پاکستان تحریک انصاف کے بانی اور سابق وزیراعظم عمران خان کی تین بہنوں کی نظر بندی کے خلاف لاہور ہائیکورٹ سے رجوع کر لیا گیا ہے۔ علیمہ خان، ڈاکٹر عظمیٰ خان اور نورین نیازی کو 30 روز کے لیے نظر بند کیے جانے کے احکامات کے خلاف درخواستیں دائر کی گئی ہیں۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب پاکستان تحریک انصاف نے 27 ستمبر کو اسلام آباد میں احتجاج اور مارچ کی کال دے رکھی ہے۔
تینوں بہنوں کی نظر بندی
دستیاب اطلاعات کے مطابق علیمہ خان کو 20 ستمبر کو لاہور کے ڈپٹی کمشنر کے حکم پر پنجاب مینٹیننس آف پبلک آرڈر آرڈیننس کے تحت 30 روز کے لیے نظر بند کیا گیا۔ بعد ازاں ڈاکٹر عظمیٰ خان اور نورین نیازی کو بھی 30 روزہ نظر بندی کے احکامات کے تحت حراست میں لیا گیا۔
ڈان کے مطابق علیمہ خان کو کوٹ لکھپت جیل لاہور منتقل کیا گیا تھا۔ نظر بندی کے احکامات میں پنجاب مینٹیننس آف پبلک آرڈر آرڈیننس 1960 کا حوالہ دیا گیا ہے۔
لاہور ہائیکورٹ میں درخواست
علیمہ خان کے بیٹے شاہ ریز خان نے اپنی والدہ اور دونوں خالاؤں کی نظر بندی کے خلاف لاہور ہائیکورٹ میں درخواست دائر کی۔ درخواست ایڈووکیٹ رانا مدثر عمر کے ذریعے دائر کی گئی ہے۔
درخواست میں لاہور کے ڈپٹی کمشنر کی جانب سے جاری کیے گئے 30 روزہ نظر بندی کے احکامات کو چیلنج کرتے ہوئے تینوں خواتین کی فوری رہائی کی استدعا کی گئی ہے۔
درخواست گزار کی جانب سے مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ نظر بندی کے احکامات جاری کرتے ہوئے قانونی طریقہ کار پر عمل نہیں کیا گیا اور احکامات میں ایسی مخصوص وجوہات موجود نہیں جو احتیاطی نظر بندی کے لیے کافی ہوں۔ یہ درخواست میں پیش کیا گیا مؤقف ہے، جس کا حتمی تعین عدالت کی کارروائی کے بعد ہوگا۔
عدالت نے درخواستیں سماعت کے لیے مقرر کر دیں
جنگ کی رپورٹ کے مطابق لاہور ہائیکورٹ نے بانی پی ٹی آئی کی بہنوں کی نظر بندی کے خلاف درخواستیں سماعت کے لیے مقرر کر دی ہیں۔ جسٹس عبہر گل خان ان درخواستوں پر سماعت کریں گی۔
رپورٹ کے مطابق درخواستیں شاہ ریز اور ڈاکٹر عظمیٰ خان کی بیٹی سکینہ کی جانب سے دائر کی گئی ہیں۔ درخواست گزاروں نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ تینوں خواتین کسی غیر قانونی سرگرمی میں ملوث نہیں اور نظر بندی کے احکامات قانونی طریقہ کار کے مطابق جاری نہیں کیے گئے۔
نظر بندی کا قانونی معاملہ
درخواست میں پنجاب مینٹیننس آف پبلک آرڈر آرڈیننس کی دفعہ 3 کے تحت اختیار استعمال کرنے کے طریقہ کار پر بھی اعتراض اٹھایا گیا ہے۔
درخواست گزاروں کا مؤقف ہے کہ متعلقہ حکام نے نظر بندی کے احکامات جاری کرتے ہوئے ضروری قانونی تقاضے پورے نہیں کیے۔ دوسری جانب نظر بندی کے احکامات انتظامیہ کی جانب سے جاری کیے گئے ہیں، اس لیے ان کے قانونی جواز کا فیصلہ عدالت کرے گی۔
27 ستمبر کے احتجاج سے تعلق
تینوں بہنوں کی نظر بندی ایسے وقت میں ہوئی ہے جب پی ٹی آئی نے 27 ستمبر کو اسلام آباد میں احتجاج کی کال دے رکھی ہے۔ پارٹی کا کہنا ہے کہ احتجاج کا مقصد عمران خان کی رہائی اور اپنے سیاسی مطالبات کے لیے آواز اٹھانا ہے۔
عمران خان کی بہنیں بھی اپنے بھائی کی رہائی کے مطالبے کے حوالے سے مختلف مواقع پر سیاسی اور قانونی سرگرمیوں میں سامنے آتی رہی ہیں۔ ان کی نظر بندی کے خلاف قانونی کارروائی بھی اسی سیاسی صورتحال کے دوران سامنے آئی ہے۔
حکومت اور پی ٹی آئی کے مؤقف
پی ٹی آئی نے عمران خان کی بہنوں کی گرفتاری اور نظر بندی پر اعتراض کیا ہے، جبکہ حکومت کی جانب سے اسلام آباد میں 27 ستمبر کے احتجاج کے حوالے سے امن و امان برقرار رکھنے اور قانون کے مطابق کارروائی کی بات کی گئی ہے۔
وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے پی ٹی آئی کے مجوزہ احتجاج کے حوالے سے کہا ہے کہ حکومت اسلام آباد میں امن و امان اور شہری زندگی میں خلل سے متعلق اقدامات کرے گی۔
اس معاملے میں سیاسی جماعت کے مؤقف اور انتظامیہ کے قانونی اقدامات کو الگ الگ دیکھنا ضروری ہے، جبکہ نظر بندی کے احکامات کی قانونی حیثیت پر فیصلہ عدالت کرے گی۔
آئندہ سماعت میں کیا ہوگا؟
لاہور ہائیکورٹ میں درخواستوں کی سماعت کے دوران عدالت نظر بندی کے احکامات، ان کی قانونی بنیاد اور درخواست گزاروں کے اعتراضات کا جائزہ لے سکتی ہے۔
فی الحال عدالت کی جانب سے تینوں بہنوں کی نظر بندی ختم کرنے کا حتمی فیصلہ سامنے نہیں آیا۔ آئندہ عدالتی کارروائی سے اس معاملے کی قانونی صورتحال مزید واضح ہوگی۔
نتیجہ
عمران خان کی بہنوں علیمہ خان، ڈاکٹر عظمیٰ خان اور نورین نیازی کی 30 روزہ نظر بندی کے خلاف لاہور ہائیکورٹ سے رجوع کر لیا گیا ہے۔ درخواستوں میں نظر بندی کے احکامات کو کالعدم قرار دے کر رہائی کی استدعا کی گئی ہے، جبکہ عدالت نے معاملہ سماعت کے لیے مقرر کر دیا ہے۔
💬 تبصرے (0)
اپنا تبصرہ لکھیں
ابھی تک کوئی تبصرہ نہیں۔ پہلے تبصرہ کرنے والے بنیں!