مذہبی شخصیات
آیت اللہ العظمیٰ علامہ محمد حسین نجفی
Grand Ayatollah Allama Muhammad Hussain Najafi
پیدائش: 10 Apr 1932
وفات: 21 Aug 2023
جہانیاں شاہ، ضلع سرگودھا، پنجاب، برطانوی ہندوستان
تعارف
ابتدائی زندگی اور خاندانی پس منظر
آیت اللہ العظمیٰ علامہ شیخ محمد حسین نجفی، جنہیں محمد حسین ڈھکو کے نام سے بھی جانا جاتا تھا، پاکستان کے معروف شیعہ عالم دین، فقیہ، مفسر قرآن، محقق اور مصنف تھے۔ وہ 10 اپریل 1932ء کو جہانیاں شاہ، ضلع سرگودھا میں پیدا ہوئے۔ ان کا تعلق ڈھکو خاندان سے تھا۔ ان کے والد رانا تاج الدین کی خواہش تھی کہ ان کا بیٹا دینی علوم حاصل کرکے ایک بڑا عالم بنے۔ والد کے انتقال کے بعد ان کی والدہ نے بھی اسی خواہش کو آگے بڑھایا اور محمد حسین نجفی کو دینی تعلیم کے لیے مدرسے میں داخل کرایا۔
دینی تعلیم کا آغاز
ابتدائی تعلیم کے بعد انہوں نے مدرسہ محمدیہ جلالپور ننکیانہ میں دینی علوم حاصل کیے، جہاں آیت اللہ علامہ حسین بخش نجفی المعروف جرا ان کے اہم اساتذہ میں شامل تھے۔ 1947ء میں انہوں نے جھنگ میں آیت اللہ علامہ محمد باقر نقوی چکڑالوی سے درسِ نظامی کے علوم پڑھے۔ بعد ازاں علامہ محمد یار شاہ نجفی سے بھی تعلیم حاصل کی اور تقریباً پانچ سال تک جلالپور میں دینی تعلیم کا سلسلہ جاری رکھا۔ 1953ء میں انہوں نے پنجاب یونیورسٹی سے مولوی فاضل کا امتحان پاس کیا۔
نجف میں اعلیٰ دینی تعلیم
1954ء میں وہ اعلیٰ دینی تعلیم کے لیے نجف اشرف گئے۔ وہاں انہوں نے حوزہ علمیہ نجف میں متعدد جید علما اور مراجع سے فقہ، اصول، حدیث، رجال، علم کلام، مناظرہ اور دیگر اسلامی علوم پڑھے۔ ان کے معروف اساتذہ میں آیت اللہ محسن الحکیم، آیت اللہ سید جواد تبریزی، آیت اللہ مرزا باقر زنجانی، آیت اللہ بزرگ طہرانی، آیت اللہ محمود شاہرودی اور آیت اللہ عبدالعلی سبزواری شامل تھے۔
نجف میں قیام کے دوران انہوں نے تصنیف و تحقیق کا سلسلہ بھی شروع کیا۔ ان کی ابتدائی علمی کاوشوں میں اثبات الامامہ، تحقیقات الفریقین فی حدیث الثقلین اور بعض اہم تراجم شامل تھے۔ ان کے متعدد علمی کاموں کا ذکر علمی کتب کے حوالے سے بھی ملتا ہے۔
اجتہاد اور علمی مقام
نجف میں دینی تعلیم مکمل کرنے کے بعد انہیں متعدد معروف مراجع کی جانب سے اجازۂ اجتہاد حاصل ہوا۔ 1960ء میں پاکستان واپسی کے بعد انہوں نے سرگودھا میں دینی تعلیم، تدریس، تصنیف اور مذہبی رہنمائی کا سلسلہ جاری رکھا۔ بعد میں وہ پاکستان میں شیعہ فقہ کے نمایاں علما میں شمار ہوئے اور ایک بڑی تعداد ان سے فقہی مسائل میں رجوع کرتی رہی۔
پاکستان میں تدریسی خدمات
پاکستان واپس آنے کے بعد وہ دارالعلوم محمدیہ سرگودھا کے سربراہ مقرر ہوئے۔ انہوں نے مدرسہ اور دینی تعلیم کے ذریعے نئی نسل کی علمی تربیت میں اہم کردار ادا کیا۔ 1963ء میں شیعہ مدارس کے منتظمین کی ایک تنظیم کے قیام میں بھی ان کا کردار رہا اور انہیں اس تنظیم کا صدر منتخب کیا گیا۔ 1965ء میں مؤتمر علمائے شیعہ پاکستان کے قیام کے موقع پر بھی انہیں صدر کی ذمہ داری دی گئی۔
دینی اور مذہبی اداروں کا قیام
علامہ محمد حسین نجفی نے پاکستان میں دینی تعلیم کے اداروں کے فروغ پر خصوصی توجہ دی۔ 1978ء میں سرگودھا میں جامعہ علمیہ سلطان المدارس الاسلامیہ کے قیام کے لیے زمین فراہم ہوئی اور یہ ادارہ بعد میں دینی تعلیم کا ایک اہم مرکز بنا۔ 2004ء میں انہوں نے خواتین کی دینی تعلیم کے لیے جامعہ عقیلہ بنی ہاشم قائم کیا۔ ان کی سرپرستی میں پنجاب اور دیگر علاقوں کے متعدد دینی مدارس بھی کام کرتے رہے۔
علمی اور فکری خدمات
ان کی علمی زندگی کا نمایاں پہلو قرآن، حدیث، فقہ، عقائد، علم کلام اور مذہبی مسائل پر تصنیف و تحقیق تھا۔ انہوں نے مشکل دینی موضوعات کو اردو زبان میں عام قارئین اور طلبہ کے لیے قابلِ فہم بنانے کی کوشش کی۔ ان کی تحریروں میں فقہی مسائل، عقائد، تفسیر، حدیث اور مذہبی مناظرات جیسے موضوعات شامل تھے۔
وفات
آیت اللہ العظمیٰ علامہ محمد حسین نجفی 21 اگست 2023ء کو اسلام آباد کے ایک ہسپتال میں انتقال کرگئے۔ ان کی نمازِ جنازہ سرگودھا میں جامعہ علمیہ سلطان المدارس میں ادا کی گئی اور انہیں سرگودھا میں سپردِ خاک کیا گیا۔ ان کے انتقال پر پاکستان کے مختلف مذہبی و علمی حلقوں کی جانب سے تعزیتی بیانات اور خراجِ عقیدت پیش کیا گیا۔
کارنامے
دینی و علمی مقام
* پاکستان کے معروف شیعہ عالم دین، فقیہ، مفسر قرآن اور محقق کی حیثیت سے خدمات انجام دیں۔
* نجف اشرف میں اعلیٰ دینی تعلیم حاصل کی اور متعدد جید مراجع سے علمی استفادہ کیا۔
* مختلف معروف مراجع سے اجازۂ اجتہاد حاصل کیا۔
تدریسی خدمات
* دارالعلوم محمدیہ سرگودھا کے سربراہ کی حیثیت سے دینی تعلیم و تدریس کی خدمات انجام دیں۔
* پاکستان میں شیعہ دینی مدارس کے تعلیمی نظام کو منظم کرنے کی کوششوں میں حصہ لیا۔
* متعدد مدارس کی سرپرستی اور دینی تعلیم کے فروغ میں کردار ادا کیا۔
ادارہ سازی
* جامعہ علمیہ سلطان المدارس الاسلامیہ سرگودھا کے قیام اور تعلیمی سرگرمیوں میں اہم کردار ادا کیا۔
* خواتین کی دینی تعلیم کے لیے جامعہ عقیلہ بنی ہاشم قائم کیا۔
* مختلف علاقوں میں دینی مدارس کی سرپرستی کی۔
مذہبی و فقہی خدمات
* فقہ جعفریہ کے مسائل کو اردو زبان میں عام کرنے کے لیے اہم کام کیا۔
* توضیح المسائل اور فقہی موضوعات پر کتب تحریر کیں۔
* قرآن، حدیث، عقائد اور علم کلام کے موضوعات پر تحقیق و تصنیف کی۔
* ان کی تحریروں نے پاکستان میں شیعہ مذہبی مطالعات کے اردو لٹریچر میں اضافہ کیا۔
علمی تنظیموں میں کردار
* 1963ء میں شیعہ مدارس کی تنظیم کے قیام میں حصہ لیا اور اس کے صدر منتخب ہوئے۔
* 1965ء میں مؤتمر علمائے شیعہ پاکستان کی تشکیل میں کردار ادا کیا اور اس کی صدارت کی۔
علمی ورثہ
* ان کی تصانیف، تراجم اور دینی ادارے ان کے علمی ورثے کا اہم حصہ ہیں۔
* ان کی وفات کے بعد بھی ان کی متعدد کتب دینی و فقہی مطالعے میں استعمال ہوتی ہیں۔
مشہور کام
معروف تصانیف
* تفسیر فیضان الرحمن — قرآن مجید کی تفسیر پر مبنی اہم تصنیف، جو متعدد جلدوں میں شائع ہوئی۔
* اثبات الامامۃ — امامت کے موضوع پر علمی کتاب۔
* احسن الفوائد فی شرح العقائد — عقائد سے متعلق اہم شرح۔
* اصول الشریعہ فی عقائد الشیعہ — اسلامی عقائد کے موضوع پر علمی تصنیف۔
* قوانین الشریعہ فی فقہ الجعفریہ — فقہ جعفریہ کے مسائل پر معروف فقہی کتاب۔
* خلاصۃ الاحکام — فقہی مسائل کا مختصر مجموعہ۔
* تحقیقات الفریقین فی حدیث الثقلین — حدیثِ ثقلین کے حوالے سے تحقیقی کام۔
* اسلام اور حرمت غنا — غنا کے شرعی مسئلے پر کتاب۔
* اسلام اور حرمت ریش تراشی — ریش تراشی کے فقہی مسئلے پر تصنیف۔
* اسلام اور وجوب نماز جمعہ — نماز جمعہ کے وجوب سے متعلق علمی بحث۔
* اعتقادات امامیہ — امامیہ عقائد کے موضوع پر ترجمہ و شرح۔
* سعادت الدارین فی مقتل الحسینؑ — واقعۂ کربلا اور شہادتِ امام حسینؑ کے موضوع سے متعلق تصنیف۔
اہم تراجم
* مسائل الشریعہ — وسائل الشیعہ کا اردو ترجمہ۔
* کواکب مضیئہ — الجواہر السنیہ فی احادیث القدسیہ کا اردو ترجمہ۔
* عقد الجمعان — مفاتیح الجنان کا اردو ترجمہ۔
* فیض الرحمن — لؤلؤ و المرجان کا اردو ترجمہ۔
* آداب المفید و المستفید — منیۃ المرید کا اردو ترجمہ۔
دیگر علمی آثار
* تجلیات صداقت
* تنزیہ الامامیہ
* ختم نبوت بر ختمی مرتبت ﷺ
* حالات شہدائے خمسہ
* اصلاح المجالس و المحافل
* اصلاح الرسوم الظاہرہ بکلام العترت الطاہرہ
ان تصانیف اور تراجم کے ذریعے انہوں نے فقہ، عقائد، تفسیر، حدیث اور مذہبی مسائل کے اردو لٹریچر میں نمایاں اضافہ کیا۔
تاریخ پیدائش
10 Apr 1932
تاریخ وفات
21 Aug 2023
جائے پیدائش
جہانیاں شاہ، ضلع سرگودھا، پنجاب، برطانوی ہندوستان