بلوچستان میں سکیورٹی فورسز کی کارروائیاں
بلوچستان میں سکیورٹی فورسز کی انسداد دہشت گردی کارروائیوں کے حوالے سے آئی ایس پی آر نے کہا ہے کہ 21 ستمبر 2026 سے اب تک مختلف کارروائیوں میں 33 دہشت گرد ہلاک کیے گئے ہیں۔
آئی ایس پی آر کے مطابق یہ کارروائیاں بلوچستان کے مختلف علاقوں میں جاری انسداد دہشت گردی مہم کا حصہ ہیں۔ فوج نے اپنے بیان میں ہلاک ہونے والوں کو فتنۃ الخوارج اور فتنۃ الہندوستان سے منسلک قرار دیا ہے۔ ان دعوؤں کی تفصیلات فوج کے جاری کردہ بیان پر مبنی ہیں۔
آپریشن شعبان میں مزید 5 ہلاکتوں کا دعویٰ
آئی ایس پی آر کے مطابق 24 ستمبر کو آپریشن شعبان کے تسلسل میں سکیورٹی فورسز نے دہشت گردوں کے مزید ٹھکانوں کا سراغ لگایا اور کارروائی کی۔
بیان کے مطابق کارروائی کے دوران فائرنگ کا شدید تبادلہ ہوا، جس میں 5 دہشت گرد ہلاک ہوئے۔ فوج کے مطابق ان کارروائیوں کے دوران مبینہ دہشت گردوں کے ٹھکانوں سے اسلحہ، گولہ بارود اور دھماکا خیز مواد بھی برآمد کیا گیا۔
آئی ایس پی آر کا کہنا ہے کہ آپریشن شعبان میں ہلاک ہونے والے افراد کی مجموعی تعداد 22 ہوگئی ہے اور علاقے میں کلیئرنس کارروائی خطرے کے مکمل خاتمے تک جاری رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
نوشکی میں انٹیلی جنس بنیادوں پر کارروائی
آئی ایس پی آر کے مطابق 25 ستمبر کو ضلع نوشکی میں بھی ایک انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کیا گیا۔
فوج کے بیان کے مطابق سکیورٹی فورسز نے ایک مبینہ دہشت گرد ٹھکانے کو نشانہ بنایا، جس کے بعد شدید فائرنگ کا تبادلہ ہوا۔ کارروائی کے نتیجے میں مزید 11 دہشت گرد ہلاک ہونے کا دعویٰ کیا گیا۔
ان 11 ہلاکتوں اور آپریشن شعبان سمیت 21 ستمبر سے جاری کارروائیوں میں ہلاک افراد کی مجموعی تعداد آئی ایس پی آر کے مطابق 33 تک پہنچ گئی ہے۔
سکیورٹی فورسز کا مؤقف
آئی ایس پی آر نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ بلوچستان میں جاری کارروائیاں ملک میں دہشت گردی کے خطرے سے نمٹنے کے لیے جاری وسیع تر انسداد دہشت گردی مہم کا حصہ ہیں۔
فوج کے مطابق سکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے ادارے وفاقی ایپکس کمیٹی برائے نیشنل ایکشن پلان کی منظور کردہ عزم استحکام مہم کے تحت کارروائیاں جاری رکھیں گے۔
آئی ایس پی آر نے مزید کہا کہ کارروائیوں کا مقصد اس کے مطابق غیرملکی معاونت اور حمایت یافتہ دہشت گردی کے خطرے کا خاتمہ ہے۔
کارروائیوں میں اسلحہ اور دھماکا خیز مواد برآمد کرنے کا دعویٰ
آئی ایس پی آر کے مطابق آپریشن شعبان کے دوران جن مبینہ دہشت گرد ٹھکانوں کو کلیئر کیا گیا، وہاں سے اسلحہ، گولہ بارود اور دھماکا خیز مواد بھی برآمد کیا گیا۔
فوج نے کہا ہے کہ علاقے میں کلیئرنس کا عمل اس وقت تک جاری رہے گا جب تک سکیورٹی خطرہ مکمل طور پر ختم نہیں ہوجاتا۔
21 ستمبر سے کارروائیوں کی پیش رفت
آئی ایس پی آر کے مطابق 21 ستمبر کو شعبان کے علاقے میں کارروائی شروع کی گئی تھی۔ 23 ستمبر تک جاری ہونے والی اطلاعات میں بتایا گیا تھا کہ مختلف کارروائیوں میں 19 دہشت گرد ہلاک ہوچکے تھے، جبکہ ایک فوجی اہلکار بھی فائرنگ کے تبادلے میں شہید ہوا تھا۔
اس کے بعد 24 ستمبر کو آپریشن شعبان میں مزید 5 ہلاکتوں اور 25 ستمبر کو نوشکی میں 11 ہلاکتوں کی اطلاع دی گئی، جس کے بعد آئی ایس پی آر نے 21 ستمبر سے مجموعی تعداد 33 بتائی۔
ہلاکتوں کے اعداد و شمار کی نوعیت
33 ہلاکتوں کا عدد سکیورٹی فورسز کے شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر کی جانب سے جاری کردہ معلومات پر مبنی ہے۔ آزاد ذرائع سے تمام ہلاکتوں کی مکمل طور پر آزادانہ تصدیق دستیاب نہیں ہے، اس لیے اس خبر میں فوج کے بیان کردہ اعداد و شمار کو اسی نسبت سے پیش کیا گیا ہے۔
پاکستانی حکام بعض مسلح گروہوں کو بھارت کی حمایت یافتہ قرار دیتے ہیں، جبکہ بھارت ان الزامات کی تردید کرتا ہے۔ اس لیے ایسے دعووں کو متعلقہ فریق کے مؤقف کے طور پر ہی دیکھنا ضروری ہے۔
بلوچستان میں سکیورٹی صورتحال
بلوچستان میں سکیورٹی فورسز کی کارروائیاں ایک ایسے وقت میں جاری ہیں جب صوبے میں مختلف مسلح گروہوں کے خلاف آپریشنز اور انٹیلی جنس بنیادوں پر کارروائیاں کی جاتی رہی ہیں۔
حالیہ کارروائیوں میں شعبان اور نوشکی کے علاقوں کا ذکر سامنے آیا ہے۔ سکیورٹی اداروں کے مطابق کارروائیوں کا مقصد مسلح گروہوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنانا اور مقامی آبادی کو ممکنہ خطرات سے محفوظ رکھنا ہے۔
آئندہ کارروائیاں جاری رکھنے کا اعلان
آئی ایس پی آر نے واضح کیا ہے کہ بلوچستان میں انسداد دہشت گردی کی کارروائیاں جاری رہیں گی۔ فوج کے مطابق سکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے ادارے عزم استحکام کے تحت دہشت گردی کے خلاف کارروائیاں جاری رکھیں گے۔
حالیہ کارروائیوں کے نتائج اور ہلاکتوں کے بارے میں مزید تفصیلات سکیورٹی اداروں کی آئندہ رپورٹس کے بعد سامنے آسکتی ہیں۔
نتیجہ
آئی ایس پی آر کے مطابق بلوچستان میں 21 ستمبر سے جاری مختلف انسداد دہشت گردی کارروائیوں میں 33 دہشت گرد ہلاک کیے گئے ہیں۔ فوج کے مطابق ان میں آپریشن شعبان کے دوران 22 ہلاکتیں اور نوشکی میں 25 ستمبر کی کارروائی میں 11 ہلاکتیں شامل ہیں۔ تاہم ہلاکتوں کے اعداد و شمار اور دیگر دعوے بنیادی طور پر سکیورٹی اداروں کے بیان پر مبنی ہیں، جبکہ تمام تفصیلات کی آزادانہ تصدیق دستیاب نہیں۔
💬 تبصرے (0)
اپنا تبصرہ لکھیں
ابھی تک کوئی تبصرہ نہیں۔ پہلے تبصرہ کرنے والے بنیں!