Thursday, October 01, 2026
FB
تازہ ترین

پاکستان کا افغان طالبان حکومت سے ذمہ دار ریاست کا رویہ اپنانے کا مطالبہ

وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے افغان عبوری حکومت پر زور دیا ہے کہ وہ عسکریت پسندانہ سوچ سے نکل کر ذمہ دار ریاست کا طرزِ عمل اختیار کرے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان امن، مذاکرات اور پُرامن بقائے باہمی پر یقین رکھتا ہے، تاہم افغان سرزمین پر دہشت گردوں کی محفوظ پناہ گاہیں تشویش کا باعث ہیں۔

پاکستان کا افغان طالبان حکومت سے ذمہ دار ریاست کا رویہ اپنانے کا مطالبہ

پاکستان کا افغان حکومت سے ذمہ دارانہ طرزِ عمل کا مطالبہ

اسلام آباد: وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطا اللہ تارڑ نے افغان عبوری حکومت پر زور دیا ہے کہ وہ عسکریت پسندانہ سوچ سے نکل کر ذمہ دار ریاست کا طرزِ فکر اپنائے اور خطے میں پائیدار امن کے لیے عملی اقدامات کرے۔ انہوں نے کہا کہ افغانستان کی صورتحال پیچیدہ ہے اور اس کے دیرپا حل کے لیے سنجیدہ سیاسی کوششوں کی ضرورت ہے۔

عطا اللہ تارڑ نے یہ بات 29 ستمبر 2026 کو اسلام آباد میں افغانستان کی صورتحال اور امن کی جانب پیش رفت کے موضوع پر منعقدہ ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ ان کے مطابق پاکستان افغانستان کے مسئلے کا دوستانہ اور پُرامن حل چاہتا ہے اور اس مقصد کے لیے دونوں ملکوں کے درمیان مذاکرات کے مختلف ادوار بھی ہو چکے ہیں۔

پاکستان کا امن اور مذاکرات پر زور

وزیر اطلاعات نے کہا کہ پاکستان امن، مذاکرات اور پُرامن بقائے باہمی پر یقین رکھتا ہے۔ ان کے مطابق افغانستان کے ساتھ تعلقات میں بہتری اور خطے میں استحکام کے لیے بات چیت کا راستہ اہم ہے۔

پاکستانی وزارت خارجہ بھی حالیہ ہفتوں میں یہ مؤقف دہرا چکی ہے کہ اسلام آباد افغانستان کے ساتھ اپنے اختلافات کو مذاکرات اور سفارت کاری کے ذریعے حل کرنے کے لیے تیار ہے، تاہم اس کے لیے افغان سرزمین سے پاکستان کے خلاف دہشت گردی روکنے کے معاملے میں قابلِ تصدیق اقدامات ضروری ہیں۔

پاکستانی حکام کے مطابق چین، ترکیہ اور قطر سمیت بعض ممالک نے بھی دونوں ملکوں کے درمیان کشیدگی کم کرنے کے لیے سفارتی کوششوں میں کردار ادا کیا ہے۔

افغان سرزمین سے دہشت گردی کا معاملہ

پاکستان اور افغان طالبان حکومت کے درمیان بنیادی اختلافات میں افغان سرزمین سے پاکستان کے خلاف مبینہ دہشت گرد سرگرمیوں کا معاملہ شامل ہے۔

پاکستانی دفتر خارجہ کا مؤقف ہے کہ افغانستان میں موجود بعض عسکریت پسند گروہ پاکستان میں حملوں کے لیے افغان سرزمین استعمال کر رہے ہیں۔ اسلام آباد افغان حکومت سے مسلسل مطالبہ کرتا آیا ہے کہ وہ اپنی سرزمین کو پاکستان کے خلاف دہشت گردی کے لیے استعمال نہ ہونے دے۔

افغان طالبان حکومت پاکستان کے بعض الزامات کو مسترد کرتی رہی ہے، اس لیے دونوں جانب کے دعووں کو ان کے متعلقہ فریقوں کے مؤقف کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔

افغانستان میں امن سے علاقائی تجارت کے امکانات

عطا اللہ تارڑ نے افغانستان میں امن کو علاقائی تجارت اور رابطوں کے لیے بھی اہم قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ افغانستان میں امن قائم ہونے سے وسطی ایشیا سے پاکستان تک تجارتی راستوں کے فروغ میں مدد مل سکتی ہے۔

پاکستان جغرافیائی اعتبار سے افغانستان اور وسطی ایشیا کے درمیان رابطے کے لیے اہم راستہ رکھتا ہے۔ اسی وجہ سے اسلام آباد افغانستان میں امن و استحکام کو صرف دوطرفہ تعلقات کے تناظر میں نہیں بلکہ وسیع تر علاقائی رابطوں کے حوالے سے بھی اہم سمجھتا ہے۔

افغان عوام کے حقوق کا معاملہ

وزیر اطلاعات نے اپنے خطاب میں افغان عوام کے بنیادی حقوق اور مستقبل کے فیصلوں میں ان کی شمولیت پر بھی زور دیا۔ ان کے مطابق افغان عوام کو تعلیم، اجتماع، انجمن سازی اور معاشی آزادی سمیت بنیادی حقوق حاصل ہونے چاہئیں اور انہیں اپنے مستقبل کے بارے میں فیصلہ کرنے کا اختیار ملنا چاہیے۔

یہ معاملہ پاکستان کے افغانستان سے متعلق حالیہ بیانات میں سکیورٹی کے ساتھ ساتھ سیاسی اور انسانی پہلو کو بھی نمایاں کرتا ہے۔

حالیہ کشیدگی کا پس منظر

پاکستان اور افغانستان کے تعلقات اس وقت سکیورٹی کے شدید اختلافات سے گزر رہے ہیں۔ ستمبر کے دوران دونوں جانب سے سرحدی واقعات اور عسکری کارروائیوں سے متعلق مختلف دعوے سامنے آئے ہیں۔

رائٹرز کے مطابق 24 ستمبر کو پاکستان نے افغانستان میں متعدد مقامات پر فضائی حملے کیے اور کہا کہ کارروائی کا تعلق پاکستان پر مبینہ ڈرون حملوں سے تھا۔ افغان طالبان حکومت نے ان حملوں کے حوالے سے مختلف مؤقف اختیار کیا اور شہری ہلاکتوں کی اطلاع دی۔

اے پی کے مطابق دونوں ممالک کے درمیان حالیہ سرحدی جھڑپوں کے بارے میں بھی فریقین کے بیانات مختلف رہے ہیں اور بعض دعووں کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں ہو سکی۔

پاکستان کی جانب سے واضح مؤقف

پاکستانی وزارت خارجہ نے حالیہ بریفنگز میں کہا ہے کہ اسلام آباد افغانستان کے ساتھ ریاستی سطح پر مذاکرات کے لیے تیار ہے، لیکن کسی بھی مذاکراتی طریقہ کار کی پائیداری کا انحصار عملی اقدامات پر ہوگا۔

پاکستان کا مطالبہ ہے کہ افغان طالبان حکومت افغان سرزمین کو پاکستان کے خلاف دہشت گردی کے لیے استعمال ہونے سے روکے اور اس حوالے سے ٹھوس اور قابلِ تصدیق اقدامات کرے۔

وزارت خارجہ کے مطابق اگر دہشت گردی کے معاملے پر مؤثر تعاون ہو تو پاکستان تجارت، سرحدی رابطوں اور علاقائی کنیکٹیویٹی کو آگے بڑھانے کے لیے تیار ہے۔

پاکستان افغانستان میں کیا چاہتا ہے؟

پاکستانی حکام کے بیانات سے ظاہر ہوتا ہے کہ اسلام آباد افغانستان میں ایسا ماحول چاہتا ہے جہاں افغان سرزمین پاکستان سمیت کسی پڑوسی ملک کے خلاف دہشت گرد سرگرمیوں کے لیے استعمال نہ ہو۔

اس کے ساتھ پاکستان افغانستان کے ساتھ امن، مذاکرات، تجارت اور علاقائی رابطوں کے فروغ کی بات بھی کر رہا ہے۔ تاہم موجودہ کشیدگی میں سکیورٹی کا معاملہ دونوں ملکوں کے تعلقات میں مرکزی مسئلہ بنا ہوا ہے۔

خطے پر ممکنہ اثرات

پاکستان اور افغانستان کے درمیان مسلسل کشیدگی کا اثر صرف دونوں ملکوں تک محدود نہیں رہتا۔ سرحدی تجارت، آمدورفت، علاقائی رابطوں اور وسطی ایشیا تک تجارتی راستوں پر بھی اس صورتحال کے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔

دوسری طرف اگر دونوں ملک سکیورٹی کے بنیادی اختلافات کو مذاکرات کے ذریعے حل کرنے میں پیش رفت کرتے ہیں تو تجارت اور علاقائی رابطوں کے لیے زیادہ سازگار ماحول پیدا ہو سکتا ہے۔ اس حوالے سے کسی حتمی نتیجے کے لیے آئندہ مذاکرات اور عملی اقدامات اہم ہوں گے۔

نتیجہ

پاکستان نے افغان عبوری حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ عسکریت پسندانہ سوچ سے نکل کر ذمہ دار ریاست کا طرزِ عمل اپنائے اور افغان سرزمین سے پاکستان کے خلاف دہشت گردی روکنے کے لیے مؤثر اقدامات کرے۔ اسلام آباد نے ایک طرف امن، مذاکرات اور علاقائی رابطوں کی حمایت کا اعادہ کیا ہے، جبکہ دوسری جانب سکیورٹی معاملات پر قابلِ تصدیق پیش رفت کو اہم قرار دیا ہے۔ موجودہ صورتحال میں پاکستان اور افغانستان کے تعلقات میں بہتری کا انحصار آئندہ سفارتی رابطوں اور عملی اقدامات پر ہوگا۔

Ammar abbas

Ammar abbas

چیف ایگزیکٹو آفیسر – دی پاک گلوبل اردو نیٹ ورک

# Ammar Abbas — صحافت سے CEO تک کامیابی کا سفر **عمار عباس** ایک باصلاحیت، متحرک اور وژن رکھنے والے صحافی ہیں، جنہوں نے صحافت کے میدان سے اپنے پیشہ ورانہ سفر کا آغاز کیا اور اپنی محنت، صلاحیتوں اور...

💬 تبصرے (0)

اپنا تبصرہ لکھیں

ابھی تک کوئی تبصرہ نہیں۔ پہلے تبصرہ کرنے والے بنیں!