تعز میں حوثیوں اور حکومتی فورسز میں شدید جھڑپیں
یمن کے جنوب مغربی صوبے تعز میں حوثی فورسز اور بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ یمنی حکومت کی حمایت یافتہ فورسز کے درمیان شدید لڑائی جاری ہے۔ تازہ اطلاعات کے مطابق مختلف محاذوں پر حوثیوں کی پیش قدمی اور حملوں کے بعد حکومتی فورسز نے جوابی کارروائیاں کی ہیں۔
یکم اکتوبر کو تعز کے کئی علاقوں میں لڑائی کی اطلاعات سامنے آئیں، جن میں جبل حبشی، مقبنہ، الماقرود اور تعز شہر کے اطراف کے محاذ شامل ہیں۔ یمنی حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ حوثیوں کے حملوں کو مختلف مقامات پر پسپا کیا گیا۔
تعز عدن اہم راستہ متاثر
تازہ کشیدگی کا ایک اہم پہلو تعز اور عدن کے درمیان زمینی رابطے سے متعلق ہے۔ انسٹی ٹیوٹ فار دی اسٹڈی آف وار کے مطابق حوثیوں نے یکم اکتوبر کو الحجہ العبد روڈ پر ایک دھماکا خیز ڈیوائس کے ذریعے کارروائی کی، جس سے تعز اور عدن کو ملانے والے اہم زمینی راستے کا ایک حصہ عارضی طور پر متاثر ہوا۔
رپورٹ کے مطابق یمنی حکومتی فورسز اور مقامی جنگجوؤں نے علاقے میں حوثیوں کی پیش قدمی کو روک دیا، تاہم راستے کی صورتحال نے حکومتی فورسز کے لیے رسد اور کمک کی نقل و حرکت کو متاثر کیا۔
یہ راستہ تعز شہر کے لیے اہم سپلائی لائن سمجھا جاتا ہے اور اس کے متاثر ہونے سے علاقے میں فوجی نقل و حرکت کے ساتھ شہری آمدورفت بھی مشکل ہوسکتی ہے۔
متعدد محاذوں پر لڑائی
یمنی حکومتی فورسز کے مطابق تعز کے مختلف محاذوں پر حوثیوں کے ساتھ شدید لڑائی ہوئی۔ بانی بکاری، حمیر، الکدحہ اور الماقرود سمیت متعدد علاقوں میں فائرنگ اور فوجی کارروائیوں کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔
عرب نیوز کے مطابق یمنی فورسز نے حوثیوں کے ٹھکانوں پر توپ خانے اور ڈرونز کے ذریعے کارروائیوں کا دعویٰ بھی کیا ہے۔ حکومتی فوج کے مطابق بعض کارروائیوں میں حوثیوں کے اسلحہ اور فوجی سازوسامان کو نشانہ بنایا گیا۔
حوثیوں کو جانی نقصان کا دعویٰ
یمنی فوج نے مختلف محاذوں پر ہونے والی لڑائی کے حوالے سے حوثیوں کو جانی نقصان پہنچانے کے دعوے کیے ہیں۔
انادولو ایجنسی کے مطابق یمنی حکومتی فورسز نے یکم اکتوبر کو دعویٰ کیا کہ تعز کے مختلف محاذوں پر لڑائی کے دوران 100 سے زائد حوثی جنگجو ہلاک اور درجنوں زخمی ہوئے۔ تاہم یہ اعداد و شمار حکومتی ذرائع کے دعوے ہیں اور ان کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں ہوئی۔
اس سے قبل ایک دوسری یمنی فوجی رپورٹ میں کم از کم 30 حوثیوں کی ہلاکت کا دعویٰ کیا گیا تھا، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ مختلف اوقات اور محاذوں کے حوالے سے اعداد و شمار میں فرق موجود ہے۔
تعز میں فضائی کارروائیاں
یمنی فوج کے مطابق تعز میں حوثی ٹھکانوں پر فضائی کارروائیاں بھی کی گئیں۔ فوج نے بتایا کہ اس کے جنگی طیاروں نے تعز کے مختلف علاقوں میں حوثیوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا۔
انادولو کے مطابق چھ فضائی حملوں کی اطلاع دی گئی، جن میں العقبوث اور حیفان کے علاقوں کو بھی نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا گیا۔ حکومتی فوج نے حملوں کے نتیجے میں حوثیوں کے جانی اور فوجی نقصان کا دعویٰ کیا، تاہم حوثیوں کی جانب سے ان دعوؤں کی فوری تصدیق سامنے نہیں آئی۔
حوثیوں کی پیش قدمی کی اطلاعات
انسٹی ٹیوٹ فار دی اسٹڈی آف وار کے مطابق حوثی فورسز نے تعز گورنری کے شمال مشرقی اور شمال مغربی علاقوں میں بھی پیش قدمی کی ہے۔
رپورٹ کے مطابق حوثیوں کی یہ سرگرمیاں تعز عدن زمینی رابطے کے لیے مزید دباؤ کا باعث بن سکتی ہیں۔ بعض علاقوں میں حوثیوں کی پوزیشنیں اہم سڑکوں کے قریب ہونے کی وجہ سے حکومتی فورسز کے لیے رسد اور کمک پہنچانا مشکل ہوسکتا ہے۔
شہری آبادی بھی متاثر
تعز میں دوبارہ بڑھنے والی لڑائی نے شہری آبادی کے لیے بھی مشکلات پیدا کردی ہیں۔ گارڈین کے مطابق حالیہ لڑائی کے باعث ہزاروں خاندان متاثر ہوئے ہیں جبکہ بعض علاقوں سے لوگوں کی نقل مکانی بھی ہوئی ہے۔
رپورٹ میں بتایا گیا کہ لڑائی نے سڑکوں، کاروباری سرگرمیوں اور بچوں کی تعلیم کو بھی متاثر کیا ہے۔ بعض علاقوں میں اسکول بند ہوئے اور خاندان محفوظ مقامات کی جانب منتقل ہوئے۔
یمن میں دوبارہ بڑھتی کشیدگی
یمن میں حوثیوں اور حکومتی فورسز کے درمیان 2022 میں ہونے والی اقوام متحدہ کی حمایت یافتہ جنگ بندی کے بعد کئی محاذوں پر نسبتاً سکون رہا تھا، تاہم رواں سال دوبارہ لڑائی میں اضافہ ہوا ہے۔
تازہ صورتحال میں تعز ایک اہم جنگی محاذ بن کر سامنے آیا ہے۔ اس علاقے کی جغرافیائی اہمیت کے باعث تعز شہر اور اس سے منسلک سڑکوں پر کنٹرول دونوں فریقوں کے لیے اہم سمجھا جاتا ہے۔
سعودی عرب بھی کارروائیوں میں شامل
تعز میں لڑائی کے ساتھ سعودی عرب اور حوثیوں کے درمیان کشیدگی بھی برقرار ہے۔ تازہ رپورٹس کے مطابق سعودی حمایت یافتہ یمنی فورسز نے تعز میں حوثیوں کے فوجی ٹھکانوں پر متعدد حملوں کا دعویٰ کیا ہے۔
رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق سعودی حمایت یافتہ یمنی حکومتی فورسز نے تعز میں دو درجن سے زائد فضائی حملوں کا دعویٰ کیا، جن میں میزائل ذخیرہ کرنے کی جگہیں، کمانڈ مراکز اور دیگر فوجی تنصیبات شامل تھیں۔ ان دعوؤں کی آزادانہ تصدیق فوری طور پر نہیں ہوسکی۔
صورتحال مزید کشیدہ
تعز میں جاری جھڑپوں کے ساتھ یمن کے دیگر علاقوں میں بھی فوجی سرگرمیاں بڑھ رہی ہیں۔ حوثیوں اور سعودی حمایت یافتہ حکومتی فورسز کے درمیان بڑھتی کشیدگی نے 2022 کی نسبتاً پرسکون صورتحال کو ایک بار پھر متاثر کیا ہے۔
تازہ لڑائی کے نتیجے میں تعز عدن راستے پر دباؤ، شہری نقل مکانی اور بنیادی سہولیات تک رسائی کے مسائل مزید بڑھنے کا خدشہ ہے، تاہم مستقبل کی صورتحال کا اندازہ لگانا ابھی قبل از وقت ہے۔
پاکستان کے لیے اہمیت
یمن میں بڑھتی ہوئی کشیدگی پاکستان کے لیے بھی اہم ہے کیونکہ یمن بحیرہ احمر اور باب المندب کے قریب واقع ہے۔ اس خطے میں کشیدگی سے سمندری تجارت، جہاز رانی اور توانائی کی عالمی ترسیل متاثر ہوسکتی ہے۔
پاکستان کی مشرق وسطیٰ کے ممالک کے ساتھ تجارتی اور سفارتی روابط بھی ہیں، اس لیے یمن میں کسی بڑے بحران کے علاقائی اثرات پاکستان تک بھی پہنچ سکتے ہیں۔
نتیجہ
یمن کے صوبہ تعز میں حوثیوں اور حکومتی حمایت یافتہ فورسز کے درمیان کئی محاذوں پر شدید جھڑپیں جاری ہیں۔ یمنی حکومتی ذرائع نے حوثیوں کے حملے پسپا کرنے اور انہیں بھاری جانی و فوجی نقصان پہنچانے کے دعوے کیے ہیں، تاہم ہلاکتوں کے اعداد و شمار کی آزادانہ تصدیق نہیں ہوئی۔ تعز اور عدن کے درمیان اہم زمینی راستے کے متاثر ہونے سے صورتحال کی اہمیت مزید بڑھ گئی ہے۔
💬 تبصرے (0)
اپنا تبصرہ لکھیں
ابھی تک کوئی تبصرہ نہیں۔ پہلے تبصرہ کرنے والے بنیں!