Friday, September 18, 2026
FB
صاحبزادہ محمد نذیر سلطان
سیاستدان

صاحبزادہ محمد نذیر سلطان

Sahibzada Muhammad Nazir Sultan
پیدائش: 12 Feb 1944 وفات: 05 Dec 2022 گاؤں حضرت سلطان باہو، ضلع جھنگ، پنجاب، پاکستان
6 ویوز
2026 شامل شد

تعارف

تعارف



صاحبزادہ محمد نذیر سلطان پاکستان کے معروف پارلیمانی سیاستدان تھے جن کا سیاسی سفر پانچ دہائیوں کے قریب پھیلا ہوا تھا۔ وہ ضلع جھنگ، بالخصوص شورکوٹ اور گڑھ مہاراجہ کے علاقے کی سیاست سے گہرا تعلق رکھتے تھے۔ ان کی سیاسی زندگی کا آغاز 1970 کے عام انتخابات سے ہوا اور اس کے بعد وہ مختلف ادوار میں قومی اسمبلی کے رکن منتخب ہوتے رہے۔ دستیاب انتخابی ریکارڈ کے مطابق وہ قومی اسمبلی کے رکن کی حیثیت سے چھ مرتبہ کامیاب ہوئے اور کئی انتخابات میں شکست کا بھی سامنا کیا۔ 2017 میں انہیں قومی اسمبلی کے ان اراکین میں شمار کیا جاتا تھا جو 1970 کی اسمبلی کے بعد بھی پارلیمانی سیاست میں فعال تھے۔

صاحبزادہ نذیر سلطان 12 فروری 1944 کو پیدا ہوئے۔ پنجاب یونیورسٹی کے تحقیقی جریدے میں شائع ہونے والی ایک تحقیقی تحریر کے مطابق ان کے والد کا نام سلطان نور الحسن تھا اور ان کا تعلق ضلع جھنگ کے گاؤں حضرت سلطان باہو کے ایک بڑے زمیندار خاندان سے تھا۔ اسی تحقیقی ماخذ میں انہیں حضرت سلطان باہو کے گدی نشین کے طور پر بیان کیا گیا ہے اور ان کی تعلیم ماسٹرز ڈگری تک بتائی گئی ہے۔ ان کا پیشہ زراعت سے بھی وابستہ رہا۔

ان کی ابتدائی زندگی اور تعلیم کی تفصیلی روزمرہ روایات کے بارے میں معتبر عوامی ریکارڈ بہت محدود ہے، اس لیے ان کے بچپن یا نجی زندگی کے بارے میں غیرمصدقہ واقعات شامل کرنا مناسب نہیں۔ تاہم دستیاب تحقیق سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ ان کی پرورش ایسے خاندانی ماحول میں ہوئی جہاں زمینداری، مقامی سماجی اثر و رسوخ اور دربار حضرت سلطان باہو سے تعلق اہم حیثیت رکھتے تھے۔ یہی پس منظر آگے چل کر ان کے سیاسی اور سماجی کردار میں بھی نظر آیا۔

عملی سیاست کا آغاز



صاحبزادہ محمد نذیر سلطان نے 1970 کے عام انتخابات میں جمعیت علماء پاکستان کے پلیٹ فارم سے قومی اسمبلی کا انتخاب لڑا۔ وہ انتخابی حلقہ NW-48، جھنگ-III سے کامیاب ہوئے اور پہلی مرتبہ قومی اسمبلی کے رکن بنے۔ یہ کامیابی ان کے طویل پارلیمانی سفر کی بنیاد بنی۔ الیکشن ریکارڈ کے مطابق انہوں نے بعد میں 1977 میں بھی قومی اسمبلی کی نشست حاصل کی۔

1977 کے انتخابات میں انہوں نے پاکستان پیپلز پارٹی کے امیدوار کی حیثیت سے جھنگ کے حلقے سے کامیابی حاصل کی۔ اس کے بعد ان کی سیاست کا ایک اہم مرحلہ شروع ہوا جس میں پیپلز پارٹی سے ان کی وابستگی نمایاں رہی۔ 1988 میں عام انتخابات کے بعد وہ ایک مرتبہ پھر قومی اسمبلی میں پہنچے۔ پھر 1990 اور 1993 کے انتخابات میں بھی انہوں نے اسی سیاسی علاقے سے کامیابی حاصل کی۔

1988 کے بعد ان کا شمار جھنگ کے ان سیاستدانوں میں ہونے لگا جو مسلسل انتخابی مقابلوں کے ذریعے قومی سیاست میں اپنی جگہ برقرار رکھے ہوئے تھے۔ 1990 کے عام انتخابات میں وہ Peoples Democratic Alliance کے امیدوار کے طور پر کامیاب ہوئے، جبکہ 1993 میں انہوں نے پیپلز پارٹی کے امیدوار کی حیثیت سے دوبارہ کامیابی حاصل کی۔ اس عرصے میں ان کا سیاسی تعلق بے نظیر بھٹو کی حکومت سے بھی رہا۔ معتبر اخباری ریکارڈ کے مطابق انہیں بے نظیر بھٹو کی کابینہ میں وزیر مملکت برائے امور خارجہ کا قلم دان دیا گیا۔

جھنگ اور شورکوٹ کی سیاست



ان کی سیاست کا بنیادی مرکز جھنگ کا علاقہ رہا۔ 2002 میں ڈان کی ایک رپورٹ نے انتخابی حلقوں کی نئی حد بندی کے تناظر میں واضح کیا کہ سابق NA-70 کا پورا علاقہ شورکوٹ تحصیل پر مشتمل تھا اور نذیر سلطان اس حلقے سے 1970، 1988، 1990 اور 1993 میں کامیاب ہو چکے تھے۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ شورکوٹ اور اس کے اردگرد کے علاقوں میں ان کی سیاسی موجودگی کئی انتخابی ادوار تک برقرار رہی۔

1997 کے انتخابات میں انہیں شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ اس کے بعد 2002 کے عام انتخابات میں انہوں نے National Alliance کے امیدوار کی حیثیت سے NA-90 سے حصہ لیا لیکن کامیاب نہ ہو سکے۔ 2008 میں بھی وہ انتخابی میدان میں موجود رہے اور اس مرتبہ پاکستان مسلم لیگ (ق) کے پلیٹ فارم سے انتخاب لڑا، تاہم کامیابی حاصل نہ کر سکے۔ ان دونوں انتخابات میں ان کا مقابلہ صائمہ اختر بھروانہ سے رہا۔

2013 کا انتخاب ان کے سیاسی سفر میں ایک اور اہم مرحلہ ثابت ہوا۔ انہوں نے آزاد امیدوار کی حیثیت سے NA-90، جھنگ-II سے الیکشن لڑا اور کامیابی حاصل کی۔ دستیاب انتخابی ریکارڈ کے مطابق انہیں 52,476 ووٹ ملے اور انہوں نے صائمہ اختر بھروانہ کو شکست دی۔ کامیابی کے بعد وہ مئی 2013 میں پاکستان مسلم لیگ (ن) میں شامل ہوگئے۔

2013 سے 2018 تک وہ قومی اسمبلی کے رکن رہے۔ اس دور میں ان کا شمار ان پارلیمانی اراکین میں ہوتا تھا جن کا سیاسی تجربہ کئی دہائیوں پر محیط تھا۔ 2017 میں ڈان نے انہیں 1970 کے عام انتخابات میں پہلی بار منتخب ہونے والے قومی اسمبلی کے آخری فعال اراکین میں شمار کیا تھا۔

سیاسی وابستگیوں میں تبدیلی



صاحبزادہ نذیر سلطان کے سیاسی سفر کی ایک نمایاں خصوصیت مختلف ادوار میں جماعتی وابستگیوں کی تبدیلی بھی تھی۔ انہوں نے اپنے طویل کیریئر میں جمعیت علماء پاکستان، پاکستان پیپلز پارٹی، Peoples Democratic Alliance، National Alliance، پاکستان مسلم لیگ (ق) اور پاکستان مسلم لیگ (ن) سمیت مختلف سیاسی پلیٹ فارمز سے انتخابات میں حصہ لیا۔ 2013 کے انتخابات میں آزاد حیثیت سے کامیابی کے بعد مسلم لیگ (ن) میں شامل ہوئے، جبکہ مئی 2018 میں مسلم لیگ (ن) چھوڑ کر پاکستان تحریک انصاف میں شامل ہوگئے۔

یہ تبدیلیاں اس دور کی پاکستانی انتخابی سیاست کے تناظر میں دیکھنے کی ضرورت ہے، جہاں بعض مقامی سیاسی رہنما مختلف ادوار میں قومی اور علاقائی سیاسی صف بندیوں کے مطابق جماعتی وابستگیاں تبدیل کرتے رہے۔ نذیر سلطان کا ریکارڈ بھی اسی وسیع سیاسی رجحان کی ایک مثال ہے۔ ان کے سیاسی سفر میں انتخابی کامیابیوں کے ساتھ شکستیں بھی شامل رہیں، جس سے ان کی سیاست کی مکمل تصویر سامنے آتی ہے۔

پارلیمانی اور حکومتی کردار



صاحبزادہ محمد نذیر سلطان کی قومی سیاست کا ایک اہم پہلو ان کا وفاقی حکومت میں وزیر مملکت برائے امور خارجہ کے طور پر کردار تھا۔ معتبر اخباری ریکارڈ اس عہدے کی تصدیق کرتا ہے اور انہیں بے نظیر بھٹو کے دور حکومت میں اس وزارت سے منسلک بتاتا ہے۔ اس ذمہ داری نے ان کے سیاسی کیریئر کو صرف جھنگ کی انتخابی سیاست تک محدود نہیں رکھا بلکہ انہیں وفاقی سطح پر حکومتی امور میں بھی کردار ادا کرنے کا موقع دیا۔

ان کی سیاسی سرگرمیوں میں اپنے حلقے کے مسائل بھی اہم رہے۔ جھنگ اور شورکوٹ کے علاقے میں سڑکوں، بنیادی ڈھانچے اور مقامی ترقی کے معاملات ان کے سیاسی حلقے سے متعلق رہے۔ تاہم ان کے نام سے منسوب ہر ترقیاتی منصوبے کو ذاتی کارنامہ قرار دینا درست نہیں ہوگا، کیونکہ ایسے منصوبوں میں حکومت، متعلقہ محکموں اور مختلف منتخب نمائندوں کا مشترکہ کردار ہوسکتا ہے۔

آخری سیاسی دور



2013 میں قومی اسمبلی میں واپسی کے بعد وہ 2018 تک پارلیمانی سیاست کا حصہ رہے۔ 2018 میں ان کی سیاسی سرگرمیوں کا ایک اہم پہلو اپنے بیٹے صاحبزادہ محمد امیر سلطان کی انتخابی سیاست میں آمد تھا۔ مقامی اخباری رپورٹس کے مطابق نذیر سلطان کے صاحبزادے نے 2018 کے انتخابات میں تحریک انصاف کے ٹکٹ پر حصہ لیا اور بعد میں قومی اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے۔

اس طرح جھنگ کی انتخابی سیاست میں ان کے خاندان کی موجودگی اگلی نسل تک منتقل ہوئی۔ نذیر سلطان کے اپنے سیاسی سفر میں 1970 سے 2018 تک تقریباً پانچ دہائیوں کی سرگرمی شامل رہی، جبکہ ان کے بیٹے نے بعد میں قومی سطح پر سیاسی کردار سنبھالا۔

وفات



صاحبزادہ محمد نذیر سلطان کا انتقال 5 دسمبر 2022 کو لاہور میں 78 برس کی عمر میں ہوا۔ ان کے انتقال کی خبر میں انہیں سابق وزیر مملکت برائے امور خارجہ کے طور پر بیان کیا گیا۔ ان کا جسد خاکی گڑھ مہاراجہ میں دربار حضرت سلطان باہو لایا گیا، جہاں ان کی نماز جنازہ ادا کی گئی اور انہیں آبائی قبرستان میں سپرد خاک کیا گیا۔

ان کے انتقال پر جھنگ کے سیاسی، سماجی اور سرکاری حلقوں کی شخصیات نے تعزیت کا اظہار کیا۔ ڈان کی رپورٹ کے مطابق ان کا چہلم بھی دربار حضرت سلطان باہو کے مقام پر منعقد ہوا، جس میں سیاسی شخصیات نے شرکت کی۔

صاحبزادہ محمد نذیر سلطان کی سیاسی شناخت بنیادی طور پر ان کی طویل پارلیمانی زندگی، جھنگ اور شورکوٹ کے انتخابی حلقے سے مسلسل تعلق، وفاقی سطح پر وزیر مملکت برائے امور خارجہ کی ذمہ داری اور مختلف سیاسی ادوار میں قومی اسمبلی کی نمائندگی سے بنتی ہے۔ ان کا سفر پاکستانی سیاست کے ان ادوار پر بھی روشنی ڈالتا ہے جن میں سیاسی جماعتوں کی صف بندیاں، انتخابی حلقوں کی حد بندی اور مقامی سیاسی خاندانوں کا کردار بار بار تبدیل ہوتا رہا۔ ان کی زندگی کے بعض نجی پہلوؤں کے بارے میں مستند مواد محدود ہے، اس لیے ان کے بارے میں تاریخی طور پر زیادہ قابل اعتماد تصویر ان کے انتخابی ریکارڈ، پارلیمانی کردار اور دستیاب تحقیقی و اخباری مواد سے سامنے آتی ہے۔

کارنامے

• 1970 کے عام انتخابات میں NW-48، جھنگ-III سے کامیاب ہو کر پہلی مرتبہ قومی اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے۔

• 1977 کے عام انتخابات میں جھنگ سے پاکستان پیپلز پارٹی کے امیدوار کی حیثیت سے قومی اسمبلی کی نشست حاصل کی۔

• 1988، 1990 اور 1993 کے عام انتخابات میں مسلسل تین مرتبہ قومی اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے۔

• بے نظیر بھٹو کی حکومت میں وزیر مملکت برائے امور خارجہ کی ذمہ داری سنبھالی۔

• 2013 کے عام انتخابات میں آزاد امیدوار کی حیثیت سے NA-90، جھنگ-II سے کامیابی حاصل کرکے دوبارہ قومی اسمبلی میں پہنچے۔

• 2017 میں وہ ان فعال پارلیمانی اراکین میں شمار ہوتے تھے جو 1970 کے عام انتخابات میں پہلی بار قومی اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے تھے۔

• تقریباً پانچ دہائیوں تک ضلع جھنگ، خصوصاً شورکوٹ کے سیاسی حلقے میں فعال رہے۔

• ان کے سیاسی سفر میں چھ قومی انتخابی کامیابیاں اور مختلف ادوار میں متعدد انتخابی مقابلے شامل رہے۔

مشہور کام

• 1970 کے عام انتخابات میں قومی اسمبلی کی رکنیت حاصل کرنا اور قومی سیاست میں عملی داخلہ۔

• 1988، 1990 اور 1993 کے انتخابات میں جھنگ سے مسلسل قومی اسمبلی کی نمائندگی۔

• بے نظیر بھٹو کے دور حکومت میں وزیر مملکت برائے امور خارجہ کی حیثیت سے وفاقی کابینہ میں خدمات۔

• 2013 کے عام انتخابات میں NA-90، جھنگ-II سے کامیابی حاصل کرکے قومی اسمبلی میں واپسی۔

• جھنگ اور شورکوٹ کے علاقے کی طویل عرصے تک قومی سیاسی نمائندگی اور مقامی سیاسی سرگرمیوں میں کردار۔
تاریخ پیدائش
12 Feb 1944
تاریخ وفات
05 Dec 2022
جائے پیدائش
گاؤں حضرت سلطان باہو، ضلع جھنگ، پنجاب، پاکستان