اداکار
نعمان اعجاز
Nauman Ijaz
پیدائش: 14 Feb 1965
لاہور، پنجاب، پاکستان
تعارف
عمان اعجاز پاکستان کے معروف ٹیلی وژن اور فلم اداکار ہیں جنہوں نے تین دہائیوں سے زیادہ عرصے پر محیط اپنے فنی سفر میں مختلف نوعیت کے کردار ادا کیے۔ ان کی شناخت خاص طور پر ٹیلی وژن ڈراموں میں ایسے کرداروں سے بنی جن میں نفسیاتی پیچیدگی، جذباتی کشمکش اور مضبوط شخصی تاثر نمایاں ہوتا ہے۔ وہ اداکاری کے ساتھ ٹیلی وژن ہوسٹنگ اور پروگرام پریزینٹیشن سے بھی وابستہ رہے ہیں۔ ان کا شمار پاکستان ٹیلی وژن کے اس دور سے وابستہ فنکاروں میں ہوتا ہے جنہوں نے بعد میں نجی ٹی وی چینلز کے ڈراموں میں بھی مسلسل کام کیا۔
نعمان اعجاز 14 فروری 1965 کو لاہور میں پیدا ہوئے۔ ان کی پرورش لاہور کے علاقے اچھرہ میں ہوئی۔ ان کے والد ایک سنیما ہاؤس کے مینیجر تھے، اس لیے فلم اور تفریحی دنیا کا ماحول ان کے ابتدائی تجربات کا حصہ رہا۔ دستیاب سوانحی معلومات کے مطابق ان کا تعلق ایک پنجابی خاندان سے تھا اور ان کے ایک بڑے بھائی اور ایک چھوٹی بہن ہیں۔
تعلیم کے سلسلے میں انہوں نے Cathedral High School لاہور سے ابتدائی تعلیم حاصل کی۔ اس کے بعد Divisional Public School، Model Town میں تعلیم جاری رکھی اور Forman Christian College سے بھی تعلیم حاصل کی۔ بعد میں University of the Punjab، لاہور سے قانون کی تعلیم حاصل کی۔ ان کے خاندان کی خواہش تھی کہ وہ ڈاکٹر بنیں، جبکہ خود نعمان اعجاز کی دلچسپی نیوز کاسٹنگ اور میڈیا کی طرف تھی۔ بعد میں ان کا رجحان اداکاری کی جانب بڑھا اور یہی شوق ان کے پیشہ ورانہ سفر کا بنیادی راستہ بن گیا۔
ان کے ٹیلی وژن کیریئر کا آغاز 1980 کی دہائی کے آخر میں پاکستان ٹیلی وژن سے ہوا۔ مختلف دستیاب ذرائع ان کے ابتدائی ٹی وی کام کو 1988 یا 1989 کے آس پاس سے منسلک کرتے ہیں، اس لیے ان کے کیریئر کے ابتدائی سال کے بارے میں معمولی اختلاف ملتا ہے۔ تاہم یہ بات واضح ہے کہ ان کا عملی فنی سفر PTV کے دور سے شروع ہوا اور انہوں نے ابتدا ہی سے مختلف کرداروں میں کام کرنے کی کوشش کی۔
ابتدائی دور میں انہوں نے ایسے ڈراموں میں کام کیا جنہوں نے انہیں ٹیلی وژن کے ناظرین میں متعارف کرایا۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ان کے کرداروں میں تنوع آتا گیا۔ وہ صرف روایتی مثبت کرداروں تک محدود نہیں رہے بلکہ منفی اور پیچیدہ کردار بھی ادا کرتے رہے۔ یہی پہلو بعد میں ان کی اداکاری کی ایک نمایاں خصوصیت بن گیا۔
نعمان اعجاز کی اداکاری میں مکالمے کی ادائیگی، چہرے کے تاثرات اور کردار کی نفسیات کو نمایاں کرنے پر خاص توجہ دکھائی دیتی ہے۔ ان کے کیریئر میں ایسے کئی کردار موجود ہیں جن میں کردار کو مکمل طور پر اچھا یا برا دکھانے کے بجائے اس کی اندرونی کمزوریوں، مفادات اور جذباتی الجھنوں کو بھی جگہ دی گئی۔ یہی وجہ ہے کہ وہ مختلف نوعیت کے ڈراموں میں مختلف طبقوں اور مزاجوں کے کردار ادا کرتے رہے۔
ان کے ابتدائی اور نمایاں کاموں میں Sassi، Malangi، Dohri، Man-o-Salwa اور Khamoshiyan جیسے ڈرامے شامل ہیں۔ Lux Style Awards کی تاریخ میں بھی ان کے نام کے ساتھ متعدد ٹیلی وژن پرفارمنسز درج ہیں، جن سے اندازہ ہوتا ہے کہ ان کا کام ایک طویل عرصے تک ایوارڈز اور تنقیدی توجہ حاصل کرتا رہا۔
2000 کی دہائی میں ان کا کیریئر مزید مستحکم ہوا۔ Khamoshiyan میں ان کی اداکاری نے انہیں نمایاں پذیرائی دلائی اور وہ ٹیلی وژن کے معروف اداکاروں میں شمار ہونے لگے۔ بعد میں Kaghaz Ki Nao، Mera Saaein اور دیگر ڈراموں میں ان کی پرفارمنس نے ان کی شہرت کو مزید وسیع کیا۔ 9th Lux Style Awards میں Kaghaz Ki Nao کے لیے انہیں Best Television Actor (Terrestrial) کا اعزاز بھی دیا گیا۔
Mera Saaein میں ان کا کردار بھی ان کے اہم ٹی وی کاموں میں شمار ہوتا ہے۔ اس ڈرامے کے ذریعے انہوں نے ایک ایسے کردار کو پیش کیا جس میں طاقت، ذاتی مفادات اور خاندانی تعلقات کے مختلف پہلو نمایاں تھے۔ اسی طرح Badi Aapa، Rehaai اور Ullu Baraye Farokht Nahi جیسے ڈراموں میں بھی انہوں نے مختلف انداز کے کردار ادا کیے۔
Rehaai اور Ullu Baraye Farokht Nahi میں ان کے کردار خاص طور پر اس لیے نمایاں رہے کہ دونوں منصوبوں میں کردار کی منفی یا پیچیدہ جہتیں اہم تھیں۔ ان کرداروں کے ذریعے نعمان اعجاز نے یہ ثابت کیا کہ وہ صرف روایتی ہیرو کے کردار تک محدود نہیں بلکہ ایسے کردار بھی ادا کر سکتے ہیں جو کہانی میں تنازع اور جذباتی دباؤ پیدا کرتے ہیں۔ ان کے منفی کرداروں کو مختلف ایوارڈز میں بھی نامزدگی اور پذیرائی ملی۔
فلم کے شعبے میں بھی انہوں نے کام کیا۔ Ramchand Pakistani ان کی قابل ذکر فلموں میں شامل ہے، جس میں انہوں نے اہم کردار ادا کیا۔ یہ فلم پاکستانی سینما کے ان منصوبوں میں شمار ہوتی ہے جنہوں نے پاکستان کے عام شہریوں اور سرحدی حالات سے متعلق انسانی کہانی کو فلمی انداز میں پیش کیا۔ نعمان اعجاز نے اس کے علاوہ Small Voices اور Virsa جیسے فلمی منصوبوں میں بھی کام کیا۔
2010 کی دہائی میں بھی ان کی ٹیلی وژن سرگرمیاں جاری رہیں۔ Noorpur Ki Rani، Durr-e-Shehwar، Badi Aapa، Sang-e-Mar Mar، O Rangreza، Bhai اور Khan جیسے ڈراموں میں ان کے مختلف کردار سامنے آئے۔ Jackson Heights میں بھی انہوں نے کام کیا، جس میں بیرون ملک مقیم پاکستانی زندگی کے موضوعات کو ڈرامائی انداز میں پیش کیا گیا۔
Dar Si Jaati Hai Sila میں ان کا کردار ان کے کیریئر کے اہم کاموں میں شمار ہوتا ہے۔ اس ڈرامے میں انہوں نے ایک انتہائی پیچیدہ اور منفی کردار ادا کیا۔ اس پرفارمنس کے لیے انہیں 18th Lux Style Awards میں Best Television Actor — Critics' Choice کا ایوارڈ ملا۔ اس کردار نے ان کی اس صلاحیت کو دوبارہ نمایاں کیا کہ وہ مشکل اور اخلاقی طور پر متنازع کرداروں کو اس انداز میں ادا کر سکتے ہیں کہ وہ کہانی کا مرکزی حصہ بن جائیں۔
ٹیلی وژن کے علاوہ نعمان اعجاز نے بطور میزبان بھی کام کیا۔ وہ مختلف ٹی وی پروگراموں کی میزبانی کر چکے ہیں اور Dunya TV کے پروگرام Mazaaq Raat سے بھی وابستہ رہے۔ اس تجربے نے ان کے فنی کام کو صرف ڈرامہ اداکاری تک محدود نہیں رہنے دیا بلکہ انہیں براہ راست ناظرین سے گفتگو اور تفریحی پروگرام کی میزبانی کا تجربہ بھی ملا۔
حالیہ برسوں میں بھی وہ پاکستانی ڈراموں اور ویب پروجیکٹس کا حصہ رہے ہیں۔ Raqeeb Se، Parizaad، Sang-e-Mah، Kaisi Teri Khudgarzi اور دیگر منصوبوں میں ان کی شرکت نے ان کے طویل کیریئر کو نئی نسل کے ڈرامائی منصوبوں سے جوڑے رکھا۔ Mrs. & Mr. Shameem میں انہوں نے Saba Qamar کے ساتھ مرکزی کردار ادا کیا اور یہ ویب سیریز 2022 میں Zindagi کے پلیٹ فارم پر ریلیز ہوئی۔
ان کے فنی سفر میں ایوارڈز کی ایک طویل فہرست بھی موجود ہے۔ Lux Style Awards، Hum Awards اور PTV Awards میں ان کی اداکاری کو مختلف ادوار میں تسلیم کیا گیا۔ 2012 میں حکومت پاکستان کی جانب سے انہیں Pride of Performance بھی دیا گیا، جو پاکستانی فن اور ثقافت کے شعبے میں نمایاں خدمات کے اعتراف کے طور پر دیا جانے والا سول اعزاز ہے۔
نعمان اعجاز کی اہمیت صرف ان کے ادا کیے گئے کرداروں کی تعداد میں نہیں بلکہ اس بات میں بھی ہے کہ انہوں نے پاکستانی ٹیلی وژن میں کرداروں کی مختلف اقسام کو قبول کیا۔ ان کے کام میں روایتی خاندانی ڈرامے، سماجی موضوعات، سیاسی پس منظر، نفسیاتی کہانیاں اور منفی کردار سب شامل ہیں۔ انہوں نے مختلف ادوار میں PTV اور نجی ٹی وی چینلز دونوں کے ساتھ کام کیا، جس کی وجہ سے ان کا کیریئر پاکستانی ٹیلی وژن کی تبدیلی کے مختلف مراحل کا عکاس بھی سمجھا جا سکتا ہے۔
ان کی طویل فنی زندگی میں مسلسل کام کرنے کی ایک وجہ کردار کے انتخاب میں تنوع بھی ہے۔ وہ ایک ہی قسم کے کردار کو دہرانے کے بجائے مختلف عمر، سماجی حیثیت اور مزاج رکھنے والے کرداروں میں نظر آئے۔ اسی تنوع نے انہیں پاکستان کے ٹی وی اور فلمی شعبے میں ایک مستقل موجودگی فراہم کی۔ ان کا بیٹا Zaviyar Nauman بھی اداکاری کے شعبے میں کام کر رہا ہے، جس سے خاندان کی نئی نسل کا تعلق بھی پاکستانی شوبز سے قائم ہوا ہے۔
نعمان اعجاز کا فنی سفر پاکستانی ڈرامے کے ارتقا کے ساتھ آگے بڑھا ہے۔ PTV کے ابتدائی دور سے لے کر نجی چینلز، فلموں اور ویب سیریز تک ان کی موجودگی نے انہیں کئی نسلوں کے ناظرین سے جوڑا۔ ان کی پہچان خاص طور پر سنجیدہ، پیچیدہ اور کردار پر مبنی اداکاری کے حوالے سے بنی ہے۔ ان کا کام پاکستانی ٹیلی وژن کی تاریخ میں ایک طویل عرصے تک فعال رہنے والے اداکار کی حیثیت سے محفوظ ہے۔
نعمان اعجاز 14 فروری 1965 کو لاہور میں پیدا ہوئے۔ ان کی پرورش لاہور کے علاقے اچھرہ میں ہوئی۔ ان کے والد ایک سنیما ہاؤس کے مینیجر تھے، اس لیے فلم اور تفریحی دنیا کا ماحول ان کے ابتدائی تجربات کا حصہ رہا۔ دستیاب سوانحی معلومات کے مطابق ان کا تعلق ایک پنجابی خاندان سے تھا اور ان کے ایک بڑے بھائی اور ایک چھوٹی بہن ہیں۔
تعلیم کے سلسلے میں انہوں نے Cathedral High School لاہور سے ابتدائی تعلیم حاصل کی۔ اس کے بعد Divisional Public School، Model Town میں تعلیم جاری رکھی اور Forman Christian College سے بھی تعلیم حاصل کی۔ بعد میں University of the Punjab، لاہور سے قانون کی تعلیم حاصل کی۔ ان کے خاندان کی خواہش تھی کہ وہ ڈاکٹر بنیں، جبکہ خود نعمان اعجاز کی دلچسپی نیوز کاسٹنگ اور میڈیا کی طرف تھی۔ بعد میں ان کا رجحان اداکاری کی جانب بڑھا اور یہی شوق ان کے پیشہ ورانہ سفر کا بنیادی راستہ بن گیا۔
ان کے ٹیلی وژن کیریئر کا آغاز 1980 کی دہائی کے آخر میں پاکستان ٹیلی وژن سے ہوا۔ مختلف دستیاب ذرائع ان کے ابتدائی ٹی وی کام کو 1988 یا 1989 کے آس پاس سے منسلک کرتے ہیں، اس لیے ان کے کیریئر کے ابتدائی سال کے بارے میں معمولی اختلاف ملتا ہے۔ تاہم یہ بات واضح ہے کہ ان کا عملی فنی سفر PTV کے دور سے شروع ہوا اور انہوں نے ابتدا ہی سے مختلف کرداروں میں کام کرنے کی کوشش کی۔
ابتدائی دور میں انہوں نے ایسے ڈراموں میں کام کیا جنہوں نے انہیں ٹیلی وژن کے ناظرین میں متعارف کرایا۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ان کے کرداروں میں تنوع آتا گیا۔ وہ صرف روایتی مثبت کرداروں تک محدود نہیں رہے بلکہ منفی اور پیچیدہ کردار بھی ادا کرتے رہے۔ یہی پہلو بعد میں ان کی اداکاری کی ایک نمایاں خصوصیت بن گیا۔
نعمان اعجاز کی اداکاری میں مکالمے کی ادائیگی، چہرے کے تاثرات اور کردار کی نفسیات کو نمایاں کرنے پر خاص توجہ دکھائی دیتی ہے۔ ان کے کیریئر میں ایسے کئی کردار موجود ہیں جن میں کردار کو مکمل طور پر اچھا یا برا دکھانے کے بجائے اس کی اندرونی کمزوریوں، مفادات اور جذباتی الجھنوں کو بھی جگہ دی گئی۔ یہی وجہ ہے کہ وہ مختلف نوعیت کے ڈراموں میں مختلف طبقوں اور مزاجوں کے کردار ادا کرتے رہے۔
ان کے ابتدائی اور نمایاں کاموں میں Sassi، Malangi، Dohri، Man-o-Salwa اور Khamoshiyan جیسے ڈرامے شامل ہیں۔ Lux Style Awards کی تاریخ میں بھی ان کے نام کے ساتھ متعدد ٹیلی وژن پرفارمنسز درج ہیں، جن سے اندازہ ہوتا ہے کہ ان کا کام ایک طویل عرصے تک ایوارڈز اور تنقیدی توجہ حاصل کرتا رہا۔
2000 کی دہائی میں ان کا کیریئر مزید مستحکم ہوا۔ Khamoshiyan میں ان کی اداکاری نے انہیں نمایاں پذیرائی دلائی اور وہ ٹیلی وژن کے معروف اداکاروں میں شمار ہونے لگے۔ بعد میں Kaghaz Ki Nao، Mera Saaein اور دیگر ڈراموں میں ان کی پرفارمنس نے ان کی شہرت کو مزید وسیع کیا۔ 9th Lux Style Awards میں Kaghaz Ki Nao کے لیے انہیں Best Television Actor (Terrestrial) کا اعزاز بھی دیا گیا۔
Mera Saaein میں ان کا کردار بھی ان کے اہم ٹی وی کاموں میں شمار ہوتا ہے۔ اس ڈرامے کے ذریعے انہوں نے ایک ایسے کردار کو پیش کیا جس میں طاقت، ذاتی مفادات اور خاندانی تعلقات کے مختلف پہلو نمایاں تھے۔ اسی طرح Badi Aapa، Rehaai اور Ullu Baraye Farokht Nahi جیسے ڈراموں میں بھی انہوں نے مختلف انداز کے کردار ادا کیے۔
Rehaai اور Ullu Baraye Farokht Nahi میں ان کے کردار خاص طور پر اس لیے نمایاں رہے کہ دونوں منصوبوں میں کردار کی منفی یا پیچیدہ جہتیں اہم تھیں۔ ان کرداروں کے ذریعے نعمان اعجاز نے یہ ثابت کیا کہ وہ صرف روایتی ہیرو کے کردار تک محدود نہیں بلکہ ایسے کردار بھی ادا کر سکتے ہیں جو کہانی میں تنازع اور جذباتی دباؤ پیدا کرتے ہیں۔ ان کے منفی کرداروں کو مختلف ایوارڈز میں بھی نامزدگی اور پذیرائی ملی۔
فلم کے شعبے میں بھی انہوں نے کام کیا۔ Ramchand Pakistani ان کی قابل ذکر فلموں میں شامل ہے، جس میں انہوں نے اہم کردار ادا کیا۔ یہ فلم پاکستانی سینما کے ان منصوبوں میں شمار ہوتی ہے جنہوں نے پاکستان کے عام شہریوں اور سرحدی حالات سے متعلق انسانی کہانی کو فلمی انداز میں پیش کیا۔ نعمان اعجاز نے اس کے علاوہ Small Voices اور Virsa جیسے فلمی منصوبوں میں بھی کام کیا۔
2010 کی دہائی میں بھی ان کی ٹیلی وژن سرگرمیاں جاری رہیں۔ Noorpur Ki Rani، Durr-e-Shehwar، Badi Aapa، Sang-e-Mar Mar، O Rangreza، Bhai اور Khan جیسے ڈراموں میں ان کے مختلف کردار سامنے آئے۔ Jackson Heights میں بھی انہوں نے کام کیا، جس میں بیرون ملک مقیم پاکستانی زندگی کے موضوعات کو ڈرامائی انداز میں پیش کیا گیا۔
Dar Si Jaati Hai Sila میں ان کا کردار ان کے کیریئر کے اہم کاموں میں شمار ہوتا ہے۔ اس ڈرامے میں انہوں نے ایک انتہائی پیچیدہ اور منفی کردار ادا کیا۔ اس پرفارمنس کے لیے انہیں 18th Lux Style Awards میں Best Television Actor — Critics' Choice کا ایوارڈ ملا۔ اس کردار نے ان کی اس صلاحیت کو دوبارہ نمایاں کیا کہ وہ مشکل اور اخلاقی طور پر متنازع کرداروں کو اس انداز میں ادا کر سکتے ہیں کہ وہ کہانی کا مرکزی حصہ بن جائیں۔
ٹیلی وژن کے علاوہ نعمان اعجاز نے بطور میزبان بھی کام کیا۔ وہ مختلف ٹی وی پروگراموں کی میزبانی کر چکے ہیں اور Dunya TV کے پروگرام Mazaaq Raat سے بھی وابستہ رہے۔ اس تجربے نے ان کے فنی کام کو صرف ڈرامہ اداکاری تک محدود نہیں رہنے دیا بلکہ انہیں براہ راست ناظرین سے گفتگو اور تفریحی پروگرام کی میزبانی کا تجربہ بھی ملا۔
حالیہ برسوں میں بھی وہ پاکستانی ڈراموں اور ویب پروجیکٹس کا حصہ رہے ہیں۔ Raqeeb Se، Parizaad، Sang-e-Mah، Kaisi Teri Khudgarzi اور دیگر منصوبوں میں ان کی شرکت نے ان کے طویل کیریئر کو نئی نسل کے ڈرامائی منصوبوں سے جوڑے رکھا۔ Mrs. & Mr. Shameem میں انہوں نے Saba Qamar کے ساتھ مرکزی کردار ادا کیا اور یہ ویب سیریز 2022 میں Zindagi کے پلیٹ فارم پر ریلیز ہوئی۔
ان کے فنی سفر میں ایوارڈز کی ایک طویل فہرست بھی موجود ہے۔ Lux Style Awards، Hum Awards اور PTV Awards میں ان کی اداکاری کو مختلف ادوار میں تسلیم کیا گیا۔ 2012 میں حکومت پاکستان کی جانب سے انہیں Pride of Performance بھی دیا گیا، جو پاکستانی فن اور ثقافت کے شعبے میں نمایاں خدمات کے اعتراف کے طور پر دیا جانے والا سول اعزاز ہے۔
نعمان اعجاز کی اہمیت صرف ان کے ادا کیے گئے کرداروں کی تعداد میں نہیں بلکہ اس بات میں بھی ہے کہ انہوں نے پاکستانی ٹیلی وژن میں کرداروں کی مختلف اقسام کو قبول کیا۔ ان کے کام میں روایتی خاندانی ڈرامے، سماجی موضوعات، سیاسی پس منظر، نفسیاتی کہانیاں اور منفی کردار سب شامل ہیں۔ انہوں نے مختلف ادوار میں PTV اور نجی ٹی وی چینلز دونوں کے ساتھ کام کیا، جس کی وجہ سے ان کا کیریئر پاکستانی ٹیلی وژن کی تبدیلی کے مختلف مراحل کا عکاس بھی سمجھا جا سکتا ہے۔
ان کی طویل فنی زندگی میں مسلسل کام کرنے کی ایک وجہ کردار کے انتخاب میں تنوع بھی ہے۔ وہ ایک ہی قسم کے کردار کو دہرانے کے بجائے مختلف عمر، سماجی حیثیت اور مزاج رکھنے والے کرداروں میں نظر آئے۔ اسی تنوع نے انہیں پاکستان کے ٹی وی اور فلمی شعبے میں ایک مستقل موجودگی فراہم کی۔ ان کا بیٹا Zaviyar Nauman بھی اداکاری کے شعبے میں کام کر رہا ہے، جس سے خاندان کی نئی نسل کا تعلق بھی پاکستانی شوبز سے قائم ہوا ہے۔
نعمان اعجاز کا فنی سفر پاکستانی ڈرامے کے ارتقا کے ساتھ آگے بڑھا ہے۔ PTV کے ابتدائی دور سے لے کر نجی چینلز، فلموں اور ویب سیریز تک ان کی موجودگی نے انہیں کئی نسلوں کے ناظرین سے جوڑا۔ ان کی پہچان خاص طور پر سنجیدہ، پیچیدہ اور کردار پر مبنی اداکاری کے حوالے سے بنی ہے۔ ان کا کام پاکستانی ٹیلی وژن کی تاریخ میں ایک طویل عرصے تک فعال رہنے والے اداکار کی حیثیت سے محفوظ ہے۔
کارنامے
• 2012 میں حکومت پاکستان کی جانب سے Pride of Performance کے سول اعزاز سے نوازا گیا۔
• Lux Style Awards میں مختلف ادوار کے دوران Best Television Actor کی کیٹیگریز میں متعدد بار کامیابی حاصل کی۔
• Kaghaz Ki Nao کے لیے Best Television Actor (Terrestrial) کا Lux Style Award حاصل کیا۔
• Dar Si Jaati Hai Sila میں اداکاری پر 18th Lux Style Awards میں Best Television Actor — Critics' Choice کا اعزاز حاصل کیا۔
• PTV Awards میں Dil Behkay Ga کے لیے Best Actor Jury کا ایوارڈ حاصل کیا۔
• Badi Aapa، Rehaai اور Ullu Baraye Farokht Nahi سمیت مختلف ڈراموں میں اداکاری پر Hum Awards میں اعزازات اور شناخت حاصل کی۔
• Lux Style Awards میں مختلف ادوار کے دوران Best Television Actor کی کیٹیگریز میں متعدد بار کامیابی حاصل کی۔
• Kaghaz Ki Nao کے لیے Best Television Actor (Terrestrial) کا Lux Style Award حاصل کیا۔
• Dar Si Jaati Hai Sila میں اداکاری پر 18th Lux Style Awards میں Best Television Actor — Critics' Choice کا اعزاز حاصل کیا۔
• PTV Awards میں Dil Behkay Ga کے لیے Best Actor Jury کا ایوارڈ حاصل کیا۔
• Badi Aapa، Rehaai اور Ullu Baraye Farokht Nahi سمیت مختلف ڈراموں میں اداکاری پر Hum Awards میں اعزازات اور شناخت حاصل کی۔
مشہور کام
Khamoshiyan
• Sassi
• Malangi
• Dohri
• Kaghaz Ki Nao
• Mera Saaein
• Badi Aapa
• Rehaai
• Ullu Baraye Farokht Nahi
• Jackson Heights
• Sang-e-Mar Mar
• O Rangreza
• Dar Si Jaati Hai Sila
• Raqeeb Se
• Parizaad
• Sang-e-Mah
• Ramchand Pakistani
• Mrs. & Mr. Shameem
• Sassi
• Malangi
• Dohri
• Kaghaz Ki Nao
• Mera Saaein
• Badi Aapa
• Rehaai
• Ullu Baraye Farokht Nahi
• Jackson Heights
• Sang-e-Mar Mar
• O Rangreza
• Dar Si Jaati Hai Sila
• Raqeeb Se
• Parizaad
• Sang-e-Mah
• Ramchand Pakistani
• Mrs. & Mr. Shameem
تاریخ پیدائش
14 Feb 1965
جائے پیدائش
لاہور، پنجاب، پاکستان