لاہور کی کوٹ لکھپت جیل میں قیدیوں کے درمیان ہونے والے جھگڑے کے نتیجے میں ایک قیدی جاں بحق جبکہ متعدد زخمی ہوگئے۔ واقعے کے بعد زخمی قیدیوں کو طبی امداد کے لیے لاہور جنرل اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں جیل حکام اور پولیس بھی موجود رہے۔
پنجاب محکمہ داخلہ نے واقعے کا فوری نوٹس لیتے ہوئے تین رکنی تحقیقاتی کمیٹی قائم کردی ہے۔ حکام کے مطابق کمیٹی قیدیوں اور جیل عملے کے بیانات ریکارڈ کرکے واقعے کی وجوہات اور ذمہ داروں کا تعین کرے گی۔
کوٹ لکھپت جیل میں قیدیوں کے درمیان جھگڑا
دستیاب اطلاعات کے مطابق کوٹ لکھپت جیل میں قیدیوں کے درمیان اچانک جھگڑا ہوا، جس کے دوران کئی قیدی زخمی ہوگئے۔ ابتدائی اطلاعات میں بتایا گیا ہے کہ واقعے میں ایک قیدی کو شدید چوٹیں آئیں اور اسے فوری طور پر اسپتال منتقل کیا گیا۔
پنجاب کے آئی جی جیل خانہ جات میاں سالک جلال کے مطابق جھگڑے میں چار قیدی زخمی ہوئے جبکہ اشرف نامی قیدی جانبر نہ ہوسکا۔ زخمیوں کو علاج کے لیے جنرل اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں بعض زخمیوں کی حالت تشویشناک بتائی گئی۔
واقعے کی نوعیت اور جھگڑے کے مکمل محرکات جاننے کے لیے جیل انتظامیہ اور متعلقہ پولیس حکام کی جانب سے کارروائی شروع کردی گئی ہے۔
جاں بحق قیدی کی شناخت
حکام کے مطابق جاں بحق ہونے والے قیدی کی عمر 42 سال تھی اور اس کا نام اشرف ولد برکت بتایا گیا ہے۔
اشرف کو شدید زخمی حالت میں لاہور جنرل اسپتال منتقل کیا گیا تھا، تاہم ڈاکٹروں نے طبی معائنے کے بعد اس کی موت کی تصدیق کردی۔ بعد ازاں جاں بحق قیدی کی لاش مردہ خانے منتقل کردی گئی۔
دستیاب رپورٹس کے مطابق اشرف قتل کے مقدمے میں کوٹ لکھپت جیل میں قید تھا۔
ایک قیدی زخمی حالت میں اسپتال منتقل
جھگڑے میں زخمی ہونے والے قیدیوں میں فلک شیر بھی شامل ہے، جو منشیات کے مقدمے میں جیل میں قید تھا۔
رپورٹس کے مطابق فلک شیر کو بھی زخمی حالت میں جنرل اسپتال منتقل کیا گیا جہاں اس کا علاج جاری ہے۔ دیگر زخمی قیدیوں کو بھی طبی امداد فراہم کی گئی۔
زخمی قیدیوں کی مکمل طبی صورتحال کے بارے میں مزید معلومات تحقیقاتی کارروائی کے دوران سامنے آنے کی توقع ہے۔
پنجاب محکمہ داخلہ کا واقعے کا نوٹس
پنجاب کے ہوم سیکریٹری نے کوٹ لکھپت جیل میں پیش آنے والے واقعے کا فوری نوٹس لیا اور معاملے کی اعلیٰ سطحی تحقیقات کا حکم دیا۔
محکمہ داخلہ کے ترجمان کے مطابق واقعے کی تحقیقات کے لیے تین رکنی کمیٹی تشکیل دی گئی ہے۔ کمیٹی میں ڈی آئی جی جیل خانہ جات لاہور محسن رفیق، ڈی آئی جی جیل خانہ جات ہیڈکوارٹرز شوکت فیروز اور ڈی آئی جی جیل خانہ جات انسپکشن نوید رؤف شامل ہیں۔
تحقیقاتی کمیٹی نے اپنا کام شروع کردیا ہے اور واقعے کے بارے میں زخمی قیدیوں اور جیل عملے کے بیانات ریکارڈ کیے جارہے ہیں۔
ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کا فیصلہ
پنجاب محکمہ داخلہ کے مطابق تحقیقاتی کمیٹی واقعے کے ذمہ دار افراد کی نشاندہی کرے گی۔ جن افراد کا جھگڑے میں کردار ثابت ہوگا، ان کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے گی۔
یہ تحقیقات اس لیے اہم ہیں کہ جیل کے اندر قیدیوں کے درمیان جھگڑے کی اصل وجہ، واقعے کے حالات اور انتظامی پہلوؤں کا تعین کیا جاسکے۔
زخمی قیدیوں کے علاج کی نگرانی
واقعے کے بعد پنجاب کے آئی جی جیل خانہ جات میاں سالک جلال اور ایڈیشنل سیکریٹری جیل خانہ جات رومان بورانہ جنرل اسپتال پہنچے اور زخمی قیدیوں کو فراہم کی جانے والی طبی سہولیات کی نگرانی کی۔
محکمہ داخلہ نے متعلقہ حکام کو زخمی قیدیوں کو ممکنہ بہترین طبی علاج فراہم کرنے کی ہدایت بھی کی ہے۔
اسپتال میں جیل حکام اور پولیس اہلکاروں کی موجودگی میں زخمی قیدیوں کا علاج جاری رہا۔
پولیس کی کارروائی شروع
کوٹ لکھپت پولیس بھی واقعے کے بعد جیل پہنچی اور قانونی کارروائی شروع کردی۔ ابتدائی طور پر پولیس اور جیل حکام نے واقعے سے متعلق معلومات جمع کرنا شروع کیں۔
جاں بحق قیدی کی لاش کو مردہ خانے منتقل کیے جانے کے بعد واقعے کے دیگر قانونی مراحل بھی مکمل کیے جارہے ہیں۔
تاہم جھگڑے کے مکمل محرکات اور اس میں ملوث تمام افراد کے کردار سے متعلق حتمی تفصیلات تحقیقاتی کمیٹی کی رپورٹ سامنے آنے کے بعد زیادہ واضح ہوں گی۔
واقعے کی اصل وجہ تحقیقات کے بعد سامنے آئے گی
ابتدائی میڈیا رپورٹس میں جھگڑے کی وجہ کے حوالے سے مختلف تفصیلات سامنے آئی ہیں، تاہم پنجاب محکمہ داخلہ کی جانب سے جاری معلومات میں فی الحال کسی حتمی وجہ کی تفصیلی تصدیق نہیں کی گئی۔
اسی لیے واقعے کی وجہ کے بارے میں کسی ایک دعوے کو حتمی حقیقت قرار دینا قبل از وقت ہوگا۔ تحقیقاتی کمیٹی کے ارکان قیدیوں اور جیل عملے کے بیانات ریکارڈ کررہے ہیں، جس کے بعد واقعے کے حالات کا تعین کیا جائے گا۔
جیل انتظامیہ سے جواب طلبی اور تحقیقات
تین رکنی کمیٹی کی تشکیل کے بعد تحقیقات کا دائرہ صرف قیدیوں کے باہمی جھگڑے تک محدود نہیں رہے گا بلکہ واقعے کے دوران جیل انتظامیہ کی جانب سے کیے گئے اقدامات اور زخمیوں کو فراہم کی جانے والی فوری طبی امداد کا بھی جائزہ لیا جاسکتا ہے۔
تحقیقاتی کارروائی کا بنیادی مقصد یہ معلوم کرنا ہے کہ جھگڑا کس طرح شروع ہوا، اس میں کون کون سے قیدی ملوث تھے، کتنے افراد زخمی ہوئے اور واقعے کے دوران جیل عملے نے کیا اقدامات کیے۔
حکام نے واضح کیا ہے کہ تحقیقات مکمل ہونے کے بعد ذمہ دار افراد کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے گی۔
کوٹ لکھپت جیل واقعے کی تازہ صورتحال
فی الحال دستیاب معلومات کے مطابق ایک قیدی جاں بحق ہوچکا ہے جبکہ متعدد قیدی زخمی ہوئے ہیں۔ چار زخمی قیدیوں کی اطلاع آئی جی جیل خانہ جات کے حوالے سے سامنے آئی ہے، جبکہ دیگر سرکاری اطلاعات میں زخمیوں کو مجموعی طور پر "متعدد" قرار دیا گیا ہے۔
تحقیقاتی کمیٹی نے کارروائی شروع کردی ہے اور زخمی قیدیوں و جیل عملے کے بیانات ریکارڈ کیے جارہے ہیں۔ دوسری جانب پولیس نے بھی قانونی کارروائی شروع کردی ہے۔
نتیجہ
کوٹ لکھپت جیل میں قیدیوں کے درمیان جھگڑے کے نتیجے میں ایک قیدی جاں بحق اور متعدد زخمی ہوئے ہیں۔ پنجاب محکمہ داخلہ نے واقعے کی مکمل وجوہات جاننے اور ذمہ داروں کا تعین کرنے کے لیے تین رکنی تحقیقاتی کمیٹی قائم کردی ہے۔ حتمی ذمہ داری اور جھگڑے کے مکمل محرکات تحقیقاتی کارروائی مکمل ہونے کے بعد سامنے آئیں گے۔
💬 تبصرے (0)
اپنا تبصرہ لکھیں
ابھی تک کوئی تبصرہ نہیں۔ پہلے تبصرہ کرنے والے بنیں!