فون کی گھنٹی بجتے ہی دنیا کے کروڑوں لوگ ایک ہی لفظ بولتے ہیں: ’’ہیلو‘‘۔ چاہے سامنے والا شخص گھر کا فرد ہو، دوست ہو، دفتر سے فون کر رہا ہو یا کسی دوسرے ملک سے رابطہ ہو، فون اٹھانے کے بعد ’’ہیلو‘‘ کہنا اتنا عام ہو چکا ہے کہ اکثر لوگ اس کے بارے میں سوچتے بھی نہیں۔
لیکن سوال یہ ہے کہ آخر فون پر بات شروع کرتے وقت ’’ہیلو‘‘ ہی کیوں کہا جاتا ہے؟ کیا یہ لفظ ٹیلی فون ایجاد ہونے کے ساتھ ہی پیدا ہوا تھا، یا اس کے پیچھے کوئی دلچسپ تاریخی کہانی ہے؟
ٹیلی فون آیا تو سلام کا طریقہ بھی طے کرنا پڑا
انیسویں صدی کے آخر میں جب ٹیلی فون عام ہونا شروع ہوا تو لوگوں کے لیے یہ بالکل نئی قسم کی گفتگو تھی۔ آمنے سامنے بات کرتے وقت انسان دوسرے شخص کو دیکھ سکتا تھا، لیکن ٹیلی فون پر آواز تو سنائی دیتی تھی، چہرہ نظر نہیں آتا تھا۔
اس لیے ایک بنیادی سوال پیدا ہوا: فون اٹھانے کے بعد گفتگو شروع کیسے کی جائے؟
آج یہ سوال معمولی محسوس ہوتا ہے، لیکن ٹیلی فون کے ابتدائی دور میں اس کا کوئی طے شدہ جواب نہیں تھا۔
الیگزینڈر گراہم بیل کے ٹیلی فون کے کامیاب تجربات نے انسانی آواز کو دور تک پہنچانے کا راستہ کھولا۔ 10 مارچ 1876 کو بیل نے اپنے معاون تھامس واٹسن سے ٹیلی فون کے ذریعے مشہور الفاظ کہے کہ وہ ان کے پاس آئیں کیونکہ وہ انہیں دیکھنا چاہتے ہیں۔ یہ تجربہ ٹیلی فون کی تاریخ کے اہم ترین واقعات میں شمار ہوتا ہے۔
بیل ’’ہیلو‘‘ نہیں بلکہ ’’اہوئے‘‘ چاہتے تھے
دلچسپ بات یہ ہے کہ ٹیلی فون کے موجد کے طور پر مشہور الیگزینڈر گراہم بیل خود ’’ہیلو‘‘ کو ٹیلی فون پر ابتدائی سلام کے طور پر ترجیح نہیں دیتے تھے۔
تاریخی حوالوں کے مطابق بیل نے ’’Ahoy‘‘ یا ’’Ahoy, Ahoy‘‘ کو ٹیلی فون پر گفتگو شروع کرنے کے لیے موزوں سمجھا۔ یہ لفظ بحری جہازوں کے درمیان ایک دوسرے کی توجہ حاصل کرنے کے لیے استعمال ہونے والے انداز سے جڑا ہوا تھا۔
اگر بیل کی تجویز مقبول ہو جاتی تو ممکن ہے آج ہم فون اٹھا کر ’’ہیلو‘‘ کے بجائے کوئی بالکل مختلف لفظ بول رہے ہوتے۔
پھر ’’ہیلو‘‘ کہاں سے آیا؟
یہاں تھامس ایڈیسن کا کردار سامنے آتا ہے۔
ایڈیسن نے 1877 میں ٹیلی فون کے استعمال کے طریقوں پر غور کرتے ہوئے ’’Hello‘‘ کو فون پر گفتگو شروع کرنے کے لیے استعمال کرنے کی تجویز دی۔ 15 اگست 1877 کو ایڈیسن نے ایک خط میں لکھا کہ کال بیل کی ضرورت شاید نہ ہو کیونکہ ’’Hello‘‘ اتنی بلند آواز میں کہا جا سکتا ہے کہ اسے خاصے فاصلے سے سنا جا سکے۔
یعنی ایڈیسن نے ’’ہیلو‘‘ ایجاد نہیں کیا تھا، لیکن ٹیلی فون کے ساتھ اس لفظ کو جوڑنے اور اسے مقبول بنانے میں ان کا اہم کردار رہا۔
’’ہیلو‘‘ ایڈیسن کی ایجاد نہیں تھا
یہ بھی ایک عام غلط فہمی ہے کہ تھامس ایڈیسن نے ’’Hello‘‘ کا لفظ ایجاد کیا تھا۔
تاریخی شواہد بتاتے ہیں کہ ’’Hello‘‘ اور اس سے ملتے جلتے الفاظ ایڈیسن سے پہلے بھی استعمال ہوتے تھے۔ یہ الفاظ دور کھڑے کسی شخص کی توجہ حاصل کرنے یا اسے پکارنے کے لیے استعمال کیے جاتے تھے۔
اس لیے زیادہ درست بات یہ ہے کہ ایڈیسن نے ’’ہیلو‘‘ ایجاد نہیں کیا بلکہ اسے ٹیلی فون پر سلام کے طور پر مقبول بنانے میں کردار ادا کیا۔
فون پر ’’ہیلو‘‘ اتنا مقبول کیسے ہوا؟
ٹیلی فون کے ابتدائی دور میں لوگ اس نئی ٹیکنالوجی کے ساتھ گفتگو کے آداب بھی سیکھ رہے تھے۔ ابتدا میں مختلف طریقے آزمائے گئے۔ بعض جگہ ٹیلی فون اٹھانے والا یہ پوچھتا تھا کہ کیا مطلوب ہے، جبکہ مختلف لوگ مختلف انداز سے گفتگو شروع کرتے تھے۔
رفتہ رفتہ ’’Hello‘‘ ٹیلی فون پر گفتگو شروع کرنے کے لیے ایک مختصر اور واضح لفظ کے طور پر مقبول ہوتا گیا۔ Rutgers کے Edison Papers کے مطابق ٹیلی فون آپریٹرز بھی بعد میں ’’Hello?‘‘ استعمال کرنے لگے اور انہیں ’’hello girls‘‘ کہا جانے لگا۔
یوں ایک عام سا لفظ ٹیلی فون کے ساتھ اس قدر جڑ گیا کہ بعد میں اسے سنتے ہی ذہن میں فون پر گفتگو کا تصور آنے لگا۔
بیل کی پہلی فون کال میں ’’ہیلو‘‘ نہیں تھا
اس پوری کہانی کا ایک دلچسپ پہلو یہ بھی ہے کہ تاریخ کی مشہور ترین ابتدائی ٹیلی فون گفتگو ’’ہیلو‘‘ سے شروع نہیں ہوئی تھی۔
10 مارچ 1876 کو بیل نے تھامس واٹسن سے وہ مشہور جملہ کہا جس کا مفہوم تھا:
’’مسٹر واٹسن، یہاں آئیں، میں آپ سے ملنا چاہتا ہوں۔‘‘
یہ الفاظ بیل کی تجرباتی نوٹ بک میں بھی درج ہیں اور لائبریری آف کانگریس کے ریکارڈ میں محفوظ ہیں۔
اس کا مطلب یہ ہے کہ آج فون اٹھاتے ہی ’’ہیلو‘‘ کہنا ٹیلی فون کی پہلی گفتگو سے شروع نہیں ہوا تھا۔ یہ بعد میں ٹیلی فون کے استعمال کے ساتھ بننے والے سماجی طریقۂ گفتگو کا حصہ بنا۔
اس زمانے میں فون بھی آج جیسا نہیں تھا
آج ہم چند سیکنڈ میں دنیا کے کسی بھی حصے میں فون کر سکتے ہیں۔ موبائل فون میں نمبر منتخب کیا، کال بٹن دبایا اور رابطہ قائم ہو گیا۔
انیسویں صدی کے آخر میں صورتحال بالکل مختلف تھی۔
ابتدائی ٹیلی فون نظام میں کئی جگہوں پر صارفین کو براہ راست نمبر ملانے کے بجائے ٹیلی فون آپریٹر سے رابطہ کرنا پڑتا تھا۔ آپریٹر کال کو مطلوبہ شخص یا جگہ سے جوڑتا تھا۔ ابتدائی ٹیلی فون نیٹ ورکس اور سوئچ بورڈز نے اس نئی مواصلاتی دنیا کے لیے ایک نیا طریقہ کار تشکیل دیا۔
اسی ماحول میں یہ سوال بھی اہم تھا کہ فون اٹھانے والا پہلے کیا کہے۔
’’ہیلو‘‘ ایک عالمی عادت بن گیا
وقت گزرنے کے ساتھ ’’ہیلو‘‘ صرف ایک لفظ نہیں رہا بلکہ ٹیلی فون گفتگو کی پہچان بن گیا۔
اس کی ایک وجہ یہ بھی تھی کہ یہ مختصر تھا، فوراً بولا جا سکتا تھا اور سامنے والے کی توجہ حاصل کرنے کے لیے موزوں تھا۔ ٹیلی فون پر گفتگو میں چہرے کے تاثرات یا ہاتھ کے اشارے موجود نہیں ہوتے، اس لیے ایک واضح لفظ گفتگو کے آغاز کا اشارہ بن گیا۔
اسی طرح دنیا کے مختلف معاشروں نے ٹیلی فون کے لیے اپنے اپنے انداز بھی اپنائے، لیکن انگریزی زبان میں ’’Hello‘‘ نے غیر معمولی عالمی شہرت حاصل کی۔
کیا آج بھی ہم اسی تاریخی وجہ سے ’’ہیلو‘‘ کہتے ہیں؟
جزوی طور پر ہاں، لیکن اسے یوں کہنا زیادہ درست ہوگا کہ ’’ہیلو‘‘ ایک تاریخی اور سماجی عادت بن چکا ہے۔
اس کی مقبولیت صرف اس وجہ سے نہیں ہوئی کہ کسی ایک شخص نے اسے لازمی قرار دیا تھا۔ ٹیلی فون کے پھیلاؤ، آپریٹرز کے استعمال، کاروباری رابطوں اور روزمرہ گفتگو نے مل کر اس لفظ کو معمول بنا دیا۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ ابتدائی ٹیلی فون کے لیے بیل کی پسند ’’اہوئے‘‘ وقت کے ساتھ عام نہ رہ سکی، جبکہ ایڈیسن کا تجویز کردہ ’’ہیلو‘‘ دنیا بھر میں ٹیلی فون گفتگو کی سب سے پہچانی جانے والی آوازوں میں شامل ہو گیا۔
ایک چھوٹا سا لفظ، مواصلات کی بڑی تاریخ
آج جب ہم فون اٹھاتے ہیں اور بے اختیار ’’ہیلو‘‘ کہتے ہیں تو دراصل ہم ایک سو سال سے زیادہ پرانی مواصلاتی روایت کو دہرا رہے ہوتے ہیں۔
یہ لفظ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ نئی ٹیکنالوجی صرف مشینیں نہیں بدلتی بلکہ انسانوں کے بات کرنے، ملنے اور ایک دوسرے سے رابطہ کرنے کے انداز بھی بدل دیتی ہے۔
ٹیلی فون ایجاد ہونے کے بعد لوگوں کو صرف یہ نہیں سیکھنا تھا کہ نئی مشین کیسے استعمال کرنی ہے، بلکہ یہ بھی سیکھنا تھا کہ اس کے ذریعے ایک دوسرے سے بات کیسے شروع کی جائے۔ ’’ہیلو‘‘ اسی سماجی تبدیلی کا ایک دلچسپ نتیجہ ہے۔
نتیجہ
فون اٹھاتے ہی ’’ہیلو‘‘ کہنا کسی ایک دن یا کسی ایک شخص کا بنایا ہوا اصول نہیں تھا۔ الیگزینڈر گراہم بیل نے ابتدائی طور پر ’’اہوئے‘‘ کو پسند کیا، جبکہ تھامس ایڈیسن نے 1877 میں ’’ہیلو‘‘ کو ٹیلی فون پر استعمال کرنے کی تجویز دی۔ بعد میں یہ لفظ ٹیلی فون آپریٹرز اور عام صارفین کے ذریعے اتنا مقبول ہوا کہ آج فون پر گفتگو شروع کرنے کی ہماری سب سے عام عادت بن چکا ہے۔
💬 تبصرے (0)
اپنا تبصرہ لکھیں
ابھی تک کوئی تبصرہ نہیں۔ پہلے تبصرہ کرنے والے بنیں!