Wednesday, October 28, 2026
FB
تازہ ترین

خیبر پختونخوا میں دہشت گردی کے خلاف ڈرون ٹیکنالوجی: کارروائیاں تیز، شہری تحفظات بھی زیر غور

<p>پشاور: خیبر پختونخوا کے قبائلی اور پہاڑی علاقوں میں جاری انسداد دہشت گردی آپریشنز میں ڈرون ٹیکنالوجی کو کلیدی حیثیت حاصل ہو گئی ہے۔ جدید جاسوسی ڈرونز دہشت گردوں کے ٹھکانوں کی نشاندہی، فضائی نگرانی اور ہدف کے تعین میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔ سیکیورٹی حکام کے مطابق، گذشتہ چند ہفتوں میں متعدد اعلیٰ سطح کے دہشت گرد ہلاک یا گرفتار کیے گئے، جس سے عسکریت پسندوں کی صلاحیت میں کمی آئی ہے۔ تاہم، مقامی آبادی میں شہری ہلاکتوں کے خدشات موجود ہیں، جس پر حکام کا کہنا ہے کہ ہدف کی نشاندہی کے لیے انتہائی شفاف اور جدید طریقہ کار اپنایا جاتا ہے۔ ماہرین اس ٹیکنالوجی کو "گیم چینجر" قرار دیتے ہیں مگر قانونی اور اخلاقی پہلوؤں پر نظر رکھنے پر زور دیتے ہیں۔</p>

خیبر پختونخوا میں دہشت گردی کے خلاف ڈرون ٹیکنالوجی: کارروائیاں تیز، شہری تحفظات بھی زیر غور

خیبر پختونخوا میں دہشت گردی کے خلاف ڈرون ٹیکنالوجی: کارروائیاں تیز، شہری تحفظات بھی زیر غور

پشاور (رپورٹ: نامہ نگار خصوصی) – خیبر پختونخوا کے قبائلی اضلاع اور پہاڑی سلسلوں میں جاری انسداد دہشت گردی آپریشنز میں ڈرون ٹیکنالوجی نے ایک نیا باب رقم کر دیا ہے۔ سیکیورٹی ذرائع کے مطابق، جدید ترین جاسوسی ڈرونز نہ صرف دہشت گردوں کی نقل و حرکت اور خفیہ ٹھکانوں کی بروقت نشاندہی کر رہے ہیں، بلکہ فضائی نگرانی اور ہدف کے تعین میں بھی اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔

حکام کا کہنا ہے کہ گذشتہ چند ہفتوں کے دوران ان ڈرونز کی مدد سے متعدد اعلیٰ سطح کے دہشت گرد ہلاک یا گرفتار کیے گئے ہیں، جن میں بعض کا تعلق ممنوعہ تنظیموں کے اہم ونگز سے تھا۔ اس پیش رفت نے علاقے میں عسکریت پسندوں کی کارروائیوں کی صلاحیت اور رسائی میں نمایاں کمی کی ہے۔ سیکیورٹی حکام کے مطابق، ڈرون ٹیکنالوجی کے استعمال سے زمینی فوج کو ہونے والے جانی نقصان میں بھی خاطر خواہ کمی آئی ہے اور آپریشنز زیادہ موثر اور شفاف ہوئے ہیں۔

شہریوں کے تحفظ کا چیلنج

اگرچہ ڈرون ٹیکنالوجی کو کامیاب قرار دیا جا رہا ہے، لیکن مقامی آبادی میں اس کے استعمال کو لے کر خدشات بھی پائے جاتے ہیں۔ سابقہ واقعات میں شہری ہلاکتوں کی اطلاعات کے باعث عوام میں ڈرون حملوں کے حوالے سے تحفظات موجود ہیں۔ مقامی باشندوں کا کہنا ہے کہ بعض اوقات غلط ہدف بندی کے باعث معصوم شہری اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں۔

اس حوالے سے سیکیورٹی حکام نے عوام کو یقین دلایا ہے کہ ہدف کی نشاندہی کے لیے انتہائی جدید اور دوہری تصدیق پر مبنی نظام عمل میں لایا گیا ہے۔ حکام کے مطابق، ڈرون حملوں سے پہلے انٹیلی جنس رپورٹس کو متعدد سطحوں پر جانچا جاتا ہے تاکہ شہری جانوں کو کسی قسم کا نقصان نہ پہنچے۔

ماہرین کی رائے

دفاعی امور کے ماہرین کے مطابق، ڈرون ٹیکنالوجی خیبر پختونخوا میں دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ایک "گیم چینجر" ثابت ہو سکتی ہے۔ تاہم، وہ اس کے قانونی اور اخلاقی پہلوؤں پر بھی نظر رکھنے پر زور دیتے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ڈرونز کے استعمال کو بین الاقوامی قوانین اور انسانی حقوق کے اصولوں کے تحت منظم کیا جانا چاہیے تاکہ کوئی بھی کارروائی غیر متناسب یا غیر قانونی قرار نہ پائے۔

ماہرین نے یہ بھی مشورہ دیا کہ ڈرون ٹیکنالوجی کو محض فوجی کارروائیوں تک محدود نہ رکھا جائے بلکہ اسے ہنگامی حالات، قدرتی آفات اور ریسکیو آپریشنز کے لیے بھی استعمال کیا جا سکتا ہے۔

حکومتی موقف اور مستقبل کی حکمت عملی

صوبائی حکومت کے ترجمان کا کہنا ہے کہ ڈرون ٹیکنالوجی کو مزید بہتر بنانے کے لیے جدید سافٹ ویئر اور مصنوعی ذہانت پر مبنی نظام متعارف کرایا جا رہا ہے۔ اس کے علاوہ، سول ایوی ایشن، انٹیلیجنس بیورو اور دیگر متعلقہ اداروں کے ساتھ مربوط طریقہ کار اپنایا جا رہا ہے تاکہ ہر کارروائی کو قانونی اور آپریشنل طور پر مکمل شفافیت حاصل ہو۔

ذرائع کے مطابق، آنے والے مہینوں میں مزید جدید ڈرونز صوبے میں تعینات کیے جائیں گے جن میں خودکار شناخت اور ٹریکنگ کی صلاحیت ہوگی۔ اس سے نہ صرف دہشت گردوں کے خلاف کارروائیاں تیز ہوں گی بلکہ شہریوں کی جان و مال کے تحفظ کو بھی مزید یقینی بنایا جا سکے گا۔

خلاصہ

خیبر پختونخوا میں ڈرون ٹیکنالوجی کا استعمال ایک دو دھاری تلوار ہے۔ ایک طرف یہ دہشت گردوں کے خلاف موثر ثابت ہو رہی ہے تو دوسری طرف اس کے استعمال میں احتیاط اور شفافیت کی اشد ضرورت ہے۔ حکام اور ماہرین دونوں اس بات پر متفق ہیں کہ اگر اس ٹیکنالوجی کو قواعد، ضوابط اور انسانی حقوق کی پاسداری کے ساتھ استعمال کیا جائے تو یہ صوبے میں امن و امان کی بحالی کے لیے ایک انقلابی قدم ثابت ہو سکتی ہے۔

(نامہ نگار کی رپورٹ، پیرس، پشاور)

Ammar abbas

Ammar abbas

چیف ایگزیکٹو آفیسر – دی پاک گلوبل اردو نیٹ ورک

# Ammar Abbas — صحافت سے CEO تک کامیابی کا سفر **عمار عباس** ایک باصلاحیت، متحرک اور وژن رکھنے والے صحافی ہیں، جنہوں نے صحافت کے میدان سے اپنے پیشہ ورانہ سفر کا آغاز کیا اور اپنی محنت، صلاحیتوں اور...

💬 تبصرے (0)

اپنا تبصرہ لکھیں

ابھی تک کوئی تبصرہ نہیں۔ پہلے تبصرہ کرنے والے بنیں!