پاکستان کا بھارت کے ساتھ سندھ طاس معاہدے کا معاملہ عالمی سطح پر اٹھانے کا فیصلہ
اسلام آباد: پاکستان نے بھارت کے ساتھ سندھ طاس معاہدے سے متعلق جاری تنازع کو عالمی سطح پر مؤثر انداز میں اجاگر کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اسلام آباد کا مؤقف ہے کہ پانی سے متعلق 1960 کا معاہدہ دونوں ملکوں کے درمیان ایک اہم بین الاقوامی سمجھوتا ہے جسے کسی ایک فریق کی جانب سے یکطرفہ طور پر معطل، تبدیل یا نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔
حالیہ دنوں میں پاکستان نے مختلف عالمی اور سفارتی فورمز پر سندھ طاس معاہدے کے معاملے کو اجاگر کرنا شروع کیا ہے۔ پاکستانی حکام کا کہنا ہے کہ پانی کا مسئلہ صرف دو ملکوں کے درمیان ایک معمول کا تنازع نہیں بلکہ اس کے اثرات خطے کے امن، استحکام، زراعت، معیشت اور لاکھوں لوگوں کی زندگیوں تک پہنچ سکتے ہیں۔
پاکستان کا عالمی برادری سے مؤقف سننے کا مطالبہ
پاکستان نے عالمی برادری کی توجہ اس معاملے کی جانب مبذول کراتے ہوئے مؤقف اختیار کیا ہے کہ سندھ طاس معاہدے کو اس کی اصل روح اور طے شدہ قانونی طریقہ کار کے مطابق برقرار رہنا چاہیے۔
امریکا میں پاکستان کے سفیر رضوان سعید شیخ نے بھی حالیہ بیان میں بھارت پر زور دیا کہ وہ معاہدے کے تحت اپنی ذمہ داریاں پوری کرے اور یکطرفہ اقدامات واپس لے۔ ان کا کہنا تھا کہ کسی بین الاقوامی معاہدے سے متعلق ذمہ داریوں سے محض سیاسی یا سیکیورٹی نوعیت کے الزامات کی بنیاد پر یکطرفہ طور پر دستبردار نہیں ہوا جا سکتا۔
پاکستانی مؤقف کے مطابق سندھ طاس معاہدے میں دونوں ممالک کے درمیان پانی سے متعلق معاملات اور اختلافات کو حل کرنے کے لیے مخصوص ادارہ جاتی اور قانونی طریقہ کار موجود ہے، اس لیے کسی بھی تنازع کو طے شدہ نظام کے تحت حل کیا جانا چاہیے۔
سندھ طاس معاہدہ کیا ہے؟
سندھ طاس معاہدہ پاکستان اور بھارت کے درمیان پانی کی تقسیم سے متعلق ایک اہم معاہدہ ہے جو 19 ستمبر 1960 کو طے پایا تھا۔ اس معاہدے میں دریائے سندھ کے نظام سے وابستہ چھ بڑے دریاؤں کے پانی کے استعمال کے لیے دونوں ممالک کے حقوق اور ذمہ داریوں کا تعین کیا گیا۔
معاہدے کے تحت مغربی دریاؤں یعنی دریائے سندھ، جہلم اور چناب کے پانی پر پاکستان کو بنیادی استعمال کا حق حاصل ہے، جبکہ مشرقی دریاؤں یعنی راوی، بیاس اور ستلج کے پانی کے استعمال کا بنیادی حق بھارت کو دیا گیا۔
عالمی بینک نے اس معاہدے کے قیام میں سہولت کار کا کردار ادا کیا تھا۔ تقریباً چھ دہائیوں سے جاری اس معاہدے کو جنوبی ایشیا میں پانی کی تقسیم کے حوالے سے ایک اہم بین الاقوامی انتظام سمجھا جاتا رہا ہے۔
بھارت کی جانب سے معاہدہ معطل رکھنے کا معاملہ
سندھ طاس معاہدے پر موجودہ کشیدگی اس وقت مزید نمایاں ہوئی جب بھارت نے اپریل 2025 میں معاہدے کو "abeyance" یعنی التوا میں رکھنے کا اعلان کیا۔
بھارتی حکومت نے اپنے اس مؤقف کو سیکیورٹی صورتحال اور پاکستان کے ساتھ دیگر تنازعات سے جوڑا، جبکہ پاکستان نے اس اقدام کو یکطرفہ قرار دیتے ہوئے مسترد کیا۔
اسلام آباد کا کہنا ہے کہ بین الاقوامی معاہدے میں کسی فریق کو اپنی مرضی سے معاہدے کی ذمہ داریوں کو روکنے کا اختیار حاصل نہیں ہوتا۔ پاکستان اسی مؤقف کو اب عالمی سطح پر بھی پیش کر رہا ہے۔
پاکستان کا قانونی مؤقف
پاکستان نے سندھ طاس معاہدے کے معاملے میں پہلے ہی بین الاقوامی قانونی فورمز سے رجوع کر رکھا ہے۔ دی ہیگ میں قائم مستقل ثالثی عدالت کے سامنے پاکستان اور بھارت کے درمیان مغربی دریاؤں سے متعلق تنازعات پر کارروائی ہوئی ہے۔
2025 میں عدالت نے بھارت کی جانب سے معاہدے کو یکطرفہ طور پر التوا میں رکھنے کے اثرات سے متعلق اہم قانونی نکات پر فیصلہ دیا تھا۔ بعد ازاں مئی 2026 میں عدالت کی جانب سے جاری اضافی فیصلے میں بھی مغربی دریاؤں پر بھارت کے پن بجلی منصوبوں اور پانی ذخیرہ کرنے کی حدود سے متعلق معاملات پر تفصیلی غور کیا گیا۔
پاکستان ان قانونی پیش رفتوں کو اپنے مؤقف کی تائید کے طور پر پیش کرتا ہے، جبکہ بھارت نے ثالثی کے بعض اقدامات اور متعلقہ فورم کے دائرہ اختیار کو تسلیم نہ کرنے کا مؤقف اختیار کیا ہے۔
پاکستان کے لیے پانی کی اہمیت
پاکستان کی معیشت میں پانی کا کردار انتہائی اہم ہے۔ ملک کی بڑی زرعی سرگرمیاں دریائے سندھ کے نظام سے منسلک نہری نظام پر انحصار کرتی ہیں۔
زراعت کے علاوہ پینے کے پانی، پن بجلی، صنعت اور خوراک کی پیداوار کے لیے بھی دریائی پانی بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔ اسی وجہ سے پاکستان میں سندھ طاس معاہدے کو محض ایک سفارتی یا قانونی معاملہ نہیں سمجھا جاتا بلکہ اسے قومی آبی سلامتی سے براہ راست منسلک مسئلہ قرار دیا جاتا ہے۔
پاکستانی حکام کا کہنا ہے کہ پانی کے بہاؤ، اعداد و شمار کی فراہمی اور دریاؤں سے متعلق معلومات میں کسی بھی بڑی رکاوٹ کے اثرات پاکستان کے آبی انتظام پر پڑ سکتے ہیں۔
پانی کے اعداد و شمار کا مسئلہ بھی اہم
پاکستان اور بھارت کے درمیان سندھ طاس معاہدے کے تحت پانی سے متعلق معلومات اور اعداد و شمار کے تبادلے کا معاملہ بھی اہمیت رکھتا ہے۔
حالیہ سفارتی بحث میں پاکستان کی جانب سے اس بات پر تشویش کا اظہار کیا گیا ہے کہ پانی کے بہاؤ اور متعلقہ ڈیٹا کی بروقت فراہمی میں مشکلات پیدا ہونے سے پاکستان کے لیے آبی وسائل کی منصوبہ بندی متاثر ہو سکتی ہے۔
پاکستان کا کہنا ہے کہ دریاؤں کے بہاؤ سے متعلق بروقت معلومات سیلاب، آبپاشی اور پانی کے انتظام کے لیے ضروری ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اسلام آباد عالمی برادری کی توجہ اس پہلو کی جانب بھی مبذول کرا رہا ہے۔
پاکستانی سفیر کا بھارتی مؤقف پر ردعمل
امریکا میں پاکستانی سفیر رضوان سعید شیخ نے حالیہ سفارتی سرگرمیوں کے دوران بھارت کے اس مؤقف کو مسترد کیا کہ سیکیورٹی یا دہشت گردی سے متعلق معاملات کی بنیاد پر سندھ طاس معاہدے کی ذمہ داریوں کو یکطرفہ طور پر روکا جا سکتا ہے۔
پاکستانی سفیر کے مطابق دونوں ممالک کے درمیان دیگر تنازعات اپنی جگہ موجود ہیں، لیکن ان کی بنیاد پر پانی کے معاہدے کو یکطرفہ طور پر معطل کرنا قابل قبول نہیں ہونا چاہیے۔
انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ دونوں ممالک کو معاہدے کے تحت موجود ادارہ جاتی نظام اور تنازعات کے حل کے طریقہ کار کو استعمال کرنا چاہیے۔
بھارت کا مؤقف بھی مختلف ہے
دوسری جانب بھارت سندھ طاس معاہدے کے معاملے پر پاکستان کے مؤقف کو تسلیم نہیں کرتا۔ نئی دہلی کا کہنا ہے کہ معاہدے کو التوا میں رکھنے کا فیصلہ اس کی اپنی سیکیورٹی صورتحال اور پاکستان کے ساتھ پیدا ہونے والے تنازعات کے تناظر میں کیا گیا۔
بھارت نے عالمی ثالثی کے بعض فیصلوں اور کارروائیوں کو بھی تسلیم کرنے سے انکار کیا ہے اور متعلقہ فورم کے دائرہ اختیار پر سوال اٹھایا ہے۔ بھارتی حکام کا کہنا ہے کہ موجودہ صورتحال میں معاہدے سے متعلق پاکستان کی پیش رفت کو اس کے اپنے مؤقف کے مطابق دیکھا جانا چاہیے۔
معاملہ عالمی سطح پر کیوں اہم ہے؟
سندھ طاس معاہدے کا تنازع صرف پاکستان اور بھارت تک محدود نہیں رہتا۔ دونوں ممالک جوہری صلاحیت رکھنے والی ریاستیں ہیں اور ان کے درمیان پہلے ہی کشمیر، سیکیورٹی اور سرحدی معاملات پر کشیدگی موجود رہی ہے۔
ایسے ماحول میں پانی کا مسئلہ مزید حساس ہو جاتا ہے۔ عالمی سطح پر ماہرین بھی طویل عرصے سے جنوبی ایشیا میں سرحد پار دریاؤں کے انتظام اور پانی کی تقسیم کو علاقائی استحکام سے جوڑتے رہے ہیں۔
پاکستان کا مؤقف ہے کہ دریاؤں کو سیاسی دباؤ کے آلے کے طور پر استعمال کرنے کی کوشش خطے میں مزید بے اعتمادی پیدا کر سکتی ہے۔ پاکستانی سفیر نے بھی خبردار کیا کہ سرحد پار دریاؤں کو سیاسی دباؤ کے لیے استعمال کرنا جنوبی ایشیا کے امن اور استحکام کے لیے خطرہ بن سکتا ہے۔
عالمی فورمز پر پاکستان کی سفارتی حکمت عملی
پاکستان کی موجودہ حکمت عملی میں ایک اہم پہلو یہ دکھائی دیتا ہے کہ اسلام آباد اس معاملے کو صرف دوطرفہ مذاکرات تک محدود رکھنے کے بجائے عالمی برادری کے سامنے بھی پیش کرنا چاہتا ہے۔
پاکستانی حکام عالمی سطح پر یہ مؤقف پیش کر رہے ہیں کہ بین الاقوامی معاہدوں کی پاسداری خطے کے استحکام کے لیے ضروری ہے۔ اسلام آباد کا کہنا ہے کہ اگر کسی معاہدے کو ایک فریق اپنی مرضی سے معطل کر دے تو اس سے نہ صرف متعلقہ ملک بلکہ بین الاقوامی معاہدوں کے نظام پر بھی سوالات اٹھ سکتے ہیں۔
اسی تناظر میں پاکستان عالمی سطح پر سفارتی حمایت حاصل کرنے اور اپنے قانونی مؤقف کو اجاگر کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔
عالمی ثالثی عدالت کے فیصلوں کا حوالہ
پاکستان اپنے مؤقف کے حق میں دی ہیگ میں ہونے والی ثالثی کارروائیوں کا حوالہ بھی دیتا ہے۔ مستقل ثالثی عدالت نے ماضی میں سندھ طاس معاہدے کے تحت پاکستان اور بھارت کے درمیان مغربی دریاؤں سے متعلق تنازعات پر کارروائی کی ہے۔
مئی 2026 میں جاری ہونے والے اضافی فیصلے میں مغربی دریاؤں پر بھارت کے پن بجلی منصوبوں اور پانی ذخیرہ کرنے کی صلاحیت سے متعلق معاہدے کی حدود پر بھی غور کیا گیا۔ پاکستان نے اس پیش رفت کو اپنے قانونی مؤقف کے لیے اہم قرار دیا۔
تاہم بھارت نے عدالت کی کارروائی اور اس کے دائرہ اختیار کے حوالے سے اختلافی مؤقف اختیار کیا ہے۔ یوں قانونی پیش رفت کے باوجود دونوں ممالک کے درمیان بنیادی سیاسی اختلاف برقرار ہے۔
پاکستان کے لیے ممکنہ چیلنجز
سندھ طاس معاہدے کے معاملے کو عالمی سطح پر اٹھانا پاکستان کے لیے سفارتی موقع بھی ہے اور چیلنج بھی۔
ایک طرف پاکستان بین الاقوامی قانون، معاہدوں کی پاسداری اور آبی حقوق کے اصول کو بنیاد بنا کر اپنا مؤقف مضبوط کرنے کی کوشش کر رہا ہے، جبکہ دوسری طرف بھارت اپنے سیکیورٹی مؤقف کو بنیاد بنا کر معاہدے کے بارے میں مختلف موقف رکھتا ہے۔
اس صورت حال میں پاکستان کے لیے ضروری ہوگا کہ وہ اپنے قانونی اور سفارتی مؤقف کو واضح شواہد، معاہدے کی متعلقہ شقوں اور عالمی قانون کے اصولوں کے ساتھ مسلسل پیش کرے۔
پانی کا مسئلہ مستقبل میں مزید اہم ہو سکتا ہے
ماہرین کے مطابق موسمیاتی تبدیلی، آبادی میں اضافہ، پانی کی بڑھتی ہوئی طلب اور زرعی ضروریات جنوبی ایشیا میں آبی مسائل کی اہمیت مزید بڑھا سکتی ہیں۔
پاکستان پہلے ہی پانی کی دستیابی، ذخائر اور زرعی ضروریات کے حوالے سے مختلف چیلنجز کا سامنا کر رہا ہے۔ ایسے میں دریائے سندھ کے نظام سے متعلق کسی بھی بڑی تبدیلی کے معاشی اور زرعی اثرات نمایاں ہو سکتے ہیں۔
اسی وجہ سے پاکستان سندھ طاس معاہدے کو ایک طویل المدتی آبی تحفظ کے معاملے کے طور پر دیکھتا ہے اور چاہتا ہے کہ اس تنازع کا حل بین الاقوامی اصولوں اور معاہدے میں موجود طریقہ کار کے مطابق تلاش کیا جائے۔
تنازع کا ممکنہ حل کیا ہو سکتا ہے؟
پاکستانی مؤقف کے مطابق اختلافات کا حل مذاکرات، معاہدے کے ادارہ جاتی نظام اور بین الاقوامی قانونی طریقہ کار کے ذریعے نکالا جا سکتا ہے۔
دونوں ممالک کے درمیان اعتماد کی بحالی اس معاملے میں بنیادی حیثیت رکھتی ہے۔ اگر پانی سے متعلق معلومات کا تبادلہ، تکنیکی مذاکرات اور معاہدے کے تحت موجود ادارہ جاتی رابطے بحال ہوتے ہیں تو کشیدگی کم کرنے کی گنجائش پیدا ہو سکتی ہے۔
تاہم موجودہ صورتحال میں دونوں ممالک کے مؤقف میں نمایاں فرق موجود ہے اور فوری پیش رفت کے امکانات کا انحصار وسیع تر پاک بھارت تعلقات پر بھی ہوگا۔
پاکستان کا مؤقف عالمی سطح پر اجاگر کرنے کا عزم
حالیہ سفارتی بیانات سے واضح ہوتا ہے کہ پاکستان سندھ طاس معاہدے کے معاملے کو عالمی سطح پر اجاگر کرنے کے لیے اپنی سفارتی کوششیں جاری رکھے گا۔
اسلام آباد کا بنیادی مؤقف یہ ہے کہ پانی کا معاملہ بین الاقوامی معاہدے سے جڑا ہوا ہے اور اسے یکطرفہ فیصلوں کے بجائے قانون اور طے شدہ طریقہ کار کے مطابق حل کیا جانا چاہیے۔
دوسری جانب بھارت اپنے مؤقف پر قائم ہے اور معاہدے کی موجودہ حیثیت کو پاکستان کے ساتھ سیکیورٹی تنازعات کے تناظر میں دیکھتا ہے۔
یوں سندھ طاس معاہدے کا معاملہ آنے والے دنوں میں بھی پاکستان اور بھارت کے درمیان سفارتی اور قانونی محاذ پر اہم موضوع رہنے کا امکان ہے۔ پاکستان کی جانب سے اسے عالمی سطح پر اٹھانے کی کوشش اس تنازع کو مزید بین الاقوامی توجہ دلا سکتی ہے۔
اہم وضاحت: سندھ طاس معاہدہ 1960 میں پاکستان اور بھارت کے درمیان طے پایا تھا اور عالمی بینک نے اس کے قیام میں سہولت کاری کی تھی۔ موجودہ تنازع میں پاکستان معاہدے کو بدستور قابلِ عمل قرار دیتا ہے، جبکہ بھارت نے اسے اپریل 2025 سے "abeyance" میں رکھنے کا مؤقف اختیار کر رکھا ہے۔ دونوں ممالک اس معاملے پر مختلف قانونی اور سیاسی مؤقف رکھتے ہیں۔
💬 تبصرے (0)
اپنا تبصرہ لکھیں
ابھی تک کوئی تبصرہ نہیں۔ پہلے تبصرہ کرنے والے بنیں!