سعودی سلامتی پر سمجھوتہ نہ کرنے کا اعلان
ریاض: سعودی ولی عہد و وزیراعظم محمد بن سلمان نے کہا ہے کہ سعودی عرب علاقائی کشیدگی کم کرنے اور سفارتی حل کی حمایت کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھے گا، تاہم مملکت کی سلامتی کے معاملے پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔
محمد بن سلمان نے یہ بات 30 ستمبر 2026 کو ریاض میں شوریٰ کونسل کے نویں دور کے تیسرے سال کے افتتاح کے موقع پر شاہ سلمان بن عبدالعزیز کی جانب سے سالانہ شاہی خطاب کرتے ہوئے کہی۔
سعودی ولی عہد نے واضح کیا کہ مملکت کی سلامتی کو نقصان پہنچانے والے کسی بھی خطرے یا حملے کا فیصلہ کن جواب دیا جائے گا۔ ان کے مطابق سعودی عرب کے پاس کسی بھی ذریعے سے لاحق خطرات کا مقابلہ کرنے کے لیے انسانی اور عسکری صلاحیتیں موجود ہیں۔
خلیجی ممالک کی سلامتی کو باہم منسلک قرار دیا
محمد بن سلمان نے خلیج تعاون کونسل کے ممالک کو نشانہ بنانے والے حالیہ حملوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ان واقعات سے ظاہر ہوتا ہے کہ خلیج کی سلامتی اور استحکام ایک دوسرے سے منسلک ہیں۔
انہوں نے کہا کہ سعودی عرب اپنے خلیجی شراکت داروں کے ساتھ مل کر علاقائی سلامتی کے تحفظ، اسٹریٹجک تعاون، اقتصادی انضمام اور مشترکہ اقدامات کو مضبوط بنانے کے لیے کام کر رہا ہے۔
یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب خطے میں سکیورٹی صورتحال کشیدہ ہے اور سعودی عرب کو یمن میں حوثی حملوں سمیت مختلف علاقائی خطرات کا سامنا ہے۔ الجزیرہ کے مطابق حالیہ ہفتوں میں سعودی عرب پر حملوں میں اضافہ ہوا ہے، جبکہ ریاض نے بعض میزائل حملوں کو روکنے کا بھی اعلان کیا ہے۔
سعودی عرب، پاکستان اور ترکیہ کا دفاعی معاہدہ
سعودی ولی عہد نے سعودی عرب، پاکستان اور ترکیہ کے درمیان طے پانے والے مکہ دفاعی معاہدے کا بھی ذکر کیا۔
انہوں نے کہا کہ یہ معاہدہ خطے میں سلامتی اور استحکام کو مضبوط بنانے، کشیدگی اور تنازعات کے اثرات سے خطے کو محفوظ رکھنے اور تینوں ممالک کے درمیان مشترکہ کوششوں کو مربوط کرنے کی سمت ایک قدم ہے۔
یہ پیش رفت پاکستان کے لیے بھی اہم ہے کیونکہ پاکستانی وزیر دفاع خواجہ محمد آصف نے 29 ستمبر کو کہا تھا کہ مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کے تحت سعودی عرب کے دفاع کے لیے پاکستان اپنی دستیاب صلاحیتیں فراہم کرے گا۔ تاہم انہوں نے یہ واضح نہیں کیا تھا کہ پاکستانی فورسز سعودی عرب کی جانب سے کسی حالیہ فضائی کارروائی میں پہلے ہی شریک ہوئی ہیں یا نہیں۔
سفارتی حل کی حمایت بھی جاری رکھنے کا اعلان
سعودی ولی عہد نے اپنے خطاب میں واضح کیا کہ سعودی عرب علاقائی کشیدگی میں کمی اور سفارتی راستے سے مسائل کے حل کی کوششیں جاری رکھے گا۔
ان کے مطابق سفارتی حل کی حمایت کا مطلب سعودی سلامتی پر سمجھوتہ کرنا نہیں ہے۔ ریاض بیک وقت کشیدگی کم کرنے کے لیے سفارتی کوششیں اور اپنی سلامتی کے تحفظ کے لیے اقدامات جاری رکھے گا۔
بحری سلامتی کے لیے کثیر ملکی اتحاد کا ذکر
محمد بن سلمان نے بین الاقوامی سمندری راستوں کے تحفظ کے لیے کثیر ملکی بحری دفاعی اتحاد کے قیام کا بھی ذکر کیا۔
انہوں نے کہا کہ اس اقدام کا مقصد بین الاقوامی آبی گزرگاہوں میں مشترکہ مفادات کا تحفظ، بحری سلامتی کو مضبوط بنانا اور سمندری راستوں کو سیاسی یا اقتصادی دباؤ کے لیے استعمال کیے جانے کی مخالفت کرنا ہے۔
یہ معاملہ بحیرہ احمر اور باب المندب جیسے اہم بحری راستوں کی موجودہ سکیورٹی صورتحال کے تناظر میں اہمیت رکھتا ہے، جہاں حوثی حملوں کے باعث تجارتی اور بحری آمدورفت کو خطرات کا سامنا رہا ہے۔
پاکستان کے لیے علاقائی صورتحال کی اہمیت
سعودی عرب، پاکستان اور ترکیہ کے درمیان دفاعی تعاون اور موجودہ علاقائی کشیدگی کے باعث سعودی ولی عہد کا تازہ بیان پاکستان کے لیے بھی اہم ہے۔
تاہم سعودی قیادت کے بیان میں ایک ہی وقت میں دو پہلو نمایاں رہے: ایک طرف کشیدگی کم کرنے اور سفارتی حل کی کوششیں جاری رکھنے کا عزم، اور دوسری طرف سعودی سلامتی کو درپیش کسی خطرے کی صورت میں فیصلہ کن ردعمل کا اعلان۔
خطے کی آئندہ صورتحال کا انحصار حملوں میں کمی، سفارتی رابطوں اور مختلف ممالک کے درمیان سکیورٹی تعاون سمیت متعدد عوامل پر ہوگا۔
نتیجہ
سعودی ولی عہد محمد بن سلمان نے واضح کیا ہے کہ سعودی عرب علاقائی کشیدگی کم کرنے اور سفارتی حل کے لیے کام جاری رکھے گا، لیکن مملکت کی سلامتی کو لاحق کسی خطرے یا حملے پر فیصلہ کن جواب دیا جائے گا۔ ان کا یہ بیان سعودی عرب، پاکستان اور ترکیہ کے دفاعی تعاون اور خطے میں جاری سکیورٹی کشیدگی کے پس منظر میں سامنے آیا ہے۔
💬 تبصرے (0)
اپنا تبصرہ لکھیں
ابھی تک کوئی تبصرہ نہیں۔ پہلے تبصرہ کرنے والے بنیں!