Friday, October 02, 2026
FB
تازہ ترین

صومالیہ میں جاں بحق پاکستانیوں کی میتیں وطن لانے کی کوششیں تیز

صومالیہ میں ہائی جیک کیے گئے آئل ٹینکر ایم ٹی آنر 25 کی بازیابی کے آپریشن کے دوران تین پاکستانی شہری جاں بحق ہوگئے۔ دفتر خارجہ کے مطابق پاکستانی سفارتی حکام میتیں اپنی تحویل میں لے چکے ہیں اور انہیں ادیس ابابا کے راستے جلد پاکستان منتقل کرنے کے لیے انتظامات کیے جا رہے ہیں۔

صومالیہ میں جاں بحق پاکستانیوں کی میتیں وطن لانے کی کوششیں تیز

صومالیہ میں جاں بحق پاکستانیوں کی میتیں وطن لانے کی کوششیں تیز

صومالیہ کے ساحل کے قریب ہائی جیک کیے گئے آئل ٹینکر ایم ٹی آنر 25 کو بازیاب کرانے کے آپریشن کے دوران جاں بحق ہونے والے پاکستانی شہریوں کی میتیں وطن واپس لانے کے لیے پاکستان نے کوششیں تیز کردی ہیں۔

دفتر خارجہ کے مطابق آپریشن کے دوران پانچ عملے کے ارکان جاں بحق ہوئے، جن میں تین پاکستانی شہری شامل ہیں۔ پاکستانی سفارتی حکام نے جاں بحق افراد کی میتیں اپنی تحویل میں لے لی ہیں جبکہ زخمی پاکستانیوں کو صومالیہ میں طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔

تین پاکستانی شہری جاں بحق

دفتر خارجہ کے ترجمان کے مطابق صومالیہ میں جاں بحق ہونے والے پاکستانیوں کی شناخت رفیع اللہ خان، سید کاشف عمر اور محمود احمد انصاری کے نام سے ہوئی ہے۔

واقعے کے دوران چار دیگر افراد بھی زخمی ہوئے، جن میں تین پاکستانی شہری شامل ہیں۔ زخمی پاکستانیوں کو گاروے شہر منتقل کیا گیا، جہاں انہیں طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔

پاکستانی حکومت نے جاں بحق افراد کے اہل خانہ سے تعزیت کرتے ہوئے کہا ہے کہ زخمیوں کے علاج اور پاکستانی عملے کی بحفاظت وطن واپسی کے لیے صومالی حکام اور دیگر متعلقہ فریقوں سے رابطہ جاری ہے۔

میتیں پاکستان کیسے لائی جائیں گی؟

دفتر خارجہ کے مطابق جاں بحق پاکستانیوں کی میتیں صومالیہ میں موجود پاکستانی سفارتی نمائندوں کی تحویل میں ہیں۔ انہیں گاروے سے ادیس ابابا منتقل کیا جائے گا اور وہاں سے ایتھوپین ایئرلائنز کے ذریعے پاکستان لانے کا انتظام کیا جا رہا ہے۔

ترجمان کے مطابق میتوں کی واپسی کا حتمی وقت مقامی قانونی اور انتظامی کارروائیوں کے ساتھ ساتھ دیگر ضروری کلیئرنس پر منحصر ہوگا۔

پاکستان کے سفیر برائے جبوتی ادیس ابابا پہنچ کر انتظامات میں معاونت کر رہے ہیں، جبکہ نائب سربراہِ مشن گاروے میں موجود ہیں اور زخمی پاکستانیوں سمیت متاثرہ عملے سے رابطے میں ہیں۔

ایم ٹی آنر 25 کے ساتھ کیا ہوا؟

ایم ٹی آنر 25 کو رواں سال اپریل میں صومالیہ کے ساحل کے قریب قزاقوں نے ہائی جیک کرلیا تھا۔ جہاز پر مختلف ممالک سے تعلق رکھنے والے عملے کے ارکان موجود تھے، جن میں پاکستانی شہری بھی شامل تھے۔

صومالیہ کے نیم خودمختار علاقے پنٹ لینڈ کی سکیورٹی فورسز نے جہاز کو بازیاب کرانے کے لیے کارروائی کی۔ آپریشن کے دوران پانچ عملے کے ارکان جاں بحق ہوئے جبکہ متعدد افراد زخمی ہوئے۔ پنٹ لینڈ حکام کے مطابق کارروائی کے بعد متعدد مشتبہ قزاقوں کو گرفتار بھی کیا گیا۔

پاکستانی دفتر خارجہ کے مطابق جہاز پر موجود پاکستانی عملے کے ارکان کئی ماہ سے قزاقوں کی حراست میں تھے اور بازیابی کے آپریشن کا بنیادی مقصد عملے کو آزاد کرانا اور جہاز کا کنٹرول واپس حاصل کرنا تھا۔

زخمی پاکستانیوں کی حالت

آپریشن کے بعد زخمی پاکستانی عملے کو گاروے منتقل کیا گیا، جہاں انہیں طبی سہولتیں فراہم کی جا رہی ہیں۔

پاکستانی سفارتی حکام نے ہسپتال میں زیر علاج افراد سے رابطہ قائم کیا ہے اور دفتر خارجہ کے مطابق حکومت زخمیوں کو مناسب طبی امداد کی فراہمی اور ان کی جلد وطن واپسی کے لیے بھی کوششیں کر رہی ہے۔

میتوں اور زخمیوں کی واپسی کے انتظامات میں مقامی حکام، پاکستانی سفارتی مشن اور دیگر متعلقہ ادارے رابطے میں ہیں۔

اہل خانہ کی میتیں جلد واپس لانے کی اپیل

جاں بحق پاکستانیوں کے اہل خانہ نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ میتیں جلد از جلد پاکستان واپس لائی جائیں تاکہ انہیں آبائی علاقوں میں سپرد خاک کیا جاسکے۔

کراچی میں ایک جاں بحق پاکستانی شہری محمود احمد انصاری کے اہل خانہ نے بھی میت کی واپسی میں تیزی لانے کی اپیل کی ہے۔ خاندان کے مطابق کئی دن گزرنے کے باوجود میت پاکستان نہیں پہنچ سکی تھی۔

اس صورتحال کے باعث متاثرہ خاندانوں میں تشویش پائی جاتی ہے اور وہ حکومت سے سفارتی و انتظامی کارروائی مکمل کرکے میتیں جلد وطن پہنچانے کی توقع کر رہے ہیں۔

حکومت کا مؤقف

پاکستانی دفتر خارجہ نے واقعے پر گہرے دکھ کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت صومالی حکام اور دیگر متعلقہ فریقوں کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہے۔

حکومت کی ترجیحات میں زخمی پاکستانیوں کا علاج، جاں بحق شہریوں کی میتوں کی واپسی اور زندہ بچ جانے والے پاکستانی عملے کی محفوظ وطن واپسی شامل ہے۔

دفتر خارجہ نے واضح کیا ہے کہ میتوں کی منتقلی مقامی کارروائیوں اور ضروری طبی و سفری انتظامات مکمل ہونے کے بعد کی جائے گی۔

آئندہ کیا ہوگا؟

پاکستانی سفارتی ٹیم کی موجودگی میں اب میتوں کی منتقلی کے لیے ضروری انتظامات مکمل کیے جا رہے ہیں۔ منصوبے کے مطابق میتیں ادیس ابابا پہنچائی جائیں گی اور وہاں سے براہ راست پرواز کے ذریعے پاکستان لانے کی کوشش کی جائے گی۔

زخمی پاکستانیوں کی طبی حالت اور مقامی کارروائی بھی ان کی وطن واپسی کے وقت پر اثرانداز ہوسکتی ہے۔ دفتر خارجہ نے کہا ہے کہ حکومت اس معاملے کو ترجیحی بنیادوں پر دیکھ رہی ہے۔

نتیجہ

صومالیہ میں ایم ٹی آنر 25 کی بازیابی کے دوران تین پاکستانی شہریوں کی ہلاکت کے بعد ان کی میتیں وطن واپس لانے کے لیے پاکستانی سفارتی کوششیں جاری ہیں۔ دفتر خارجہ کے مطابق میتیں پاکستانی حکام کی تحویل میں ہیں اور انہیں ادیس ابابا کے راستے پاکستان منتقل کرنے کا انتظام کیا جا رہا ہے، جبکہ زخمی پاکستانیوں کو گاروے میں طبی امداد دی جا رہی ہے۔

Ammar abbas

Ammar abbas

چیف ایگزیکٹو آفیسر – دی پاک گلوبل اردو نیٹ ورک

# Ammar Abbas — صحافت سے CEO تک کامیابی کا سفر **عمار عباس** ایک باصلاحیت، متحرک اور وژن رکھنے والے صحافی ہیں، جنہوں نے صحافت کے میدان سے اپنے پیشہ ورانہ سفر کا آغاز کیا اور اپنی محنت، صلاحیتوں اور...

💬 تبصرے (0)

اپنا تبصرہ لکھیں

ابھی تک کوئی تبصرہ نہیں۔ پہلے تبصرہ کرنے والے بنیں!