کھلاڑی
علیم ڈار
Aleem Dar
پیدائش: 06 Jun 1968
Jhang, Punjab, Pakistan
تعارف
ابتدائی زندگی اور کرکٹ
علیم ڈار 6 جون 1968 کو جھنگ، پنجاب میں پیدا ہوئے۔ پاکستان کرکٹ بورڈ کے سرکاری پروفائل میں ان کا مکمل نام Aleem Dar اور جائے پیدائش Jhang, Punjab, Pakistan درج ہے۔ ابتدائی طور پر ان کا تعلق بطور کرکٹر کھیل سے رہا اور انہوں نے پاکستان کی مختلف مقامی و محکمانہ ٹیموں کے لیے فرسٹ کلاس کرکٹ کھیلی۔
ان کا کھیلنے کا دور 1986 سے 1998 تک رہا۔ دستیاب ریکارڈ کے مطابق انہوں نے 17 فرسٹ کلاس اور 18 لسٹ اے میچز کھیلے۔ فرسٹ کلاس کرکٹ میں وہ مڈل آرڈر بیٹر اور لیگ اسپنر کے طور پر کھیلتے تھے۔ ان کا کھیلنے کا کیریئر بین الاقوامی سطح تک نہیں پہنچا، لیکن یہی تجربہ بعد میں امپائرنگ میں ان کے لیے اہم بنیاد بنا۔
امپائرنگ کی طرف سفر
1998-99 کے قائداعظم ٹرافی سیزن میں علیم ڈار نے فرسٹ کلاس امپائرنگ کا آغاز کیا۔ اس کے بعد انہوں نے بہت تیزی سے بین الاقوامی امپائرنگ کی طرف پیش قدمی کی۔ فروری 2000 میں گوجرانوالہ میں پاکستان اور سری لنکا کے درمیان ون ڈے میچ ان کا بین الاقوامی امپائر کے طور پر ڈیبیو تھا۔
2003 میں انہوں نے ٹیسٹ امپائرنگ کا آغاز کیا۔ بنگلہ دیش اور انگلینڈ کے درمیان ڈھاکا میں کھیلا گیا ٹیسٹ ان کا پہلا ٹیسٹ میچ تھا۔ اسی دور میں وہ عالمی کرکٹ کے اہم امپائرنگ پینل کا حصہ بنتے گئے۔
آئی سی سی ایلیٹ پینل
علیم ڈار 2000 کی دہائی کے آغاز میں آئی سی سی کے اعلیٰ سطح کے امپائرنگ نظام میں شامل ہوئے۔ آئی سی سی کے مطابق وہ 2003 میں ایلیٹ پینل کا حصہ بنے اور بعد میں پاکستان کے پہلے ایسے امپائر بنے جو آئی سی سی ایلیٹ پینل تک پہنچے۔
ان کا امپائرنگ کیریئر ٹیسٹ، ون ڈے اور ٹی ٹوئنٹی سمیت بین الاقوامی کرکٹ کے بڑے مقابلوں تک پھیلا رہا۔ انہوں نے کئی عالمی کپ اور آئی سی سی کے بڑے ٹورنامنٹس میں ذمہ داریاں انجام دیں۔
عالمی کرکٹ میں نمایاں ذمہ داریاں
علیم ڈار نے آئی سی سی کرکٹ ورلڈ کپ 2007 اور 2011 کے فائنلز میں آن فیلڈ امپائر کی ذمہ داری انجام دی۔ اس کے علاوہ وہ 2010 اور 2012 کے آئی سی سی ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ فائنلز میں بھی امپائرنگ پینل کا حصہ رہے۔ آئی سی سی کے ریکارڈ کے مطابق انہوں نے متعدد ورلڈ کپ اور ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ ٹورنامنٹس میں خدمات انجام دیں۔
2012 میں وہ 150 ون ڈے میچوں میں امپائرنگ کرنے والے دنیا کے ساتویں امپائر بنے۔ یہ سنگِ میل انہوں نے لارڈز میں انگلینڈ اور آسٹریلیا کے درمیان ون ڈے کے دوران حاصل کیا۔
آئی سی سی امپائر آف دی ایئر ایوارڈ
علیم ڈار نے 2009، 2010 اور 2011 میں مسلسل تین مرتبہ ڈیوڈ شیپرڈ ٹرافی، یعنی آئی سی سی امپائر آف دی ایئر کا اعزاز حاصل کیا۔ آئی سی سی اور پاکستان کرکٹ بورڈ دونوں ان تین مسلسل ایوارڈز کی تصدیق کرتے ہیں۔
بین الاقوامی ریکارڈ
ان کا بین الاقوامی امپائرنگ کیریئر تقریباً ایک چوتھائی صدی پر محیط رہا۔ 2023 میں آئی سی سی انٹرنیشنل پینل میں نامزد کیے جانے کے وقت پی سی بی نے بتایا کہ وہ اس وقت تک 439 بین الاقوامی میچوں میں امپائرنگ کر چکے تھے، جن میں 145 ٹیسٹ، 225 ون ڈے اور 69 ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل شامل تھے۔
ان کے کیریئر میں ٹیسٹ امپائرنگ کا عالمی ریکارڈ بھی نمایاں رہا۔ 2019 میں آئی سی سی نے رپورٹ کیا کہ انہوں نے اس وقت تک 129 ٹیسٹ میچوں میں امپائرنگ کرکے اس فارمیٹ میں سابق امپائر اسٹیو بکنر کو پیچھے چھوڑ دیا تھا۔
ریٹائرمنٹ
ستمبر 2024 میں پاکستان کرکٹ بورڈ نے اعلان کیا کہ علیم ڈار 2024-25 کے ڈومیسٹک سیزن کے اختتام پر امپائرنگ سے ریٹائر ہوں گے۔ اس اعلان میں بتایا گیا کہ ان کا تقریباً 25 سالہ امپائرنگ کیریئر اختتام کی طرف بڑھ رہا تھا۔
جنوری 2026 میں پی سی بی نے اپنے بین الاقوامی میچ آفیشلز کے نئے پینلز کا اعلان کرتے ہوئے واضح کیا کہ علیم ڈار ریٹائر ہو چکے ہیں۔ اس کے بعد ان کی جگہ نئے امپائرز کو بین الاقوامی پینل میں شامل کیا گیا۔
یوں علیم ڈار کا مجموعی سفر ایک فرسٹ کلاس کرکٹر سے بین الاقوامی امپائر اور پھر آئی سی سی کے اعلیٰ ترین امپائرنگ پینل تک پہنچنے کی مثال کے طور پر ریکارڈ میں موجود ہے۔ ان کی شناخت بنیادی طور پر پاکستان کے سابق بین الاقوامی کرکٹ امپائر کے طور پر ہے۔
کارنامے
بین الاقوامی امپائرنگ
* 2000 میں پاکستان اور سری لنکا کے درمیان گوجرانوالہ ون ڈے سے بین الاقوامی امپائرنگ کا آغاز کیا۔
* 2003 میں بنگلہ دیش اور انگلینڈ کے درمیان ڈھاکا ٹیسٹ سے ٹیسٹ امپائرنگ کا آغاز کیا۔
* آئی سی سی ایلیٹ پینل میں شامل ہونے والے پہلے پاکستانی امپائر بنے۔
آئی سی سی اعزاز
* 2009، 2010 اور 2011 میں مسلسل تین مرتبہ ڈیوڈ شیپرڈ ٹرافی، آئی سی سی امپائر آف دی ایئر، حاصل کی۔
عالمی مقابلے
* 2007 اور 2011 کے آئی سی سی کرکٹ ورلڈ کپ فائنلز میں امپائرنگ کی۔
* 2010 اور 2012 کے آئی سی سی ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ فائنلز میں بھی امپائرنگ کی ذمہ داری انجام دی۔
* 2012 میں 150 ون ڈے میچوں میں امپائرنگ کرنے والے دنیا کے ساتویں امپائر بنے۔
طویل بین الاقوامی خدمات
* 2023 میں پی سی بی کے مطابق 439 بین الاقوامی میچوں میں امپائرنگ کر چکے تھے، جن میں 145 ٹیسٹ، 225 ون ڈے اور 69 ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل شامل تھے۔
* 2024-25 ڈومیسٹک سیزن کے اختتام پر امپائرنگ سے ریٹائر ہوئے۔
مشہور کام
اہم امپائرنگ خدمات
* پاکستان اور سری لنکا کے درمیان 2000 کے ون ڈے سے بین الاقوامی امپائرنگ کا آغاز۔
* 2003 میں ٹیسٹ امپائرنگ کا آغاز اور بعد میں آئی سی سی کے ایلیٹ پینل میں شمولیت۔
* آئی سی سی کرکٹ ورلڈ کپ 2007 اور 2011 کے فائنلز میں امپائرنگ۔
* آئی سی سی ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ 2010 اور 2012 کے فائنلز میں امپائرنگ۔
نمایاں عالمی ریکارڈ
* 150 ون ڈے میچوں میں امپائرنگ کرنے والے دنیا کے ساتویں امپائر بننا۔
* 2019 میں 129 ٹیسٹ میچوں میں امپائرنگ مکمل کرکے اس وقت ٹیسٹ امپائرنگ کے سابق عالمی ریکارڈ کو پیچھے چھوڑنا۔
آئی سی سی ایوارڈ کا ریکارڈ
* 2009، 2010 اور 2011 میں مسلسل تین مرتبہ آئی سی سی امپائر آف دی ایئر کا اعزاز حاصل کرنا۔
پاکستان کرکٹ میں خدمات
* پاکستان کرکٹ بورڈ کے ڈومیسٹک اور بین الاقوامی میچ آفیشلز کے نظام میں طویل عرصے تک خدمات انجام دیں اور 2024-25 سیزن کے اختتام پر ریٹائر ہوئے۔
تاریخ پیدائش
06 Jun 1968
جائے پیدائش
Jhang, Punjab, Pakistan