شمالی وزیرستان میں دراندازی کی کوشش ناکام، 15 شدت پسند ہلاک
راولپنڈی: سیکیورٹی فورسز نے پاک افغان سرحد پر شمالی وزیرستان کے مقابل دراندازی کی بڑی کوشش ناکام بناتے ہوئے 15 شدت پسندوں کو ہلاک کر دیا۔
پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق سیکیورٹی فورسز نے 31 اگست اور یکم ستمبر کی درمیانی شب سرحد کے قریب شدت پسندوں کے ایک گروہ کی مشکوک نقل و حرکت کا سراغ لگایا۔ یہ گروہ افغانستان کی جانب سے پاکستان میں داخل ہونے کی کوشش کر رہا تھا۔
آئی ایس پی آر کے مطابق سیکیورٹی فورسز نے فوری طور پر کارروائی کرتے ہوئے دراندازوں کو مؤثر انداز میں نشانہ بنایا۔ فائرنگ کا تبادلہ تقریباً 36 گھنٹے جاری رہا، جس کے نتیجے میں 15 شدت پسند ہلاک ہوگئے۔
سیکیورٹی فورسز کی جانب سے کارروائی کے بعد علاقے میں کلیئرنس اور سرچ آپریشن بھی کیا گیا۔ آئی ایس پی آر کے مطابق اس دوران ہلاک ہونے والے شدت پسندوں کے قبضے سے بڑی مقدار میں اسلحہ اور گولہ بارود برآمد کیا گیا۔
پاک فوج کے ترجمان کے مطابق یہ کارروائی سرحد پار سے دہشت گردوں کی دراندازی روکنے کے لیے سیکیورٹی فورسز کی مسلسل نگرانی اور تیاری کا نتیجہ ہے۔ آئی ایس پی آر نے مزید کہا کہ علاقے میں کلیئرنس آپریشن جاری ہے تاکہ کسی بھی ممکنہ خطرے کا خاتمہ کیا جا سکے۔
وزیراعظم شہباز شریف اور صدر آصف علی زرداری نے بھی سیکیورٹی فورسز کو دراندازی کی کوشش ناکام بنانے اور 15 شدت پسندوں کو ہلاک کرنے پر خراج تحسین پیش کیا۔ وزیراعظم نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف کارروائیاں مکمل عزم کے ساتھ جاری رہیں گی۔
آئی ایس پی آر نے اپنے بیان میں افغانستان کی جانب سے مؤثر بارڈر مینجمنٹ نہ ہونے پر بھی تشویش کا اظہار کیا۔ پاکستان طویل عرصے سے افغانستان میں موجود عسکریت پسند گروہوں کی جانب سے سرحد پار حملوں کے خدشات کا اظہار کرتا رہا ہے، تاہم افغان حکام پاکستان کے ان الزامات کو مسترد کرتے ہیں۔
سیکیورٹی فورسز کا کہنا ہے کہ ملکی سرحدوں کے دفاع اور دہشت گردی کے خاتمے کے لیے کارروائیاں جاری رہیں گی۔
💬 تبصرے (0)
اپنا تبصرہ لکھیں
ابھی تک کوئی تبصرہ نہیں۔ پہلے تبصرہ کرنے والے بنیں!