Saturday, October 03, 2026
FB
تازہ ترین

پاک فوج کے 11 میجر جنرلز لیفٹیننٹ جنرل بن گئے

پاک فوج کے 11 میجر جنرلز کو لیفٹیننٹ جنرل کے عہدے پر ترقی دے دی گئی ہے۔ یہ ترقیاں فوج کی اعلیٰ کمان میں حالیہ ردوبدل کا حصہ ہیں، تاہم ان ترقیوں سے متعلق تفصیلی سرکاری وجوہات فوری طور پر جاری نہیں کی گئیں۔

پاک فوج کے 11 میجر جنرلز لیفٹیننٹ جنرل بن گئے

پاک فوج میں اعلیٰ سطح پر ترقیاں

پاک فوج میں اعلیٰ سطح پر اہم ترقیاں کی گئی ہیں اور 11 میجر جنرلز کو لیفٹیننٹ جنرل کے عہدے پر ترقی دے دی گئی ہے۔ یہ پیش رفت فوج کی اعلیٰ کمان میں ہونے والی حالیہ تبدیلیوں کا حصہ ہے۔

دستیاب رپورٹ کے مطابق ترقی پانے والے افسران میں میجر جنرل عمر بشیر، میجر جنرل چوہدری امیر اجمل، میجر جنرل محمد اسحاق خٹک، میجر جنرل واجد عزیز، میجر جنرل افتخار حسن چوہدری، میجر جنرل محمد نعیم اختر، میجر جنرل نسیم انور، میجر جنرل اسد چیمہ، میجر جنرل امتیاز بابر اور میجر جنرل راجہ محمد ندیم اشرف شامل ہیں۔

رپورٹ میں 11 افسران کی ترقی کی تصدیق کی گئی ہے، تاہم دستیاب فہرست میں 10 نام درج ہیں۔ گیارہویں افسر کا نام اس رپورٹ میں واضح نہیں کیا گیا، اس لیے اس مرحلے پر غیرمصدقہ طور پر کوئی اضافی نام شامل نہیں کیا جا رہا۔

تین ستارہ قیادت میں تبدیلی

ترقی پانے والے افسران کا تعلق پاکستان ملٹری اکیڈمی کے 86ویں اور 87ویں لانگ کورسز سے بتایا گیا ہے۔ ان ترقیوں کو پاک فوج کی تین ستارہ قیادت میں منتقلی کے عمل کا حصہ قرار دیا گیا ہے۔

ان میں میجر جنرل واجد عزیز بھی شامل ہیں، جو اس سے قبل ڈائریکٹر جنرل ملٹری انٹیلی جنس کے عہدے پر خدمات انجام دے چکے ہیں۔

اعلیٰ کمان میں حالیہ ردوبدل

پاک فوج میں لیفٹیننٹ جنرل کے عہدے پر ترقیوں کے ساتھ سینئر کمان کی سطح پر نئی ذمہ داریاں بھی سامنے آئی ہیں۔ دستیاب رپورٹس کے مطابق لیفٹیننٹ جنرل نعیم کو پشاور کور کی کمان سونپی گئی، جبکہ لیفٹیننٹ جنرل عمر بشیر، لیفٹیننٹ جنرل عنایت اور لیفٹیننٹ جنرل امیر نجم کو بھی مختلف کورز میں ذمہ داریاں دی گئی ہیں۔

یہ تبدیلیاں پاک فوج کے سینئر کمانڈ ڈھانچے میں معمول کے انتظامی اور تنظیمی عمل کا حصہ ہیں۔

بعض افسران ترقی کی فہرست میں شامل نہیں

حالیہ ترقیوں کے حوالے سے دستیاب رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ میجر جنرل فیصل نصیر لیفٹیننٹ جنرل کے عہدے پر ترقی پانے والوں میں شامل نہیں ہیں۔ انہیں حال ہی میں آئی ایس آئی میں ڈی جی سی کے عہدے سے نیشنل کاؤنٹر ٹیررازم اتھارٹی منتقل کیا گیا تھا، جہاں وفاقی حکومت نے انہیں تین سال کے لیے نیشنل کوآرڈینیٹر مقرر کیا تھا۔

ترقی یا عدم ترقی کے انفرادی فیصلوں کی تفصیلی وجوہات فوج کی جانب سے عوامی طور پر جاری نہیں کی گئیں۔ اس لیے ان فیصلوں کے بارے میں قیاس آرائی سے گریز ضروری ہے۔

ترقیوں کی اہمیت

لیفٹیننٹ جنرل پاک فوج کے تین ستارہ جنرل افسر ہوتے ہیں اور اس سطح پر ہونے والی ترقیاں اعلیٰ عسکری کمان کے ڈھانچے میں اہمیت رکھتی ہیں۔ نئی ترقیوں کے بعد متعلقہ افسران کو مختلف اہم ذمہ داریاں سونپی جا سکتی ہیں۔

حالیہ ردوبدل میں کور کمانڈز اور دیگر اعلیٰ فوجی عہدوں پر نئی تعیناتیوں کا سلسلہ بھی سامنے آیا ہے، جس سے سینئر کمان کی سطح پر ذمہ داریوں میں تبدیلی واضح ہوتی ہے۔

سرکاری تفصیلات کا انتظار

ترقیوں سے متعلق دستیاب معلومات میں افسران کے نام اور مجموعی تعداد سامنے آئی ہے، تاہم تمام 11 ترقی پانے والے افسران کی مکمل فہرست اور انفرادی ترقیوں کی وجوہات کی تفصیلی سرکاری وضاحت ابھی دستیاب نہیں ہے۔

اس لیے حتمی خبر میں صرف وہی نام اور معلومات شامل کرنا مناسب ہے جن کی معتبر ذرائع سے تصدیق ہو چکی ہے۔

نتیجہ

پاک فوج کے 11 میجر جنرلز کو لیفٹیننٹ جنرل کے عہدے پر ترقی دی گئی ہے، جس کے ساتھ فوج کی اعلیٰ کمان میں حالیہ ردوبدل کا عمل بھی جاری ہے۔ دستیاب رپورٹ میں ترقی پانے والے 10 افسران کے نام واضح کیے گئے ہیں، جبکہ گیارہویں افسر کا نام سامنے نہیں آیا؛ مزید سرکاری تفصیلات جاری ہونے کے بعد مکمل فہرست واضح ہو سکے گی۔

Ammar abbas

Ammar abbas

چیف ایگزیکٹو آفیسر – دی پاک گلوبل اردو نیٹ ورک

# Ammar Abbas — صحافت سے CEO تک کامیابی کا سفر **عمار عباس** ایک باصلاحیت، متحرک اور وژن رکھنے والے صحافی ہیں، جنہوں نے صحافت کے میدان سے اپنے پیشہ ورانہ سفر کا آغاز کیا اور اپنی محنت، صلاحیتوں اور...

💬 تبصرے (0)

اپنا تبصرہ لکھیں

ابھی تک کوئی تبصرہ نہیں۔ پہلے تبصرہ کرنے والے بنیں!