Monday, September 21, 2026
FB
تازہ ترین

کوہاٹ پولیس لائنز حملہ: ابتدائی تحقیقات میں طویل محاصرے کی منصوبہ بندی کا انکشاف

کوہاٹ پولیس لائنز پر ہونے والے دہشت گرد حملے کی ابتدائی تحقیقات میں انکشاف ہوا ہے کہ حملہ آور صرف دھماکے تک محدود نہیں رہنا چاہتے تھے بلکہ پولیس لائنز کے اندر داخل ہو کر طویل وقت تک کارروائی جاری رکھنے کی منصوبہ بندی کر کے آئے تھے۔ تحقیقاتی حکام کے مطابق حملہ آوروں کے پاس دستی بم، اسنائپر رائفلز، دیگر اسلحہ اور بارودی مواد موجود تھا۔ پولیس اور سیکیورٹی فورسز کی مزاحمت، بروقت کارروائی اور ڈرون نگرانی کے باعث حملہ آور اپنے مبینہ منصوبے کے مطابق پیش قدمی نہ کر سکے۔

کوہاٹ پولیس لائنز حملہ: ابتدائی تحقیقات میں طویل محاصرے کی منصوبہ بندی کا انکشاف

کوہاٹ پولیس لائنز حملے کی ابتدائی تحقیقات

خیبر پختونخوا کے ضلع کوہاٹ میں پرانی پولیس لائنز پر ہونے والے دہشت گرد حملے کی ابتدائی تحقیقات میں حملہ آوروں کی حکمت عملی سے متعلق اہم معلومات سامنے آئی ہیں۔ تحقیقاتی حکام کے مطابق حملہ آور صرف خودکش دھماکا کرکے فرار یا کارروائی ختم کرنے کے ارادے سے نہیں آئے تھے بلکہ پولیس لائنز کے اندر داخل ہو کر طویل وقت تک سیکیورٹی اہلکاروں کو مصروف رکھنے اور کمپاؤنڈ میں کارروائی جاری رکھنے کی منصوبہ بندی بھی کی گئی تھی۔

18 ستمبر کو ہونے والے حملے میں پہلے بارود سے بھری گاڑی کے ذریعے پولیس لائنز کے قریب موجود مسجد کو نشانہ بنایا گیا، جس کے بعد مسلح حملہ آور کمپاؤنڈ میں داخل ہوئے اور مختلف مقامات پر فائرنگ اور دستی بموں کا استعمال کیا۔ بعد ازاں پولیس، محکمہ انسداد دہشت گردی، ایلیٹ فورس اور دیگر سیکیورٹی اہلکاروں نے کلیئرنس آپریشن شروع کیا، جو تقریباً 21 گھنٹے جاری رہا۔

حملہ صرف دھماکے تک محدود نہیں تھا

تحقیقاتی ٹیم کے مطابق حملہ آوروں کی حکمت عملی کا ایک اہم حصہ پولیس لائنز کے اندر داخل ہو کر طویل محاصرہ قائم کرنا تھا۔ حکام کے مطابق حملہ آور مختلف عمارتوں اور حصوں کی جانب بڑھے اور پولیس فورس کو منتشر کرنے کی کوشش کی۔

ابتدائی تحقیقات میں یہ بھی سامنے آیا ہے کہ حملہ آوروں کے پاس دستی بم، اسنائپر رائفلز، دیگر ہتھیار اور بارودی مواد موجود تھا۔ پولیس کی درج کردہ ایف آئی آر میں بھی فائرنگ اور دستی بموں کے استعمال کا ذکر کیا گیا ہے۔

تحقیقاتی حکام کے مطابق حملہ آوروں کی جانب سے ابتدائی دھماکے کے بعد پولیس لائنز کے مختلف حصوں میں پیش قدمی کی گئی۔ پولیس اہلکاروں کی مزاحمت کے باعث دہشت گرد اپنی کارروائی کو اس حد تک پھیلانے میں کامیاب نہیں ہو سکے جس کی مبینہ طور پر منصوبہ بندی کی گئی تھی۔

پولیس اور سیکیورٹی فورسز کی کارروائی

حکام کے مطابق حملے کے بعد پولیس اہلکاروں نے فوری مزاحمت کی، جس سے حملہ آوروں کی نقل و حرکت محدود ہوئی۔ بعد میں پولیس، سی ٹی ڈی، ایلیٹ فورس اور دیگر سیکیورٹی اہلکاروں نے مشترکہ کارروائی کرتے ہوئے پولیس لائنز کے مختلف حصوں کو کلیئر کیا۔

ایک سینئر پولیس افسر کے مطابق کارروائی کے دوران ڈرون ٹیکنالوجی کے ذریعے حملہ آوروں کی نقل و حرکت کی نگرانی میں مدد ملی جبکہ سیکیورٹی اہلکاروں کے بروقت ردعمل نے بھی صورتحال کو مزید پھیلنے سے روکنے میں کردار ادا کیا۔

ابتدائی رپورٹس کے مطابق کلیئرنس آپریشن کے اختتام پر تمام آٹھ حملہ آور ہلاک کیے گئے۔ پولیس اور سی ٹی ڈی حکام کے مطابق حملے اور بعد کی کارروائی میں جاں بحق افراد کی مجموعی تعداد 23 تک پہنچ گئی، جن میں 17 پولیس اہلکار اور 6 شہری شامل تھے۔

حملے میں جانی نقصان

18 ستمبر کو ابتدائی طور پر حکام نے 16 افراد کے جاں بحق ہونے اور 57 افراد کے زخمی ہونے کی اطلاع دی تھی۔ بعد کی رپورٹس میں ہلاکتوں اور زخمیوں کی تعداد میں اضافہ ہوا۔ ڈان کے مطابق ابتدائی حملے میں 21 افراد جاں بحق ہوئے، جن میں 15 پولیس اہلکار شامل تھے، جبکہ 100 سے زائد افراد زخمی ہوئے۔ بعد میں کلیئرنس آپریشن کے دوران مزید ہلاکتوں کے بعد مجموعی تعداد 23 تک پہنچ گئی۔

حملہ پولیس لائنز کے اندر واقع مسجد کے قریب پیش آیا جہاں نماز جمعہ کے موقع پر پولیس اہلکار اور دیگر افراد موجود تھے۔ بارود سے بھری گاڑی کے ذریعے حملے کے بعد مسلح افراد نے پولیس لائنز میں داخل ہونے کی کوشش کی، جس کے نتیجے میں صورتحال ایک طویل مسلح مقابلے میں تبدیل ہوگئی۔

مقدمہ درج، مزید تحقیقات جاری

حملے کے خلاف مقدمہ محکمہ انسداد دہشت گردی کے تھانے میں نامعلوم دہشت گردوں کے خلاف درج کیا گیا ہے۔ پولیس کے مطابق ایف آئی آر میں دہشت گردی، قتل، اقدام قتل اور دیگر دفعات شامل کی گئی ہیں۔ مقدمہ ایس ایچ او تھانہ سٹی کوہاٹ کی مدعیت میں درج کیا گیا۔

تحقیقات میں حملے کی منصوبہ بندی، حملہ آوروں کے سہولت کاروں، اسلحہ اور بارودی مواد کی فراہمی، رابطوں اور ممکنہ معاونت سمیت مختلف پہلوؤں کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔ حکام کی جانب سے حملہ آوروں کی شناخت اور ان کے ممکنہ روابط کے بارے میں بھی تحقیقات جاری ہیں۔

ممکنہ سرحد پار روابط کی تحقیقات

حملے کے ممکنہ سرحد پار روابط کے حوالے سے بھی رپورٹس سامنے آئی ہیں۔ بعض پاکستانی حکام اور سیکیورٹی ذرائع نے افغانستان سے تعلق کا امکان ظاہر کیا ہے، تاہم اس پہلو کی مکمل تفصیلات اور حملے کے تمام ذمہ داروں کے روابط کی آزادانہ طور پر مکمل تصدیق ابھی باقی ہے۔ ڈان کے مطابق ایک سینئر پولیس افسر نے بتایا کہ ممکنہ افغان تعلق کی رپورٹس کی تحقیقات کی جا رہی تھیں اور حملہ آوروں کی شناخت کا عمل جاری تھا۔

اسی معاملے میں پاکستان کی جانب سے افغان سرزمین سے دہشت گرد گروہوں کی سرگرمیوں پر تشویش بھی ظاہر کی گئی ہے، جبکہ افغان حکام نے ماضی میں ایسے الزامات کو مسترد کیا ہے۔ اس لیے حملے کے کسی بھی سرحد پار رابطے کو حتمی نتیجے کے طور پر پیش کرنے سے قبل مکمل تحقیقاتی شواہد کا سامنے آنا ضروری ہے۔

حملے کی نوعیت سے کیا معلوم ہوتا ہے؟

ابتدائی تحقیقات سے یہ بات سامنے آتی ہے کہ حملہ ایک ہی مرحلے کی کارروائی نہیں تھا۔ پہلے دھماکے کے بعد مسلح افراد کا پولیس لائنز کے اندر داخل ہونا اور کئی گھنٹوں تک مقابلہ جاری رہنا اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ حملے میں متعدد مراحل شامل تھے۔

تحقیقاتی حکام کے مطابق حملہ آوروں کے پاس مختلف نوعیت کا اسلحہ اور بارودی مواد موجود تھا، جبکہ ان کی جانب سے پولیس لائنز کے اندر مختلف مقامات پر پیش قدمی کی گئی۔ تاہم حملے کی مکمل منصوبہ بندی، سہولت کاری کے نیٹ ورک اور ممکنہ معاونین کے بارے میں حتمی نتائج تحقیقات مکمل ہونے کے بعد ہی سامنے آ سکیں گے۔

تحقیقات میں مزید کیا دیکھا جا رہا ہے؟

حکام کی جانب سے حملے کے مختلف پہلوؤں کو الگ الگ دیکھنے کا عمل جاری ہے۔ ان میں حملہ آوروں کی شناخت، ان کی آمد و رفت، استعمال ہونے والی گاڑی، بارودی مواد اور ہتھیاروں کا ذریعہ، ممکنہ سہولت کار، رابطوں کا نیٹ ورک اور حملے کی منصوبہ بندی شامل ہیں۔

اس کے علاوہ سیکیورٹی ادارے اس بات کا بھی جائزہ لے رہے ہیں کہ حملہ آور پولیس لائنز کے اندر کس راستے سے داخل ہوئے، انہیں کس نوعیت کی معلومات حاصل تھیں اور ابتدائی دھماکے کے بعد انہوں نے مختلف مقامات پر کس حکمت عملی کے تحت کارروائی کی۔

تحقیقات مکمل ہونے کے بعد ان سوالات کے بارے میں مزید واضح معلومات سامنے آنے کی توقع ہے۔

نتیجہ

کوہاٹ پولیس لائنز حملے کی ابتدائی تحقیقات سے یہ اہم پہلو سامنے آیا ہے کہ حملہ آور مبینہ طور پر صرف خودکش دھماکے تک محدود نہیں تھے بلکہ پولیس لائنز کے اندر داخل ہو کر طویل کارروائی کی منصوبہ بندی بھی کر کے آئے تھے۔ دستیاب معلومات کے مطابق پولیس اور سیکیورٹی فورسز کی مزاحمت، بروقت کارروائی اور نگرانی کے اقدامات نے حملہ آوروں کی پیش قدمی محدود کی اور تقریباً 21 گھنٹے بعد کلیئرنس آپریشن مکمل کیا گیا۔ حملے کے سہولت کاروں، منصوبہ سازوں اور ممکنہ روابط سے متعلق حتمی حقائق تحقیقات مکمل ہونے کے بعد مزید واضح ہوں گے۔

Ammar abbas

Ammar abbas

چیف ایگزیکٹو آفیسر – دی پاک گلوبل اردو نیٹ ورک

# Ammar Abbas — صحافت سے CEO تک کامیابی کا سفر **عمار عباس** ایک باصلاحیت، متحرک اور وژن رکھنے والے صحافی ہیں، جنہوں نے صحافت کے میدان سے اپنے پیشہ ورانہ سفر کا آغاز کیا اور اپنی محنت، صلاحیتوں اور...

💬 تبصرے (0)

اپنا تبصرہ لکھیں

ابھی تک کوئی تبصرہ نہیں۔ پہلے تبصرہ کرنے والے بنیں!