Thursday, September 24, 2026
FB
تازہ ترین

مہنگائی نے غریب اور متوسط طبقے پر معاشی دباؤ بڑھا دیا، مہر ظفر اقبال گوندل

سماجی شخصیت مہر ظفر اقبال گوندل نے کہا ہے کہ مہنگائی کے باعث غریب اور متوسط طبقے کے لیے گھریلو بجٹ چلانا مشکل ہوتا جا رہا ہے۔ ان کے مطابق اشیائے ضروریہ، بجلی، گیس، پٹرولیم مصنوعات اور علاج کے اخراجات میں اضافہ عام شہری کی قوتِ خرید کو متاثر کر رہا ہے، جبکہ معاشی بہتری کے لیے پیداواری سرگرمیوں، روزگار اور مقامی صنعت کے فروغ پر توجہ دینا ضروری ہے۔

مہنگائی نے غریب اور متوسط طبقے پر معاشی دباؤ بڑھا دیا، مہر ظفر اقبال گوندل

مہنگائی نے غریب اور متوسط طبقے پر معاشی دباؤ بڑھا دیا، مہر ظفر اقبال گوندل

احمدپورسیال (ذیشان ظفر گوندل، نامہ نگار کے قلم سے)

سماجی شخصیت مہر ظفر اقبال گوندل نے کہا ہے کہ مہنگائی نے غریب اور متوسط طبقے کے لیے روزمرہ زندگی کے اخراجات پورے کرنا مشکل بنا دیا ہے۔ ان کے مطابق محدود آمدنی رکھنے والے خاندانوں کو اشیائے ضروریہ، بجلی، ایل پی جی گیس، پٹرولیم مصنوعات، ادویات اور دیگر بنیادی ضروریات کے اخراجات میں توازن برقرار رکھنے میں مشکلات کا سامنا ہے۔

انہوں نے کہا کہ جب گھریلو اخراجات میں مسلسل اضافہ ہو اور آمدنی اس رفتار سے نہ بڑھے تو خاندانوں کے لیے نہ صرف روزمرہ ضروریات پوری کرنا مشکل ہوجاتا ہے بلکہ تعلیم، صحت اور مستقبل کے لیے بچت جیسے معاملات بھی متاثر ہوتے ہیں۔

محدود آمدنی والے خاندانوں پر دباؤ

مہر ظفر اقبال گوندل کے مطابق کم آمدنی والے خاندانوں کے لیے موجودہ معاشی صورتحال خاص طور پر مشکل ہے۔ ایک دیہاڑی دار مزدور کی روزانہ آمدنی کا بڑا حصہ راشن، بجلی کے بل، بچوں کی فیس، علاج معالجے اور سفری اخراجات سمیت بنیادی ضروریات پر خرچ ہوجاتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ایسی صورتحال میں بہت سے خاندان مستقبل کے لیے مالی منصوبہ بندی یا بچت کے بجائے اپنی فوری ضروریات پوری کرنے پر توجہ دینے پر مجبور ہوتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ عام آدمی کے لیے مسئلہ صرف کسی ایک چیز کی قیمت میں اضافہ نہیں بلکہ متعدد بنیادی اخراجات کا بیک وقت بڑھ جانا ہے، جس سے گھریلو بجٹ پر مجموعی دباؤ بڑھتا ہے۔

مہنگائی کے اثرات صرف راشن تک محدود نہیں

سماجی شخصیت نے کہا کہ مہنگائی کو صرف کھانے پینے کی اشیا کی قیمتوں تک محدود کرکے نہیں دیکھا جاسکتا۔ جب خاندان کے مجموعی اخراجات بڑھتے ہیں تو اس کے اثرات بچوں کی تعلیم، صحت، خوراک اور دیگر ضروریات پر بھی پڑ سکتے ہیں۔

ان کے مطابق کم آمدنی والے خاندانوں میں بجٹ محدود ہونے کی وجہ سے کسی ایک شعبے کے اخراجات بڑھنے کا اثر دوسرے ضروری اخراجات پر بھی پڑتا ہے۔ اسی طرح کاروباری لاگت میں اضافہ دکانداروں، تاجروں، صنعتکاروں اور مزدوروں کو بھی متاثر کرسکتا ہے۔

مقامی صنعت اور کاروبار کے فروغ پر زور

مہر ظفر اقبال گوندل نے کہا کہ ملک کی معاشی بہتری کے لیے پیداواری سرگرمیوں کو فروغ دینا ضروری ہے۔ ان کے مطابق صنعتوں کو درپیش مشکلات کم کرنے، سرمایہ کاری کے لیے سازگار ماحول پیدا کرنے اور چھوٹے و درمیانے کاروبار کو سہولیات فراہم کرنے سے معاشی سرگرمیوں میں اضافہ ہوسکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ مقامی سطح پر کاروبار اور صنعت مضبوط ہوں گے تو روزگار کے مزید مواقع پیدا ہونے کی گنجائش بڑھے گی، جس سے لوگوں کی آمدنی اور معاشی سرگرمیوں میں بہتری آسکتی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ معاشی پالیسیوں میں روزگار پیدا کرنے، کاروباری سرگرمیوں کو بڑھانے اور پیداواری شعبوں کو مضبوط بنانے پر خصوصی توجہ دی جانی چاہیے۔

وقتی ریلیف کے بجائے مستقل معاشی اقدامات کا مطالبہ

مہر ظفر اقبال گوندل نے کہا کہ مہنگائی کے مسئلے سے نمٹنے کے لیے صرف عارضی ریلیف کافی نہیں بلکہ طویل المدتی معاشی منصوبہ بندی کی ضرورت ہے۔

انہوں نے ضروری اشیا کی قیمتوں کی مؤثر نگرانی، ذخیرہ اندوزی اور ناجائز منافع خوری کے خلاف کارروائی، بجلی اور گیس کے اخراجات کم کرنے کے لیے اقدامات اور عام شہری کی آمدنی بڑھانے کے مواقع پیدا کرنے پر زور دیا۔

ان کے مطابق ایسی پالیسیوں کی ضرورت ہے جن کے اثرات براہ راست عام شہری تک پہنچ سکیں اور جن سے کم آمدنی والے خاندانوں کو مستقل بنیادوں پر معاشی سہارا مل سکے۔

روزگار کے مواقع بڑھانے پر زور

انہوں نے کہا کہ مہنگائی کا مقابلہ کرنے کے لیے آمدنی میں اضافے کے مواقع پیدا کرنا بھی ضروری ہے۔ اگر لوگوں کو باعزت اور مستقل روزگار میسر ہو تو وہ بڑھتے ہوئے اخراجات کا بہتر انداز میں مقابلہ کرسکتے ہیں۔

مہر ظفر اقبال گوندل کے مطابق نوجوانوں کے لیے روزگار، فنی تربیت اور کاروباری مواقع بڑھانے سے نہ صرف خاندانوں کی آمدنی بہتر ہوسکتی ہے بلکہ ملکی معیشت میں بھی انسانی وسائل کا مؤثر استعمال ممکن ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ چھوٹے کاروبار اور مقامی صنعت کو سہولت دینے سے ایسے افراد کے لیے بھی مواقع پیدا ہوسکتے ہیں جو محدود وسائل کے باعث بڑے کاروبار شروع نہیں کرسکتے۔

پیداواری معیشت مضبوط بنانے کی ضرورت

سماجی شخصیت نے کہا کہ پاکستان کے معاشی مسائل کا مستقل حل پیداواری معیشت کو مضبوط بنانے میں ہے۔ ان کے مطابق برآمدات میں اضافہ، مقامی صنعت کا فروغ، سرمایہ کاری میں اضافہ اور روزگار کے نئے مواقع معاشی استحکام کے لیے اہم ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ملکی معیشت میں ایسی سرگرمیوں کو فروغ دینے کی ضرورت ہے جن سے حقیقی پیداوار اور روزگار پیدا ہو۔ ان کے بقول جب تک عام شہری کی آمدنی اور قوت خرید بہتر نہیں ہوگی، معاشی ترقی کے فوائد معاشرے کے کم آمدنی والے طبقات تک مکمل طور پر منتقل ہونا مشکل رہے گا۔

عام آدمی کے لیے ریلیف کا مطالبہ

مہر ظفر اقبال گوندل نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ مہنگائی کے دباؤ کو کم کرنے کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں اور کم آمدنی والے طبقات کو حقیقی ریلیف فراہم کیا جائے۔

انہوں نے کہا کہ ضروری اشیا کی قیمتوں کی نگرانی کے ساتھ ساتھ روزگار کے مواقع میں اضافہ، کاروباری سرگرمیوں کی حوصلہ افزائی اور معاشی پالیسیوں میں عام شہری کے مفادات کو مدنظر رکھنا ضروری ہے۔

ان کے مطابق حکومت، متعلقہ اداروں، کاروباری طبقے اور معاشرے کے دیگر ذمہ دار طبقات کو معاشی مشکلات کے حل کے لیے اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔

تعلیم اور صحت بھی معاشی دباؤ سے متاثر ہوتے ہیں

انہوں نے کہا کہ جب خاندان کی آمدنی کا بڑا حصہ بنیادی ضروریات پر خرچ ہوجائے تو تعلیم اور صحت جیسے اہم شعبوں کے اخراجات بھی متاثر ہوسکتے ہیں۔

مہر ظفر اقبال گوندل کے مطابق کسی بھی معاشی پالیسی کا بنیادی مقصد یہ ہونا چاہیے کہ عام شہری کو بنیادی سہولیات تک مناسب رسائی حاصل ہو اور کم آمدنی کے باعث خاندان تعلیم یا علاج جیسی ضروریات سے محروم نہ ہوں۔

انہوں نے کہا کہ معاشی استحکام کا فائدہ اسی وقت زیادہ محسوس ہوگا جب اس کے اثرات عام شہری کی روزمرہ زندگی میں بھی نظر آئیں۔

حکومت سے طویل المدتی پالیسی کا مطالبہ

مہر ظفر اقبال گوندل نے کہا کہ حکومت کو مہنگائی، روزگار، توانائی کے اخراجات اور پیداواری سرگرمیوں جیسے مسائل کو الگ الگ دیکھنے کے بجائے ایک جامع معاشی پالیسی کے تحت حل کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔

ان کے مطابق مستقل معاشی بہتری کے لیے صنعت، زراعت، تجارت، برآمدات، چھوٹے کاروبار اور نوجوانوں کے روزگار سمیت مختلف شعبوں میں مربوط اقدامات کی ضرورت ہے۔

انہوں نے امید ظاہر کی کہ معاشی پالیسیوں میں عام شہری کے مسائل کو اہمیت دی جائے گی اور ایسے اقدامات کیے جائیں گے جن سے کم آمدنی والے خاندانوں کے مالی مسائل میں کمی آسکے۔

نتیجہ

مہر ظفر اقبال گوندل نے مہنگائی کے باعث غریب اور متوسط طبقے کو درپیش معاشی مشکلات پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے حکومت سے مؤثر اقدامات کا مطالبہ کیا ہے۔ ان کے مطابق مستقل معاشی بہتری کے لیے صرف وقتی ریلیف کے بجائے پیداواری معیشت، مقامی صنعت، سرمایہ کاری، برآمدات اور روزگار کے مواقع کو مضبوط بنانا ضروری ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ معاشی ترقی کا حقیقی فائدہ اسی وقت عام شہری تک پہنچے گا جب اس کی آمدنی، قوت خرید اور بنیادی سہولیات تک رسائی میں بہتری آئے گی۔

Ammar abbas

Ammar abbas

چیف ایگزیکٹو آفیسر – دی پاک گلوبل اردو نیٹ ورک

# Ammar Abbas — صحافت سے CEO تک کامیابی کا سفر **عمار عباس** ایک باصلاحیت، متحرک اور وژن رکھنے والے صحافی ہیں، جنہوں نے صحافت کے میدان سے اپنے پیشہ ورانہ سفر کا آغاز کیا اور اپنی محنت، صلاحیتوں اور...

💬 تبصرے (0)

اپنا تبصرہ لکھیں

ابھی تک کوئی تبصرہ نہیں۔ پہلے تبصرہ کرنے والے بنیں!