Sunday, October 04, 2026
FB
تازہ ترین

تحصیل پریس کلب: صحافیوں کا ادارہ یا ذاتی جاگیر؟

تحصیل پریس کلب صحافیوں کا اجتماعی پلیٹ فارم ہے، جہاں شفاف ممبرشپ، باقاعدہ انتخابات، فعال دفتر اور غیر جانب دار انتظامی نظام بنیادی اہمیت رکھتے ہیں۔ اس تحریر میں پریس کلب کے انتظامی معاملات، ممبرشپ کے معیار، مبینہ گروہی و سیاسی اثرورسوخ اور شفاف انتخابی عمل سے متعلق اہم سوالات اٹھائے گئے ہیں۔ مقصد کسی فرد کو نشانہ بنانا نہیں بلکہ صحافتی اداروں میں جمہوری اور شفاف طریقہ کار کی ضرورت اجاگر کرنا ہے۔

تحصیل پریس کلب: صحافیوں کا ادارہ یا ذاتی جاگیر؟

تحصیل پریس کلب: صحافیوں کا ادارہ یا ذاتی جاگیر؟

تلخ حقائق سے نظریں کب تک چرائی جائیں گی؟

ازقلم: ذیشان ظفر گوندل نمائندہ نامہ نگار روزنامہ قائد اسلام آباد، بیوروچیف روزنامہ عوامی آواز لاہور، چیف رپورٹر روزنامہ لوکل ویوز ملتان

تحصیل پریس کلب کا نام آتے ہی ذہن میں ایک ایسے ادارے کا تصور ابھرتا ہے جہاں صحافی آزادانہ طور پر بیٹھیں، مشاورت کریں، عوامی مسائل پر آواز بلند کریں اور اپنے پیشہ ورانہ حقوق کے لیے متحد ہوں۔ مگر بعض مقامات پر پریس کلب کے انتظامی معاملات، ممبرشپ، انتخابات اور دفتر کے فعال کردار کے حوالے سے سوالات اور شکایات سامنے آتی رہتی ہیں۔

اصل سوال یہ ہے کہ تحصیل پریس کلب آخر کس کے لیے ہے؟ چند افراد کے لیے، چند عہدوں کے لیے یا پوری صحافتی برادری کے لیے؟

اگر تحصیل پریس کلب واقعی صحافیوں کا اجتماعی ادارہ ہے تو اس کا دروازہ قواعد و ضوابط کے مطابق ہر اہل صحافی کے لیے کھلا ہونا چاہیے۔ دفتر صرف نام کی تختی تک محدود نہیں ہونا چاہیے بلکہ اسے صحافتی سرگرمیوں کا فعال مرکز ہونا چاہیے جہاں صحافی اپنے پیشہ ورانہ امور انجام دے سکیں، باہمی مشاورت کریں اور عوامی مسائل کو اجاگر کرنے کے لیے مؤثر کردار ادا کریں۔

عہدہ خدمت ہے، ملکیت نہیں

تحصیل پریس کلب کا کوئی بھی عہدہ کسی فرد کو مستقل اختیار نہیں دیتا۔ صدر، جنرل سیکرٹری یا کوئی بھی عہدیدار دراصل ممبران کا منتخب نمائندہ ہوتا ہے، مالک نہیں۔

اگر کسی تنظیم میں انتخابات مقررہ وقت پر نہ ہوں، ممبرشپ کی باقاعدہ جانچ نہ ہو، فیصلے محدود افراد تک رہیں اور عام ممبران کو اعتماد میں نہ لیا جائے تو ادارے کی شفافیت کے بارے میں سوالات پیدا ہونا فطری امر ہے۔

انتخابات کسی فرد کے خلاف نہیں ہوتے بلکہ ادارے کو مضبوط بنانے کے لیے ہوتے ہیں۔ شفاف انتخابی عمل کے ذریعے ممبران کو اپنی قیادت منتخب کرنے کا حق ملتا ہے اور تنظیمی نظام میں اعتماد پیدا ہوتا ہے۔

ممبرشپ کا معیار کیا ہے؟

یہ بھی ایک اہم سوال ہے کہ صحافی ہونے کا معیار کیا ہونا چاہیے؟

کیا صرف پریس کارڈ کافی ہے؟ کیا کسی اخبار یا ڈیجیٹل پلیٹ فارم کا نام کافی ہے؟ یا صحافت سے عملی وابستگی، باقاعدہ رپورٹنگ، شائع شدہ مواد اور پیشہ ورانہ کردار بھی دیکھا جانا چاہیے؟

اس سوال کا جواب جذبات سے نہیں بلکہ واضح اور تحریری قواعد کے ذریعے دیا جانا چاہیے۔

ممبرشپ کی شفاف سکرونٹی کسی کے خلاف انتقامی کارروائی نہیں بلکہ ادارے کی اصلاح کا ذریعہ بن سکتی ہے۔ ہر ممبر کا ریکارڈ دیکھا جائے، اس کی صحافتی وابستگی کی تصدیق کی جائے اور فیصلہ واضح قواعد کے تحت کیا جائے۔

جو اہل صحافی ہے اسے عزت کے ساتھ جگہ ملنی چاہیے، جبکہ اہلیت پر پورا نہ اترنے والے معاملے میں بھی فیصلہ ذاتی پسند و ناپسند کے بجائے دستاویزی ثبوت اور طے شدہ قواعد کی بنیاد پر ہونا چاہیے۔

سیاسی اثرورسوخ: اہم سوال

صحافی کا سیاسی نظریہ اس کا ذاتی معاملہ ہوسکتا ہے، لیکن کسی پریس کلب کا انتظامی نظام کسی سیاسی جماعت یا شخصیت کے زیرِ اثر نہیں ہونا چاہیے۔

اگر کسی سیاسی گروہ کی پسند و ناپسند یہ طے کرنے لگے کہ کون صحافی ہے، کون عہدیدار بنے گا اور کس کی آواز سنی جائے گی تو صحافتی آزادی اور ادارہ جاتی شفافیت کے بارے میں سوال پیدا ہوتے ہیں۔

تحصیل پریس کلب میں سیاست کے بجائے صحافت کے اصول غالب ہونے چاہئیں۔

صحافی حکومت سے بھی سوال کرے، اپوزیشن سے بھی سوال کرے، بااثر شخص سے بھی سوال کرے اور ضرورت پڑنے پر اپنے ساتھی سے بھی سوال کرے۔ یہی صحافت کی بنیادی ذمہ داری ہے۔

اختلاف ہو تو ثبوت کے ساتھ بات ہونی چاہیے

صحافتی حلقوں میں مختلف افراد کے لیے سخت القابات استعمال کیے جاتے ہیں، لیکن محض الزام یا ذاتی اختلاف کی بنیاد پر کسی شخص کو بدنام کرنا مناسب نہیں۔

اگر کسی شخص کے بارے میں اعتراض ہے تو ثبوت پیش کیے جائیں، ریکارڈ دیکھا جائے، متعلقہ فریق کا مؤقف لیا جائے اور آئینی و تنظیمی طریقہ کار کے تحت فیصلہ کیا جائے۔

صحافت کا اصول یہ نہیں کہ جس سے اختلاف ہو اسے بدنام کردیا جائے۔ اصول یہ ہے کہ اختلاف کو دلیل، ثبوت اور طے شدہ طریقہ کار کے ذریعے حل کیا جائے۔

انتظامیہ کا کردار

اگر کسی پریس کلب کے دفتر، ممبرشپ، انتخابات یا انتظامی معاملات کے حوالے سے شکایات موجود ہوں تو متعلقہ انتظامی حکام کو کسی فریق کی حمایت کے بجائے غیر جانب دار طریقہ کار اختیار کرنا چاہیے۔

ضرورت ہو تو مکمل ریکارڈ طلب کیا جائے، تمام متعلقہ فریقین کا مؤقف سنا جائے اور قواعد و ضوابط کے مطابق معاملے کو دیکھا جائے۔

ممبرشپ، دفتر کے استعمال، اوقاتِ کار اور انتظامی امور کے لیے واضح ضابطہ موجود ہو تو مستقبل میں پیدا ہونے والے بہت سے تنازعات سے بچا جاسکتا ہے۔

اصل حل: شفاف انتخابات

اختلافات کا جمہوری حل شفاف انتخابات ہیں۔

اگر ممبران اہل ہیں، ممبرشپ واضح ہے اور ادارے کا آئین موجود ہے تو انتخابی عمل کو باقاعدگی سے آگے بڑھایا جانا چاہیے۔

ممبران کو اپنی قیادت منتخب کرنے کا حق ملنا چاہیے۔ انتخابی عمل غیر جانب دار کمیٹی کی نگرانی میں ہو، ووٹر لسٹ پہلے سے واضح کی جائے، اعتراضات کے لیے مناسب وقت دیا جائے اور نتائج شفاف انداز میں مرتب کیے جائیں۔

جسے ممبران کا اعتماد حاصل ہو وہ ذمہ داری سنبھالے اور جمہوری فیصلے کو تمام فریقین تسلیم کریں۔

یہی تنظیمی نظم اور جمہوری اصولوں کا تقاضا ہے۔

صحافت کو اثرورسوخ کی جنگ نہ بنایا جائے

آج ضرورت اس بات کی ہے کہ صحافت کو ذاتی مفادات، عہدوں اور اثرورسوخ کی کشمکش سے نکالا جائے۔

صحافی کا اصل سرمایہ اس کا قلم، اس کی ساکھ اور اس کی دیانت ہے۔ عہدہ ختم ہوسکتا ہے، کرسی تبدیل ہوسکتی ہے اور پریس کارڈ بھی تبدیل ہوسکتا ہے، لیکن ایک صحافی کی ساکھ اس کے کردار اور کام سے بنتی ہے۔

اس لیے صحافیوں کو گروہ بندی کے بجائے ان کے کام، رپورٹنگ اور پیشہ ورانہ کردار سے پہچانا جانا چاہیے۔

آخری سوال

اب وقت آگیا ہے کہ ہم خود سے ایک تلخ سوال کریں:

کیا تحصیل پریس کلب واقعی صحافیوں کا ادارہ ہے یا اسے چند افراد کے درمیان اختیار کی تقسیم تک محدود کردیا گیا ہے؟

اگر یہ صحافیوں کا ادارہ ہے تو دروازے اصول کے مطابق کھلنے چاہئیں۔

اگر یہ جمہوری تنظیم ہے تو انتخابات ہونے چاہئیں۔

اگر یہ صحافت کا مرکز ہے تو دفتر فعال ہونا چاہیے۔

اگر یہاں میرٹ ہے تو ممبرشپ کی شفاف سکرونٹی ہونی چاہیے۔

اور اگر سیاسی مداخلت نہیں تو کسی سیاسی یا بااثر شخصیت کی پسند و ناپسند ادارے کے فیصلوں پر اثرانداز نہیں ہونی چاہیے۔

یہ کسی ایک فرد کے خلاف جنگ نہیں بلکہ ادارے کی اصلاح کا سوال ہے۔

صحافت کسی کی ذاتی جاگیر نہیں، تحصیل پریس کلب کسی کی ذاتی ملکیت نہیں اور قلم کسی کے دباؤ کا پابند نہیں ہونا چاہیے۔

ضرورت اس امر کی ہے کہ متعلقہ حکام شفاف سکرونٹی، مکمل ریکارڈ کی جانچ، فعال دفتر، واضح آئین، غیر جانب دار انتخابی عمل اور میرٹ پر مبنی ممبرشپ کے لیے عملی اقدامات کریں۔

کیونکہ جب ادارے شفاف ہوں گے تو صحافت مضبوط ہوگی، جب صحافت مضبوط ہوگی تو عوام کی آواز مضبوط ہوگی، اور جب عوام کی آواز مضبوط ہوگی تو جواب دہی کا نظام بھی بہتر ہوگا۔

قلم کو گروہی مفاد سے آزاد کرنا ہوگا۔

تحصیل پریس کلب کو ذاتی اثرورسوخ سے آزاد رکھنا ہوگا۔

اور صحافت کو دوبارہ عوام کی آواز بنانا ہوگا۔

یہی وقت کا سب سے تلخ، مگر سب سے ضروری سوال ہے۔

Zeeshan zafar gondal

Zeeshan zafar gondal

بیورو چیف

💬 تبصرے (0)

اپنا تبصرہ لکھیں

ابھی تک کوئی تبصرہ نہیں۔ پہلے تبصرہ کرنے والے بنیں!