جماعت اسلامی نے کراچی میں گورنر ہاؤس کے باہر جاری دھرنا ختم کردیا ہے اور احتجاجی تحریک کے اگلے مرحلے کے طور پر اسلام آباد کی جانب مارچ کا اعلان برقرار رکھا ہے۔ جماعت اسلامی کے مطابق کارکنان آج 20 ستمبر کو کراچی کینٹ اسٹیشن سے ٹرین کے ذریعے اسلام آباد کے لیے روانہ ہوں گے، جبکہ دیگر صوبوں سے بھی قافلوں کی شمولیت متوقع ہے۔
کراچی دھرنے کا اختتام
جماعت اسلامی کا کراچی میں دھرنا پٹرولیم لیوی اور دیگر عوامی معاشی مطالبات کے حوالے سے جاری احتجاجی سلسلے کا حصہ تھا۔ دھرنا ختم ہونے کے بعد احتجاج کو اسلام آباد منتقل کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
رپورٹس کے مطابق دھرنے کے مقام سے اسٹیج، کرسیاں اور ساونڈ سسٹم ہٹا دیا گیا، جبکہ انتظامیہ نے اطراف کی سڑکوں پر ٹریفک کی روانی بحال کرنے کے اقدامات بھی شروع کیے۔
جماعت اسلامی کی جانب سے کراچی دھرنے کے خاتمے کے ساتھ ہی کارکنان کو اسلام آباد مارچ کے لیے تیار رہنے کی ہدایت کی گئی۔
آج کراچی سے ٹرین مارچ روانہ ہوگا
جماعت اسلامی کے مطابق اسلام آباد مارچ کا آغاز آج کراچی سے ٹرین کے ذریعے ہوگا۔ امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمن کارکنان کے ساتھ کراچی کینٹ اسٹیشن سے مارچ کا حصہ بنیں گے۔
جماعت اسلامی کے رہنماؤں کے مطابق سندھ کے علاوہ خیبرپختونخوا اور بلوچستان سے بھی قافلے اسلام آباد کی جانب روانہ ہوں گے۔
رپورٹس کے مطابق مارچ کے شیڈول میں کراچی سے روانگی کے بعد مختلف شہروں میں کارکنان کے شامل ہونے کا منصوبہ بھی شامل ہے۔ جماعت اسلامی کے ایک اعلامیے کے مطابق کراچی سے روانہ ہونے والا قافلہ اگلے مرحلے میں سکھر اور پھر ملتان کی جانب جائے گا، جبکہ لاہور سے پنجاب کے دیگر علاقوں کے کارکنان کو شامل کرنے کا پروگرام ہے۔
حکومت اور جماعت اسلامی کے مذاکرات بے نتیجہ
اسلام آباد مارچ سے قبل حکومت اور جماعت اسلامی کے درمیان مذاکرات کے متعدد ادوار ہوئے۔ ہفتے کو مذاکرات کا پانچواں دور بھی کسی حتمی معاہدے کے بغیر ختم ہوگیا۔
حکومتی وفد نے سکیورٹی خدشات کے پیش نظر جماعت اسلامی سے اسلام آباد مارچ مؤخر کرنے کی درخواست کی، تاہم جماعت اسلامی نے اپنا احتجاج جاری رکھنے کا مؤقف برقرار رکھا۔
حکومتی وفد میں وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال، رانا ثنا اللہ اور پنجاب کے صوبائی وزیر خواجہ سلمان رفیق شامل تھے، جبکہ جماعت اسلامی کی مذاکراتی ٹیم کی قیادت نائب امیر لیاقت بلوچ سمیت دیگر رہنماؤں نے کی۔
پٹرولیم لیوی جماعت اسلامی کے مطالبات میں مرکزی نکتہ
جماعت اسلامی کی موجودہ احتجاجی مہم میں پٹرولیم لیوی کا خاتمہ مرکزی مطالبہ ہے۔ جماعت اسلامی کا مؤقف ہے کہ پٹرولیم مصنوعات پر اضافی بوجھ عوام کے لیے مشکلات میں اضافہ کر رہا ہے۔
حکومت کی جانب سے مذاکرات کے دوران معاشی صورتحال اور بین الاقوامی مالیاتی اداروں سے متعلق امور بھی زیر بحث لائے گئے۔ حکومتی نمائندوں نے سکیورٹی صورتحال کا حوالہ دیتے ہوئے مارچ مؤخر کرنے کی درخواست بھی کی۔
تاہم مذاکرات میں جماعت اسلامی کے مطالبات اور اسلام آباد مارچ کے معاملے پر کوئی حتمی اتفاق رائے سامنے نہیں آیا۔
اسلام آباد مارچ کا اگلا مرحلہ
جماعت اسلامی نے واضح کیا ہے کہ کراچی کا دھرنا ختم ہونے کے باوجود احتجاجی سرگرمیاں ختم نہیں ہوئیں بلکہ انہیں اسلام آباد منتقل کیا جا رہا ہے۔
جماعت اسلامی کے مطابق آج کراچی سے ٹرین مارچ شروع ہوگا جبکہ ملک کے مختلف علاقوں سے کارکنان بھی اسلام آباد کی جانب روانہ ہوں گے۔ جماعت اسلامی کے رہنماؤں نے پہلے ہی 20 ستمبر کو اسلام آباد مارچ شروع کرنے کا اعلان کیا تھا۔
اس حوالے سے اسلام آباد اور راولپنڈی میں انتظامی اور سکیورٹی انتظامات بھی اہمیت اختیار کرگئے ہیں، خصوصاً اس پس منظر میں کہ حکومت نے مارچ کے دوران سکیورٹی خدشات کا حوالہ دیا ہے۔
جماعت اسلامی کا آئندہ لائحہ عمل
جماعت اسلامی کے مطابق اسلام آباد مارچ کے ذریعے پٹرولیم لیوی سمیت اپنے دیگر مطالبات حکومت کے سامنے پیش کیے جائیں گے۔
امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمن نے کراچی میں دھرنے کے اختتام کے موقع پر احتجاج کے اگلے مرحلے کا اعلان کیا۔ ان کے مطابق تحریک اب اسلام آباد کی جانب بڑھے گی۔
جماعت اسلامی نے یہ بھی کہا ہے کہ مطالبات پر پیش رفت نہ ہونے کی صورت میں احتجاجی سرگرمیوں کو مزید وسعت دی جاسکتی ہے۔ اس حوالے سے جماعت اسلامی کے رہنماؤں کے مختلف بیانات سامنے آئے ہیں، تاہم آئندہ اقدامات کی حتمی نوعیت مارچ کے دوران اور حکومت کے ساتھ رابطوں کے نتیجے میں واضح ہوگی۔
کراچی میں دھرنا ختم ہونے کے بعد صورتحال
دھرنا ختم ہونے کے بعد کراچی میں احتجاجی مقام پر معمول کی سرگرمیوں کی بحالی شروع ہوگئی ہے۔ ٹریفک پولیس کے مطابق دھرنے کے خاتمے کے بعد صدر اور اطراف کی سڑکوں پر ٹریفک بحال کرنے کے اقدامات کیے گئے جبکہ ایوان صدر روڈ کو بھی ٹریفک کے لیے کھولنے کا عمل شروع کیا گیا۔
یوں کراچی میں کئی ہفتوں سے جاری دھرنے کا مرحلہ ختم ہوگیا، تاہم جماعت اسلامی کی احتجاجی مہم برقرار ہے اور اس کا مرکز اب اسلام آباد ہوگا۔
اسلام آباد مارچ کے دوران اہم معاملات
اسلام آباد مارچ کے دوران جماعت اسلامی اور حکومت کے درمیان دوبارہ رابطوں کا امکان بھی موجود ہے۔ مذاکرات کا پانچواں دور حتمی نتیجے کے بغیر ختم ہونے کے بعد دونوں جانب سے اپنے اپنے مؤقف برقرار رکھنے کی اطلاعات ہیں۔
حکومت کی جانب سے سکیورٹی خدشات کا معاملہ اٹھایا گیا ہے، جبکہ جماعت اسلامی نے مارچ جاری رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس صورتحال میں مارچ کے راستے، شرکا کی تعداد، سکیورٹی انتظامات اور حکومت کے ساتھ آئندہ مذاکرات اہم عوامل ہوں گے۔
نتیجہ
جماعت اسلامی نے کراچی میں گورنر ہاؤس کے باہر جاری دھرنا ختم کرکے احتجاج کا اگلا مرحلہ اسلام آباد منتقل کردیا ہے۔ جماعت اسلامی کے مطابق آج کراچی کینٹ اسٹیشن سے کارکنان ٹرین کے ذریعے اسلام آباد کی جانب روانہ ہوں گے جبکہ دیگر صوبوں سے بھی قافلے مارچ میں شامل ہوں گے۔
حکومت اور جماعت اسلامی کے درمیان مذاکرات کے پانچ ادوار کے باوجود تاحال حتمی اتفاق رائے سامنے نہیں آیا۔ حکومت نے سکیورٹی خدشات کے باعث مارچ مؤخر کرنے کی درخواست کی، جبکہ جماعت اسلامی نے اپنا مارچ جاری رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔
💬 تبصرے (0)
اپنا تبصرہ لکھیں
ابھی تک کوئی تبصرہ نہیں۔ پہلے تبصرہ کرنے والے بنیں!