پاکستان تحریک انصاف نے 27 ستمبر کو اسلام آباد کی جانب اعلان کردہ مارچ اور احتجاج جاری رکھنے کا فیصلہ برقرار رکھا ہے۔ پارٹی کی جانب سے یہ اعلان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب وفاقی حکومت نے احتجاج کے حوالے سے سخت انتظامی اقدامات اور سکیورٹی انتظامات شروع کر رکھے ہیں۔
وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی نے پشاور میں پی ٹی آئی رہنماؤں کے ہمراہ پریس کانفرنس میں کہا کہ 27 ستمبر کو اسلام آباد میں پرامن احتجاج کیا جائے گا۔ ان کے مطابق احتجاج مختصر سرگرمی نہیں بلکہ طویل سیاسی احتجاج ہوگا۔
پی ٹی آئی کا مارچ برقرار رکھنے کا اعلان
پی ٹی آئی نے اس سے قبل بھی 27 ستمبر کے اسلام آباد مارچ کی کال برقرار رکھنے کا اعلان کیا تھا۔ پارٹی کی کور کمیٹی نے 11 ستمبر کو فیصلہ کیا تھا کہ عدالتی فیصلے یا گرفتاریوں کی صورت میں بھی مارچ کی کال واپس نہیں لی جائے گی۔
پارٹی کی قیادت کا کہنا ہے کہ احتجاج کا مقصد بانی پی ٹی آئی عمران خان کی رہائی سمیت اپنے سیاسی مطالبات کے لیے دباؤ بڑھانا ہے۔ 27 ستمبر کے مارچ کی کال کے حوالے سے پارٹی کے مختلف رہنماؤں کی جانب سے مسلسل بیانات بھی سامنے آتے رہے ہیں۔
وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کا مؤقف
سہیل آفریدی نے 21 ستمبر کو پشاور میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پی ٹی آئی سیاسی قوت ہے اور مسئلے سیاسی طریقے سے حل کرنے پر یقین رکھتی ہے۔ انہوں نے احتجاج کو پرامن رکھنے پر زور دیا اور کہا کہ مارچ طویل ہو سکتا ہے۔
پی ٹی آئی کے مؤقف کے مطابق پارٹی اپنے کارکنوں کو 27 ستمبر کے احتجاج کے لیے متحرک کر رہی ہے اور مختلف علاقوں سے کارکنوں کی اسلام آباد آمد متوقع ہے۔
حکومت کی جانب سے سخت مؤقف
دوسری جانب وفاقی حکومت نے پی ٹی آئی کے 27 ستمبر کے مارچ کے بارے میں واضح طور پر کہا ہے کہ اسلام آباد میں امن و امان برقرار رکھنے کے لیے قانون کے مطابق اقدامات کیے جائیں گے۔
وزیر داخلہ محسن نقوی نے 21 ستمبر کو پی ٹی آئی کو مارچ کی کال پر نظرثانی کا مشورہ دیتے ہوئے کہا کہ حکومت نے قانون نافذ کرنے والے اداروں کو ضروری ہدایات جاری کر دی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اسلام آباد میں بدامنی کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔
ریاستی وزیر داخلہ طلال چوہدری نے بھی کہا ہے کہ 27 ستمبر کے مارچ کے دوران ریاستی رٹ اور امن و امان برقرار رکھنے کے لیے ضروری اقدامات کیے جائیں گے۔
اسلام آباد میں سکیورٹی انتظامات میں اضافہ
مارچ کے پیش نظر اسلام آباد میں سکیورٹی انتظامات مزید سخت کیے جا رہے ہیں۔ تازہ رپورٹس کے مطابق وفاقی دارالحکومت میں 25 ہزار اضافی پولیس اہلکار تعینات کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے جبکہ اہم شاہراہوں اور داخلی راستوں پر کنٹینرز بھی لگائے جا رہے ہیں۔
اسلام آباد میں مختلف داخلی و خارجی راستوں پر سکیورٹی بڑھانے کا مقصد احتجاج کے دوران امن و امان برقرار رکھنا اور شہریوں کی آمدورفت کو منظم رکھنا بتایا گیا ہے۔
اسلام آباد ہائیکورٹ کا فیصلہ
27 ستمبر کے احتجاج کے معاملے پر اسلام آباد ہائیکورٹ میں بھی کارروائی ہوئی۔ عدالت نے اپنے فیصلے میں واضح کیا کہ کسی سیاسی جماعت یا رہنما کو عوامی سڑکیں اور شاہراہیں بند کرنے یا شہریوں کی آزادانہ نقل و حرکت میں رکاوٹ ڈالنے کا اختیار حاصل نہیں۔
عدالت نے صوبائی حکومتوں کو یہ بھی ہدایت کی کہ مارچ یا احتجاج کے لیے سرکاری وسائل، گاڑیاں، مشینری یا سرکاری ملازمین استعمال نہ کیے جائیں۔ متعلقہ انتظامی اور پولیس حکام کو عدالتی ہدایات پر عملدرآمد یقینی بنانے کا کہا گیا ہے۔
سیاسی رابطے اور اختلاف برقرار
27 ستمبر کے مارچ کے معاملے پر پی ٹی آئی اور حکومتی حکام کے درمیان رابطوں کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں، تاہم دستیاب تازہ رپورٹ کے مطابق ان رابطوں سے مارچ کی کال میں تبدیلی نہیں آئی۔
اس طرح ایک جانب پی ٹی آئی احتجاج جاری رکھنے پر قائم ہے جبکہ دوسری جانب حکومت نے مارچ کی صورت میں امن و امان اور شہریوں کی معمول کی سرگرمیوں کے تحفظ کے لیے انتظامات تیز کر دیے ہیں۔
شہریوں کے لیے کیا صورتحال ہے؟
مارچ کے باعث اسلام آباد اور راولپنڈی میں ٹریفک، داخلی راستوں اور اہم شاہراہوں پر اضافی انتظامات کیے جا رہے ہیں۔ شہریوں کے لیے سفر کے دوران متعلقہ انتظامیہ اور ٹریفک پولیس کی تازہ ہدایات کو مدنظر رکھنا اہم ہوگا، خاص طور پر 27 ستمبر کے قریب۔
اسلام آباد میں سکیورٹی پلان کے تحت بعض اہم مقامات پر رکاوٹیں اور اضافی نفری تعینات کیے جانے کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں۔
آئندہ کی صورتحال
27 ستمبر تک پی ٹی آئی کی سیاسی سرگرمیوں، حکومت کے انتظامی اقدامات اور عدالت کی ہدایات کے باعث صورتحال پر مسلسل نظر رکھی جا رہی ہے۔ مارچ کے روز اصل صورتحال کا انحصار شرکا کی تعداد، انتظامیہ کے اقدامات، راستوں کی صورتحال اور سیاسی قیادت کے فیصلوں پر ہوگا۔
نتیجہ
پی ٹی آئی نے 27 ستمبر کا اسلام آباد مارچ برقرار رکھنے کا اعلان کیا ہے، جبکہ حکومت نے امن و امان برقرار رکھنے کے لیے سخت انتظامات شروع کر دیے ہیں۔ اسلام آباد ہائیکورٹ کی ہدایات کے بعد احتجاج کے دوران عوامی شاہراہوں کی بندش اور سرکاری وسائل کے استعمال سے متعلق قانونی حدود بھی واضح ہو چکی ہیں۔
💬 تبصرے (0)
اپنا تبصرہ لکھیں
ابھی تک کوئی تبصرہ نہیں۔ پہلے تبصرہ کرنے والے بنیں!