ایف بی آر کے نئے قواعد کیا ہیں؟
وفاقی بورڈ آف ریونیو نے سوشل میڈیا سے آمدن حاصل کرنے والے غیر مقیم افراد کے لیے ٹیکس کا خصوصی طریقہ کار نافذ کر دیا ہے۔ ایف بی آر نے اس سلسلے میں تین نوٹیفکیشنز جاری کیے، جن میں غیر مقیم افراد کے لیے SRO 1642(I)/2026 بھی شامل ہے۔
نئے قواعد کا اطلاق ان غیر مقیم افراد پر ہوگا جو سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کے ذریعے پاکستان میں موجود صارفین کے ساتھ تعامل سے آمدن حاصل کرتے ہیں، بشرطیکہ وہ آمدن قانون کے تحت پاکستان سے حاصل ہونے والی آمدن شمار ہوتی ہو۔
50 ہزار صارفین کی حد کیا ہے؟
نئے طریقہ کار میں صارفین کی تعداد کے حوالے سے ایک مخصوص حد مقرر کی گئی ہے۔ قواعد کے مطابق کسی شخص کی سوشل میڈیا سرگرمی ٹیکس کے اس خصوصی طریقہ کار کے دائرے میں اس وقت آ سکتی ہے جب ایک ٹیکس سال کے دوران صارفین کی تعداد 50 ہزار سے زیادہ ہو جائے۔
اسی طرح ایک سہ ماہی کے دوران 12,250 سے زیادہ صارفین کے ساتھ تعامل بھی مقررہ حد پوری کرنے کے لیے کافی ہو سکتا ہے۔
اس کا مطلب یہ ہے کہ صرف فالوورز کی تعداد ہی نہیں بلکہ قواعد میں بیان کردہ صارفین کے ساتھ تعامل اور پاکستان سے حاصل ہونے والی آمدن بھی اہم ہوگی۔
آمدن کا حساب کیسے ہوگا؟
ایف بی آر کے قواعد میں سوشل میڈیا سے حاصل ہونے والی آمدن کے تعین کے لیے ایک خصوصی طریقہ کار وضع کیا گیا ہے۔
سرکاری قواعد کے مطابق کم از کم آمدن کا تعین کل معاوضے میں سے قابل قبول اخراجات منہا کرکے کیا جائے گا۔ اخراجات کی کٹوتی مجموعی آمدن کے زیادہ سے زیادہ 30 فیصد تک محدود رکھی گئی ہے۔
قواعد کے تحت کل معاوضہ بھی ایک مقررہ فارمولے کے مطابق دیکھا جائے گا، جس میں سوشل میڈیا مواد سے حاصل ہونے والی اصل رقم یا مقررہ طریقہ کار کے تحت حاصل ہونے والی رقم میں سے زیادہ رقم کو بنیاد بنایا جا سکتا ہے۔
یوٹیوب ویوز بھی حساب کا حصہ بن سکتے ہیں
ایف بی آر کے طریقہ کار میں سوشل میڈیا مواد سے حاصل ہونے والی آمدن کا اندازہ لگانے کے لیے ویوز کو بھی اہمیت دی گئی ہے۔
دستیاب قواعد کے مطابق یوٹیوب مواد کے لیے ریونیو فی ہزار ویوز کی شرح 195 روپے مقرر کی گئی ہے، تاہم یہ شرح وقتاً فوقتاً تبدیل کی جا سکتی ہے۔ اصل موصول شدہ معاوضہ اور مقررہ فارمولے کے تحت حاصل ہونے والی رقم میں سے زیادہ رقم کو متعلقہ حساب میں شامل کیا جا سکتا ہے۔
سہ ماہی ایڈوانس ٹیکس کی شرط
نئے طریقہ کار کے تحت متعلقہ افراد کو سہ ماہی بنیادوں پر ایڈوانس انکم ٹیکس ادا کرنا ہوگا۔
ایف بی آر کے قواعد میں کہا گیا ہے کہ اس خصوصی طریقہ کار کے تحت ٹیکس کا حساب متعلقہ سہ ماہی کے لیے مقررہ فارمولے کے مطابق کیا جائے گا اور اس کی وصولی انکم ٹیکس آرڈیننس کی متعلقہ شقوں کے تحت ہوگی۔
سالانہ ریٹرن میں آمدن ظاہر کرنا ہوگی
سوشل میڈیا سے حاصل ہونے والی آمدن کو سالانہ انکم ٹیکس ریٹرن کے خصوصی حصے میں ظاہر کرنا ہوگا۔
اگر کسی شخص کی جانب سے ظاہر کی گئی آمدن قواعد کے تحت مقررہ حساب سے کم پائی جائے تو متعلقہ کمشنر کو ریٹرن میں موجود غلطی یا کمی کو درست کرنے اور واجب الادا رقم کی وصولی کا اختیار حاصل ہوگا۔
کن سوشل میڈیا آمدنی کو قواعد میں شامل کیا گیا ہے؟
ایف بی آر نے سوشل میڈیا مواد کی تعریف بھی واضح کی ہے۔ قواعد کے مطابق اس میں ایسا ڈیجیٹل مواد شامل ہے جس کی معاشی قدر صارفین کے تعامل، ناظرین تک رسائی یا پلیٹ فارم کے ذریعے تقسیم سے پیدا ہوتی ہو۔
ایسے مواد میں اشتہارات، اسپانسرشپ یا دیگر ذرائع سے آمدن پیدا کرنے والا مواد بھی شامل ہو سکتا ہے۔
اس طرح نئے قواعد کا دائرہ صرف کسی ایک سوشل میڈیا پلیٹ فارم تک محدود نہیں رکھا گیا بلکہ ایسے انٹرنیٹ پلیٹ فارمز کو بھی شامل کیا گیا ہے جہاں صارفین باہمی تعامل اور صارف کی جانب سے تیار کردہ مواد شیئر کرتے ہیں۔
مقامی اور غیر مقیم تخلیق کاروں کے لیے الگ قواعد
ایف بی آر نے سوشل میڈیا سے آمدن حاصل کرنے والے مقامی اور غیر مقیم افراد کے لیے الگ طریقہ کار جاری کیا ہے۔ غیر مقیم افراد کے حوالے سے SRO 1642(I)/2026 جبکہ مقامی افراد کے لیے الگ نوٹیفکیشن جاری کیا گیا ہے۔
اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ پاکستان میں سوشل میڈیا آمدن کو باقاعدہ ٹیکس نظام میں شامل کرنے کے لیے ایف بی آر نے مختلف اقسام کے مواد تخلیق کرنے والوں کے لیے مخصوص قواعد مرتب کیے ہیں۔
سوشل میڈیا آمدن پر پانچ فیصد ٹیکس کا پس منظر
مالی سال 2026-27 کے ٹیکس اقدامات میں سوشل میڈیا پلیٹ فارمز سے حاصل ہونے والی آمدن پر پانچ فیصد ٹیکس کی شق بھی شامل کی گئی تھی۔
وفاقی بجٹ کی دستاویز کے مطابق سوشل میڈیا پلیٹ فارمز سے حاصل ہونے والی آمدن پر غیر مقیم افراد کے لیے پانچ فیصد شرح مقرر کی گئی اور متعلقہ کٹوتی کو حتمی ٹیکس قرار دیا گیا۔
اس کے علاوہ فنانس ایکٹ 2026 کے تحت سوشل میڈیا آمدن پر بینکنگ نظام کے ذریعے ٹیکس کٹوتی کا طریقہ بھی متعارف کرایا گیا ہے۔
ایف بی آر کا مقصد کیا ہے؟
نئے قواعد کا بنیادی مقصد سوشل میڈیا اور ڈیجیٹل مواد سے پیدا ہونے والی آمدن کو باقاعدہ ٹیکس نظام کے دائرے میں لانا ہے۔
حالیہ برسوں میں یوٹیوب، فیس بک، انسٹاگرام، ٹک ٹاک اور دیگر ڈیجیٹل پلیٹ فارمز سے اشتہارات، اسپانسرشپ، ویوز اور دیگر ذرائع سے آمدن حاصل کرنے کا رجحان بڑھا ہے۔ نئے قواعد کے ذریعے ایف بی آر نے ایسی آمدن کی شناخت، حساب اور ٹیکس وصولی کے لیے مخصوص طریقہ کار وضع کیا ہے۔
غیر مقیم انفلوئنسرز کے لیے کیا اہم ہے؟
نئے قواعد کے بعد بیرون ملک مقیم ایسے سوشل میڈیا تخلیق کار جو پاکستانی صارفین سے تعامل کے ذریعے پاکستان سے حاصل ہونے والی آمدن پیدا کرتے ہیں، انہیں اپنے ٹیکس معاملات میں ان قواعد کو مدنظر رکھنا ہوگا۔
خاص طور پر صارفین کی مقررہ حد، پاکستان سے حاصل ہونے والی آمدن، قابل قبول اخراجات، سہ ماہی ایڈوانس ٹیکس اور سالانہ ریٹرن میں آمدن ظاہر کرنے کے تقاضے اہم ہیں۔
ڈیجیٹل آمدن کی دستاویز بندی کی اہمیت
نئے طریقہ کار کے بعد سوشل میڈیا سے حاصل ہونے والی آمدن اور متعلقہ اخراجات کا ریکارڈ رکھنا زیادہ اہم ہو گیا ہے۔ اس میں پلیٹ فارم سے موصول ہونے والی رقم، مواد سے حاصل ہونے والی آمدن، متعلقہ کاروباری اخراجات اور ادائیگیوں کے ریکارڈ شامل ہو سکتے ہیں۔
ایف بی آر کے قواعد میں آمدن کے تعین کے لیے اصل معاوضے اور مقررہ فارمولے کو اہمیت دی گئی ہے، اس لیے درست مالی ریکارڈ ٹیکس ریٹرن کی تیاری میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔
نتیجہ
ایف بی آر نے غیر مقیم سوشل میڈیا مواد تخلیق کرنے والوں کی پاکستان سے حاصل ہونے والی آمدن کو ٹیکس نظام میں لانے کے لیے خصوصی قواعد نافذ کر دیے ہیں۔ نئے طریقہ کار میں صارفین کی مقررہ حد، آمدن کے حساب کا فارمولا، اخراجات کی حد، سہ ماہی ایڈوانس ٹیکس اور سالانہ ریٹرن میں آمدن ظاہر کرنے کی شرائط شامل ہیں۔
یہ اقدام پاکستان میں ڈیجیٹل معیشت سے حاصل ہونے والی آمدن کی دستاویز بندی اور ٹیکس وصولی کے دائرے کو وسیع کرنے کی کوشش کا حصہ ہے۔ غیر مقیم سوشل میڈیا انفلوئنسرز کے لیے ان قواعد کا اطلاق ان کی پاکستان سے حاصل ہونے والی آمدن اور مقررہ شرائط پوری ہونے سے منسلک ہے۔
💬 تبصرے (0)
اپنا تبصرہ لکھیں
ابھی تک کوئی تبصرہ نہیں۔ پہلے تبصرہ کرنے والے بنیں!