سانحہ پمز: 8 افسران معطل، ذمہ داروں کے خلاف فوجداری کارروائی کا حکم
اسلام آباد: پاکستان انسٹیٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (پمز) میں نوزائیدہ بچوں کے وارڈ میں پیش آنے والے المناک آتشزدگی کے واقعے پر حکومت نے سخت کارروائی کا آغاز کر دیا ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف نے تحقیقاتی کمیٹی کی عبوری رپورٹ کی روشنی میں پمز اور متعلقہ اداروں کے 8 افسران کو فوری طور پر معطل کرنے اور ان کے خلاف محکمانہ کارروائی کے ساتھ فوجداری کارروائی شروع کرنے کی ہدایت کی ہے۔
یہ فیصلہ وزیراعظم کی زیر صدارت پمز آتشزدگی واقعے سے متعلق اعلیٰ سطحی اجلاس میں کیا گیا، جہاں تحقیقاتی کمیٹی نے سانحے سے متعلق اپنی عبوری رپورٹ پیش کی۔ رپورٹ میں ہسپتال کے فائر سیفٹی انتظامات، ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے طریقہ کار اور انتظامی نگرانی میں متعدد سنگین خامیوں کی نشاندہی کی گئی ہے۔
پمز سانحے میں 14 نومولود جاں بحق
26 اگست 2026 کو پمز کے مدر اینڈ چائلڈ ہیلتھ یونٹ کی نرسری میں اچانک آگ بھڑک اٹھی تھی۔ آتشزدگی نے انتہائی کم وقت میں وارڈ کو اپنی لپیٹ میں لے لیا، جس کے نتیجے میں 14 نومولود بچے جان کی بازی ہار گئے۔
تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق آگ لگنے کی حتمی تکنیکی وجہ ابھی تک مکمل طور پر سامنے نہیں آسکی، تاہم واقعے کے دوران ہسپتال میں فائر سیفٹی اور ایمرجنسی رسپانس کے حوالے سے اہم انتظامی خامیاں موجود ہونے کی نشاندہی ہوئی ہے۔
فائر الارم اور سپرنکلر سسٹم کی عدم موجودگی
تحقیقاتی کمیٹی کی عبوری رپورٹ میں بتایا گیا کہ متاثرہ نوزائیدہ بچوں کے وارڈ میں فائر الارم اور سپرنکلر سسٹم موجود نہیں تھا۔
رپورٹ کے مطابق ہسپتال میں آگ یا کسی دوسری ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے جامع طریقہ کار اور مناسب تربیت کا بھی فقدان تھا۔ کمیٹی نے اس صورتحال کو ہسپتال کے مجموعی فائر سیفٹی اور ایمرجنسی انتظامات میں ایک اہم کمزوری قرار دیا ہے۔
8 افسران کے خلاف کارروائی
تحقیقاتی کمیٹی کی سفارشات کی روشنی میں جن 8 افسران کے خلاف کارروائی کا فیصلہ کیا گیا، ان میں پمز کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر پروفیسر ڈاکٹر عمران سکندر بھی شامل ہیں۔
دیگر افسران میں نیونیٹولوجی شعبے کی سربراہ پروفیسر ڈاکٹر سعدیہ ریاض، سینئر رجسٹرار ڈاکٹر نغم، جوائنٹ ایگزیکٹو ڈائریکٹر ڈاکٹر مطاہر شاہ، جوائنٹ ایگزیکٹو ڈائریکٹر نان میڈیکل چوہدری وارث علی رضا، مدر اینڈ چائلڈ ہیلتھ کی ڈائریکٹر ڈاکٹر نوشیلہ امجد، سی ڈی اے ایمرجنسی سروسز کے ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر عبدالرحمن اور پمز کے اسسٹنٹ ڈائریکٹر سیکیورٹی محمد عثمان شامل ہیں۔
وزیراعظم نے واضح کیا کہ ذمہ دار قرار دیے گئے افراد کے خلاف صرف محکمانہ کارروائی تک محدود نہیں رہا جائے گا بلکہ متعلقہ قوانین کے تحت فوجداری کارروائی بھی کی جائے گی۔
سیکیورٹی کمپنی کے خلاف بھی کارروائی کا فیصلہ
وزیراعظم نے پمز میں سیکیورٹی خدمات فراہم کرنے والی نجی کمپنی کے معاملے کا بھی جائزہ لینے کی ہدایت کی ہے۔
حکام کو ہدایت کی گئی ہے کہ سیکیورٹی کمپنی کے معاہدے اور ذمہ داریوں کا جائزہ لیا جائے اور اگر معاہدے کی خلاف ورزی یا غفلت ثابت ہو تو کمپنی اور متعلقہ ذمہ دار افراد کے خلاف بھی کارروائی کی جائے۔
پمز کے نئے قائم مقام سربراہ کی تعیناتی
وزیراعظم نے ہسپتال کے انتظامی امور کو معمول کے مطابق چلانے کے لیے نیشنل انسٹیٹیوٹ آف ہیلتھ (NIH) کے چیف ایگزیکٹو آفیسر ڈاکٹر محمد سلمان کو پمز کا قائم مقام ایگزیکٹو ڈائریکٹر مقرر کرنے کی ہدایت کی ہے۔
ساتھ ہی ان افسران کی جگہ فوری طور پر نئے افسران تعینات کرنے کا فیصلہ بھی کیا گیا ہے جنہیں سانحے کے بعد عہدوں سے ہٹایا یا معطل کیا گیا۔
بچے کو بچانے والی نرس کے لیے بڑا اعزاز
سانحے کے دوران اپنی جان خطرے میں ڈال کر ایک بچے کو بچانے والی نرس رضیہ نورین کے کردار کو بھی حکومت نے سراہا ہے۔
وزیراعظم نے نرس رضیہ نورین کے لیے ستارۂ خدمت دینے کی منظوری دی ہے۔ حکومت کی جانب سے ان کے لیے مالی انعام کا بھی اعلان کیا گیا ہے۔
وزیراعظم کا ذمہ داروں کے خلاف سخت کارروائی کا عزم
وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ معصوم بچوں کی ہلاکت ایک انتہائی افسوسناک سانحہ ہے اور اس معاملے میں غفلت یا کوتاہی کے ذمہ دار افراد کو کسی قسم کی رعایت نہیں دی جائے گی۔
وزیراعظم نے ہدایت کی کہ تحقیقات کی روشنی میں ذمہ دار افراد کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے تاکہ مستقبل میں کسی ہسپتال میں اس نوعیت کا افسوسناک واقعہ دوبارہ پیش نہ آئے۔
حکومت کی جانب سے تحقیقاتی کمیٹی کی عبوری رپورٹ بھی عوام کے سامنے لانے کی ہدایت کی گئی ہے تاکہ واقعے کے محرکات، انتظامی خامیوں اور ذمہ داری کے تعین سے متعلق معلومات شفاف انداز میں سامنے آسکیں۔
واقعے کی اصل وجہ تاحال زیر تحقیق
تحقیقاتی رپورٹ میں اہم انتظامی اور فائر سیفٹی خامیوں کی نشاندہی ضرور کی گئی ہے، تاہم آگ لگنے کی اصل تکنیکی وجہ ابھی حتمی طور پر طے نہیں ہوئی۔
حکام کے مطابق فوجداری ذمہ داری کا حتمی تعین مزید تحقیقات اور فرانزک شواہد کی روشنی میں کیا جائے گا۔ اس لیے موجودہ کارروائی کو تحقیقاتی کمیٹی کی عبوری سفارشات کے تناظر میں دیکھا جا رہا ہے۔
پمز سانحے کے بعد ہسپتالوں میں فائر سیفٹی، ایمرجنسی رسپانس اور مریضوں کے انخلا کے انتظامات پر بھی سوالات اٹھ گئے ہیں۔ واقعے نے اس امر کی ضرورت مزید نمایاں کر دی ہے کہ طبی مراکز میں ہنگامی حالات سے نمٹنے کے لیے مؤثر نظام، تربیت یافتہ عملہ اور مناسب حفاظتی آلات ہر وقت دستیاب ہوں۔
💬 تبصرے (0)
اپنا تبصرہ لکھیں
ابھی تک کوئی تبصرہ نہیں۔ پہلے تبصرہ کرنے والے بنیں!