صلاحیتوں پر بڑھتی ہوئی توجہ کی نشاندہی کرتا ہے۔ نیول چیف نے بھی حالیہ فائرنگ کے موقع پر زیرِ آب صلاحیتوں کو مزید مضبوط بنانے کی اہمیت پر زور دیا۔

پاک بحریہ کے مطابق اس نوعیت کی صلاحیتیں ملکی بحری حدود کے تحفظ اور سمندری دفاع کے لیے اہم ہیں۔

چین کے ساتھ دفاعی تعاون

ہانگور کلاس آبدوزوں کا منصوبہ پاکستان اور چین کے درمیان دفاعی تعاون کا بھی ایک اہم حصہ ہے۔ پہلی ہانگور آبدوز کی تعمیر چین میں ہوئی اور بعد ازاں اسے پاکستان کے حوالے کیا گیا۔

اس منصوبے کے تحت آٹھ آبدوزوں کا حصول پاکستان کے بحری بیڑے کی جدید کاری کے بڑے منصوبوں میں شامل ہے۔ پی این ایس/ایم ہانگور کی پاکستان آمد اور اب اس کی پہلی لائیو ویپن فائرنگ اس پروگرام کے عملی مراحل میں پیش رفت کی نشاندہی کرتی ہے۔

ہانگور نام کی تاریخی اہمیت

ہانگور نام پاک بحریہ کی تاریخ میں بھی اہم حیثیت رکھتا ہے۔ 1971 کی جنگ کے دوران سابق پی این ایس ہانگور نے بھارتی بحری جہاز آئی این ایس کُکری کو نشانہ بنایا تھا۔

نئی ہانگور کلاس آبدوز کو اسی تاریخی نام سے منسوب کیا گیا ہے، تاہم موجودہ آبدوز جدید ٹیکنالوجی اور نئے جنگی نظام کے ساتھ ایک مختلف نسل کا بحری پلیٹ فارم ہے۔

آئندہ ہانگور کلاس آبدوزوں کی اہمیت

پاکستان کے لیے آٹھ ہانگور کلاس آبدوزوں کی منصوبہ بندی کا مقصد زیرِ آب بحری بیڑے کو مزید مضبوط بنانا ہے۔ پہلی آبدوز کی لائیو ویپن فائرنگ کے بعد آنے والے مراحل میں دیگر آبدوزوں کی شمولیت اور ان کی آپریشنل تیاری بھی اہم ہوگی۔

مستقبل میں اس پروگرام کی مجموعی افادیت کا اندازہ صرف ہتھیاروں کی فائرنگ سے نہیں بلکہ آبدوزوں کی دستیابی، تربیت، دیکھ بھال، عملے کی مہارت اور مختلف حالات میں آپریشنل کارکردگی سمیت کئی عوامل کی بنیاد پر ہوگا۔

نتیجہ

پاکستان نیوی کی پی این ایس/ایم ہانگور نے شمالی بحیرہ عرب میں پہلی لائیو ویپن فائرنگ کامیابی سے مکمل کرلی ہے۔ آئی ایس پی آر کے مطابق آبدوز نے اینٹی شپ کروز میزائل کے ذریعے طویل فاصلے پر مقررہ ہدف کو درستگی کے ساتھ نشانہ بنایا، جبکہ نیول چیف ایڈمرل نوید اشرف نے مشق کا مشاہدہ کیا۔

ہانگور کی یہ فائرنگ پاکستان کے آٹھ آبدوزوں پر مشتمل ہانگور کلاس پروگرام اور پاک بحریہ کی زیرِ آب صلاحیتوں کی جدید کاری کے تناظر میں ایک اہم عملی مرحلہ ہے۔ تاہم اس ایک تجربے کی بنیاد پر آبدوز کی مکمل جنگی صلاحیت یا وسیع تر علاقائی اثرات کے بارے میں حتمی نتیجہ اخذ کرنا قبل از وقت ہوگا۔

Ammar abbas

Ammar abbas

چیف ایگزیکٹو آفیسر – دی پاک گلوبل اردو نیٹ ورک

# Ammar Abbas — صحافت سے CEO تک کامیابی کا سفر **عمار عباس** ایک باصلاحیت، متحرک اور وژن رکھنے والے صحافی ہیں، جنہوں نے صحافت کے میدان سے اپنے پیشہ ورانہ سفر کا آغاز کیا اور اپنی محنت، صلاحیتوں اور...

💬 تبصرے (0)

اپنا تبصرہ لکھیں

ابھی تک کوئی تبصرہ نہیں۔ پہلے تبصرہ کرنے والے بنیں!