پاکستان کے پہلے انسانی خلائی مشن کی تیاریاں اہم مرحلے میں داخل ہوگئی ہیں اور دو پاکستانی پائلٹس چین میں سخت تربیت حاصل کر رہے ہیں۔ محمد ذیشان علی اور خرم داؤد کئی ماہ سے بیجنگ کے چائنا آسٹروناٹ ریسرچ اینڈ ٹریننگ سینٹر میں تربیتی مراحل سے گزر رہے ہیں، جہاں دونوں کو خلائی سفر اور مدار میں کام کرنے کے لیے تیار کیا جا رہا ہے۔
دونوں امیدواروں میں سے ایک کو چین کے خلائی اسٹیشن تیان گونگ جانے کے لیے حتمی طور پر منتخب کیا جائے گا۔ پاکستان کی خلائی ایجنسی سپارکو سے وابستہ حکام کے مطابق انتخاب کا فیصلہ اکتوبر 2026 کے وسط سے آخر تک متوقع ہے۔
دو پاکستانی پائلٹس چین میں تربیت حاصل کر رہے ہیں
محمد ذیشان علی اور خرم داؤد کو پاکستانی امیدواروں کے انتخاب کے مختلف مراحل کے بعد چین میں تربیت کے لیے بھیجا گیا۔ سپارکو کے مطابق دونوں امیدواروں کو طبی، نفسیاتی اور دیگر اہلیت کے معیار پر جانچا گیا تھا۔
اپریل 2026 میں چین کی جانب سے دونوں پاکستانی امیدواروں کے نام سامنے آنے کے بعد ان کی خلائی تربیت کا مرحلہ شروع ہوا۔ دونوں میں سے ایک مستقبل میں چینی عملے کے ساتھ تیان گونگ خلائی اسٹیشن کے مشن میں شامل ہوگا۔
تربیت میں کیا کچھ شامل ہے؟
چین میں جاری تربیت عام پائلٹ تربیت سے کہیں مختلف نوعیت کی ہے۔ دونوں امیدوار چینی زبان سیکھنے کے ساتھ ساتھ خلائی جہاز کے نظام، کم کششِ ثقل کے ماحول اور خلائی سفر کے دوران پیش آنے والی صورتحال سے نمٹنے کی مشق کر رہے ہیں۔
تربیتی پروگرام میں سینٹری فیوج مشقیں بھی شامل ہیں، جن کا مقصد لانچ کے دوران جسم پر پڑنے والی شدید جی فورس کے اثرات سے نمٹنے کی صلاحیت پیدا کرنا ہے۔
اس کے علاوہ امیدواروں کو مدار میں کھانے، سونے اور آلات کی مرمت سمیت روزمرہ کے مختلف کاموں کی بھی تربیت دی جا رہی ہے۔
حتمی انتخاب کب ہوگا؟
چین نے ابھی تک یہ اعلان نہیں کیا کہ محمد ذیشان علی اور خرم داؤد میں سے کون خلائی مشن پر جائے گا۔
سپارکو میں انسانی خلائی پرواز کے تعاون کی نگرانی کرنے والے عامر گیلانی کے مطابق حتمی انتخاب اکتوبر کے وسط سے آخر تک متوقع ہے۔ منتخب امیدوار تربیت مکمل کرنے کے بعد پاکستان واپس آنے کے بجائے چین میں ہی مشن کی تیاری جاری رکھے گا۔
اس طرح پاکستان کے پہلے انسانی خلائی مشن کے لیے حتمی امیدوار کا نام سامنے آنے میں اب زیادہ وقت باقی نہیں رہا۔
پاکستان کا پہلا خلاباز کیا کرے گا؟
منتخب پاکستانی پائلٹ خلائی جہاز کا مرکزی پائلٹ نہیں ہوگا بلکہ اسے پے لوڈ اسپیشلسٹ کے طور پر مشن میں شامل کیا جائے گا۔
پے لوڈ اسپیشلسٹ کی بنیادی ذمہ داری مشن کے مخصوص سائنسی تجربات اور تحقیقی سرگرمیوں کو انجام دینا ہوتی ہے۔ پاکستان کے اس مشن کے لیے بھی سائنسی تجربات کا انتخاب کیا گیا ہے، جن میں حیاتیاتی ٹیکنالوجی سے متعلق تحقیق شامل ہے۔
سپارکو کے مطابق پاکستانی جامعات سے 300 سے زیادہ تحقیقی تجاویز موصول ہوئی تھیں، جن میں سے چار تجربات کو اس خلائی پرواز کے لیے منتخب کیا گیا۔ ان تجربات کا تعلق خوراک کے تحفظ اور موسمیاتی تبدیلی جیسے موضوعات سے ہے۔
تیان گونگ خلائی اسٹیشن تک سفر
منتخب پاکستانی خلاباز چینی ساختہ خلائی جہاز کے ذریعے چین سے خلائی سفر کرے گا۔ مشن کے دوران وہ چینی خلائی عملے کے ساتھ تیان گونگ خلائی اسٹیشن پر کام کرے گا۔
رپورٹس کے مطابق پاکستانی خلاباز کا خلائی قیام تقریباً ایک ہفتے پر مشتمل ہوگا، جو چین کے مستقل خلائی عملے کے کئی ماہ پر محیط معمول کے مشنز کے مقابلے میں مختصر ہوگا۔
یہ مشن پاکستان کے لیے اس لحاظ سے اہم ہوگا کہ اس سے پہلی مرتبہ کوئی پاکستانی شہری انسانی خلائی پرواز کے ذریعے مدار میں جائے گا۔
پاکستان اور چین کا خلائی تعاون
پاکستان اور چین کے درمیان خلائی شعبے میں تعاون صرف اس انسانی خلائی مشن تک محدود نہیں۔ دونوں ممالک کے درمیان کئی برس سے سیٹلائٹس، خلائی تحقیق اور دیگر منصوبوں پر تعاون جاری ہے۔
مئی 2026 کے مشترکہ اعلامیے میں دونوں ممالک نے خلائی تعاون کو مزید آگے بڑھانے اور ایک پاکستانی خلاباز کو چین کے خلائی اسٹیشن تک پہنچانے کی خواہش کا اظہار کیا تھا۔
چین کی مدد سے پاکستان کے مختلف سیٹلائٹس پہلے ہی خلا میں بھیجے جا چکے ہیں، جبکہ دونوں ممالک کے درمیان سیٹلائٹ نیویگیشن اور دیگر سائنسی منصوبوں پر بھی تعاون موجود ہے۔
چاند کے مشن میں بھی پاکستانی منصوبہ شامل
پاکستان اور چین کے خلائی تعاون کا ایک اور اہم منصوبہ پاکستانی ساختہ قمری روور ہے، جسے مستقبل میں چین کے چانگ ای 8 مشن کے ذریعے چاند پر بھیجے جانے کا منصوبہ ہے۔
رپورٹس کے مطابق یہ روور مصنوعی ذہانت پر مبنی نظام کے ذریعے چاند کی سطح پر رکاوٹوں کی نشاندہی، گہرائی کا اندازہ اور راستے کی منصوبہ بندی کرنے کی صلاحیت رکھے گا۔ چانگ ای 8 مشن تقریباً 2028 میں متوقع ہے۔
پاکستان کے لیے اہم سائنسی پیش رفت
پاکستان نے اب تک سیٹلائٹس اور خلائی تحقیق کے مختلف منصوبوں میں حصہ لیا ہے، تاہم کسی پاکستانی شہری کی باقاعدہ انسانی خلائی پرواز ابھی نہیں ہوئی۔
اگر موجودہ منصوبے کے مطابق ایک پاکستانی پائلٹ تیان گونگ خلائی اسٹیشن تک پہنچتا ہے تو یہ ملک کے انسانی خلائی پروگرام میں ایک نمایاں سنگ میل ہوگا۔
اس مشن کا مقصد صرف کسی پاکستانی شہری کو خلا میں بھیجنا نہیں بلکہ پاکستانی سائنسی تجربات کو مدار میں انجام دینا بھی ہے۔ اس اعتبار سے منتخب خلاباز کو سائنسی تحقیق کے عملی مرحلے میں بھی اہم ذمہ داری ادا کرنا ہوگی۔
خلاباز کے انتخاب کا اگلا مرحلہ
فی الحال محمد ذیشان علی اور خرم داؤد دونوں چین میں تربیت مکمل کر رہے ہیں اور دونوں امیدواروں کے درمیان حتمی انتخاب ہونا باقی ہے۔
حتمی فیصلے کے بعد منتخب پائلٹ چین میں ہی مشن کی مزید تیاری کرے گا اور لانچ تک وہیں رہے گا۔ مشن سے واپسی کے بعد بھی اسے بحالی کے مرحلے سے گزرنا ہوگا، جس کے بعد پاکستان واپسی ہوگی۔
چین کی جانب سے ابھی تک حتمی مشن تاریخ اور منتخب پاکستانی امیدوار کے نام کا اعلان نہیں کیا گیا، اس لیے ان دونوں معاملات سے متعلق مزید تفصیلات سرکاری اعلان کے بعد ہی واضح ہوں گی۔
نتیجہ
پاکستان کے پہلے انسانی خلائی مشن کی تیاریاں فیصلہ کن مرحلے میں داخل ہوچکی ہیں۔ محمد ذیشان علی اور خرم داؤد چین میں خلائی سفر، چینی زبان، خلائی جہاز کے نظام اور بے وزنی کے ماحول کی تربیت حاصل کر رہے ہیں۔ دونوں میں سے ایک کو اکتوبر 2026 کے وسط سے آخر تک تیان گونگ خلائی اسٹیشن کے مشن کے لیے منتخب کیے جانے کی توقع ہے، جبکہ منتخب امیدوار پاکستان کے سائنسی تجربات کے پے لوڈ اسپیشلسٹ کے طور پر مشن میں شامل ہوگا۔
💬 تبصرے (0)
اپنا تبصرہ لکھیں
ابھی تک کوئی تبصرہ نہیں۔ پہلے تبصرہ کرنے والے بنیں!