احمدپورسیال میں مرغیوں کے فضلے کی کھلی ترسیل، شہری بدبو اور تعفن سے پریشان
احمدپورسیال (ذیشان ظفر گوندل، بیوروچیف کے قلم سے)
احمدپورسیال میں مرغیوں کے فضلے کی کھلے عام ترسیل شہریوں کے لیے پریشانی کا باعث بننے لگی ہے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ بعض مقامات پر برائلر مرغیوں کا فضلہ بغیر مناسب حفاظتی انتظامات کے رکشوں اور موٹر سائیکلوں پر منتقل کیا جاتا ہے، جس کے باعث سڑکوں، بازاروں اور رہائشی علاقوں میں بدبو اور تعفن پھیلتا ہے۔
شہریوں کے مطابق گرم موسم میں صورتحال مزید ناگوار ہوجاتی ہے اور فضلے سے اٹھنے والی بدبو کے باعث راہگیروں، دکانداروں اور رہائشیوں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ شہریوں نے مطالبہ کیا ہے کہ فضلہ منتقل کرنے کے لیے مناسب اور بند گاڑیوں کے استعمال کو یقینی بنایا جائے اور کھلی نقل و حمل کی حوصلہ شکنی کی جائے۔
بغیر ڈھانپے فضلے کی ترسیل پر شہریوں کے تحفظات
مقامی شہریوں کے مطابق بعض رکشوں اور موٹر سائیکلوں پر مرغیوں کا فضلہ اس انداز میں منتقل کیا جاتا ہے کہ وہ مکمل طور پر ڈھکا ہوا نہیں ہوتا۔ اس دوران فضلے سے نکلنے والی بدبو اردگرد کے ماحول کو متاثر کرتی ہے۔
شہریوں کا کہنا ہے کہ جب ایسی گاڑیاں گنجان آبادی، بازاروں یا مصروف سڑکوں سے گزرتی ہیں تو بدبو کے باعث لوگوں کو منہ ڈھانپنا پڑتا ہے اور کچھ دیر کے لیے معمول کی آمدورفت بھی ناگوار محسوس ہونے لگتی ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ اگر کسی قسم کا فضلہ شہر کے اندر منتقل کرنا ضروری ہو تو اس کے لیے ایسا طریقہ اختیار کیا جانا چاہیے جس سے شہری ماحول متاثر نہ ہو اور فضلہ راستے میں گرنے یا بدبو پھیلنے کا امکان کم سے کم ہو۔
شہری صحت اور صفائی کا معاملہ
مرغیوں کے فضلے کا مناسب انتظام صرف صفائی کا مسئلہ نہیں بلکہ پولٹری فارم اور ویسٹ مینجمنٹ کے وسیع تر نظام سے بھی جڑا ہوا معاملہ ہے۔ پنجاب میں پولٹری فارمز کے انتظام سے متعلق ایک تحقیقی مطالعے میں صفائی، بائیوسکیورٹی اور مرغیوں کے فضلے یا دیگر مواد کو مناسب انداز میں ہٹانے کے طریقوں کو فارم مینجمنٹ کا اہم حصہ قرار دیا گیا ہے۔
مقامی شہریوں کا مؤقف ہے کہ شہر کے اندر فضلے کی منتقلی کے دوران بھی صفائی اور ماحول کے بنیادی اصولوں کو مدنظر رکھا جانا چاہیے۔
خصوصاً بازاروں، رہائشی آبادیوں اور عوامی گزرگاہوں کے قریب اگر بدبودار فضلہ کھلے انداز میں منتقل کیا جائے تو اس سے شہریوں کے لیے ناخوشگوار صورتحال پیدا ہوسکتی ہے۔
متعلقہ اداروں کی نگرانی پر سوالات
اس صورتحال میں شہریوں کی جانب سے سب سے اہم سوال فیلڈ مانیٹرنگ کے حوالے سے اٹھایا جا رہا ہے۔
شہری پوچھتے ہیں کہ اگر کھلے رکشوں یا موٹر سائیکلوں پر مرغیوں کا فضلہ شہر کی مصروف سڑکوں سے منتقل کیا جا رہا ہے تو معمول کی فیلڈ نگرانی کے دوران ایسے معاملات متعلقہ اہلکاروں کے علم میں کیوں نہیں آتے۔
ان کا مطالبہ ہے کہ میونسپل انتظامیہ اور دیگر متعلقہ ادارے صورتحال کا جائزہ لیں اور یہ معلوم کریں کہ فضلہ منتقل کرنے کے لیے مقامی سطح پر کون سا طریقہ کار رائج ہے۔
یہ بھی واضح کیا جانا ضروری ہے کہ اگر صفائی یا فضلہ منتقلی کے حوالے سے کوئی مقامی قواعد و ضوابط نافذ ہیں تو ان پر عملدرآمد کس ادارے کی ذمہ داری ہے۔
شہریوں کا مناسب ٹرانسپورٹ کا مطالبہ
شہریوں کے مطابق مرغیوں کے فضلے کی منتقلی کے لیے ایسی گاڑی استعمال ہونی چاہیے جس میں فضلہ محفوظ اور مناسب طریقے سے بند ہو۔
ان کا کہنا ہے کہ کھلے رکشوں یا موٹر سائیکلوں پر فضلہ لے جانے کے بجائے مناسب ڈھانپنے اور محفوظ منتقلی کا انتظام کیا جائے تاکہ سڑک پر فضلہ گرنے، بدبو پھیلنے اور شہری ماحول متاثر ہونے کے امکانات کم کیے جاسکیں۔
شہری یہ بھی چاہتے ہیں کہ فضلہ منتقل کرنے کے لیے مخصوص راستوں یا اوقات کا تعین کرنے سمیت مقامی انتظامی سطح پر قابل عمل طریقہ کار وضع کیا جائے، اگر متعلقہ ادارے اسے ضروری سمجھیں۔
گرم موسم میں مسئلہ مزید نمایاں
شدید گرمی اور بلند درجہ حرارت کے دوران نامیاتی فضلے سے پیدا ہونے والی بدبو شہری ماحول میں زیادہ محسوس ہوسکتی ہے۔ احمدپورسیال کے شہریوں کا کہنا ہے کہ گرم موسم میں فضلے کی کھلی نقل و حمل ان کے لیے پہلے سے زیادہ پریشان کن بن جاتی ہے۔
دکانداروں کے مطابق بازاروں میں بدبو کا اثر کاروباری ماحول پر بھی پڑ سکتا ہے، جبکہ رہائشی علاقوں کے مکین چاہتے ہیں کہ گندگی اور بدبو کے ایسے ذرائع کو آبادی سے دور رکھا جائے یا مناسب طریقے سے منتقل کیا جائے۔
تاہم مقامی صورتحال کے حقیقی حجم، منتقلی کے ذرائع اور کسی ممکنہ خلاف ورزی کی تفصیلات کے بارے میں متعلقہ اداروں کا باضابطہ مؤقف سامنے آنا ضروری ہے۔
ذمہ دار اداروں سے عملی کارروائی کا مطالبہ
شہریوں نے مطالبہ کیا ہے کہ متعلقہ میونسپل انتظامیہ، ضلعی انتظامیہ اور دیگر ذمہ دار محکمے اس معاملے کا موقع پر جائزہ لیں۔
ان کے مطابق صرف شکایات موصول ہونے یا رسمی ہدایات جاری کرنے کے بجائے فیلڈ میں یہ دیکھا جانا چاہیے کہ مرغیوں کا فضلہ کہاں سے اٹھایا جاتا ہے، کس طریقے سے منتقل کیا جاتا ہے اور شہر سے باہر یا مقررہ مقام تک پہنچانے کے لیے کیا انتظام موجود ہے۔
اگر کسی طریقہ کار یا قانون کی خلاف ورزی سامنے آئے تو شہریوں کا کہنا ہے کہ متعلقہ اداروں کو قانون کے مطابق کارروائی کرنی چاہیے۔
پنجاب میں خوراک اور پولٹری سے متعلق معاملات پر متعلقہ اداروں کی کارروائی کی مثالیں بھی موجود ہیں۔ پنجاب فوڈ اتھارٹی نے ماضی میں مردہ مرغیوں کی غیرقانونی ترسیل کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے ایک گاڑی سے بڑی مقدار میں مردہ مرغیاں برآمد کی تھیں اور مقدمہ درج کرایا تھا۔ تاہم یہ کارروائی مردہ مرغیوں سے متعلق تھی اور اسے احمدپورسیال میں موجودہ فضلے کی ترسیل کے واقعے سے منسلک نہیں کیا جا سکتا۔
شہریوں کا بنیادی سوال
احمدپورسیال کے شہریوں کا کہنا ہے کہ شہر کی سڑکیں شہریوں کی آمدورفت اور کاروباری سرگرمیوں کے لیے استعمال ہوتی ہیں، اس لیے ایسی اشیا کی نقل و حمل جس سے بدبو، گندگی یا عوامی تکلیف پیدا ہو، مناسب انتظام کے ساتھ ہونی چاہیے۔
ان کے مطابق مسئلے کا حل کسی ایک شخص یا چند گاڑیوں کے خلاف کارروائی تک محدود نہیں ہونا چاہیے بلکہ اگر یہ مسئلہ مستقل نوعیت اختیار کر چکا ہے تو اس کے لیے واضح انتظامی طریقہ کار ضروری ہے۔
شہری یہ بھی چاہتے ہیں کہ شکایات کے ازالے کے لیے متعلقہ ادارے قابل رسائی نظام فراہم کریں تاکہ لوگ صفائی اور شہری ماحول سے متعلق مسائل کی بروقت نشاندہی کرسکیں۔
متعلقہ اداروں کا مؤقف بھی اہم
اس معاملے میں متعلقہ میونسپل انتظامیہ، محکمہ صحت یا ضلعی انتظامیہ کا باضابطہ مؤقف سامنے آنا بھی ضروری ہے تاکہ یہ واضح ہوسکے کہ مرغیوں کے فضلے کی منتقلی کے حوالے سے مقامی سطح پر کون سے قواعد نافذ ہیں اور ان پر عملدرآمد کیسے یقینی بنایا جاتا ہے۔
اسی طرح اگر انتظامیہ کی جانب سے پہلے ہی کوئی کارروائی، معائنہ یا ہدایات جاری کی گئی ہیں تو ان کی تفصیلات سامنے آنے سے شہریوں کے خدشات کا زیادہ واضح جواب مل سکتا ہے۔
فی الحال مقامی شہریوں کی شکایت اور موقع پر موجود صورتحال سے متعلق فراہم کردہ معلومات کی بنیاد پر یہ معاملہ سامنے آیا ہے، جبکہ متعلقہ اداروں کی طرف سے باضابطہ وضاحت کی آزادانہ تصدیق دستیاب نہیں ہوسکی۔
مستقل حل کے لیے کیا اقدامات ہوسکتے ہیں؟
شہریوں کے مطالبات اور عمومی صفائی کے تقاضوں کو مدنظر رکھتے ہوئے متعلقہ ادارے چند بنیادی امور کا جائزہ لے سکتے ہیں:
- فضلے کی منتقلی کے لیے مناسب اور ڈھکی ہوئی گاڑیوں کے استعمال کو یقینی بنانا۔
- آبادی اور بازاروں سے فضلے کی منتقلی کے طریقہ کار کا جائزہ لینا۔
- سڑکوں پر فضلہ گرنے یا پھیلنے کی صورت میں فوری صفائی کا انتظام کرنا۔
- خلاف ورزیوں کی نشاندہی کے لیے فیلڈ مانیٹرنگ بہتر بنانا۔
- شہری شکایات کے لیے مؤثر رابطہ اور شکایتی نظام فعال رکھنا۔
- متعلقہ کاروبار اور فضلہ منتقل کرنے والوں کو قابل عمل طریقہ کار سے آگاہ کرنا۔
یہ اقدامات اسی صورت مؤثر ثابت ہوسکتے ہیں جب متعلقہ ادارے مقامی حالات اور نافذ قواعد کے مطابق ان پر عملدرآمد کا قابل عمل نظام بنائیں۔
نتیجہ
احمدپورسیال میں مرغیوں کے فضلے کی کھلی ترسیل کے حوالے سے شہریوں کی شکایات نے صفائی، شہری ماحول اور فیلڈ مانیٹرنگ سے متعلق سوالات کو نمایاں کردیا ہے۔ شہری چاہتے ہیں کہ فضلہ مناسب طریقے سے ڈھانپ کر اور محفوظ ذرائع سے منتقل کیا جائے تاکہ بازاروں اور رہائشی علاقوں میں بدبو اور گندگی کا مسئلہ پیدا نہ ہو۔ اب ضرورت اس امر کی ہے کہ متعلقہ ادارے موقع پر صورتحال کا جائزہ لے کر حقائق واضح کریں اور اگر قواعد کی خلاف ورزی سامنے آئے تو قانون کے مطابق کارروائی کریں۔
💬 تبصرے (0)
اپنا تبصرہ لکھیں
ابھی تک کوئی تبصرہ نہیں۔ پہلے تبصرہ کرنے والے بنیں!