Wednesday, October 28, 2026
FB
تازہ ترین

پاکستان میں آٹے کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ، 20 کلو تھیلا 3200 روپے تک پہنچ گیا

پاکستان میں آٹے کی قیمتوں میں ایک بار پھر اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ سرکاری اعدادوشمار کے مطابق گندم کے آٹے کی قیمت میں ہفتہ وار 0.39 فیصد اضافہ ہوا، جبکہ سالانہ بنیاد پر اضافہ 45.28 فیصد تک پہنچ گیا۔ کراچی میں 20 کلو آٹے کا تھیلا 3200 روپے تک فروخت ہونے کی رپورٹ ہے۔

پاکستان میں آٹے کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ، 20 کلو تھیلا 3200 روپے تک پہنچ گیا

پاکستان میں آٹے کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ، شہریوں پر مہنگائی کا مزید بوجھ

اسلام آباد: پاکستان میں آٹے کی قیمتوں میں اضافے کا سلسلہ جاری ہے، جس کے باعث روزمرہ استعمال کی اس بنیادی ضرورت کی خریداری عام صارفین کے لیے مزید مہنگی ہوگئی ہے۔ تازہ سرکاری اعدادوشمار کے مطابق رواں ہفتے گندم کے آٹے کی قیمت میں بھی اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جبکہ سالانہ بنیاد پر آٹے کی قیمت میں نمایاں بڑھوتری سامنے آئی ہے۔

پاکستان بیورو آف اسٹیٹسٹکس کے حساس قیمتوں کے اشاریے (SPI) کے مطابق 27 اگست کو ختم ہونے والے ہفتے کے دوران گندم کے آٹے کی قیمت میں ہفتہ وار 0.39 فیصد اضافہ ہوا۔ سالانہ بنیاد پر آٹے کی قیمت میں 45.28 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جو اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں جاری دباؤ کی نشاندہی کرتا ہے۔

کراچی میں 20 کلو آٹے کا تھیلا 3200 روپے تک پہنچ گیا

ملک کے مختلف شہروں میں آٹے کی قیمتیں مختلف سطح پر موجود ہیں، تاہم کراچی میں صارفین کو نسبتاً زیادہ قیمت ادا کرنا پڑ رہی ہے۔

تازہ رپورٹ کے مطابق کراچی میں 20 کلو آٹے کے تھیلے کی قیمت میں 200 روپے کا اضافہ ہوا، جس کے بعد یہ قیمت 3,200 روپے تک پہنچ گئی ہے۔ اس صورتحال نے شہریوں کے روزمرہ بجٹ پر مزید دباؤ ڈال دیا ہے۔

دیگر بڑے شہروں میں بھی آٹے کی قیمتیں بلند سطح پر ریکارڈ کی گئی ہیں۔ اسلام آباد میں 20 کلو تھیلے کی قیمت 3,093 روپے، پشاور میں 3,100 روپے اور راولپنڈی میں 3,067 روپے تک بتائی گئی ہے۔

حیدرآباد میں یہی تھیلا تقریباً 2,940 روپے جبکہ بنوں میں 2,900 روپے میں فروخت ہونے کی اطلاعات ہیں۔

مختلف شہروں میں آٹے کے نرخ

دستیاب تازہ اعدادوشمار کے مطابق کوئٹہ میں 20 کلو آٹے کے تھیلے کی قیمت تقریباً 2,850 روپے ریکارڈ کی گئی ہے۔

سرگودھا، ملتان، سیالکوٹ اور گوجرانوالہ میں 20 کلو آٹے کا تھیلا تقریباً 2,800 روپے میں فروخت ہونے کی اطلاع ہے، جبکہ بہاولپور میں قیمت 2,740 روپے تک بتائی گئی ہے۔

لاڑکانہ اور خضدار میں 20 کلو تھیلے کی قیمت تقریباً 2,700 روپے، سکھر میں 2,500 روپے، لاہور میں 2,300 روپے اور فیصل آباد میں 2,200 روپے رپورٹ ہوئی ہے۔

یہ اعدادوشمار واضح کرتے ہیں کہ ملک کے مختلف علاقوں میں آٹے کی قیمت میں نمایاں فرق موجود ہے اور شہریوں کو اپنے شہر کے لحاظ سے مختلف نرخوں کا سامنا ہے۔

سالانہ بنیاد پر آٹے کی قیمت میں 45 فیصد سے زائد اضافہ

آٹے کی قیمت میں موجودہ اضافہ صرف حالیہ ہفتے تک محدود نہیں۔ پاکستان بیورو آف اسٹیٹسٹکس کے تازہ حساس قیمتوں کے اعدادوشمار کے مطابق ایک سال کے مقابلے میں گندم کے آٹے کی قیمت میں 45.28 فیصد اضافہ ہوا ہے۔

یہ اضافہ اشیائے ضروریہ کی مجموعی مہنگائی کے تناظر میں خاص اہمیت رکھتا ہے کیونکہ آٹا پاکستانی گھرانوں کی بنیادی غذائی ضروریات میں شامل ہے۔

حساس قیمتوں کے اشاریے کے مطابق مجموعی قلیل مدتی مہنگائی 27 اگست کو ختم ہونے والے ہفتے میں سالانہ بنیاد پر 9.04 فیصد رہی۔ ہفتہ وار بنیاد پر SPI میں بھی 0.05 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔

مہنگائی کے دباؤ میں بنیادی اشیاء بھی شامل

تازہ اعدادوشمار میں آٹے کے علاوہ کئی دوسری اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں بھی اضافہ سامنے آیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق ہفتہ وار بنیاد پر ایل پی جی کی قیمت میں 3.46 فیصد، ڈیزل میں 2.44 فیصد، بجلی کے سہ ماہی ٹیرف میں 2.06 فیصد اور پیٹرول کی قیمت میں 1.71 فیصد اضافہ ہوا۔

اسی طرح دال چنا، انڈے، سرسوں کا تیل، دال مسور، تیار چائے، دال ماش اور گائے کے گوشت کی قیمتوں میں بھی ہفتہ وار اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔

توانائی کی قیمتوں میں اضافے کا اثر نقل و حمل اور دیگر کاروباری اخراجات پر پڑ سکتا ہے، جس کے نتیجے میں اشیائے خورونوش کی قیمتوں پر بھی دباؤ بڑھنے کا خدشہ رہتا ہے۔

کراچی میں فلور ملز کی قیمتوں میں بھی اضافہ

کراچی میں آٹے کی قیمتوں میں حالیہ اضافے کے حوالے سے فلور ملز کی قیمتوں میں بڑھوتری بھی رپورٹ ہوئی ہے۔

رپورٹ کے مطابق 50 کلو کے مختلف اقسام کے آٹے کے تھیلوں کی قیمتوں میں 250 سے 275 روپے تک اضافہ کیا گیا۔ آٹا نمبر 2.5، میدہ اور فائن آٹے کے نرخ میں اضافہ ہوا، جس کی وجہ ملرز نے اوپن مارکیٹ میں گندم کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کو قرار دیا۔

آٹے کے نرخ میں اضافے کا اثر صرف گھریلو صارفین تک محدود نہیں رہتا بلکہ نان، روٹی، شیرمال اور تافتان جیسی مصنوعات کی قیمتوں پر بھی پڑ سکتا ہے۔

کراچی میں حالیہ اضافے کے بعد بعض بیکری اور تندوری مصنوعات کی قیمتوں میں بھی 5 سے 10 روپے فی عدد تک اضافے کی اطلاع سامنے آئی ہے۔

گندم کی قیمت آٹے کے نرخ پر اثر انداز

آٹے کی قیمت کا ایک بڑا انحصار گندم کے نرخ پر ہوتا ہے۔ اوپن مارکیٹ میں گندم کی قیمت بڑھنے کی صورت میں فلور ملز کے پیداواری اخراجات میں اضافہ ہوتا ہے، جو بالآخر آٹے کی قیمت میں منتقل ہوسکتا ہے۔

کراچی میں فلور ملز کی جانب سے حالیہ قیمتوں میں اضافے کے لیے بھی گندم کی اوپن مارکیٹ قیمت کو ایک اہم وجہ قرار دیا گیا ہے۔

دوسری جانب ملک میں گندم کی دستیابی اور درآمدی گندم کے معاملات بھی آٹے کی مارکیٹ پر اثر انداز ہوتے ہیں۔

درآمدی گندم سے قیمتوں میں استحکام کی توقع

حالیہ رپورٹس کے مطابق تقریباً 10 لاکھ ٹن درآمدی گندم کی آمد بھی متوقع ہے۔ اس تناظر میں مارکیٹ میں یہ توقع کی جا رہی ہے کہ گندم کی اضافی دستیابی سے قیمتوں پر دباؤ کم ہوسکتا ہے۔

تاہم موجودہ صورتحال میں آٹے کی قیمتوں میں کمی کا اثر ابھی واضح طور پر سامنے نہیں آیا اور مختلف شہروں میں صارفین کو بلند نرخوں کا سامنا ہے۔

مارکیٹ میں گندم کی دستیابی، درآمدی گندم کی آمد، مقامی طلب، ذخیرہ اندوزی اور نقل و حمل کے اخراجات آنے والے دنوں میں آٹے کے نرخوں پر اثر انداز ہونے والے اہم عوامل ہوں گے۔

شہریوں کے گھریلو بجٹ پر اضافی دباؤ

آٹے کی قیمت میں اضافہ براہ راست عام شہری کے گھریلو بجٹ کو متاثر کرتا ہے کیونکہ روٹی پاکستانی گھرانوں کی روزمرہ خوراک کا بنیادی حصہ ہے۔

گھر میں آٹے کے استعمال کے علاوہ ہوٹلوں، تندوروں، ریسٹورنٹس اور بیکری مصنوعات کی تیاری میں بھی آٹا بنیادی خام مال کے طور پر استعمال ہوتا ہے۔

اس لیے آٹے کے نرخ میں اضافہ بالواسطہ طور پر روٹی اور دیگر اشیائے خورونوش کی قیمتوں میں بھی اضافے کا باعث بن سکتا ہے۔

حکومت کے لیے قیمتوں پر قابو پانا چیلنج

آٹے کی قیمتوں میں مسلسل اضافے کے باعث حکومت اور متعلقہ صوبائی اداروں کے لیے قیمتوں کو قابو میں رکھنا ایک اہم چیلنج بن گیا ہے۔

مارکیٹ میں گندم کی دستیابی کو یقینی بنانے، ذخیرہ اندوزی کی روک تھام، فلور ملز کی نگرانی اور سرکاری نرخوں پر عملدرآمد کے لیے انتظامی اقدامات کی ضرورت بڑھ گئی ہے۔

صوبائی حکومتیں وقتاً فوقتاً سرکاری گندم فلور ملز کو فراہم کرتی ہیں تاکہ مارکیٹ میں آٹے کی قیمت کو نسبتاً مستحکم رکھا جاسکے۔ خیبر پختونخوا حکومت کے مطابق صوبے میں سرکاری گندم کی فراہمی کے ذریعے فلور ملز کو آٹا تیار کرنے کے لیے گندم فراہم کی جا رہی ہے۔

آٹے کی قیمت میں مزید اضافے کا خدشہ

اگر گندم کی اوپن مارکیٹ قیمت، توانائی کے اخراجات اور نقل و حمل کے نرخوں میں مزید اضافہ ہوا تو آٹے کی قیمت پر بھی اضافی دباؤ پڑ سکتا ہے۔

دوسری جانب اگر درآمدی گندم کی فراہمی مؤثر انداز میں مارکیٹ تک پہنچتی ہے اور گندم کی دستیابی بہتر ہوتی ہے تو قیمتوں میں استحکام آنے کی گنجائش موجود ہے۔

اس حوالے سے آئندہ چند ہفتے اہم ہوں گے کیونکہ مارکیٹ میں گندم کی سپلائی، فلور ملز کے نرخ اور سرکاری اقدامات آٹے کی قیمتوں کا رخ متعین کریں گے۔

مہنگائی میں آٹے کا بڑھتا ہوا حصہ

قومی سطح پر مہنگائی کے تازہ اعدادوشمار میں آٹے کی قیمت کا اضافہ خاص طور پر قابل ذکر ہے۔ ایک سال کے دوران 45 فیصد سے زیادہ اضافے کا مطلب ہے کہ صارفین کو گزشتہ سال کے مقابلے میں بنیادی غذائی ضرورت کے لیے نمایاں طور پر زیادہ رقم خرچ کرنا پڑ رہی ہے۔

یہ صورتحال کم اور متوسط آمدنی والے گھرانوں کے لیے زیادہ مشکل پیدا کرسکتی ہے، کیونکہ خوراک پر ہونے والے اخراجات پہلے ہی گھریلو بجٹ کا بڑا حصہ ہوتے ہیں۔

صارفین کی نظریں حکومتی اقدامات پر

آٹے کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے باعث صارفین کی توجہ اب حکومتی اقدامات کی جانب ہے۔ شہری چاہتے ہیں کہ گندم اور آٹے کی قیمتوں میں غیر ضروری اضافے کو روکا جائے اور مارکیٹ میں مناسب نرخوں پر آٹے کی دستیابی یقینی بنائی جائے۔

حکومت کے لیے ایک طرف مارکیٹ میں گندم کی مسلسل فراہمی برقرار رکھنا ضروری ہے، جبکہ دوسری جانب ذخیرہ اندوزی اور ناجائز منافع خوری کی روک تھام بھی اہم ہے۔

موجودہ اعدادوشمار سے یہ واضح ہے کہ آٹا ملک میں مہنگائی کے دباؤ سے متاثر ہونے والی اہم غذائی اشیا میں شامل ہے۔ اگرچہ بعض دیگر اشیاء کی قیمتوں میں حالیہ ہفتے کمی بھی ہوئی ہے، تاہم آٹے کے نرخ میں اضافے نے عام صارفین کے لیے مشکلات برقرار رکھی ہیں۔

آنے والے دنوں میں گندم کی سپلائی، درآمدی گندم کی دستیابی اور حکومتی اقدامات اس بات کا تعین کریں گے کہ آٹے کی قیمتوں میں مزید اضافہ ہوتا ہے یا مارکیٹ میں استحکام آنا شروع ہوتا ہے۔

Ammar abbas

Ammar abbas

چیف ایگزیکٹو آفیسر – دی پاک گلوبل اردو نیٹ ورک

# Ammar Abbas — صحافت سے CEO تک کامیابی کا سفر **عمار عباس** ایک باصلاحیت، متحرک اور وژن رکھنے والے صحافی ہیں، جنہوں نے صحافت کے میدان سے اپنے پیشہ ورانہ سفر کا آغاز کیا اور اپنی محنت، صلاحیتوں اور...

💬 تبصرے (0)

اپنا تبصرہ لکھیں

ابھی تک کوئی تبصرہ نہیں۔ پہلے تبصرہ کرنے والے بنیں!