Sunday, September 27, 2026
FB
تازہ ترین

پیٹرول سبسڈی پر وزیراعظم کی آئی ایم ایف سے بات چیت، غریب عوام کے لیے ریلیف جاری رکھنے کی کوشش

وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ پاکستان نے کم آمدنی والے شہریوں کے لیے فی لیٹر 100 روپے کی ٹارگٹڈ پیٹرول سبسڈی کے معاملے پر آئی ایم ایف کو اپنے مؤقف سے آگاہ کیا ہے۔ وزیراعظم کے مطابق آئی ایم ایف کی جانب سے اس پروگرام پر کوئی سنجیدہ اعتراض سامنے نہیں آیا۔ حکومت کا کہنا ہے کہ سبسڈی شفاف اور ہدفی نظام کے ذریعے مستحق صارفین تک پہنچائی جا رہی ہے۔

پیٹرول سبسڈی پر وزیراعظم کی آئی ایم ایف سے بات چیت، غریب عوام کے لیے ریلیف جاری رکھنے کی کوشش

پیٹرول سبسڈی کے معاملے پر وزیراعظم کی آئی ایم ایف سے گفتگو

وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات کی بڑھتی قیمتوں سے متاثر ہونے والے کم آمدنی والے شہریوں کو ریلیف دینے کے لیے شروع کیے گئے ٹارگٹڈ سبسڈی پروگرام کے معاملے پر آئی ایم ایف کو اپنے مؤقف سے آگاہ کیا ہے۔

وزیراعظم کے مطابق نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کے موقع پر آئی ایم ایف کی منیجنگ ڈائریکٹر کرسٹالینا جارجیوا سے ملاقات میں پاکستان کی معاشی صورتحال، اصلاحات اور عوام کو درپیش مشکلات پر بات ہوئی۔ انہوں نے بتایا کہ غریب اور کم آمدنی والے طبقے کے لیے فی لیٹر 100 روپے کے ہدفی ریلیف کے معاملے پر بھی تفصیلی گفتگو کی گئی۔

وزیراعظم نے کہا کہ آئی ایم ایف کی جانب سے ٹارگٹڈ پیٹرول سبسڈی پر کوئی سنجیدہ تحفظات سامنے نہیں آئے۔ تاہم اس پروگرام کی حتمی اور مسلسل پالیسی سمت کا انحصار حکومت کے مالی انتظامات اور آئی ایم ایف پروگرام کے تحت طے شدہ معاشی فریم ورک پر رہے گا۔

حکومت کا ٹارگٹڈ سبسڈی پروگرام

حکومت نے عالمی منڈی میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے اور اس کے نتیجے میں ملک میں پیدا ہونے والے معاشی دباؤ کے بعد کم آمدنی والے صارفین کے لیے خصوصی فیول ریلیف اسکیم شروع کی ہے۔

وزارت خزانہ کے مطابق اس پروگرام کے تحت موٹر سائیکلوں، رکشوں اور دیگر دو و تین پہیوں والی گاڑیوں کے غیر تجارتی صارفین کو فی لیٹر 100 روپے کے حساب سے محدود مقدار میں ریلیف فراہم کیا جا رہا ہے۔ 800 سی سی تک کی گاڑیوں کے مالکان بھی اس ہدفی پروگرام میں شامل ہیں۔

سرکاری طریقہ کار کے مطابق موٹر سائیکل اور دو و تین پہیوں والی گاڑیوں کے لیے ماہانہ زیادہ سے زیادہ 20 لیٹر جبکہ 800 سی سی تک کی گاڑیوں کے لیے 30 لیٹر تک ریلیف کی گنجائش رکھی گئی ہے۔ وزارت خزانہ کے مطابق ایک صارف یا مالک کو ایک گاڑی تک محدود رکھا گیا ہے۔

فی لیٹر 100 روپے ریلیف کیسے دیا جا رہا ہے؟

حکومت نے سبسڈی کو عمومی طور پر تمام صارفین کو دینے کے بجائے ٹارگٹڈ رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس کا مقصد یہ ہے کہ محدود سرکاری وسائل کو ان صارفین تک پہنچایا جائے جنہیں پیٹرول کی قیمتوں میں اضافے سے نسبتاً زیادہ مالی دباؤ کا سامنا ہے۔

وزارت خزانہ کے مطابق فیول پاس سسٹم کے ذریعے اس ریلیف کی ڈیجیٹل نگرانی اور شفاف تقسیم کا انتظام کیا گیا ہے۔ دو اور تین پہیوں والی گاڑیوں کے لیے ہفتہ وار 500 روپے تک جبکہ 800 سی سی تک کی گاڑیوں کے لیے مخصوص مدت کے حساب سے 1,000 روپے تک ریلیف کی ساخت بھی سرکاری پروگرام میں بیان کی گئی ہے۔

اس نظام کا بنیادی مقصد براہ راست قیمت کم کرنے کے بجائے اہل صارفین کو مخصوص مالی ریلیف فراہم کرنا ہے۔

وزیراعظم نے آئی ایم ایف کو کیا مؤقف دیا؟

وزیراعظم شہباز شریف کے مطابق انہوں نے آئی ایم ایف کی سربراہ کے سامنے پاکستان میں مہنگائی اور بڑھتی ہوئی پیٹرول قیمتوں کے باعث کم آمدنی والے طبقے کو درپیش مشکلات کا معاملہ اٹھایا۔

وزیراعظم نے کہا کہ حکومت نے ایک جامع اور شفاف طریقہ کار کے ذریعے ٹارگٹڈ سبسڈی فراہم کرنے کا انتظام کیا ہے اور آئی ایم ایف کی جانب سے اس پر کوئی سنجیدہ اعتراض ظاہر نہیں کیا گیا۔

آئی ایم ایف کی منیجنگ ڈائریکٹر کرسٹالینا جارجیوا نے وزیراعظم سے ملاقات کے بعد پاکستان کی اصلاحات کے حوالے سے کہا تھا کہ اصلاحات پر مضبوط عمل درآمد نے معاشی استحکام برقرار رکھنے، اعتماد بحال کرنے اور عالمی مارکیٹ تک دوبارہ رسائی میں مدد دی ہے۔ انہوں نے اصلاحات کا سلسلہ جاری رکھنے کو معاشی ترقی اور عوام کے معیار زندگی میں بہتری سے جوڑا۔

آئی ایم ایف پروگرام اور پیٹرولیم قیمتوں کا معاملہ

پاکستان اس وقت آئی ایم ایف کے ساتھ ایک وسیع معاشی پروگرام پر عمل کر رہا ہے، جس میں مالیاتی اصلاحات، توانائی کے شعبے میں بہتری، سماجی تحفظ اور معاشی عدم توازن کم کرنے سمیت متعدد شعبے شامل ہیں۔

وزارت خزانہ نے حال ہی میں ان رپورٹس کی تردید کی تھی جن میں پیٹرولیم ڈویلپمنٹ لیوی کو آئی ایم ایف پروگرام کا مرکزی نکتہ قرار دیا گیا تھا۔ وزارت نے واضح کیا کہ آئی ایم ایف پروگرام صرف ایک مالیاتی ہدف تک محدود نہیں بلکہ اس میں توانائی کے شعبے کی کارکردگی اور دیگر ساختی اصلاحات بھی شامل ہیں۔

وزارت خزانہ کے مطابق پیٹرولیم قیمتوں کی پالیسی پروگرام کے متفقہ فریم ورک کا حصہ ہے، جس میں ملکی ایندھن کی قیمتوں کو عالمی قیمتوں کے ساتھ باقاعدہ ایڈجسٹ کرنے کا اصول شامل ہے۔

سبسڈی اور عالمی تیل کی قیمتوں کا دباؤ

پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں حالیہ اضافے کے پس منظر میں عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ اور مشرق وسطیٰ کی کشیدہ صورتحال اہم عوامل رہے ہیں۔

پاکستان میں حکومت نے اسی دباؤ کو مدنظر رکھتے ہوئے عام قیمت میں یکساں کمی کے بجائے مخصوص صارفین کے لیے ہدفی ریلیف کا راستہ اختیار کیا ہے۔ سرکاری مؤقف کے مطابق اس طریقہ کار سے کم آمدنی والے شہریوں کو فوری سہارا دینے کے ساتھ ساتھ سبسڈی کے مالی بوجھ کو محدود رکھنے میں مدد مل سکتی ہے۔

پیٹرولیم ڈویژن کی جانب سے جاری تازہ معلومات کے مطابق حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں اور فیول ریلیف اسکیم کے انتظامی معاملات پر مسلسل نظر رکھی ہوئی ہے۔

عوام کو اب تک کتنا ریلیف ملا؟

وفاقی وزیر اطلاعات عطا تارڑ کے مطابق 21 ستمبر تک وزیراعظم کی خصوصی فیول اسکیم کے لیے 22 لاکھ سے زیادہ افراد رجسٹریشن کرا چکے تھے۔ ان میں تقریباً 92 فیصد موٹر سائیکل، چنگ چی اور رکشہ صارفین تھے۔

وزیر اطلاعات کے مطابق اس وقت تک تقریباً 19 لاکھ ٹوکن جاری کیے جا چکے تھے، جن میں تقریباً 18 لاکھ موٹر سائیکلوں، رکشوں اور چنگ چی صارفین کے لیے جبکہ تقریباً ایک لاکھ 52 ہزار ٹوکن 800 سی سی تک کی گاڑیوں کے لیے تھے۔

یہ اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ حکومت کی جانب سے شروع کیے گئے ریلیف پروگرام میں موٹر سائیکل اور دیگر چھوٹی گاڑیوں کے صارفین کا حصہ نمایاں ہے۔

پٹرول پمپس پر ریلیف کی فراہمی

حکومت نے فیول ریلیف اسکیم پر عمل درآمد کے لیے انتظامیہ اور پیٹرول پمپس کے درمیان رابطہ بھی بڑھایا ہے۔

وزیراعظم نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی تھی کہ پیٹرول پمپس پر سہولت ڈیسک قائم کیے جائیں تاکہ اہل شہریوں کو رجسٹریشن اور ریلیف حاصل کرنے کے طریقہ کار کے بارے میں رہنمائی فراہم کی جا سکے۔

بعد ازاں پیٹرولیم ڈیلرز نے بھی وزیراعظم کی فیول ریلیف اسکیم کے لیے تعاون کا اعلان کیا۔ پیٹرولیم ڈویژن کے مطابق پمپس پر ریلیف کی فراہمی اور ایندھن کی مسلسل دستیابی کے حوالے سے انتظامی اقدامات کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔

کیا سبسڈی سے پیٹرول کی عام قیمت کم ہوگی؟

موجودہ پروگرام کو عمومی قیمت میں کمی کے بجائے مخصوص صارفین کے لیے ٹارگٹڈ مالی ریلیف کے طور پر ڈیزائن کیا گیا ہے۔

اس لیے اس کا مطلب یہ نہیں کہ تمام صارفین کے لیے پیٹرول کی فی لیٹر سرکاری قیمت میں 100 روپے کی کمی کر دی گئی ہے۔ ریلیف مخصوص اہلیت، گاڑی کی قسم اور مقررہ ماہانہ مقدار سے منسلک ہے۔

حکومت نے اس نظام کو ڈیجیٹل اور ہدفی رکھنے کی وجہ بھی شفافیت اور مستحق افراد تک فائدہ پہنچانا قرار دی ہے۔

آئی ایم ایف کے مؤقف کی اہمیت

پیٹرول سبسڈی کا معاملہ پاکستان کے لیے اس لیے اہم ہے کہ حکومت کو ایک طرف عوام کو بڑھتی ہوئی توانائی قیمتوں سے ریلیف دینا ہے جبکہ دوسری طرف آئی ایم ایف پروگرام کے تحت مالی نظم و ضبط اور توانائی کے شعبے میں اصلاحات کو بھی برقرار رکھنا ہے۔

وزیراعظم کی جانب سے آئی ایم ایف کے ساتھ ہونے والی گفتگو میں اسی توازن کو اجاگر کیا گیا۔ حکومت کا مؤقف ہے کہ ٹارگٹڈ سبسڈی عام اور غیر محدود سبسڈی سے مختلف ہے اور اسے مخصوص کم آمدنی والے صارفین تک محدود رکھا گیا ہے۔

آئی ایم ایف کی جانب سے وزیراعظم کے ساتھ ملاقات کے بعد جاری بیان میں پاکستان کی اصلاحات اور معاشی استحکام کی کوششوں کا ذکر کیا گیا، تاہم فیول سبسڈی کے بارے میں وزیراعظم کی بیان کردہ تفصیلات کو آئی ایم ایف کی جانب سے الگ سے کسی تفصیلی منظوری کے اعلان کے طور پر نہیں پیش کیا گیا۔

آگے کیا ہوگا؟

پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں، جغرافیائی سیاسی حالات، زرمبادلہ کی صورتحال اور ملکی پالیسیوں سے متاثر ہوتی ہیں۔ پاکستان میں حکومت بھی قیمتوں کے تعین اور فیول ریلیف کے طریقہ کار پر مسلسل نظر رکھ رہی ہے۔

وزارت خزانہ کے مطابق آئی ایم ایف پروگرام میں توانائی کے شعبے کی کارکردگی اور معاشی عدم توازن کم کرنے کے اقدامات شامل ہیں، اس لیے مستقبل میں سبسڈی کی نوعیت اور دائرہ کار حکومت کی مالی گنجائش اور پروگرام کے مجموعی فریم ورک کے مطابق تبدیل ہو سکتا ہے۔

نتیجہ

وزیراعظم شہباز شریف نے پیٹرولیم مصنوعات کی بڑھتی قیمتوں کے اثرات کم کرنے کے لیے کم آمدنی والے شہریوں کو دی جانے والی ٹارگٹڈ سبسڈی کے معاملے پر آئی ایم ایف سے بات چیت کی ہے۔ وزیراعظم کے مطابق آئی ایم ایف کی جانب سے اس پروگرام پر کوئی سنجیدہ اعتراض سامنے نہیں آیا، جبکہ حکومت کا کہنا ہے کہ فی لیٹر 100 روپے کا ریلیف محدود اور شفاف نظام کے ذریعے اہل صارفین تک پہنچایا جا رہا ہے۔

حتمی طور پر اس اسکیم کا تسلسل عالمی تیل کی قیمتوں، ملکی مالی گنجائش اور پاکستان کے آئی ایم ایف پروگرام کے تحت جاری معاشی و توانائی اصلاحات سے جڑا رہے گا۔

Ammar abbas

Ammar abbas

چیف ایگزیکٹو آفیسر – دی پاک گلوبل اردو نیٹ ورک

# Ammar Abbas — صحافت سے CEO تک کامیابی کا سفر **عمار عباس** ایک باصلاحیت، متحرک اور وژن رکھنے والے صحافی ہیں، جنہوں نے صحافت کے میدان سے اپنے پیشہ ورانہ سفر کا آغاز کیا اور اپنی محنت، صلاحیتوں اور...

💬 تبصرے (0)

اپنا تبصرہ لکھیں

ابھی تک کوئی تبصرہ نہیں۔ پہلے تبصرہ کرنے والے بنیں!