Monday, October 05, 2026
FB
تازہ ترین

پی ٹی آئی کا اسلام آباد مارچ جاری، حکومت سے مذاکرات میں ڈیڈ لاک

پاکستان تحریک انصاف کا اسلام آباد کی جانب احتجاجی مارچ جاری ہے، جبکہ حکومت اور اپوزیشن کے درمیان مذاکرات کسی حتمی اتفاق رائے کے بغیر ختم ہوگئے ہیں۔ دونوں فریق مذاکرات کی ناکامی کی مختلف وجوہات بیان کر رہے ہیں، جبکہ پی ٹی آئی نے مارچ جاری رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔

پی ٹی آئی کا اسلام آباد مارچ جاری، حکومت سے مذاکرات میں ڈیڈ لاک

حکومت اور پی ٹی آئی مذاکرات میں تعطل

اسلام آباد کی جانب پاکستان تحریک انصاف کا احتجاجی مارچ جاری ہے اور حکومت و اپوزیشن کے درمیان سیاسی کشیدگی برقرار ہے۔ حکومت اور اپوزیشن کے درمیان ہونے والے مذاکرات کے دو ادوار کسی حتمی معاہدے کے بغیر ختم ہوگئے، جس کے بعد پی ٹی آئی نے اپنا احتجاجی مارچ آگے بڑھانے کا فیصلہ کیا۔

مذاکرات میں بنیادی طور پر پی ٹی آئی کے بانی عمران خان تک رسائی اور خیبر پختونخوا میں انسداد دہشت گردی کی پالیسی سے متعلق معاملات زیر بحث آئے۔ دونوں جانب سے مذاکرات کی ناکامی کی الگ الگ وجوہات بیان کی گئی ہیں، اس لیے کسی ایک فریق کو ناکامی کا ذمہ دار قرار دینا دونوں مؤقف سامنے رکھے بغیر مناسب نہیں ہوگا۔

پی ٹی آئی کا احتجاجی مارچ جاری

پی ٹی آئی نے مذاکرات میں پیش رفت نہ ہونے کے بعد اسلام آباد کی جانب مارچ جاری رکھنے کا اعلان کیا۔ پارٹی کا احتجاجی قافلہ خیبر پختونخوا کے علاقے لکی مروت سے روانہ ہوا، جس کی قیادت وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کر رہے ہیں۔ بعد ازاں قافلہ ضلع کرک کی جانب بڑھا۔

پی ٹی آئی کے مطابق احتجاج کا مقصد عمران خان کی رہائی اور پارٹی کے دیگر سیاسی مطالبات پر عمل درآمد ہے۔ پارٹی رہنماؤں نے مارچ کو سیاسی اور پُرامن احتجاج قرار دیا ہے اور کارکنوں کو کسی قسم کا ہتھیار ساتھ نہ لانے کی ہدایات دینے کا بھی بتایا ہے۔

امریکی خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق پانچ ہزار سے زائد حامیوں نے لکی مروت سے اسلام آباد کی جانب کئی روزہ مارچ شروع کیا ہے۔

مذاکرات کیوں ناکام ہوئے؟

حکومتی مؤقف کے مطابق مذاکرات کی ناکامی کی ایک بڑی وجہ خیبر پختونخوا حکومت کی جانب سے انسداد دہشت گردی کے معاملات پر مطلوبہ یقین دہانی نہ ہونا تھی۔ وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی پر مذاکراتی عمل کو متاثر کرنے کا الزام بھی عائد کیا۔

حکومت کے مطابق مذاکرات میں خیبر پختونخوا میں دہشت گردی کے خلاف اقدامات، وفاق اور صوبے کے درمیان تعاون، نیشنل ایکشن پلان پر عمل درآمد اور سکیورٹی پالیسی سمیت متعدد امور زیر بحث آئے تھے۔ حکومتی نمائندوں کا کہنا ہے کہ صوبائی حکومت کی جانب سے بعض وعدوں پر آخری مرحلے میں اتفاق نہ ہونے سے بات چیت آگے نہ بڑھ سکی۔

دوسری جانب اپوزیشن کے نمائندوں نے مذاکرات کے تعطل کی مختلف وجوہات بیان کیں۔ سینیٹ میں اپوزیشن لیڈر علامہ راجہ ناصر عباس کے مطابق عمران خان کو اپنے ذاتی معالجین سے ملاقات کی اجازت اور خیبر پختونخوا میں دہشت گردی سے نمٹنے کے طریقہ کار پر اختلاف بنیادی رکاوٹوں میں شامل تھا۔

پی ٹی آئی کی جانب سے یہ مؤقف بھی سامنے آیا کہ وفاقی حکومت نے خیبر پختونخوا میں انسداد دہشت گردی سے متعلق یکطرفہ اقدامات پر زور دیا، جس پر فریقین میں اتفاق نہ ہوسکا۔

اسلام آباد کی طرف مارچ کا مرحلہ وار منصوبہ

پی ٹی آئی نے اپنے احتجاجی مارچ کے لیے کئی روزہ منصوبہ جاری کیا ہے۔ پارٹی کے مطابق خیبر پختونخوا کے مختلف علاقوں سے نکلنے والے قافلے مختلف راستوں سے آگے بڑھتے ہوئے سواتی علاقے میں جمع ہوں گے، جبکہ لکی مروت سے روانہ ہونے والا مرکزی قافلہ کرک اور کوہاٹ کے راستے پشاور کی طرف بڑھنے کا منصوبہ رکھتا ہے۔

پی ٹی آئی کے جاری کردہ منصوبے کے مطابق قافلے 8 اکتوبر تک صوابی میں جمع ہونے کا ارادہ رکھتے ہیں، جہاں آئندہ مرحلے کے حوالے سے فیصلہ کیا جائے گا۔ پارٹی کا کہنا ہے کہ مارچ کو پُرامن رکھا جائے گا۔

حکومت کی سکیورٹی تیاریاں

دوسری جانب وفاقی حکومت نے اسلام آباد اور دیگر علاقوں میں سکیورٹی انتظامات سخت کیے ہیں۔ اسلام آباد کی جانب جانے والے راستوں پر رکاوٹیں قائم کی گئی ہیں اور احتجاجی قافلے کو دارالحکومت میں داخل ہونے سے روکنے کے لیے انتظامات کیے گئے ہیں۔

رپورٹس کے مطابق اسلام آباد اور پنجاب کے بعض علاقوں میں رینجرز کی تعیناتی کی مدت بھی 15 اکتوبر تک بڑھا دی گئی ہے۔

حکومت کا مؤقف ہے کہ موجودہ سکیورٹی صورتحال کے باعث دارالحکومت میں کسی بھی بڑے اجتماع کے حوالے سے احتیاطی اقدامات ضروری ہیں۔

شہریوں اور کاروباری سرگرمیوں پر اثرات

مارچ اور سکیورٹی اقدامات کے باعث راولپنڈی اور اسلام آباد سمیت مختلف علاقوں میں شہریوں کو آمدورفت کے مسائل کا سامنا ہونے کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے۔ راولپنڈی کے تاجروں نے بھی ممکنہ سڑکوں کی بندش اور کاروباری سرگرمیوں میں رکاوٹ پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔

اس صورتحال کے اثرات صرف سیاسی سرگرمیوں تک محدود نہیں رہتے بلکہ سڑکوں کی بندش سے ٹرانسپورٹ، کاروبار، طلبہ اور روزمرہ سفر کرنے والے شہری بھی متاثر ہوسکتے ہیں۔

سیاسی کشیدگی برقرار

حکومت اور پی ٹی آئی کے درمیان مذاکرات کے ناکام ہونے کے بعد سیاسی کشیدگی میں مزید اضافہ ہوا ہے۔ حکومت کی جانب سے خیبر پختونخوا میں گورنر راج سمیت مختلف آئینی اقدامات کا ذکر کیا گیا ہے، جبکہ پی ٹی آئی نے ایسے کسی اقدام کی مخالفت کی ہے۔

اس دوران دونوں جانب سے ایک دوسرے پر سیاسی اور انتظامی دباؤ بڑھانے کے الزامات بھی سامنے آ رہے ہیں۔ تاہم مذاکرات کے اصل تعطل کے حوالے سے دونوں فریقوں کے مؤقف میں واضح فرق موجود ہے۔

آئندہ صورتحال کیا ہوگی؟

اب اہم سوال یہ ہے کہ پی ٹی آئی کا مارچ اگلے مرحلے میں کس رفتار سے اسلام آباد کی طرف بڑھتا ہے اور حکومت اس کے جواب میں کیا اقدامات کرتی ہے۔ پی ٹی آئی نے فی الحال احتجاجی مارچ ختم کرنے کا اعلان نہیں کیا، جبکہ حکومت نے دارالحکومت میں سکیورٹی اور انتظامی اقدامات جاری رکھے ہوئے ہیں۔

مذاکرات کے دوبارہ شروع ہونے کے امکانات کے بارے میں فی الحال کوئی حتمی پیش رفت سامنے نہیں آئی۔ موجودہ صورتحال میں سیاسی کشیدگی کم کرنے کے لیے فریقین کے درمیان دوبارہ رابطہ اہم ہو سکتا ہے، تاہم آئندہ لائحہ عمل دونوں جانب سے کیے جانے والے فیصلوں پر منحصر ہوگا۔

نتیجہ

پی ٹی آئی کا اسلام آباد کی جانب احتجاجی مارچ مذاکرات میں ڈیڈ لاک کے بعد جاری ہے۔ حکومت اور اپوزیشن مذاکرات کی ناکامی کی ذمہ داری ایک دوسرے پر عائد کر رہے ہیں، جبکہ مارچ کے باعث اسلام آباد اور راولپنڈی میں سکیورٹی اور آمدورفت کے حوالے سے صورتحال اہم ہوگئی ہے۔

Ammar abbas

Ammar abbas

چیف ایگزیکٹو آفیسر – دی پاک گلوبل اردو نیٹ ورک

# Ammar Abbas — صحافت سے CEO تک کامیابی کا سفر **عمار عباس** ایک باصلاحیت، متحرک اور وژن رکھنے والے صحافی ہیں، جنہوں نے صحافت کے میدان سے اپنے پیشہ ورانہ سفر کا آغاز کیا اور اپنی محنت، صلاحیتوں اور...

💬 تبصرے (0)

اپنا تبصرہ لکھیں

ابھی تک کوئی تبصرہ نہیں۔ پہلے تبصرہ کرنے والے بنیں!