Sunday, September 27, 2026
FB
تازہ ترین

وزیراعظم شہباز شریف کی نیویارک میں عالمی رہنماؤں سے اہم ملاقاتیں، امن و استحکام پر تبادلہ خیال

وزیراعظم شہباز شریف نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس کے موقع پر متعدد عالمی رہنماؤں اور اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل سے ملاقاتیں کیں۔ ملاقاتوں میں دوطرفہ تعلقات، علاقائی و عالمی صورتحال، امن و استحکام، تجارت اور باہمی تعاون کے امور پر گفتگو ہوئی۔

وزیراعظم شہباز شریف کی نیویارک میں عالمی رہنماؤں سے اہم ملاقاتیں، امن و استحکام پر تبادلہ خیال

وزیراعظم کی نیویارک میں سفارتی سرگرمیاں جاری

وزیراعظم محمد شہباز شریف نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس کے موقع پر نیویارک میں عالمی رہنماؤں اور اقوام متحدہ کے اعلیٰ حکام سے اہم ملاقاتیں کیں۔ ملاقاتوں میں پاکستان کے دوطرفہ تعلقات، علاقائی صورتحال، عالمی امن و سلامتی اور باہمی مفادات سے متعلق امور زیر بحث آئے۔

وزیراعظم نے جنرل اسمبلی کے اجلاس میں پاکستان کی نمائندگی کرتے ہوئے عالمی برادری کے سامنے مکالمے، سفارت کاری اور تنازعات کے پرامن حل پر زور دیا۔ ان کی پانچ روزہ نیویارک مصروفیات میں عالمی رہنماؤں سے ملاقاتوں کے ساتھ اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتیریس سے ملاقات اور جنرل اسمبلی سے خطاب بھی شامل تھا۔

اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل سے ملاقات

وزیراعظم شہباز شریف نے اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتیریس سے ملاقات میں کثیرالجہتی نظام کے لیے پاکستان کے عزم کا اعادہ کیا۔

ملاقات میں عالمی امن و ترقی کے فروغ میں اقوام متحدہ کے مرکزی کردار اور اقوام متحدہ کے منشور کے اصولوں سے پاکستان کی وابستگی پر بھی بات ہوئی۔ وزیراعظم نے سیکریٹری جنرل کی قیادت اور عالمی سطح پر امن و تعاون کے لیے ان کی کوششوں کو سراہا۔

کینیا کے صدر سے دوطرفہ تعلقات پر گفتگو

وزیراعظم نے کینیا کے صدر ولیم روٹو سے بھی ملاقات کی۔ دونوں رہنماؤں نے پاکستان اور کینیا کے تعلقات کا جائزہ لیتے ہوئے سیاسی، اقتصادی، تجارتی، دفاعی، تعلیمی اور عوامی سطح پر روابط مزید بڑھانے کی خواہش کا اظہار کیا۔

ملاقات میں تجارت اور سرمایہ کاری کے فروغ پر بھی بات ہوئی۔ وزیراعظم نے دواسازی، ٹیکسٹائل، جراحی کے آلات اور زراعت سمیت مختلف شعبوں میں تعاون کے امکانات اجاگر کیے اور کینیا کے سرمایہ کاروں کو پاکستان میں سرمایہ کاری کے مواقع سے فائدہ اٹھانے کی دعوت دی۔

دونوں رہنماؤں نے علاقائی اور عالمی امور، پائیدار ترقی اور بین الاقوامی امن و سلامتی سے متعلق معاملات پر بھی تبادلہ خیال کیا۔ کینیا کے صدر نے حالیہ مغربی ایشیا اور خلیجی بحران کے دوران پاکستان کے سفارتی کردار کو سراہا۔

کویت کے ولی عہد سے علاقائی صورتحال پر تبادلہ خیال

وزیراعظم شہباز شریف نے کویت کے ولی عہد شیخ صباح خالد الحمد الصباح سے بھی ملاقات کی۔ دونوں رہنماؤں نے پاکستان اور کویت کے برادرانہ تعلقات اور باہمی تعاون کو مزید وسعت دینے کے امکانات پر گفتگو کی۔

ملاقات میں تجارت، سرمایہ کاری، توانائی اور افرادی قوت سمیت مختلف شعبوں میں تعاون بڑھانے پر زور دیا گیا۔ دونوں جانب سے علاقائی اور عالمی پیش رفت پر بھی تبادلہ خیال ہوا اور خطے میں امن، استحکام اور خوشحالی کے فروغ کے عزم کا اعادہ کیا گیا۔

آسٹریا اور صومالیہ کے رہنماؤں سے بھی ملاقاتیں

جنرل اسمبلی کے افتتاحی اجلاس کے موقع پر وزیراعظم شہباز شریف نے آسٹریا کے وفاقی چانسلر کرسٹیان اسٹاکر اور صومالیہ کے صدر حسن شیخ محمود سے بھی الگ الگ غیر رسمی ملاقاتیں کیں۔

پاکستانی وزارت اطلاعات کے مطابق ان ملاقاتوں میں دوطرفہ تعلقات، باہمی دلچسپی کے امور اور مختلف شعبوں میں تعاون سے متعلق معاملات پر گفتگو ہوئی۔

بوسنیا کی قیادت سے علاقائی و عالمی امور پر بات چیت

وزیراعظم نے بوسنیا و ہرزیگووینا کی پریزیڈنسی کے چیئرمین ڈینس بیچرووچ سے بھی ملاقات کی۔ دونوں رہنماؤں نے سیاسی، اقتصادی، دفاعی، تعلیم، ثقافت اور ہنرمند افرادی قوت کی نقل و حرکت سمیت مختلف شعبوں میں دوطرفہ تعلقات کا جائزہ لیا۔

ملاقات کے دوران علاقائی اور بین الاقوامی امور پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔ وزیراعظم نے بوسنیا و ہرزیگووینا کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے لیے پاکستان کی حمایت کا اعادہ کرتے ہوئے خطے کے استحکام کے لیے ایک مستحکم اور خوشحال بوسنیا کی اہمیت پر زور دیا۔

جنرل اسمبلی سے وزیراعظم کا اہم خطاب

وزیراعظم شہباز شریف نے جنرل اسمبلی کے اجلاس سے اپنے خطاب میں پاکستان کے علاقائی اور عالمی معاملات سے متعلق مؤقف پیش کیا۔ انہوں نے تنازعات کے حل کے لیے مذاکرات اور سفارت کاری کو اہم قرار دیتے ہوئے عالمی برادری پر امن کوششوں کو ترجیح دینے پر زور دیا۔

وزیراعظم نے مشرق وسطیٰ، فلسطین، کشمیر، دہشت گردی، اسلاموفوبیا، موسمیاتی تبدیلی اور عالمی اقتصادی چیلنجز سمیت مختلف امور پر پاکستان کی ترجیحات بیان کیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ پاکستان خطے میں پائیدار امن کے لیے سفارتی کوششیں جاری رکھے گا۔

علاقائی امن اور سفارت کاری پر زور

اقوام متحدہ کے اجلاس کے دوران وزیراعظم کی ملاقاتوں اور خطاب میں علاقائی امن کا معاملہ نمایاں رہا۔ پاکستان کی جانب سے حالیہ علاقائی کشیدگی کے خاتمے اور مذاکرات کے ذریعے تنازعات کے حل کی ضرورت پر زور دیا گیا۔

وزیراعظم نے اپنے خطاب میں کہا کہ پاکستان نے محاذ آرائی کے بجائے مکالمے اور جنگ کے بجائے امن کا راستہ اختیار کیا ہے۔ انہوں نے عالمی برادری پر زور دیا کہ موجودہ تنازعات کے حل کے لیے سفارتی ذرائع کو مؤثر بنایا جائے۔

پاکستان اور عالمی برادری کے لیے اہمیت

اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی عالمی رہنماؤں کے لیے نہ صرف عالمی مسائل پر اپنے مؤقف کے اظہار بلکہ دوطرفہ ملاقاتوں اور سفارتی رابطوں کا بھی اہم پلیٹ فارم ہے۔

پاکستان کے لیے اس موقع پر ہونے والی ملاقاتیں سیاسی روابط کے ساتھ ساتھ تجارت، سرمایہ کاری، توانائی، دفاع، تعلیم اور دیگر شعبوں میں تعاون کے امکانات پر بات چیت کا ذریعہ بنیں۔ وزیراعظم کی کینیا، کویت، بوسنیا و ہرزیگووینا، آسٹریا اور صومالیہ کی قیادت سے ملاقاتیں اسی وسیع سفارتی سرگرمی کا حصہ تھیں۔

وزیراعظم کا دورہ نیویارک مکمل

وزیراعظم شہباز شریف نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں پاکستان کی نمائندگی کے بعد 26 ستمبر کو نیویارک سے لندن کے لیے روانگی اختیار کی۔ سرکاری خبر رساں ادارے اے پی پی کے مطابق وزیراعظم نے اپنے پانچ روزہ دورے کے دوران جنرل اسمبلی سے خطاب کے علاوہ متعدد عالمی رہنماؤں سے علاقائی و عالمی سلامتی اور دوطرفہ مفادات سے متعلق امور پر بات چیت کی۔

نتیجہ

وزیراعظم شہباز شریف کی اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے موقع پر سفارتی سرگرمیوں میں عالمی رہنماؤں اور اقوام متحدہ کی قیادت سے متعدد ملاقاتیں شامل رہیں۔ ان رابطوں میں علاقائی امن و استحکام، عالمی سلامتی، دوطرفہ تعلقات، تجارت، سرمایہ کاری اور باہمی تعاون کے امور زیر بحث آئے، جبکہ وزیراعظم نے جنرل اسمبلی میں پاکستان کا مؤقف پیش کرتے ہوئے مذاکرات اور سفارت کاری کے ذریعے تنازعات کے حل پر زور دیا۔

Ammar abbas

Ammar abbas

چیف ایگزیکٹو آفیسر – دی پاک گلوبل اردو نیٹ ورک

# Ammar Abbas — صحافت سے CEO تک کامیابی کا سفر **عمار عباس** ایک باصلاحیت، متحرک اور وژن رکھنے والے صحافی ہیں، جنہوں نے صحافت کے میدان سے اپنے پیشہ ورانہ سفر کا آغاز کیا اور اپنی محنت، صلاحیتوں اور...

💬 تبصرے (0)

اپنا تبصرہ لکھیں

ابھی تک کوئی تبصرہ نہیں۔ پہلے تبصرہ کرنے والے بنیں!