کچلاک میں ٹرین کا انجن پٹڑی سے اتر گیا
بلوچستان میں نئی شروع ہونے والی جناح پیپلز ٹرین کے انجن کو کچلاک ریلوے اسٹیشن کے قریب حادثہ پیش آیا، جہاں معمول کی شنٹنگ کے دوران انجن پٹڑی سے اتر گیا۔ واقعے میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا اور ٹرین میں موجود تمام مسافر محفوظ رہے۔
ریلوے حکام کے مطابق واقعہ اتوار کو اس وقت پیش آیا جب انجن نمبر 5120 کچلاک یارڈ میں لائن نمبر 3 پر ریورس کرتے ہوئے معمول کی شنٹنگ کر رہا تھا۔
حادثے کے بعد ریلوے حکام نے فوری طور پر متبادل انجن کا انتظام کیا، جس کے ذریعے جناح پیپلز ٹرین کو کچلاک سے سریاب روانہ کر دیا گیا۔
متبادل انجن کے ذریعے ٹرین روانہ
ریلوے حکام کے مطابق حادثے کے بعد متبادل انجن نمبر 5126 فراہم کیا گیا۔ ٹرین کچلاک سے صبح تقریباً 10 بج کر 15 منٹ پر سریاب کے لیے روانہ ہوئی اور تقریباً ساڑھے 11 بجے سریاب پہنچ گئی۔
ریلوے ذرائع کے مطابق پٹڑی سے اترنے والے انجن کو بھی بعد میں دوبارہ ٹریک پر منتقل کر دیا گیا، جبکہ ٹرین سروس کو بحال رکھا گیا۔
واقعے کے باعث مسافروں کو کسی بڑے نقصان یا جانی خطرے کا سامنا نہیں کرنا پڑا، تاہم نئی شروع ہونے والی ٹرین سروس کے ٹریک اور انفراسٹرکچر کے معیار سے متعلق سوالات ضرور اٹھ گئے ہیں۔
حادثے کی وجہ پر مختلف مؤقف
ریلوے حکام کی جانب سے ابتدائی طور پر انجن کے پٹڑی سے اترنے کی وجہ فش پلیٹ کی مبینہ چوری بتائی گئی۔ حکام کے مطابق واقعے کی اصل وجہ اور دیگر حقائق جاننے کے لیے تحقیقات کا حکم دیا گیا ہے۔
دوسری جانب کچلاک پولیس نے ریلوے حکام کے اس ابتدائی مؤقف سے اختلاف کیا ہے۔ پولیس کے مطابق ٹریک کی خراب حالت اور وہاں جاری کام بھی انجن کے پٹڑی سے اترنے کی وجہ ہو سکتا ہے۔
اردو نیوز کی رپورٹ کے مطابق پولیس کے ایک عہدیدار نے فش پلیٹ یا نٹ بولٹ چوری ہونے کے مؤقف کو مسترد کرتے ہوئے ٹریک کے نیچے موجود لکڑی کے سلیپرز کی خراب حالت کی نشاندہی کی۔
چونکہ تحقیقات جاری ہیں، اس لیے حادثے کی حتمی وجہ کے بارے میں کسی ایک مؤقف کو فی الحال قطعی نتیجے کے طور پر پیش نہیں کیا جا سکتا۔
جناح پیپلز ٹرین سروس حال ہی میں شروع ہوئی تھی
جناح پیپلز ٹرین سروس بلوچستان میں 29 ستمبر 2026 کو باضابطہ طور پر شروع کی گئی تھی۔ حکومت کے مطابق اس منصوبے کے تحت سریاب اور کچلاک کے درمیان تقریباً 32 کلومیٹر ریلوے ٹریک کو بحال اور اپ گریڈ کیا گیا۔
سرکاری معلومات کے مطابق منصوبے پر تقریباً 3 ارب روپے کی لاگت آئی اور راستے میں سات اسٹیشن شامل ہیں۔ ان میں کچلاک، بلیلی، شیخ ماندا، جی او آر ہالٹ، کوئٹہ، لورہ کڑیز ہالٹ اور سریاب شامل ہیں۔
اس منصوبے کا مقصد بلوچستان کے شہریوں کو نسبتاً کم لاگت اور بہتر سفری سہولت فراہم کرنا ہے۔
ٹریک کے معیار پر سوالات
حادثہ سروس کے آغاز کے چند ہی روز بعد پیش آنے کے باعث ریلوے ٹریک کی حالت اور بحالی کے کام کے معیار پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔
تاہم ان سوالات کا حتمی جواب تحقیقات مکمل ہونے کے بعد ہی سامنے آسکے گا۔ اگر تحقیقات میں ٹریک، سلیپرز یا کسی دوسرے انفراسٹرکچر میں تکنیکی خرابی ثابت ہوتی ہے تو متعلقہ اداروں کے لیے اس کی اصلاح ضروری ہوگی۔
اسی طرح اگر فش پلیٹ یا ٹریک کے کسی حصے میں چوری یا تخریب کاری کا عنصر ثابت ہوتا ہے تو اس معاملے کی ذمہ داری کا تعین بھی تحقیقات کے ذریعے کیا جائے گا۔
مسافروں کی حفاظت اولین ترجیح
ٹرین حادثے میں کسی مسافر کے زخمی یا جاں بحق نہ ہونے کو اہم پہلو قرار دیا جا رہا ہے۔ ریلوے حکام نے متبادل انجن فراہم کرکے سروس کو زیادہ تاخیر کے بغیر جاری رکھا۔
جناح پیپلز ٹرین چونکہ بلوچستان کے شہریوں کے لیے نئی سفری سہولت کے طور پر شروع کی گئی ہے، اس لیے مسافروں کا اعتماد برقرار رکھنے کے لیے ٹریک، انجن اور دیگر تکنیکی انتظامات کی مؤثر نگرانی اہم ہوگی۔
واقعے کی تحقیقات مکمل ہونے کے بعد یہ واضح ہو سکے گا کہ انجن کے پٹڑی سے اترنے کی بنیادی وجہ کیا تھی اور مستقبل میں ایسے واقعات سے بچنے کے لیے کون سے اقدامات ضروری ہیں۔
نتیجہ
کچلاک ریلوے اسٹیشن کے قریب جناح پیپلز ٹرین کا انجن معمول کی شنٹنگ کے دوران پٹڑی سے اتر گیا، تاہم تمام مسافر محفوظ رہے اور متبادل انجن کے ذریعے ٹرین کو سریاب روانہ کر دیا گیا۔ حادثے کی وجہ کے بارے میں ریلوے حکام اور پولیس کے مؤقف مختلف ہیں، اس لیے حتمی نتیجے کے لیے تحقیقات مکمل ہونے کا انتظار کرنا ہوگا۔
💬 تبصرے (0)
اپنا تبصرہ لکھیں
ابھی تک کوئی تبصرہ نہیں۔ پہلے تبصرہ کرنے والے بنیں!