Friday, October 02, 2026
FB
تازہ ترین

پاکستان کا افغانستان میں فضائی آپریشن، 22 دہشت گردوں کی ہلاکت کا دعویٰ

پاکستان نے افغانستان کے صوبوں کنڑ اور ہلمند میں فضائی کارروائی کی ہے۔ پاکستانی وزارت اطلاعات کے مطابق کارروائی میں دہشت گردوں کے دو ٹھکانوں کو نشانہ بنایا گیا اور ابتدائی اطلاعات کے مطابق 22 دہشت گرد مارے گئے، جبکہ افغان حکام اور اقوام متحدہ نے شہری ہلاکتوں اور زخمیوں کی بھی اطلاع دی ہے۔

پاکستان کا افغانستان میں فضائی آپریشن، 22 دہشت گردوں کی ہلاکت کا دعویٰ

پاکستان کا افغانستان میں فضائی آپریشن

پاکستان نے افغانستان کے صوبوں کنڑ اور ہلمند میں فضائی کارروائی کی ہے، جس کے بعد دونوں ملکوں کے درمیان پہلے سے موجود کشیدگی میں مزید اضافہ ہوگیا ہے۔ پاکستانی وزارت اطلاعات کے مطابق کارروائی دہشت گرد تنظیموں کے ٹھکانوں اور مبینہ محفوظ پناہ گاہوں کے خلاف کی گئی۔

پاکستانی حکام کا کہنا ہے کہ کارروائی میں دہشت گردوں کے دو مقامات کو نشانہ بنایا گیا اور ابتدائی اطلاعات کے مطابق 22 دہشت گرد مارے گئے۔ حکام کے مطابق ان ٹھکانوں میں موجود اسلحہ اور گولہ بارود بھی تباہ کیا گیا۔

دوسری جانب افغان طالبان حکومت نے کارروائی کی مذمت کرتے ہوئے شہری ہلاکتوں کا دعویٰ کیا ہے۔ اقوام متحدہ کے افغانستان مشن نے بھی کم از کم 10 شہریوں کی ہلاکت اور 9 افراد کے زخمی ہونے کی اطلاع دی، جبکہ زیادہ تر ہلاک ہونے والوں کے بچوں سمیت شہری ہونے کی نشاندہی کی گئی ہے۔

پاکستانی حکام کا مؤقف

پاکستانی وزارت اطلاعات کے مطابق فضائی حملے ’’اچھی منصوبہ بندی‘‘ اور ’’محدود و ہدفی‘‘ کارروائی کے طور پر کیے گئے۔ وزارت نے کہا کہ کارروائی دہشت گردوں کے ان مراکز کے خلاف تھی جنہیں پاکستان کے لیے خطرہ قرار دیا گیا ہے۔

پاکستان کا مؤقف ہے کہ افغانستان میں موجود دہشت گرد عناصر پاکستان کے اندر حملوں میں ملوث ہیں اور سرحد پار سے لاحق خطرات کے خلاف کارروائی کرنا اس کی قومی سلامتی کی ضرورت ہے۔ پاکستانی حکام نے ان کارروائیوں کو جاری انسداد دہشت گردی مہم کا حصہ قرار دیا ہے۔

وزارت اطلاعات کے مطابق کارروائی کے دوران دہشت گردوں کے ٹھکانوں میں موجود اسلحہ اور گولہ بارود بھی تباہ کیا گیا۔ تاہم پاکستان کی جانب سے دہشت گردوں کی ہلاکتوں کے اعداد و شمار کی آزادانہ طور پر مکمل تصدیق نہیں ہوسکی۔

کنڑ اور ہلمند میں کارروائی

رپورٹس کے مطابق پاکستانی فضائی کارروائی افغانستان کے مشرقی صوبے کنڑ اور جنوبی صوبے ہلمند میں کی گئی۔ افغان طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے دعویٰ کیا کہ حملوں میں رہائشی علاقوں کو بھی نقصان پہنچا اور خواتین و بچوں سمیت شہری ہلاک ہوئے۔

افغان حکومت نے پاکستانی کارروائی کو اپنی خودمختاری کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے اس کی مذمت کی ہے۔ افغان مؤقف کے مطابق حملوں میں عام شہری متاثر ہوئے، تاہم ان تمام دعوؤں کی تفصیلات کے بارے میں آزادانہ طور پر مکمل تصدیق مشکل ہے۔

اقوام متحدہ کی رپورٹ

اقوام متحدہ کے افغانستان مشن نے یکم اکتوبر کی کارروائی کے بعد شہری ہلاکتوں پر تشویش کا اظہار کیا۔ مشن کے مطابق فضائی حملوں میں کم از کم 10 شہری جاں بحق ہوئے جبکہ 9 افراد زخمی ہوئے۔

اقوام متحدہ نے پاکستان اور افغانستان کے درمیان جاری کشیدگی کے تناظر میں شہریوں کے تحفظ اور کشیدگی کم کرنے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔

اس طرح اس کارروائی کے حوالے سے فریقین کے بیانات میں نمایاں فرق موجود ہے۔ پاکستان کا کہنا ہے کہ اس نے دہشت گردوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا، جبکہ افغان حکام اور اقوام متحدہ نے شہری ہلاکتوں کی اطلاع دی ہے۔

پاکستان اور افغانستان میں بڑھتی کشیدگی

پاکستان اور افغانستان کے تعلقات گزشتہ کئی ماہ سے کشیدگی کا شکار ہیں۔ اسلام آباد کا مؤقف ہے کہ افغانستان کی سرزمین پر موجود دہشت گرد گروہ پاکستان کے خلاف کارروائیاں کرتے ہیں، جبکہ افغان طالبان حکومت پاکستان کے ان الزامات کو مسترد کرتی رہی ہے۔

پاکستانی دفتر خارجہ نے یکم اکتوبر کو بھی کہا کہ افغانستان میں دہشت گرد تنظیموں کی موجودگی پاکستان کے لیے باعث تشویش ہے۔ ترجمان کے مطابق پاکستان خطے میں امن اور افغانستان کے ساتھ دوستانہ تعلقات کا خواہاں ہے، تاہم اسلام آباد افغانستان سے اپنی سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال نہ ہونے دینے کے لیے قابل تصدیق اقدامات کا مطالبہ کرتا ہے۔

پاکستانی مؤقف کے مطابق افغانستان سے پیدا ہونے والے دہشت گردی کے خطرے کے خلاف ملک کو اپنی سلامتی کے تحفظ کے لیے اقدامات کا حق حاصل ہے۔ فوجی ترجمان نے بھی پاکستان کے حق دفاع کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ دہشت گردی کے خطرے کے جواب میں ضروری اقدامات کیے جائیں گے۔

افغانستان کا ردعمل

افغان طالبان حکومت پاکستان کی فضائی کارروائیوں کو مسترد کرتی رہی ہے اور اس کا مؤقف ہے کہ افغانستان کی سرزمین پاکستان کے خلاف دہشت گردی کے لیے استعمال ہونے کے الزامات درست نہیں۔

حالیہ کارروائی کے بعد افغان طالبان کے ترجمان نے حملوں کی مذمت کرتے ہوئے شہری ہلاکتوں کی تفصیلات بیان کیں۔ افغان مؤقف کے مطابق پاکستان کی جانب سے سرحد پار کارروائیاں خطے میں مزید کشیدگی کا باعث بن سکتی ہیں۔

اس کے برعکس پاکستان کا کہنا ہے کہ کارروائی دہشت گردوں کے مخصوص ٹھکانوں کے خلاف تھی اور اسے قابل اعتماد معلومات کی بنیاد پر انجام دیا گیا۔ دونوں فریقوں کے دعووں میں اختلاف موجود ہے، اس لیے ہلاکتوں اور اہداف سے متعلق تمام تفصیلات کو احتیاط کے ساتھ دیکھنا ضروری ہے۔

سرحدی صورتحال پر ممکنہ اثرات

پاکستان اور افغانستان کے درمیان پہلے ہی سرحدی علاقوں میں کشیدگی موجود ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان دہشت گردی، سرحد پار حملوں اور سکیورٹی سے متعلق اختلافات نے دوطرفہ تعلقات کو متاثر کیا ہے۔

حالیہ فضائی کارروائی ایسے وقت میں ہوئی ہے جب دونوں ممالک کے درمیان سفارتی رابطے بھی مکمل طور پر ختم نہیں ہوئے۔ پاکستانی دفتر خارجہ کے مطابق اسلام آباد اور کابل مختلف ذرائع سے ایک دوسرے کے ساتھ رابطے میں ہیں۔

فضائی کارروائی کے بعد آئندہ دنوں میں سفارتی سطح پر رابطوں اور سرحدی صورتحال پر بھی توجہ رہنے کا امکان ہے۔ تاہم اس مرحلے پر یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ کارروائی کے بعد دونوں ممالک کے تعلقات کس سمت جائیں گے۔

پاکستان کے لیے اہمیت

پاکستان کے لیے افغانستان میں موجود مسلح گروہوں کا معاملہ براہ راست قومی سلامتی سے جڑا ہوا ہے۔ اسلام آباد طویل عرصے سے افغان سرزمین سے ہونے والی مبینہ دہشت گرد سرگرمیوں پر تشویش کا اظہار کرتا رہا ہے۔

پاکستانی حکام کے مطابق سرحد پار موجود دہشت گرد نیٹ ورکس کے خلاف کارروائی ملک کے اندر شہریوں اور سکیورٹی اہلکاروں کو درپیش خطرات کم کرنے کے لیے ضروری ہے۔ دوسری جانب افغانستان کی جانب سے ایسی کارروائیوں کی مخالفت دوطرفہ تعلقات میں مزید پیچیدگی پیدا کرتی ہے۔

اس صورتحال میں پاکستان کے لیے سکیورٹی تقاضوں کے ساتھ سفارتی رابطے بھی اہم رہیں گے، خصوصاً ایسے وقت میں جب دونوں ممالک کے درمیان تجارت اور سرحدی آمدورفت بھی سیاسی و سکیورٹی صورتحال سے متاثر ہوسکتی ہے۔

شہری ہلاکتوں کا معاملہ

حالیہ کارروائی کا سب سے حساس پہلو شہری ہلاکتوں سے متعلق مختلف دعوے ہیں۔ پاکستان نے کارروائی کو دہشت گردوں کے مخصوص ٹھکانوں تک محدود قرار دیا ہے، جبکہ افغان حکام اور اقوام متحدہ نے شہریوں کے مارے جانے کی اطلاع دی ہے۔

اقوام متحدہ کی جانب سے کم از کم 10 شہریوں کی ہلاکت کی تصدیق نے معاملے کو مزید حساس بنا دیا ہے۔ پاکستان کی جانب سے دہشت گردوں کی ہلاکتوں سے متعلق بیان اور افغان و اقوام متحدہ کے شہری نقصانات سے متعلق اعداد و شمار مختلف ہیں۔

ان مختلف دعوؤں کے پیش نظر تمام ہلاکتوں اور نقصان کی مکمل تفصیل کے بارے میں حتمی نتیجہ اخذ کرنا ابھی ممکن نہیں۔

آئندہ کی صورتحال

حالیہ فضائی کارروائی کے بعد پاکستان اور افغانستان کے درمیان سکیورٹی اور سفارتی رابطے اہم حیثیت اختیار کر گئے ہیں۔ پاکستان کا کہنا ہے کہ وہ افغانستان کے ساتھ دوستانہ تعلقات اور خطے میں امن کا خواہاں ہے، لیکن دہشت گردی کے معاملے پر قابل اعتماد اور قابل تصدیق اقدامات کو ضروری سمجھتا ہے۔

دوسری جانب افغان طالبان حکومت پاکستان کی سرحد پار کارروائیوں کو مسترد کرتی ہے۔ اس لیے مستقبل میں صورتحال کا انحصار سکیورٹی واقعات، سرحدی کشیدگی اور دونوں حکومتوں کے درمیان ہونے والے سفارتی رابطوں پر ہوگا۔

نتیجہ

پاکستان نے یکم اکتوبر کو افغانستان کے کنڑ اور ہلمند صوبوں میں فضائی کارروائی کرتے ہوئے دہشت گردوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنانے کا اعلان کیا ہے۔ پاکستان نے 22 دہشت گردوں کی ہلاکت کا دعویٰ کیا، جبکہ افغان حکام اور اقوام متحدہ نے شہری ہلاکتوں کی اطلاع دی ہے۔

یہ صورتحال پاکستان اور افغانستان کے درمیان جاری سکیورٹی کشیدگی کی تازہ کڑی ہے۔ آئندہ پیش رفت میں سرحدی صورتحال، سفارتی رابطوں اور دہشت گردی سے متعلق دونوں ممالک کے مؤقف اہم رہیں گے۔

Ammar abbas

Ammar abbas

چیف ایگزیکٹو آفیسر – دی پاک گلوبل اردو نیٹ ورک

# Ammar Abbas — صحافت سے CEO تک کامیابی کا سفر **عمار عباس** ایک باصلاحیت، متحرک اور وژن رکھنے والے صحافی ہیں، جنہوں نے صحافت کے میدان سے اپنے پیشہ ورانہ سفر کا آغاز کیا اور اپنی محنت، صلاحیتوں اور...

💬 تبصرے (0)

اپنا تبصرہ لکھیں

ابھی تک کوئی تبصرہ نہیں۔ پہلے تبصرہ کرنے والے بنیں!