Tuesday, September 22, 2026
FB
تازہ ترین

گڑھ مہاراجہ کی جوڈیشل لاک اپ عمارت خستہ حالی کا شکار، سرکاری اثاثے کے تحفظ پر سوالات

گڑھ مہاراجہ کی جوڈیشل لاک اپ عمارت خستہ حالی کا شکار، سرکاری اثاثے کے تحفظ پر سوالات

گڑھ مہاراجہ کی جوڈیشل لاک اپ عمارت خستہ حالی کا شکار، سرکاری اثاثے کے تحفظ پر سوالات

گڑھ مہاراجہ کی جوڈیشل لاک اپ عمارت خستہ حالی کا شکار، سرکاری اثاثے کے تحفظ پر سوالات

رپورٹ: ذیشان ظفر گوندل، چیف رپورٹر

تحصیل احمدپورسیال کے علاقے گڑھ مہاراجہ میں واقع جوڈیشل لاک اپ کی پرانی سرکاری عمارت ایک مرتبہ پھر شہری توجہ کا مرکز بن گئی ہے۔ مقامی حلقوں کے مطابق کئی برس سے غیر فعال رہنے والی یہ عمارت مناسب دیکھ بھال اور مسلسل نگرانی نہ ہونے کے باعث شدید خستہ حالی کا شکار ہے، جبکہ عمارت میں موجود قیمتی دروازوں، کھڑکیوں اور دیگر سامان کے مبینہ طور پر اکھاڑے جانے کی اطلاعات نے سرکاری اثاثوں کے تحفظ سے متعلق سوالات کو مزید اہم بنا دیا ہے۔

دستیاب 2024ء کی ایک مقامی خبر کے مطابق گڑھ مہاراجہ میں 1980ء کی دہائی میں سلطان باہو روڈ پر جوڈیشل لاک اپ کی عمارت تعمیر کی گئی تھی، تاہم اسے تعمیر کے بعد فعال نہیں کیا جا سکا۔ اس رپورٹ میں عمارت کی حالت کو انتہائی خراب قرار دیتے ہوئے اسے مرمت اور تزئین و آرائش کے ذریعے قابلِ استعمال بنانے کا مطالبہ بھی سامنے آیا تھا۔

موجودہ طور پر عمارت سے متعلق سامنے آنے والی نئی شکایات میں سرکاری تنصیبات کی مبینہ عدم حفاظت بھی شامل ہے۔ ان الزامات کی آزادانہ اور سرکاری سطح پر تصدیق تاحال سامنے نہیں آئی، اس لیے سامان کے غائب ہونے یا کسی فرد کی ذمہ داری کے بارے میں حتمی رائے قائم کرنا محکمانہ تحقیقات سے قبل مناسب نہیں ہوگا۔

1980ء کی دہائی میں تعمیر ہونے والی عمارت

گڑھ مہاراجہ کی اس عمارت کے بارے میں 24 جون 2024ء کو شائع ہونے والی رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ اسے 1980ء کی دہائی میں تعمیر کیا گیا اور تعمیر کے بعد اب تک باقاعدہ طور پر استعمال میں نہیں لایا جا سکا۔ رپورٹ کے مطابق عمارت کو مرمت اور تزئین و آرائش کے ذریعے کارآمد بنانے کا مطالبہ کیا گیا تھا۔

یہ پس منظر اس معاملے کو محض ایک پرانی عمارت کی خستہ حالی تک محدود نہیں رہنے دیتا بلکہ اس سوال کو بھی اہم بناتا ہے کہ ایک طویل عرصے سے غیر فعال سرکاری عمارت کی حفاظت، نگرانی اور دیکھ بھال کے لیے کیا انتظامات کیے گئے تھے۔

عمارت کی موجودہ حالت پر شہریوں کی تشویش

مقامی شہریوں کے مطابق عمارت کے مختلف حصے وقت گزرنے کے ساتھ ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوئے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر کوئی سرکاری عمارت مسلسل استعمال سے باہر ہو تو بھی اس کی بنیادی حفاظت، چار دیواری، دروازوں، کھڑکیوں، بجلی کی تنصیبات اور دیگر سرکاری سامان کی نگرانی ضروری ہے۔

شہری حلقوں کے مطابق طویل عرصے تک خالی رہنے والی عمارت میں مرمت نہ ہونے سے تعمیراتی نقصان بڑھ سکتا ہے، جبکہ غیر محفوظ حصوں میں چوری یا توڑ پھوڑ کا خطرہ بھی پیدا ہو سکتا ہے۔

تاہم عمارت کے موجودہ نقصان کی اصل نوعیت اور اس میں کسی فرد یا گروہ کے ملوث ہونے کے بارے میں حتمی بات سرکاری معائنے اور ریکارڈ کی جانچ کے بعد ہی سامنے آ سکتی ہے۔

قیمتی دروازوں اور کھڑکیوں کے مبینہ طور پر اکھاڑے جانے کی اطلاعات

مقامی ذرائع کی جانب سے یہ دعویٰ سامنے آیا ہے کہ عمارت میں نصب بعض قیمتی دروازے، کھڑکیاں اور دیگر سامان مبینہ طور پر اکھاڑ کر لے جایا گیا ہے۔

اگر یہ اطلاعات سرکاری معائنے میں درست ثابت ہوتی ہیں تو معاملہ صرف عمارت کی خستہ حالی تک محدود نہیں رہے گا بلکہ سرکاری املاک کے تحفظ، نگرانی کے طریقہ کار اور ذمہ داری کے تعین کا سوال بھی پیدا ہوگا۔

اس حوالے سے ضروری ہوگا کہ عمارت میں موجود سرکاری سامان کا پرانا ریکارڈ حاصل کیا جائے، موجودہ صورتحال کا موقع پر معائنہ کیا جائے اور دونوں کا تقابلی جائزہ لیا جائے۔ اسی عمل سے یہ معلوم کیا جا سکتا ہے کہ کون سا سامان عمارت میں نصب تھا، اس وقت کتنا موجود ہے اور اگر کوئی چیز غائب ہے تو اس کے بارے میں ریکارڈ کیا کہتا ہے۔

سرکاری اثاثے کی حفاظت کا سوال

شہریوں کا کہنا ہے کہ سرکاری عمارتیں عوامی وسائل سے تعمیر ہوتی ہیں، اس لیے ان کی حفاظت متعلقہ اداروں کی ذمہ داری ہوتی ہے۔ کسی عمارت کا طویل عرصے تک غیر فعال رہنا اس بات کا جواز نہیں بن سکتا کہ اسے مکمل طور پر نگرانی سے باہر چھوڑ دیا جائے۔

ان کے مطابق اگر عمارت مستقبل میں کسی سرکاری مقصد کے لیے دوبارہ استعمال کی جا سکتی ہے تو موجودہ مرحلے پر اس کی حفاظت اور بنیادی مرمت زیادہ اہم ہو جاتی ہے۔ دوسری صورت میں وقت گزرنے کے ساتھ تعمیراتی نقصان بڑھ سکتا ہے اور بحالی کی لاگت بھی زیادہ ہو سکتی ہے۔

بحالی پر دوبارہ اخراجات کا خدشہ

مقامی شہریوں کے مطابق اگر کئی دہائیوں پہلے تعمیر کی گئی سرکاری عمارت کی بروقت دیکھ بھال کی جاتی تو ممکنہ طور پر موجودہ خستہ حالی کی شدت کم ہوتی۔

اب اگر تکنیکی سروے کے بعد عمارت کو قابلِ استعمال قرار دیا جاتا ہے تو اس کی مرمت، بجلی، دروازوں، کھڑکیوں، سکیورٹی اور دیگر بنیادی سہولیات کی بحالی پر دوبارہ سرکاری رقم خرچ کرنا پڑ سکتی ہے۔

اس لیے شہریوں کا مؤقف ہے کہ موجودہ حالت کا بروقت جائزہ لے کر یہ طے کیا جائے کہ عمارت کی بحالی ممکن ہے یا اسے کسی دوسرے سرکاری مقصد کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔

ریکارڈ اور محکمانہ تحقیقات کی ضرورت

شہری حلقوں نے مطالبہ کیا ہے کہ متعلقہ حکام سب سے پہلے عمارت کا مکمل سروے کرائیں۔ اس سروے میں عمارت کی تعمیراتی حالت کے ساتھ ساتھ سرکاری سامان کا بھی تفصیلی ریکارڈ تیار کیا جائے۔

ضرورت پڑنے پر سابقہ تعمیراتی ریکارڈ، سرکاری اثاثوں کی فہرست، مرمت کے اخراجات اور ماضی میں مختص کیے گئے فنڈز سے متعلق دستاویزات کا بھی جائزہ لیا جا سکتا ہے۔

اگر تحقیقات میں کسی سرکاری اہلکار یا کسی دوسرے فرد کی غفلت یا قانون شکنی ثابت ہوتی ہے تو ذمہ داری کا تعین شواہد کی بنیاد پر کیا جانا چاہیے۔

فوری سکیورٹی انتظامات کا مطالبہ

اہل علاقہ نے مطالبہ کیا ہے کہ تحقیقات مکمل ہونے تک عمارت کو مزید نقصان سے بچانے کے لیے فوری حفاظتی اقدامات کیے جائیں۔

ان میں عمارت کے داخلی و خارجی راستوں کی نگرانی، ضروری چوکیداری، حساس حصوں کی حفاظت اور سرکاری سامان کی فہرست مرتب کرنا شامل ہو سکتا ہے۔

شہریوں کا کہنا ہے کہ اگر عمارت ابھی بھی سرکاری ملکیت ہے تو اسے غیر محفوظ چھوڑنے کے بجائے کم از کم بنیادی سکیورٹی فراہم کی جانی چاہیے تاکہ مزید نقصان یا مبینہ سامان کے غائب ہونے کے خدشات کو روکا جا سکے۔

اعلیٰ حکام سے فوری نوٹس کا مطالبہ

مقامی شہریوں نے ڈپٹی کمشنر جھنگ، اسسٹنٹ کمشنر احمدپورسیال، محکمہ جیل خانہ جات پنجاب اور دیگر متعلقہ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ گڑھ مہاراجہ کی مذکورہ سرکاری عمارت کا موقع پر معائنہ کرایا جائے۔

گڑھ مہاراجہ کے شہری مسائل کے حوالے سے ضلعی انتظامیہ کی سرگرمیوں کا ریکارڈ بھی موجود ہے۔ اگست 2026ء میں ڈپٹی کمشنر جھنگ بابر صاحب دین نے گڑھ مہاراجہ کا دورہ کیا تھا، جہاں شہری سہولیات اور مختلف ترقیاتی منصوبوں کا معائنہ کیا گیا۔ اس موقع پر انتظامیہ کی جانب سے میڈیا کے ذریعے نشاندہی کیے جانے والے شہری مسائل کو ترجیحی بنیادوں پر حل کرنے کی بات بھی کی گئی تھی۔

مقامی شہریوں کی خواہش ہے کہ اس عمارت کا معاملہ بھی اسی طرح متعلقہ حکام کے نوٹس میں لا کر حقائق کی بنیاد پر اس کا حل تلاش کیا جائے۔

عمارت کو قابلِ استعمال بنانے کی تجویز

اگر تکنیکی ماہرین کے جائزے میں عمارت کو محفوظ اور قابلِ مرمت قرار دیا جاتا ہے تو شہریوں کے مطابق اسے مرحلہ وار بحال کرکے کسی مناسب سرکاری مقصد کے لیے استعمال میں لایا جا سکتا ہے۔

دوسری جانب اگر عمارت کا کوئی حصہ ناقابلِ استعمال قرار پاتا ہے تو اس بارے میں بھی تکنیکی رپورٹ اور شفاف سرکاری فیصلہ سامنے آنا چاہیے، تاکہ مستقبل کے لیے واضح پالیسی بنائی جا سکے۔

2024ء میں سامنے آنے والی رپورٹ میں بھی عمارت کو مرمت اور تزئین و آرائش کے ذریعے کارآمد بنانے کا مطالبہ کیا گیا تھا، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس عمارت کی خستہ حالی کا مسئلہ کم از کم گزشتہ کئی برسوں سے مقامی سطح پر زیر بحث رہا ہے۔

اصل حقائق سامنے لانے کی ضرورت

موجودہ معاملے میں سب سے اہم ضرورت یہ ہے کہ عمارت کے بارے میں مختلف دعووں اور شکایات کو باضابطہ معائنے کے ذریعے جانچا جائے۔ خاص طور پر دروازوں، کھڑکیوں یا دیگر سرکاری سامان کے مبینہ طور پر غائب ہونے کی شکایت کو ریکارڈ اور موقع پر موجود شواہد کی بنیاد پر پرکھنا ضروری ہے۔

اسی طرح عمارت کی تعمیر کی اصل لاگت، ماضی میں اس پر ہونے والے اخراجات اور کسی بھی مرمتی منصوبے کے بارے میں سرکاری دستاویزات کی بنیاد پر معلومات سامنے لائی جائیں تو معاملے کی مکمل تصویر واضح ہو سکتی ہے۔

نتیجہ

گڑھ مہاراجہ کی جوڈیشل لاک اپ کی پرانی عمارت کے حوالے سے خستہ حالی اور سرکاری سامان کی مبینہ عدم حفاظت کی شکایات نے شہریوں کی تشویش بڑھا دی ہے۔ دستیاب 2024ء کی رپورٹ پہلے ہی اس عمارت کے طویل عرصے سے غیر فعال رہنے اور مرمت کی ضرورت کی نشاندہی کر چکی ہے، جبکہ موجودہ شکایات میں مبینہ طور پر دروازوں، کھڑکیوں اور دیگر سامان کے اکھاڑے جانے کا معاملہ بھی شامل ہو گیا ہے۔

اب ضرورت اس امر کی ہے کہ متعلقہ حکام موقع پر معائنہ کرکے عمارت کی اصل حالت، سرکاری سامان کے ریکارڈ اور سکیورٹی انتظامات کی مکمل جانچ کریں۔ اگر کسی قسم کی غفلت یا قانون شکنی ثابت ہو تو شواہد کی بنیاد پر ذمہ داری کا تعین کیا جائے، جبکہ قابلِ مرمت عمارت کی بحالی کے لیے بھی واضح اور دستاویزی منصوبہ سامنے لایا جائے۔

Zeeshan zafar gondal

Zeeshan zafar gondal

بیورو چیف

💬 تبصرے (0)

اپنا تبصرہ لکھیں

ابھی تک کوئی تبصرہ نہیں۔ پہلے تبصرہ کرنے والے بنیں!