Wednesday, October 28, 2026
FB
تازہ ترین

عالمی صورتحال کے پیشِ نظر پاکستان کی خارجہ پالیسی توجہ کا مرکز

<p>عالمی سطح پر امریکہ ایران تنازع، عظیم طاقتوں کی دوڑ اور مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث پاکستان کی خارجہ پالیسی ایک بار پھر توجہ کا مرکز بن گئی ہے۔ شنگھائی تعاون تنظیم (SCO) کی سربراہی، امریکہ ایران کے درمیان ثالثی، چین کے ساتھ گہرے تعلقات اور متوازن خارجہ پالیسی کے باعث پاکستان عالمی سطح پر ایک کلیدی حیثیت اختیار کر گیا ہے۔ تاہم، ماہرین کا کہنا ہے کہ معاشی استحکام اور دو طرفہ توازن اس پالیسی کی کامیابی کے لیے نہایت ضروری ہیں۔</p>

عالمی صورتحال کے پیشِ نظر پاکستان کی خارجہ پالیسی توجہ کا مرکز

عالمی صورتحال کے پیشِ نظر پاکستان کی خارجہ پالیسی توجہ کا مرکز

اسلام آباد (رپورٹ: نامہ نگار خصوصی) – عالمی سطح پر جاری جغرافیائی سیاسی تبدیلیوں، امریکہ ایران تنازع اور عظیم طاقتوں کے درمیان بڑھتی ہوئی دوڑ کے باعث پاکستان کی خارجہ پالیسی ایک بار پھر توجہ کا مرکز بن گئی ہے۔ ماہرین کے مطابق، پاکستان اس وقت ایک ایسے دور سے گزر رہا ہے جہاں اسے متوازن خارجہ پالیسی اپنا کر اپنے قومی مفادات کے تحفظ کے ساتھ ساتھ عالمی سطح پر ایک کلیدی کردار ادا کرنا ہے۔

شنگھائی تعاون تنظیم کی سربراہی

پاکستان نے حال ہی میں شنگھائی تعاون تنظیم کی سربراہی سنبھالی ہے، جو آئندہ سال کے لیے ایک اہم سفارتی موقع فراہم کرتی ہے۔ اس دوران پاکستان سربراہان ممالک کے اجلاس کی میزبانی کرے گا۔ ماہرین کے مطابق، یہ موقع پاکستان کو اپنے سفارتی، سیاسی اور معاشی تعلقات کو مضبوط کرنے کا بہترین موقع فراہم کرتا ہے۔

بشکیک اجلاس میں منظور کردہ اعلامیے میں تنظیم کے سیاسی اور معاشی ترجیحات کا تعین کیا گیا ہے، جس میں کھلے پن، عدم مداخلت، مساوات اور باہمی احترام کے اصولوں کو دہرایا گیا ہے۔ اعلامیے میں امریکہ اور اسرائیل کی ایران پر فوجی کارروائیوں کی مذمت کی گئی اور کہا گیا کہ تنازعات کو سیاسی اور سفارتی ذرائع سے حل کیا جانا چاہیے۔

امریکہ ایران تنازع اور پاکستان کا کردار

امریکہ اور ایران کے درمیان جاری تنازع میں پاکستان ایک کلیدی ثالث کے طور پر ابھرا ہے۔ واشنگٹن میں پاکستانی سفارت خانے میں منعقدہ یوم دفاع کی تقریب میں سفارت کاروں اور عسکری حکام کے درمیان گفتگو کا محور یہی سوال تھا کہ یہ جنگ کب ختم ہوگی۔ پاکستان نے قطر اور دیگر علاقائی ممالک کے ساتھ مل کر اس تنازع کو کم کرنے کے لیے ثالثی کی کوششیں کیں اور جون دو ہزار چھبیس میں اسلام آباد مفاہمت کی یادداشت کی سہولت فراہم کی، تاہم یہ معاہدہ شدید دباؤ میں آگیا اور تنازع پھر سے بڑھ گیا۔

امریکی سفارت کاروں کا خیال ہے کہ نومبر کے وسط مدتی انتخابات تک جنگ کے بڑھنے کا امکان کم ہے، تاہم پاکستان کا سفارتی کردار ختم نہیں ہوا اور مذاکراتی عمل کو دوبارہ زندہ کیا جا سکتا ہے۔

چین کے ساتھ غیر متزلزل تعلقات

وزیراعظم شہباز شریف نے چین کو پاکستان کا سب سے مخلص دوست قرار دیتے ہوئے کہا کہ بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کا حالیہ پروگرام چین کی حمایت کے بغیر ممکن نہیں تھا۔ چین نے پاکستان کو دو ارب ڈالر کا قرض ایک سال کے لیے مزید بڑھا دیا، جس سے ملک کو مالی ریلیف ملا۔

چین پاکستان اقتصادی راہداری کے دوسرے مرحلے پر بھی کام تیز کر دیا گیا ہے جس کا مرکزی توجہ ٹیکنالوجی اور زراعت پر ہے۔ چینی سفیر جیانگ زیدونگ نے کہا کہ اس راہداری کے تحت چین نے تقریباً ساڑھے پینتیس ارب ڈالر کی براہ راست سرمایہ کاری کی ہے۔

متوازن خارجہ پالیسی اور غیر وابستگی

ماہرین کے مطابق، پاکستان دوہری چیلنج کا سامنا کر رہا ہے: ایک طرف امریکہ کے ساتھ تعلقات کو برقرار رکھنا اور دوسری طرف چین کے ساتھ گہرے تعلقات کو جاری رکھنا۔ بین الاقوامی تعلقات کے ماہرین کا کہنا ہے کہ کثیر قطبی دنیا میں پاکستان کی بقا کا انحصار جانب داری پر نہیں بلکہ انتخاب کرنے کی صلاحیت کو برقرار رکھنے پر ہے۔

پاکستان کی خارجہ پالیسی کا ایک اہم پہلو اس کا غیر وابستہ موقف ہے۔ گزشتہ برسوں میں جب مغربی ممالک نے روس کے خلاف قراردادوں کی حمایت کے لیے دباؤ ڈالا تو پاکستان نے غیر جانبدارانہ موقف اختیار کیا اور اپنی خودمختاری کو برقرار رکھا۔

مشرق وسطیٰ میں بڑھتا ہوا کردار

پاکستان اپنے دفاعی اور اسٹریٹجک وزن کو بڑھانے کے لیے مغربی ایشیا میں اپنی مصروفیت کو گہرا کر رہا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ دفاعی تعاون، ترکی کے ساتھ عسکری تعلقات اور ایران کے ساتھ ثالثی کے کردار نے پاکستان کو علاقائی طور پر ایک اہم حیثیت بخشی ہے۔

سعودی عرب کے ولی عہد محمد بن سلمان کی قیادت میں قائم کردہ اسلامی فوجی اتحاد اور مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے میں بھی پاکستان کا کلیدی کردار رہا ہے۔

معاشی چیلنجز اور خارجہ پالیسی

ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان کی خارجہ پالیسی کی کامیابی کا انحصار اس کی معاشی مضبوطی پر ہے۔ ملک کو ساختی اصلاحات، ٹیکنالوجی پر مبنی ترقی اور برآمدات بڑھانے کی ضرورت ہے تاکہ وہ ایک مضبوط اور خودمختار خارجہ پالیسی اپنا سکے۔

وزیراعظم کے مطابق، زراعت کو جدید بنانے، ڈیجیٹلائزڈ فصلوں کی مدیریت اور موسمی تبدیلیوں کے خلاف مزاحم بیجوں کی ترقی پر توجہ دی جا رہی ہے۔

خلاصہ

عالمی صورتحال کے پیشِ نظر پاکستان کی خارجہ پالیسی ایک اہم موڑ پر ہے۔ ایک طرف اسے شنگھائی تعاون تنظیم کی سربراہی، امریکہ ایران ثالثی اور چین کے ساتھ گہرے تعلقات کو برقرار رکھنا ہے تو دوسری طرف اسے معاشی چیلنجز، داخلی استحکام اور متوازن خارجہ پالیسی کے درمیان توازن قائم کرنا ہے۔ ماہرین کے مطابق، پاکستان کی کامیابی کا انحصار اس کی معاشی مضبوطی، سفارتی حکمت عملی اور غیر جانبدارانہ موقف کو برقرار رکھنے پر ہے۔

(نامہ نگار کی رپورٹ، اسلام آباد)

Ammar abbas

Ammar abbas

چیف ایگزیکٹو آفیسر – دی پاک گلوبل اردو نیٹ ورک

# Ammar Abbas — صحافت سے CEO تک کامیابی کا سفر **عمار عباس** ایک باصلاحیت، متحرک اور وژن رکھنے والے صحافی ہیں، جنہوں نے صحافت کے میدان سے اپنے پیشہ ورانہ سفر کا آغاز کیا اور اپنی محنت، صلاحیتوں اور...

💬 تبصرے (0)

اپنا تبصرہ لکھیں

ابھی تک کوئی تبصرہ نہیں۔ پہلے تبصرہ کرنے والے بنیں!