Saturday, September 26, 2026
FB
تازہ ترین

پنجاب میں ڈیجیٹل نگرانی کا بڑا منصوبہ، 98 تحصیلوں میں 10 ہزار نئے سیف سٹی کیمروں کی تیاری

پنجاب سیف سٹیز اتھارٹی نے صوبے کی 98 تحصیلوں تک ڈیجیٹل نگرانی کا دائرہ بڑھانے کے لیے تقریباً 16 ارب روپے کے منصوبے پر کام شروع کردیا ہے۔ منصوبے کے تحت 10 ہزار نئے ہائی ڈیفینیشن کیمرے نصب کیے جائیں گے جبکہ مستقبل میں نگرانی کا نظام 7 ہزار 602 یونین کونسلوں تک پھیلانے کا ہدف بھی رکھا گیا ہے۔

پنجاب میں ڈیجیٹل نگرانی کا بڑا منصوبہ، 98 تحصیلوں میں 10 ہزار نئے سیف سٹی کیمروں کی تیاری

پنجاب میں سیف سٹی نیٹ ورک کی توسیع کا بڑا منصوبہ

لاہور: پنجاب میں شہریوں کی سکیورٹی، جرائم کی نگرانی اور پولیس کے رسپانس نظام کو جدید ٹیکنالوجی سے جوڑنے کے لیے سیف سٹی نیٹ ورک کو مزید وسیع کرنے کا منصوبہ سامنے آگیا ہے۔ پنجاب سیف سٹیز اتھارٹی نے صوبے کی 98 تحصیلوں تک ڈیجیٹل نگرانی کا دائرہ بڑھانے کے لیے تقریباً 16 ارب روپے کی لاگت کا منصوبہ شروع کیا ہے۔

تازہ رپورٹ کے مطابق اس منصوبے کے تحت 98 تحصیلوں میں تقریباً 10 ہزار نئے ہائی ڈیفینیشن نگرانی کیمرے نصب کیے جائیں گے، جس سے سیف سٹی نظام کا دائرہ بڑے شہروں سے نکل کر تحصیل کی سطح تک پھیل جائے گا۔

98 تحصیلوں میں 10 ہزار نئے کیمرے

نئے منصوبے کا بنیادی مقصد پنجاب کے زیادہ سے زیادہ علاقوں کو جدید نگرانی کے نظام سے منسلک کرنا ہے۔ موجودہ سیف سٹی نیٹ ورک صوبے کے متعدد شہروں میں فعال ہے اور اب اس کا دائرہ مزید چھوٹے شہروں اور تحصیلوں تک بڑھانے کی تیاری کی جارہی ہے۔

رپورٹ کے مطابق منصوبے کی مجموعی متوقع لاگت 16 ارب روپے ہے جبکہ تقریباً 10 ہزار نئے کیمرے نصب کیے جائیں گے۔ اس توسیع سے پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو جرائم کی نگرانی، شواہد اکٹھے کرنے اور ہنگامی صورتحال میں ردعمل کے لیے مزید ڈیجیٹل سہولت میسر آئے گی۔

نگرانی کا نظام یونین کونسلوں تک پہنچانے کا ہدف

پنجاب میں سیف سٹی کے توسیعی منصوبے کا دائرہ صرف 98 تحصیلوں تک محدود نہیں رکھا گیا۔ دستیاب معلومات کے مطابق مستقبل میں ڈیجیٹل نگرانی کا نظام صوبے کی 7 ہزار 602 یونین کونسلوں تک پھیلانے کا ہدف بھی رکھا گیا ہے۔

اس اقدام سے شہری اور دیہی علاقوں میں اہم سڑکوں، بازاروں، داخلی و خارجی راستوں اور دیگر حساس مقامات کی نگرانی کے لیے ٹیکنالوجی کے استعمال میں مزید اضافہ متوقع ہے۔

پنجاب میں پہلے سے ہزاروں کیمرے فعال

پنجاب پولیس کے مطابق سیف سٹی منصوبہ بنیادی طور پر مربوط کمانڈ، کنٹرول اور کمیونیکیشن نظام کے ذریعے پولیس کو حقیقی وقت کی معلومات، ہنگامی ردعمل اور الیکٹرانک شواہد کی سہولت فراہم کرنے کے لیے بنایا گیا ہے۔

تازہ رپورٹ کے مطابق پنجاب میں پہلے ہی 24 ہزار سے زائد ہائی ڈیفینیشن نگرانی کیمرے سڑکوں، بازاروں، شاہراہوں اور عوامی مقامات کی نگرانی کررہے ہیں جبکہ 43 سمارٹ سیف سٹی مراکز پولیس اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کو مسلسل نگرانی اور تکنیکی معاونت فراہم کررہے ہیں۔

مصنوعی ذہانت اور جدید ٹیکنالوجی کا استعمال

توسیع پانے والا سیف سٹی نظام صرف روایتی کیمروں تک محدود نہیں ہوگا۔ دستیاب معلومات کے مطابق موجودہ نظام میں متعدد ٹیکنالوجی پر مبنی تجزیاتی نظام استعمال کیے جارہے ہیں۔

ان میں خودکار نمبر پلیٹ شناخت، چہرے کی شناخت، سمارٹ وژن، جرائم کے تجزیے اور ذہین ٹریفک مینجمنٹ جیسے نظام شامل ہیں۔ ان ٹیکنالوجیز کا مقصد کیمروں سے حاصل ہونے والی معلومات کا تجزیہ کرکے پولیس کو مشتبہ سرگرمیوں، گاڑیوں اور جرائم کے ممکنہ نمونوں کی نشاندہی میں مدد دینا ہے۔

جرائم کی روک تھام اور پولیس رسپانس

پنجاب سیف سٹیز اتھارٹی کے نظام کو جرائم کی روک تھام، شواہد کے حصول اور پولیس کے بروقت ردعمل کے لیے استعمال کیا جارہا ہے۔ سیف سٹی مراکز سے حاصل ہونے والی ویڈیو معلومات اور دیگر ڈیجیٹل شواہد قانون نافذ کرنے والے اداروں کو مختلف واقعات کی تحقیقات میں معاونت فراہم کرسکتے ہیں۔

پنجاب پولیس کے مطابق سیف سٹی پروگرام کا مقصد جدید انفراسٹرکچر کے ذریعے حقیقی وقت کی معلومات، بہتر ہنگامی ردعمل، ٹریفک مینجمنٹ، قانون و امن کی نگرانی اور الیکٹرانک شواہد کے حصول کو بہتر بنانا ہے۔

سنگین جرائم میں کمی کا دعویٰ

حکام کی جانب سے یہ بھی بتایا گیا ہے کہ موجودہ سیف سٹی نیٹ ورک کے نتائج کے بعد اس کے دائرہ کار میں مزید توسیع کا فیصلہ کیا گیا۔ ایک سرکاری اہلکار کے حوالے سے رپورٹ کیا گیا کہ صوبے میں سنگین جرائم میں تقریباً 70 فیصد کمی دیکھی گئی ہے۔

یہ اعداد و شمار حکام کے حوالے سے رپورٹ ہوئے ہیں، اس لیے انہیں سرکاری دعوے کے طور پر دیکھا جانا چاہیے۔ اس دعوے کی آزادانہ طور پر تصدیق شدہ مکمل تفصیلات رپورٹ میں فراہم نہیں کی گئیں۔

سیف سٹی منصوبہ پہلے بھی مرحلہ وار پھیلایا گیا

پنجاب میں سیف سٹی منصوبے کی توسیع پہلے بھی مرحلہ وار جاری رہی ہے۔ دسمبر 2025 میں پنجاب سیف سٹیز اتھارٹی اور نیشنل ریڈیو اینڈ ٹیلی کمیونیکیشن کارپوریشن کے درمیان 98 تحصیلوں میں سمارٹ سیف سٹیز کے قیام کے لیے معاہدے کی اطلاع دی گئی تھی، جس کے تحت منصوبہ 31 دسمبر 2026 تک مکمل کرنے کا ہدف بتایا گیا تھا۔

پنجاب پولیس کی سابقہ معلومات میں بھی سیف سٹی منصوبے کو تحصیل کی سطح تک وسعت دینے کا ذکر موجود ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ صوبے میں ٹیکنالوجی پر مبنی پولیسنگ کو مرحلہ وار وسیع کیا جارہا ہے۔

شہریوں کے لیے ممکنہ اثرات

98 تحصیلوں میں نئے کیمروں کی تنصیب سے شہری علاقوں میں نگرانی کا دائرہ وسیع ہوگا۔ اہم مقامات پر نصب کیمرے جرائم کی تحقیقات میں ویڈیو شواہد فراہم کرنے، مشتبہ گاڑیوں کی شناخت اور ٹریفک کی نگرانی میں مدد دے سکتے ہیں۔

دوسری جانب اتنے بڑے ڈیجیٹل نگرانی کے نظام کے ساتھ شہریوں کے ڈیٹا، ویڈیو ریکارڈنگ، رسائی کے اختیارات اور معلومات کے محفوظ استعمال سے متعلق انتظامی اور قانونی تقاضے بھی اہم رہیں گے۔ مؤثر نگرانی کے ساتھ شفاف طریقہ کار اور ڈیٹا سکیورٹی بھی ایسے منصوبوں کا اہم حصہ ہے۔

پنجاب میں ڈیجیٹل پولیسنگ کا بڑھتا ہوا دائرہ

سیف سٹی نیٹ ورک کی توسیع پنجاب میں پولیسنگ کے روایتی طریقہ کار کے ساتھ جدید ٹیکنالوجی کے استعمال میں اضافے کی نشاندہی کرتی ہے۔ کیمروں، ویڈیو اینالیٹکس، خودکار نمبر پلیٹ شناخت اور دیگر ڈیجیٹل نظام کے ذریعے پولیس کو زیادہ معلوماتی اور مربوط نگرانی کا نظام فراہم کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔

98 تحصیلوں میں مجوزہ توسیع مکمل ہونے کے بعد سیف سٹی کا نظام صرف بڑے شہری مراکز تک محدود نہیں رہے گا بلکہ صوبے کے مزید علاقوں میں پولیسنگ اور نگرانی کے عمل کا حصہ بن جائے گا۔

نتیجہ

پنجاب میں تقریباً 16 ارب روپے کی لاگت سے 98 تحصیلوں میں 10 ہزار نئے کیمرے نصب کرنے کا منصوبہ صوبے کے ڈیجیٹل نگرانی کے نظام میں ایک بڑی توسیع ہے۔ اس کے ساتھ 7 ہزار 602 یونین کونسلوں تک نگرانی کا دائرہ بڑھانے کا ہدف بھی سامنے آیا ہے۔

حکام کے مطابق جدید کیمروں اور مصنوعی ذہانت پر مبنی نظام سے جرائم کی نگرانی، ٹریفک مینجمنٹ، الیکٹرانک شواہد اور پولیس کے ہنگامی ردعمل کو بہتر بنانے میں مدد مل سکتی ہے۔ منصوبے کی عملی کامیابی کا انحصار اس کی بروقت تکمیل، مؤثر انتظام، ڈیٹا سکیورٹی اور قانون کے مطابق استعمال پر ہوگا۔

Ammar abbas

Ammar abbas

چیف ایگزیکٹو آفیسر – دی پاک گلوبل اردو نیٹ ورک

# Ammar Abbas — صحافت سے CEO تک کامیابی کا سفر **عمار عباس** ایک باصلاحیت، متحرک اور وژن رکھنے والے صحافی ہیں، جنہوں نے صحافت کے میدان سے اپنے پیشہ ورانہ سفر کا آغاز کیا اور اپنی محنت، صلاحیتوں اور...

💬 تبصرے (0)

اپنا تبصرہ لکھیں

ابھی تک کوئی تبصرہ نہیں۔ پہلے تبصرہ کرنے والے بنیں!