Saturday, October 03, 2026
FB
تازہ ترین

مریم نواز کا جہاز پر تنقید کرنے والوں کو پھر جواب

وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے سرکاری طیارے کے استعمال پر ہونے والی تنقید کا ایک بار پھر جواب دیا ہے۔ لاہور میں خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ طیارہ ذاتی ملکیت نہیں بلکہ پنجاب حکومت کا ہے اور ان کے بقول ترقیاتی کاموں کے باوجود تنقید بار بار اسی معاملے تک محدود ہو جاتی ہے۔

مریم نواز کا جہاز پر تنقید کرنے والوں کو پھر جواب

مریم نواز نے طیارے پر تنقید کا کیا جواب دیا؟

وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے صوبائی حکومت کے زیرِ استعمال طیارے پر ہونے والی تنقید کا ایک بار پھر جواب دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ طیارہ ان کی ذاتی ملکیت نہیں بلکہ پنجاب حکومت کا ہے۔

لاہور میں نیشنل کمانڈ اتھارٹی کے سینئر آفیسرز لیڈرشپ کورس کے شرکا سے خطاب کے دوران مریم نواز نے طیارے کے معاملے پر ہونے والی تنقید کا حوالہ دیا اور کہا کہ حکومت کی جانب سے مختلف ترقیاتی منصوبوں اور عوامی اقدامات کے باوجود بحث دوبارہ جہاز تک پہنچ جاتی ہے۔

طیارہ پنجاب کا ہے، ذاتی ملکیت نہیں، مریم نواز

مریم نواز نے کہا کہ زیرِ بحث طیارہ پنجاب کا ہے اور وہ اسے اپنے ساتھ رائیونڈ نہیں لے کر جائیں گی۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ وزیراعلیٰ کی ذمہ داریوں میں مختلف مقامات کے دورے اور سرکاری امور کی انجام دہی شامل ہے۔

ان کے مطابق بیرون ملک سرکاری یا دیگر ضروری دوروں کے لیے تیز سفر کی ضرورت ہوتی ہے اور ہر سفر زمینی ذرائع سے ممکن نہیں ہوتا۔ انہوں نے طنزیہ انداز میں کہا کہ بیرون ملک ایوارڈز وصول کرنے کے لیے موٹر سائیکل پر سفر نہیں کیا جا سکتا۔

ترقیاتی منصوبوں کا حوالہ

وزیراعلیٰ پنجاب نے طیارے پر ہونے والی بحث کے ساتھ اپنی حکومت کے مختلف اقدامات کا بھی ذکر کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ رمضان پیکیج، سڑکوں کی تعمیر، سیوریج کے نظام میں بہتری اور ایئر ایمبولینس سمیت متعدد منصوبوں پر کام کیا گیا، تاہم ناقدین کی توجہ بار بار طیارے کی جانب چلی جاتی ہے۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ پنجاب میں بڑی تعداد میں ترقیاتی کام ہونے کے باوجود تنقید کا مرکز طیارہ بنا ہوا ہے۔ یہ مؤقف انہوں نے گزشتہ روز بھی مختلف گفتگو کے دوران دہرایا۔

دوسرے صوبوں کے اثاثوں کا بھی ذکر

مریم نواز نے طیارے کے دفاع میں دوسرے صوبوں کے سرکاری اثاثوں کا حوالہ بھی دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ بعض دوسرے صوبوں میں اس سے زیادہ مالیت کے ہیلی کاپٹر خریدے گئے لیکن ان پر اسی نوعیت کی تنقید نہیں کی جاتی۔

یہ اعداد و شمار مریم نواز کی جانب سے بطور دعویٰ بیان کیے گئے ہیں؛ ان کے خطاب میں پنجاب کے طیارے کی قیمت اور دیگر صوبوں کے ہیلی کاپٹرز کی مالیت کا تقابل کیا گیا۔

طیارے پر پہلے بھی وضاحت دے چکی ہیں

سرکاری طیارے کے استعمال کا معاملہ اس سے قبل بھی سیاسی اور عوامی بحث کا موضوع بن چکا ہے۔ ستمبر میں مریم نواز نے طیارے کے استعمال پر تنقید کا جواب دیتے ہوئے کہا تھا کہ وقت ان کے لیے اہم ہے اور طیارے کے ذریعے سفر سے وقت کی بچت ہوتی ہے۔ اس موقع پر انہوں نے یہ بھی کہا تھا کہ طیارے کے استعمال سے متعلق بعض اخراجات انہوں نے اپنی جانب سے ادا کیے۔

حالیہ خطاب میں بھی انہوں نے اسی معاملے پر اپنا مؤقف دہراتے ہوئے کہا کہ طیارہ پنجاب حکومت کا اثاثہ ہے، ذاتی ملکیت نہیں۔

طیارے کی خریداری پر پہلے کیا مؤقف سامنے آیا؟

اپریل 2026 میں پنجاب کے صوبائی وزیر برائے ٹرانسپورٹ بلال اکبر خان نے ایک انٹرویو میں بتایا تھا کہ وزیراعلیٰ پنجاب کے لیے طیارہ تبدیل کرنے کی ایک وجہ سابق وزیراعلیٰ شہباز شریف کے دور میں پرانے طیارے کے ساتھ پیش آنے والے تکنیکی مسائل تھے۔

ان کے مطابق 2017 میں دورانِ سفر طیارے کی کمیونیکیشن دو مرتبہ بند ہوئی تھی، جس کے بعد نئے طیارے کی خریداری کا فیصلہ کیا گیا۔ انہوں نے یہ بھی بتایا تھا کہ نئے طیارے کی دیکھ بھال اور آپریشن سے متعلق انتظامات معاہدے کا حصہ ہیں۔

بحث کا مرکزی نکتہ کیا ہے؟

طیارے کے معاملے پر بنیادی بحث سرکاری وسائل کے استعمال، حکومتی اثاثوں کی ضرورت اور ان کے اخراجات سے متعلق ہے۔ وزیراعلیٰ پنجاب کا مؤقف ہے کہ طیارہ سرکاری ضرورت کے تحت استعمال ہوتا ہے اور تیز سفر سے وقت کی بچت ہوتی ہے، جبکہ اس معاملے پر تنقید کرنے والے اس کے اخراجات اور سرکاری وسائل کے استعمال پر سوال اٹھاتے رہے ہیں۔

اس لیے طیارے سے متعلق سیاسی بحث میں حکومتی مؤقف اور ناقدین کے اعتراضات کو الگ الگ سمجھنا ضروری ہے۔ دستیاب حالیہ رپورٹس میں مریم نواز کے تازہ بیان کی بنیادی تفصیلات سامنے آتی ہیں، تاہم تمام مالی و انتظامی پہلوؤں کا جائزہ متعلقہ سرکاری ریکارڈ سے ہی مکمل طور پر لیا جا سکتا ہے۔

مریم نواز کا تازہ مؤقف

حالیہ خطاب میں وزیراعلیٰ پنجاب نے واضح کیا کہ ان کے نزدیک طیارے کا استعمال ان کے سرکاری فرائض اور سفر کی ضروریات سے متعلق ہے۔ انہوں نے اس تنقید کا جواب دیتے ہوئے اپنی حکومت کے دیگر منصوبوں اور اقدامات کا حوالہ بھی دیا۔

طیارے کے استعمال پر جاری بحث اب بھی حکومتی اخراجات، سرکاری اثاثوں کے استعمال اور سیاسی تنقید کے تناظر میں جاری ہے۔

نتیجہ

وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے سرکاری طیارے پر ہونے والی تنقید کا ایک بار پھر جواب دیتے ہوئے اسے پنجاب حکومت کا اثاثہ قرار دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ان کی حکومت کے دیگر ترقیاتی کاموں کے بجائے بار بار طیارے کے معاملے کو موضوع بنایا جاتا ہے، جبکہ ناقدین کی جانب سے سرکاری وسائل کے استعمال پر سوالات اٹھائے جاتے رہے ہیں۔

Ammar abbas

Ammar abbas

چیف ایگزیکٹو آفیسر – دی پاک گلوبل اردو نیٹ ورک

# Ammar Abbas — صحافت سے CEO تک کامیابی کا سفر **عمار عباس** ایک باصلاحیت، متحرک اور وژن رکھنے والے صحافی ہیں، جنہوں نے صحافت کے میدان سے اپنے پیشہ ورانہ سفر کا آغاز کیا اور اپنی محنت، صلاحیتوں اور...

💬 تبصرے (0)

اپنا تبصرہ لکھیں

ابھی تک کوئی تبصرہ نہیں۔ پہلے تبصرہ کرنے والے بنیں!