Wednesday, October 28, 2026
FB
تازہ ترین

ایف بی آر نے پاکستان کوسٹ گارڈ کو کسٹمز کے بعض اختیارات دے دیے

ایف بی آر نے اسمگلنگ کی روک تھام کے لیے پاکستان کوسٹ گارڈ کو کسٹمز ایکٹ 1969 کے تحت بعض مخصوص اختیارات تفویض کر دیے۔ نئے نظام کے تحت ساحلی پٹی سے 50 کلومیٹر تک مقررہ علاقوں میں کسٹمز فرائض انجام دیے جا سکیں گے، جبکہ قانونی تجارت اور عام شہریوں کی آمدورفت میں رکاوٹ نہ ڈالنے کی ہدایت کی گئی ہے۔

ایف بی آر نے پاکستان کوسٹ گارڈ کو کسٹمز کے بعض اختیارات دے دیے

ایف بی آر نے پاکستان کوسٹ گارڈ کو کسٹمز کے بعض اختیارات دے دیے

اسلام آباد: وفاقی حکومت نے اسمگلنگ کی روک تھام کے لیے قانون نافذ کرنے والے اداروں کے کردار کو مزید مؤثر بنانے کی جانب اہم قدم اٹھایا ہے۔ فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے پاکستان کوسٹ گارڈ کو کسٹمز ایکٹ 1969 کے تحت بعض مخصوص اختیارات اور کسٹمز افسران کے متعین فرائض تفویض کر دیے ہیں۔

ایف بی آر کی جانب سے جاری کیے گئے نئے نوٹیفکیشن کے مطابق پاکستان کوسٹ گارڈ اپنے مقررہ دائرہ اختیار میں انسدادِ اسمگلنگ کی کارروائیوں میں کسٹمز حکام کی معاونت کرے گا۔ یہ اختیارات پاکستان کسٹمز کے اختیارات کا متبادل نہیں ہوں گے بلکہ اسمگلنگ کے خلاف کارروائیوں کو مزید مؤثر بنانے کے لیے معاون کردار کے طور پر استعمال کیے جائیں گے۔

ساحلی علاقے میں 50 کلومیٹر تک دائرہ اختیار

نئے انتظام کے تحت پاکستان کوسٹ گارڈ کے اہلکار اپنے متعلقہ علاقے میں ساحلی پٹی سے 50 کلومیٹر تک کے علاقے میں مقررہ کسٹمز فرائض انجام دے سکیں گے۔

تاہم ایف بی آر نے بعض اہم مقامات کو اس دائرہ اختیار سے مستثنیٰ رکھا ہے۔ ان میں شہروں کی میونسپل حدود، باقاعدہ کسٹمز ایریاز، کسٹمز اسٹیشنز، بندرگاہیں، بارڈر کسٹمز اسٹیشنز، بین الاقوامی ہوائی اڈے اور بانڈڈ گودام سمیت دیگر مخصوص مقامات شامل ہیں۔

اس اقدام کا بنیادی مقصد ساحلی علاقوں میں اسمگلنگ کی روک تھام اور غیر قانونی اشیا کی نقل و حرکت کی نگرانی کو بہتر بنانا ہے۔

جائز تجارت اور عام مسافروں کے لیے اہم وضاحت

ایف بی آر نے نوٹیفکیشن میں واضح کیا ہے کہ پاکستان کوسٹ گارڈ کو دیے گئے اختیارات کا مقصد جائز کاروباری سرگرمیوں یا عام شہریوں کے معمول کے سفر میں غیر ضروری رکاوٹ پیدا کرنا نہیں ہے۔

کوسٹ گارڈ اہلکاروں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ قانونی طور پر تجارت کی جانے والی اشیا، درآمدات و برآمدات اور عام شہریوں کی آمدورفت میں بلاوجہ خلل نہ ڈالیں۔

اسی طرح کسٹمز ایریا سے پہلے ہی کلیئر ہونے والی اشیا اور حقیقی مسافروں کے سامان کی معمول کی چیکنگ کو ان اختیارات کا مقصد قرار نہیں دیا گیا۔

کسٹمز حکام کے ساتھ تعاون کیا جائے گا

نئے نظام میں پاکستان کوسٹ گارڈ اور پاکستان کسٹمز کے درمیان رابطہ اور تعاون کو اہمیت دی گئی ہے۔

اگر کسی کارروائی کے دوران کسٹمز حکام کی معاونت درکار ہو تو کوسٹ گارڈ اہلکار متعلقہ کسٹمز افسران کی مدد کریں گے۔ اس طرح ساحلی علاقوں میں انسدادِ اسمگلنگ کی کارروائیوں کو زیادہ مربوط بنانے کی کوشش کی گئی ہے۔

ایف بی آر کے نوٹیفکیشن کے مطابق کوسٹ گارڈ کو دیے گئے اختیارات آزادانہ طور پر پاکستان کسٹمز کے بنیادی قانونی اختیار کی جگہ نہیں لیں گے بلکہ مخصوص حالات میں معاونت کے لیے استعمال ہوں گے۔

مشتبہ اسمگل شدہ سامان ضبط ہونے کی صورت میں کیا ہوگا؟

نئے طریقہ کار میں ضبط کیے جانے والے سامان کو رکھنے اور اس کی رپورٹنگ کے لیے بھی واضح نظام مقرر کیا گیا ہے۔

اگر پاکستان کوسٹ گارڈ کے اہلکاروں کو کسی سامان کے اسمگل شدہ ہونے یا اسمگلنگ کے لیے مختص کیے جانے کا شبہ ہو اور اسے قانون کے مطابق تحویل میں لیا جائے تو ایسا سامان قریبی کسٹمز اسٹیٹ ویئر ہاؤس یا متعلقہ کلکٹر کسٹمز کی جانب سے منظور شدہ اسٹیٹ ویئر ہاؤس میں جمع کرایا جائے گا۔

اس اقدام کا مقصد ضبط شدہ سامان کو ایک باقاعدہ قانونی نظام کے تحت محفوظ رکھنا اور اس کے بعد کی کارروائی کو کسٹمز قوانین کے مطابق آگے بڑھانا ہے۔

ضبط شدہ سامان کی ماہانہ رپورٹ لازمی

ایف بی آر نے ضبط شدہ اشیا کی رپورٹنگ کے لیے بھی ایک مخصوص طریقہ کار مقرر کیا ہے۔

پاکستان کوسٹ گارڈ کے ہر متعلقہ ونگ کا آفیسر کمانڈنگ ہر ماہ کی 5 تاریخ تک گزشتہ ماہ کے دوران تحویل میں لیے گئے یا ضبط کیے گئے سامان کی تفصیلات متعلقہ کلکٹر کسٹمز انفورسمنٹ کو فراہم کرے گا۔

رپورٹ میں ضبط یا تحویل میں لیے گئے سامان اور گاڑیوں کی تفصیل، کارروائی کی تاریخ اور اس اسٹیٹ ویئر ہاؤس کا نام اور مقام شامل ہوگا جہاں ضبط شدہ سامان رکھا گیا ہے۔

15 روز کے اندر متعلقہ ادارے کو رپورٹ

نوٹیفکیشن میں ضبط شدہ سامان کی قانونی کارروائی کے لیے ایک اور اہم مدت بھی مقرر کی گئی ہے۔

کوسٹ گارڈ کی جانب سے ضبط کیے گئے سامان کی رپورٹ متعلقہ ایڈجوڈیکیشن کلکٹریٹ کو سامان تحویل میں لیے جانے کے 15 روز کے اندر بھجوائی جائے گی۔

رپورٹ کی ایک نقل متعلقہ کلکٹر کسٹمز انفورسمنٹ کو بھی فراہم کی جائے گی، تاکہ ضبط شدہ سامان کے بارے میں قانونی کارروائی بروقت شروع کی جا سکے۔

ضبط شدہ سامان کی نیلامی یا تلفی کا اختیار کس کے پاس ہوگا؟

اگر کسی ضبط شدہ سامان یا گاڑی کو متعلقہ قانونی فورم کی جانب سے بحقِ سرکار قرار دے دیا جائے تو اس کے بعد اس کی نیلامی یا تلفی کا عمل متعلقہ کلکٹر کسٹمز انفورسمنٹ کے ذریعے مکمل کیا جائے گا۔

یہ کارروائی کسٹمز ایکٹ 1969، متعلقہ نیلامی قواعد اور نافذ العمل کسٹمز جنرل آرڈرز کے مطابق ہوگی۔

ایسی اشیا جو خراب ہونے والی ہوں یا جنہیں قانون کے تحت فوری طور پر نمٹانا ضروری ہو، ان کے لیے بھی متعلقہ کسٹمز حکام قانون کے مطابق کارروائی کریں گے۔

مختلف رینکس کے اہلکاروں کو مخصوص اختیارات

ایف بی آر کے نوٹیفکیشن میں پاکستان کوسٹ گارڈ کے مختلف رینکس کے افسران کے لیے بھی مخصوص ذمہ داریاں اور اختیارات بیان کیے گئے ہیں۔

نان کمیشنڈ افسران، جونیئر کمیشنڈ افسران، کمیشنڈ افسران اور کمانڈنٹ اپنے اپنے دائرہ اختیار میں نوٹیفکیشن کے تحت مقرر کردہ کسٹمز فرائض انجام دے سکیں گے۔

اس انتظام کا مقصد ساحلی علاقوں میں موجود نفری کو اسمگلنگ کے خلاف کارروائی کے لیے قانونی طور پر واضح دائرہ کار فراہم کرنا ہے۔

رابطہ کاری اجلاس بھی ہوں گے

ایف بی آر نے پاکستان کسٹمز اور پاکستان کوسٹ گارڈ کے درمیان رابطہ مضبوط بنانے کے لیے باقاعدہ اجلاسوں کا طریقہ بھی مقرر کیا ہے۔

نوٹیفکیشن کے مطابق چیف کلکٹر کسٹمز انفورسمنٹ اسلام آباد ہر ماہ پاکستان کوسٹ گارڈ کے متعلقہ ڈائریکٹر جنرل کے ساتھ رابطہ کاری اجلاس منعقد کریں گے۔

ان اجلاسوں میں انسدادِ اسمگلنگ کارروائیوں کی کارکردگی کا جائزہ لینے کے ساتھ ساتھ مختلف عملی معاملات پر باہمی مشاورت کی جائے گی۔

اختیارات 30 جون 2027 تک مؤثر رہیں گے

ایف بی آر کے مطابق پاکستان کوسٹ گارڈ کو تفویض کیے گئے یہ مخصوص اختیارات 30 جون 2027 تک نافذ العمل رہیں گے۔

اس مدت کے اختتام سے قبل چیف کلکٹر کسٹمز انفورسمنٹ پاکستان کوسٹ گارڈ کی کارکردگی کے بارے میں ایف بی آر کو رپورٹ پیش کریں گے۔

اگر کارکردگی تسلی بخش رہی اور نوٹیفکیشن میں مقرر کردہ شرائط پوری ہوئیں تو بورڈ مستقبل میں کوسٹ گارڈ کے آپریشنز کے دائرہ کار میں توسیع پر غور کر سکے گا۔

پاکستان میری ٹائم سکیورٹی ایجنسی کو بھی اختیارات

ایف بی آر کے نئے اقدامات صرف پاکستان کوسٹ گارڈ تک محدود نہیں ہیں۔ الگ نوٹیفکیشن کے ذریعے پاکستان میری ٹائم سکیورٹی ایجنسی کے افسران کو بھی کسٹمز ایکٹ 1969 کے تحت مخصوص اختیارات اور کسٹمز افسران کے بعض فرائض تفویض کیے گئے ہیں۔

پاکستان میری ٹائم سکیورٹی ایجنسی کے اہلکار بھی اپنے متعلقہ دائرہ اختیار میں انسدادِ اسمگلنگ کے لیے تفویض کردہ فرائض انجام دیں گے۔

انہیں بھی ہدایت کی گئی ہے کہ جائز تجارت، درآمدات و برآمدات اور عام شہریوں کی آمدورفت میں غیر ضروری رکاوٹ نہ ڈالی جائے۔

ایف سی بلوچستان کو بھی مخصوص اختیارات

ایف بی آر نے بلوچستان میں فرنٹیئر کور بلوچستان نارتھ اور ساؤتھ کے اہلکاروں کے لیے بھی کسٹمز ایکٹ کے تحت بعض اختیارات اور مخصوص فرائض مقرر کیے ہیں۔

نوٹیفکیشن کے مطابق ایف سی اہلکار اپنے متعلقہ دائرہ اختیار اور مقررہ علاقوں میں اسمگلنگ کی روک تھام کے لیے کارروائیوں میں حصہ لے سکیں گے۔

تاہم ان اختیارات کا مقصد بھی پاکستان کسٹمز کے فرائض کو ختم کرنا نہیں بلکہ متعلقہ کسٹمز حکام کی معاونت کرنا ہے۔

انسدادِ اسمگلنگ مہم کو مضبوط بنانے کی کوشش

پاکستان میں اسمگلنگ کی روک تھام ایک اہم مالی اور انتظامی مسئلہ ہے۔ غیر قانونی طور پر درآمد یا منتقل ہونے والی اشیا نہ صرف قانونی تجارت کو متاثر کرتی ہیں بلکہ قومی خزانے کو بھی محصولات کی مد میں نقصان پہنچا سکتی ہیں۔

پاکستان کوسٹ گارڈ کے اپنے سرکاری تعارف کے مطابق اس ادارے کی بنیادی ذمہ داریوں میں ساحلی علاقوں میں اسمگلنگ کی روک تھام بھی شامل ہے، جبکہ مختلف قوانین کے تحت اسے بعض قانونی اختیارات پہلے سے حاصل ہیں۔

ایف بی آر کے حالیہ اقدام سے ان ذمہ داریوں اور کسٹمز کے انسدادِ اسمگلنگ نظام کے درمیان رابطہ مزید واضح ہونے کی توقع ہے۔

حکومت کا مقصد کیا ہے؟

حالیہ فیصلے کا بنیادی مقصد ساحلی اور حساس علاقوں میں اسمگلنگ کے خلاف کارروائیوں کو زیادہ منظم اور مؤثر بنانا دکھائی دیتا ہے۔

کوسٹ گارڈ، میری ٹائم سکیورٹی ایجنسی، ایف سی اور پاکستان کسٹمز جیسے اداروں کے درمیان بہتر رابطہ ہونے سے مشتبہ غیر قانونی نقل و حرکت کی نشاندہی اور کارروائی کے امکانات بڑھ سکتے ہیں۔

تاہم ایف بی آر کے نوٹیفکیشن میں اس بات کو واضح رکھا گیا ہے کہ قانونی تجارت اور عام شہریوں کی آمدورفت متاثر نہیں ہونی چاہیے۔

قانونی طریقہ کار کی پابندی ضروری

نئے اختیارات کے ساتھ ضبط شدہ سامان کی رپورٹنگ، تحویل، قانونی کارروائی اور نیلامی یا تلفی کے لیے بھی باقاعدہ طریقہ کار وضع کیا گیا ہے۔

اس کا مقصد یہ ہے کہ انسدادِ اسمگلنگ کارروائی کے دوران تحویل میں لیے گئے سامان کے بارے میں ریکارڈ برقرار رہے اور ہر مرحلہ متعلقہ کسٹمز قوانین کے مطابق مکمل کیا جائے۔

اس طرح ایک طرف اسمگلنگ کے خلاف کارروائی کو مضبوط بنانے کی کوشش کی گئی ہے تو دوسری جانب قانونی تجارت اور شہریوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے حدود بھی مقرر کی گئی ہیں۔

آئندہ کارروائیوں پر نظر

ایف بی آر کے نئے نوٹیفکیشنز اب عملی طور پر انسدادِ اسمگلنگ کارروائیوں میں متعلقہ اداروں کے کردار کو مزید واضح کریں گے۔

پاکستان کوسٹ گارڈ کے لیے ساحلی علاقے میں مقررہ دائرہ اختیار، ضبط شدہ سامان کی رپورٹنگ، کسٹمز حکام کے ساتھ رابطہ اور کارکردگی کی نگرانی کا نظام وضع کیا گیا ہے۔

یہ انتظام جون 2027 تک جاری رہے گا اور اس کے بعد کارکردگی کی بنیاد پر مستقبل کے لائحہ عمل کا فیصلہ کیا جا سکے گا۔

مجموعی طور پر ایف بی آر کا یہ اقدام ملک میں اسمگلنگ کے خلاف مختلف قانون نافذ کرنے والے اداروں کی مشترکہ کوششوں کو مزید منظم کرنے کی طرف ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا سکتا ہے۔ تاہم اس کے عملی نتائج کا انحصار اداروں کے درمیان مؤثر رابطے، قانونی طریقہ کار پر عملدرآمد اور جائز تجارت و شہریوں کے حقوق کے تحفظ پر ہوگا۔

Ammar abbas

Ammar abbas

چیف ایگزیکٹو آفیسر – دی پاک گلوبل اردو نیٹ ورک

# Ammar Abbas — صحافت سے CEO تک کامیابی کا سفر **عمار عباس** ایک باصلاحیت، متحرک اور وژن رکھنے والے صحافی ہیں، جنہوں نے صحافت کے میدان سے اپنے پیشہ ورانہ سفر کا آغاز کیا اور اپنی محنت، صلاحیتوں اور...

💬 تبصرے (0)

اپنا تبصرہ لکھیں

ابھی تک کوئی تبصرہ نہیں۔ پہلے تبصرہ کرنے والے بنیں!