Tuesday, October 20, 2026
FB
تازہ ترین

بجلی چوری روکنے کے لیے جدید نظام متعارف، لاہور اور قصور میں آزمائشی آغاز

حکومت نے بجلی چوری کی نشاندہی اور لائن لاسز کم کرنے کے لیے جدید ایڈوانسڈ پاور مینجمنٹ سسٹم متعارف کرانے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس نظام کے تحت پورے فیڈر کے بجائے مخصوص ٹرانسفارمر کی سطح پر بجلی چوری کی نشاندہی اور کارروائی ممکن ہوگی۔ لاہور اور قصور میں اس منصوبے کا آزمائشی آغاز جلد متوقع ہے، تاہم زیادہ نقصانات والے فیڈرز پر لوڈشیڈنگ جاری رہ سکتی ہے۔

بجلی چوری روکنے کے لیے جدید نظام متعارف، لاہور اور قصور میں آزمائشی آغاز

بجلی چوری روکنے کے لیے جدید نظام متعارف کرانے کا فیصلہ

حکومت نے بجلی چوری کی روک تھام، لائن لاسز میں کمی اور لوڈ مینجمنٹ کو بہتر بنانے کے لیے جدید ٹیکنالوجی پر مبنی نظام متعارف کرانے کا فیصلہ کیا ہے۔ ایڈوانسڈ پاور مینجمنٹ سسٹم (APMS) کے ذریعے بجلی کی تقسیم کے نظام میں ان مقامات کی زیادہ درست نشاندہی کی جا سکے گی جہاں بجلی چوری یا غیرمعمولی نقصانات ہو رہے ہیں۔

وزارتِ توانائی کے مطابق اس نظام کا مقصد یہ ہے کہ بجلی چوری کرنے والے صارفین کے خلاف مخصوص اور مؤثر کارروائی کی جائے اور باقاعدگی سے بل ادا کرنے والے صارفین کو غیرضروری لوڈشیڈنگ کا سامنا نہ کرنا پڑے۔

وفاقی وزیر برائے توانائی سردار اویس احمد خان لغاری نے ڈیرہ غازی خان میں گفتگو کرتے ہوئے جدید نظام کے ذریعے بجلی چوری اور لائن لاسز پر قابو پانے کے حکومتی منصوبے کی تفصیلات بیان کیں۔ اس منصوبے کے تحت پہلے مرحلے میں لاہور اور قصور میں آزمائشی کام شروع کیے جانے کی تیاری ہے۔

جدید نظام کیسے کام کرے گا؟

نئے نظام میں بجلی کی تقسیم کے نیٹ ورک کو صرف بڑے فیڈرز کی سطح پر دیکھنے کے بجائے ٹرانسفارمر کی سطح پر بھی مانیٹر کیا جائے گا۔ اس سے متعلقہ حکام کو یہ معلوم کرنے میں مدد ملے گی کہ بجلی کی فراہمی اور صارفین کے استعمال میں کتنا فرق موجود ہے۔

روایتی نظام میں ایک فیڈر سے منسلک بڑے علاقے میں بجلی چوری کی نشاندہی کرنا مشکل ہو سکتا ہے۔ ایسے حالات میں پورے فیڈر پر لوڈشیڈنگ کرنے سے ان صارفین کو بھی بجلی کی بندش برداشت کرنا پڑتی ہے جو اپنے بل باقاعدگی سے ادا کرتے ہیں۔

اے پی ایم ایس کے ذریعے ٹرانسفارمر سے فراہم ہونے والی بجلی اور اس سے منسلک صارفین کے استعمال کا موازنہ کیا جا سکے گا۔ اگر دونوں اعداد و شمار میں غیرمعمولی فرق سامنے آئے تو متعلقہ عملہ مزید جانچ پڑتال کرکے بجلی چوری یا لائن لاسز کی وجہ معلوم کر سکے گا۔

اس طریقے سے کارروائی کے دائرے کو محدود کرنے اور مسئلے کی اصل جگہ تک پہنچنے میں مدد ملنے کی توقع ہے۔

لاہور اور قصور میں آزمائشی منصوبہ

منصوبے کے ابتدائی مرحلے میں لاہور اور قصور کا انتخاب کیا گیا ہے۔ لاہور الیکٹرک سپلائی کمپنی (لیسکو) اس سلسلے میں ضروری تیاریوں پر کام کر رہی ہے۔

لیسکو کے ایک سرکاری ذریعے کے مطابق آزمائشی منصوبے کا آغاز جلد متوقع ہے اور وزیراعظم شہباز شریف اس کا افتتاح کریں گے۔ تاہم، دستیاب رپورٹ میں افتتاح کی حتمی تاریخ نہیں بتائی گئی۔

ابتدائی تجربے کے نتائج کی بنیاد پر نظام کو مرحلہ وار دیگر علاقوں تک پھیلانے کا منصوبہ ہے۔ اس لیے پورے ملک میں اس نظام کی تنصیب مکمل ہونے یا تمام علاقوں میں فوری طور پر لوڈشیڈنگ ختم ہونے کا دعویٰ کرنا قبل از وقت ہوگا۔

اسمارٹ میٹرز سے رابطہ

نئے نظام کو جدید اسمارٹ میٹرز کے ساتھ منسلک کرنے کا منصوبہ بھی شامل ہے۔ اسمارٹ میٹرز بجلی کے استعمال سے متعلق معلومات فراہم کرتے ہیں، جن کی مدد سے متعلقہ حکام کھپت اور نقصانات کا زیادہ مؤثر انداز میں جائزہ لے سکتے ہیں۔

منصوبے کے مطابق ٹرانسفارمرز پر اے پی ایم ایس کی تنصیب کے بعد روایتی میٹروں کو مرحلہ وار جدید میٹرنگ انفراسٹرکچر (AMI) کے میٹروں سے تبدیل کیا جائے گا۔ اس کے بعد دونوں نظاموں کو منسلک کرکے بجلی کے استعمال کی نگرانی بہتر بنانے کی کوشش کی جائے گی۔

جدید میٹرنگ کے ذریعے بجلی کے غیرمعمولی استعمال، میٹر کے ساتھ چھیڑ چھاڑ اور دیگر بے ضابطگیوں کی نشاندہی میں بھی مدد مل سکتی ہے۔ تاہم، عملی نتائج کا انحصار نظام کی تنصیب، ڈیٹا کی درستگی اور متعلقہ عملے کی کارروائی پر ہوگا۔

زیادہ نقصانات والے فیڈرز پر لوڈشیڈنگ برقرار

حکومت کے مجوزہ نظام سے متعلق اہم وضاحت یہ ہے کہ بجلی چوری کی روک تھام کے لیے ٹیکنالوجی متعارف کرانے کا مطلب یہ نہیں کہ تمام علاقوں سے لوڈشیڈنگ فوری طور پر ختم ہو جائے گی۔

وفاقی وزیر توانائی کے مطابق ایسے فیڈرز پر لوڈشیڈنگ جاری رہے گی جہاں بجلی کی ترسیل اور تقسیم کے نقصانات 30 فیصد یا اس سے زیادہ ہیں۔

موجودہ پالیسی کے تحت فیڈرز کو نقصانات کی شرح کے مطابق مختلف زمروں میں رکھا جاتا ہے۔ ان زمروں کے مطابق لوڈشیڈنگ کے دورانیے میں فرق ہوتا ہے۔ متعلقہ حکام کا مؤقف ہے کہ نئے نظام سے بجلی چوری کی نشاندہی زیادہ محدود سطح پر ممکن ہوگی، جس سے ان صارفین پر غیرضروری بوجھ کم کیا جا سکے گا جو باقاعدگی سے بل ادا کرتے ہیں۔

اس کے باوجود، جہاں نقصانات زیادہ ہوں گے وہاں بجلی کی بندش کے بارے میں حکومتی پالیسی اور متعلقہ قواعد اہم رہیں گے۔

بجلی چوری اور لائن لاسز پر قابو پانے کی کوشش

بجلی چوری پاکستان کے توانائی کے شعبے کو درپیش اہم مسائل میں شامل ہے۔ بجلی کی غیرقانونی کھپت اور تقسیم کے دوران ہونے والے نقصانات سے تقسیم کار کمپنیوں کی آمدن اور مجموعی نظام کی کارکردگی متاثر ہوتی ہے۔

جب بجلی کی فراہمی کے مقابلے میں بلنگ اور وصولیوں کا نظام مؤثر نہ ہو تو مالی نقصانات کا دباؤ پورے شعبے پر پڑتا ہے۔ اسی لیے حکومت جدید نگرانی، اسمارٹ میٹرنگ اور ٹرانسفارمر کی سطح پر ڈیٹا جمع کرنے جیسے اقدامات کے ذریعے نظام کو بہتر بنانے کی کوشش کر رہی ہے۔

نئے نظام کی افادیت کا انحصار صرف ٹیکنالوجی پر نہیں ہوگا بلکہ اس بات پر بھی ہوگا کہ مشتبہ نقصانات کی بروقت تحقیقات کی جائیں، بجلی چوری میں ملوث افراد کے خلاف قواعد کے مطابق کارروائی ہو اور میٹرنگ کا نظام درست طور پر کام کرے۔

صارفین کو کیا فائدہ ہو سکتا ہے؟

اگر منصوبہ مؤثر طریقے سے نافذ ہوتا ہے تو باقاعدگی سے بجلی کے بل ادا کرنے والے صارفین کو کچھ اہم فوائد مل سکتے ہیں۔

  • بجلی چوری والے مخصوص علاقوں کی زیادہ درست نشاندہی ممکن ہوگی۔
  • پورے فیڈر کے بجائے متعلقہ ٹرانسفارمر کی سطح پر کارروائی کی جا سکے گی۔
  • بجلی کی فراہمی اور کھپت میں فرق معلوم کرنے میں آسانی ہوگی۔
  • لائن لاسز کم کرنے اور تقسیم کار کمپنیوں کی کارکردگی بہتر بنانے میں مدد مل سکتی ہے۔
  • بجلی چوری کی وجہ سے دوسرے صارفین کو ہونے والی غیرضروری پریشانی کم ہو سکتی ہے۔

تاہم، یہ فوائد منصوبے کے مؤثر نفاذ سے مشروط ہیں۔ صارفین کو فوری طور پر بلوں میں کمی یا ہر علاقے میں لوڈشیڈنگ کے خاتمے کی ضمانت نہیں دی گئی۔

نتیجہ

حکومت کا ایڈوانسڈ پاور مینجمنٹ سسٹم متعارف کرانے کا منصوبہ بجلی چوری کی نشاندہی اور تقسیم کے نقصانات کم کرنے کی کوششوں میں ایک اہم قدم ہے۔ لاہور اور قصور میں آزمائشی آغاز کے بعد اس کی کارکردگی کا اندازہ ہوگا کہ یہ نظام بجلی چوری کی روک تھام اور باقاعدگی سے بل ادا کرنے والے صارفین کو غیرضروری لوڈشیڈنگ سے بچانے میں کس حد تک مدد دیتا ہے۔ فی الحال زیادہ نقصانات والے فیڈرز پر لوڈشیڈنگ جاری رہنے کا امکان برقرار ہے، اس لیے حتمی نتائج کے لیے منصوبے پر عمل درآمد اور سرکاری اعلانات کا انتظار کرنا ہوگا۔

Ammar abbas

Ammar abbas

چیف ایگزیکٹو آفیسر – دی پاک گلوبل اردو نیٹ ورک

# Ammar Abbas — صحافت سے CEO تک کامیابی کا سفر **عمار عباس** ایک باصلاحیت، متحرک اور وژن رکھنے والے صحافی ہیں، جنہوں نے صحافت کے میدان سے اپنے پیشہ ورانہ سفر کا آغاز کیا اور اپنی محنت، صلاحیتوں اور...

💬 تبصرے (0)

اپنا تبصرہ لکھیں

ابھی تک کوئی تبصرہ نہیں۔ پہلے تبصرہ کرنے والے بنیں!