Monday, September 28, 2026
FB
تازہ ترین

بلوچستان میں سیکیورٹی فورسز کی کارروائیاں، 96 گھنٹوں میں 71 سے زائد دہشت گرد ہلاک

آئی ایس پی آر کے مطابق بلوچستان کے مختلف علاقوں میں گزشتہ 96 گھنٹوں کے دوران سیکیورٹی فورسز کی کارروائیوں میں 71 سے زائد دہشت گرد ہلاک ہوئے۔ کارروائیوں میں ضلع کوئٹہ کے شعبان، زیارت، نوشکی اور مند کے علاقے شامل ہیں، جبکہ متعدد ٹھکانوں سے اسلحہ، گولہ بارود اور دھماکہ خیز مواد برآمد کرنے کی بھی اطلاع دی گئی ہے۔ فوج کے مطابق آپریشن شعبان اور دیگر علاقوں میں کلیئرنس کارروائیاں جاری ہیں۔

بلوچستان میں سیکیورٹی فورسز کی کارروائیاں، 96 گھنٹوں میں 71 سے زائد دہشت گرد ہلاک

بلوچستان میں سیکیورٹی فورسز کی جانب سے دہشت گردی کے خلاف کارروائیوں کا سلسلہ جاری ہے۔ پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق صوبے کے مختلف علاقوں میں گزشتہ 96 گھنٹوں کے دوران 71 سے زائد دہشت گرد ہلاک کیے گئے ہیں۔ فوج کے بیان میں بتایا گیا ہے کہ کارروائیوں کے دوران متعدد دہشت گرد ٹھکانے کلیئر کیے گئے جبکہ اسلحہ، گولہ بارود اور دھماکہ خیز مواد بھی برآمد کیا گیا۔

یہ اعداد و شمار آئی ایس پی آر کے جاری کردہ بیان پر مبنی ہیں اور آزاد ذرائع سے تمام ہلاکتوں کی الگ الگ تصدیق دستیاب نہیں۔ مختلف پاکستانی میڈیا اداروں نے بھی آئی ایس پی آر کے حوالے سے 71 سے زائد ہلاکتوں کی رپورٹ کیا ہے۔

بلوچستان میں مختلف علاقوں میں کارروائیاں

آئی ایس پی آر کے مطابق سیکیورٹی فورسز نے بلوچستان میں انٹیلی جنس معلومات کی بنیاد پر مختلف کارروائیاں کیں۔ فوج کے مطابق ان کارروائیوں کا مقصد دہشت گردوں کے ٹھکانوں اور سرگرمیوں کے خلاف کارروائی کرنا اور مقامی آبادی کو لاحق خطرے کو کم کرنا تھا۔

بیان کے مطابق کارروائیوں میں ضلع کوئٹہ کے علاقے شعبان اور زیارت و گردونواح کے علاقے نمایاں رہے۔ سیکیورٹی فورسز نے متعدد ٹھکانوں کو کلیئر کیا اور شدید فائرنگ کے تبادلے کے بعد دہشت گردوں کی ہلاکتوں کی اطلاع دی گئی۔

آپریشن شعبان میں ہلاکتوں کی تفصیل

آئی ایس پی آر کے مطابق 21 ستمبر 2026 کو مصدقہ انٹیلی جنس معلومات کی بنیاد پر زیارت اور اس کے گردونواح میں کارروائی شروع کی گئی تھی۔ بعد ازاں شعبان کے علاقے میں دہشت گردوں کے متعدد ٹھکانوں کی نشاندہی کرکے کارروائی کی گئی۔

فوج کے مطابق آپریشن شعبان کے دوران شدید فائرنگ کے تبادلے کے بعد ابتدائی مرحلے میں 33 دہشت گرد ہلاک ہوئے۔ اس کے بعد گزشتہ 72 گھنٹوں کے دوران کارروائی میں مزید 23 دہشت گردوں کی ہلاکت کی اطلاع دی گئی۔

آئی ایس پی آر نے بتایا کہ کارروائی کے دوران متعدد ٹھکانے کلیئر کیے گئے اور سیکیورٹی فورسز نے ایک وسیع علاقے کو کلیئر کرنے کی کارروائی مکمل کی۔ فوج کے مطابق کلیئرنس آپریشن خطرے کے مکمل خاتمے تک جاری رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

نوشکی اور مند میں الگ کارروائیاں

بلوچستان کے دیگر علاقوں میں بھی انٹیلی جنس بنیادوں پر کارروائیوں کی اطلاع دی گئی ہے۔

آئی ایس پی آر کے مطابق ضلع نوشکی میں 25 ستمبر کو کی جانے والی ایک الگ انٹیلی جنس بیسڈ کارروائی کے دوران 11 دہشت گرد ہلاک ہوئے۔ اسی طرح مند کے علاقے میں کارروائی کے دوران مزید 6 دہشت گردوں کو ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا گیا۔

فوج کے مطابق مند میں کارروائی کے دوران بڑی مقدار میں اسلحہ اور گولہ بارود بھی برآمد کیا گیا۔ ان کارروائیوں کو بلوچستان میں جاری انسداد دہشت گردی مہم کا حصہ قرار دیا گیا ہے۔

71 سے زائد ہلاکتوں کا دعویٰ کیسے سامنے آیا؟

آئی ایس پی آر نے بتایا کہ شعبان اور بلوچستان کے دیگر علاقوں میں گزشتہ 96 گھنٹوں کے دوران مجموعی طور پر 71 سے زائد دہشت گرد ہلاک کیے گئے۔ دستیاب رپورٹنگ کے مطابق اس مجموعے میں شعبان آپریشن کی 56 ہلاکتیں، نوشکی میں 11 اور مند میں 6 ہلاکتیں شامل ہیں۔

یہ اعداد و شمار فوج کے سرکاری بیان سے اخذ کیے گئے ہیں۔ ڈان، ریڈیو پاکستان اور دیگر پاکستانی ذرائع نے بھی آئی ایس پی آر کے بیان کی بنیاد پر 71 سے زائد ہلاکتوں کی اطلاع دی ہے۔

تاہم، ان کارروائیوں کے دوران ہلاک ہونے والے افراد کی شناخت، تنظیمی وابستگی اور دیگر تفصیلات کے حوالے سے دستیاب معلومات بنیادی طور پر سیکیورٹی اداروں کے مؤقف پر مشتمل ہیں۔ اس لیے ان دعوؤں کو اسی نسبت کے ساتھ رپورٹ کرنا ضروری ہے۔

اسلحہ اور دھماکہ خیز مواد برآمد ہونے کی اطلاع

آئی ایس پی آر کے مطابق کارروائیوں کے دوران دہشت گردوں کے متعدد ٹھکانوں کو کلیئر کیا گیا اور وہاں سے اسلحہ، گولہ بارود اور دھماکہ خیز مواد برآمد کیا گیا۔

سیکیورٹی فورسز کا کہنا ہے کہ ان کارروائیوں کے نتیجے میں ایک وسیع علاقے کو کلیئر کیا گیا اور مقامی آبادی کو دہشت گردوں کے خطرے سے محفوظ بنانے کے لیے کارروائی آگے بڑھائی جا رہی ہے۔

سیکیورٹی صورتحال اور بلوچستان

بلوچستان گزشتہ عرصے کے دوران دہشت گردی اور مسلح حملوں کے باعث سیکیورٹی کے متعدد چیلنجز کا سامنا کرتا رہا ہے۔ اسی پس منظر میں صوبے کے مختلف علاقوں میں انٹیلی جنس بنیادوں پر کارروائیوں میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔

ڈان کی رپورٹ کے مطابق پاکستان انسٹی ٹیوٹ فار کانفلکٹ اینڈ سیکیورٹی اسٹڈیز کے ماہانہ جائزے میں بلوچستان میں دہشت گرد حملوں کی تعداد جولائی کے 83 واقعات سے بڑھ کر اگست میں 89 بتائی گئی تھی۔ یہ اعداد و شمار صوبے میں سیکیورٹی صورتحال کے دباؤ کی نشاندہی کرتے ہیں۔

حالیہ کارروائیوں کے دوران سیکیورٹی فورسز نے دہشت گردوں کے مبینہ ٹھکانوں کو نشانہ بنایا ہے۔ تاہم کسی بھی فوجی کارروائی کے مکمل اثرات کا اندازہ لگانے کے لیے مزید تفصیلات اور آزادانہ طور پر دستیاب معلومات کا سامنے آنا ضروری ہوگا۔

آئی ایس پی آر کا مؤقف

آئی ایس پی آر نے اپنے بیان میں دہشت گرد گروہوں کے خلاف جاری کارروائیوں کو ملک میں انسداد دہشت گردی مہم کا حصہ قرار دیا ہے۔ فوج کے مطابق یہ کارروائیاں قومی ایکشن پلان کی وفاقی ایپکس کمیٹی سے منظور شدہ عزمِ استحکام کے وژن کے تحت جاری رکھی جا رہی ہیں۔

فوج کا کہنا ہے کہ سیکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے ادارے ملک سے غیر ملکی حمایت یافتہ دہشت گردی کے خاتمے کے لیے پرعزم ہیں۔

آئی ایس پی آر نے افغانستان میں موجود طالبان حکومت کی جانب سے پاکستان میں دہشت گردی کے حوالے سے بھی الزامات عائد کیے ہیں اور بھارت پر بعض گروہوں کی حمایت کا الزام لگایا ہے۔ یہ پاکستان کے سرکاری مؤقف کا حصہ ہے؛ دستیاب رپورٹنگ کے مطابق بھارت اور کابل ماضی میں ایسے الزامات کی تردید کرتے رہے ہیں۔

سیاسی و عسکری قیادت کا ردعمل

حالیہ کارروائیوں کے بعد صدر آصف علی زرداری نے سیکیورٹی فورسز کی کارروائیوں کو سراہا۔ وزیر اعظم شہباز شریف اور وزیر داخلہ محسن نقوی کی جانب سے بھی سیکیورٹی فورسز کو خراج تحسین پیش کیا گیا۔

سرکاری بیانات میں دہشت گردی کے خاتمے کے لیے کارروائیاں جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کیا گیا ہے۔

کارروائیاں جاری رہنے کا امکان

آئی ایس پی آر کے مطابق شعبان میں کلیئرنس آپریشن خطرے کے مکمل خاتمے تک جاری رہے گا۔ اس کا مطلب ہے کہ سیکیورٹی فورسز کی کارروائی صرف حالیہ ہلاکتوں تک محدود نہیں بلکہ علاقے میں باقی ممکنہ خطرات اور دہشت گرد نیٹ ورک کی موجودگی کے خلاف بھی جاری رہنے کی توقع ہے۔

بلوچستان جیسے وسیع اور جغرافیائی طور پر مشکل صوبے میں انسداد دہشت گردی کارروائیوں کے دوران انٹیلی جنس معلومات، مقامی آبادی کا تحفظ اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے درمیان رابطہ اہم عوامل ہوتے ہیں۔ تاہم کسی بھی کارروائی کے حتمی نتائج کا اندازہ مکمل آپریشنل تفصیلات سامنے آنے کے بعد ہی بہتر طور پر کیا جا سکتا ہے۔

مقامی آبادی کے لیے اہم پہلو

سیکیورٹی آپریشنز کا بنیادی مقصد دہشت گرد گروہوں کی کارروائیوں کو روکنا اور شہری علاقوں کو خطرات سے محفوظ بنانا قرار دیا گیا ہے۔ آئی ایس پی آر کے مطابق شعبان اور دیگر علاقوں میں کارروائیوں کے بعد ایک وسیع علاقے کو کلیئر کیا گیا ہے۔

مقامی آبادی کے حوالے سے اہم بات یہ ہے کہ ایسے علاقوں میں سیکیورٹی کارروائیوں کے ساتھ شہریوں کی حفاظت، آمدورفت اور روزمرہ زندگی کی بحالی بھی اہم ہوتی ہے۔ سیکیورٹی اداروں کی جانب سے مکمل صورتحال اور معمولات کی بحالی سے متعلق مزید معلومات سامنے آنے کے بعد اس پہلو کی زیادہ واضح تصویر سامنے آ سکے گی۔

پاکستان کی انسداد دہشت گردی مہم

پاکستان میں دہشت گردی کے خلاف کارروائیوں کا سلسلہ کئی برسوں سے جاری ہے۔ بلوچستان اور خیبر پختونخوا میں مختلف مسلح گروہوں کی سرگرمیوں کے باعث سیکیورٹی ادارے انٹیلی جنس بنیادوں پر کارروائیاں کرتے رہے ہیں۔

حالیہ کارروائیوں میں 71 سے زائد ہلاکتوں کا دعویٰ بلوچستان میں جاری انسداد دہشت گردی مہم کے بڑے آپریشنز میں شمار کیا جا رہا ہے، تاہم اس تعداد کی بنیادی تصدیق آئی ایس پی آر کے سرکاری بیان سے ہوتی ہے۔

دہشت گردی کے خلاف کارروائیوں میں صرف عسکری پہلو ہی نہیں بلکہ سرحدی نگرانی، انٹیلی جنس تعاون، مقامی انتظامیہ، پولیس اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کا کردار بھی اہم رہتا ہے۔ بلوچستان میں دیرپا امن کے لیے سیکیورٹی اقدامات کے ساتھ شہری انتظام، بنیادی سہولیات اور مقامی سطح پر امن و استحکام کے اقدامات بھی اہمیت رکھتے ہیں۔

نتیجہ

بلوچستان کے مختلف علاقوں میں گزشتہ 96 گھنٹوں کے دوران سیکیورٹی فورسز کی کارروائیوں میں 71 سے زائد دہشت گردوں کی ہلاکت کا دعویٰ آئی ایس پی آر کی جانب سے سامنے آیا ہے۔ کارروائیوں میں شعبان، زیارت، نوشکی اور مند کے علاقے شامل ہیں جبکہ متعدد ٹھکانوں سے اسلحہ اور گولہ بارود برآمد کرنے کی اطلاع بھی دی گئی ہے۔

دستیاب معلومات کے مطابق یہ تفصیلات بنیادی طور پر پاکستانی سیکیورٹی اداروں کے سرکاری مؤقف پر مبنی ہیں۔ آپریشن شعبان سمیت بعض علاقوں میں کلیئرنس کارروائیاں جاری رہنے کی اطلاع ہے، اس لیے آنے والے دنوں میں مزید تفصیلات سامنے آنے کا امکان موجود ہے۔

Ammar abbas

Ammar abbas

چیف ایگزیکٹو آفیسر – دی پاک گلوبل اردو نیٹ ورک

# Ammar Abbas — صحافت سے CEO تک کامیابی کا سفر **عمار عباس** ایک باصلاحیت، متحرک اور وژن رکھنے والے صحافی ہیں، جنہوں نے صحافت کے میدان سے اپنے پیشہ ورانہ سفر کا آغاز کیا اور اپنی محنت، صلاحیتوں اور...

💬 تبصرے (0)

اپنا تبصرہ لکھیں

ابھی تک کوئی تبصرہ نہیں۔ پہلے تبصرہ کرنے والے بنیں!