کتنی زلفیں اڑیں کتنے آنچل اڑے چاند کو کیا خبر
کتنا ماتم ہوا کتنے آنسو بہے چاند کو کیا خبر
مدتوں اس کی خواہش سے چلتے رہے ہاتھ آتا نہیں
چاہ میں اس کی پیروں میں ہیں آبلے چاند کو کیا خبر
وہ جو نکلا نہیں تو بھٹکتے رہے ہیں مسافر کئی
اور لٹتے رہے ہیں کئی قافلے چاند کو کیا خبر
اس کو دعویٰ بہت میٹھے پن کا وصیؔ چاندنی سے کہو
اس کی کرنوں سے کتنے ہی گھر جل گئے چاند کو کیا خبر
وصی شاہ کی مزید شاعری
غزل
سوچتا ہوں کہ اسے نیند بھی آتی ہوگی
سوچتا ہوں کہ اسے نیند بھی آتی ہوگی
یا مری طرح فقط اشک بہاتی ہوگی
وہ مری شکل مرا نام بھلانے والی
غزل
یا مری طرح فقط اشک بہاتی ہوگی
وہ مری شکل مرا نام بھلانے والی
بارہا تجھ سے کہا تھا مجھے اپنا نہ بنا
بارہا تجھ سے کہا تھا مجھے اپنا نہ بنا
اب مجھے چھوڑ کے دنیا میں تماشہ نہ بنا
اک یہی دکھ مرے مرنے کے لیے کافی ہے
غزل
اب مجھے چھوڑ کے دنیا میں تماشہ نہ بنا
اک یہی دکھ مرے مرنے کے لیے کافی ہے
ترے گلے میں جو بانہوں کو ڈال رکھتے ہیں
ترے گلے میں جو بانہوں کو ڈال رکھتے ہیں
تجھے منانے کا کیسا کمال رکھتے ہیں
تجھے خبر ہے تجھے سوچنے کی خاطر ہم
تجھے منانے کا کیسا کمال رکھتے ہیں
تجھے خبر ہے تجھے سوچنے کی خاطر ہم
اپنا تو چاہتوں میں یہی اک اصول ہے
اپنا تو چاہتوں میں یہی اک اصول ہے
تیرا بھلا برا ہمیں سب کچھ قبول ہے
یہ عمر بھر کا جاگنا بیکار ہی نہ جائے
غزل
تیرا بھلا برا ہمیں سب کچھ قبول ہے
یہ عمر بھر کا جاگنا بیکار ہی نہ جائے
آنکھوں سے مری اس لیے لالی نہیں جاتی
آنکھوں سے مری اس لیے لالی نہیں جاتی
یادوں سے کوئی رات جو خالی نہیں جاتی
اب عمر نہ موسم نہ وہ رستے کہ وہ پلٹے
غزل
یادوں سے کوئی رات جو خالی نہیں جاتی
اب عمر نہ موسم نہ وہ رستے کہ وہ پلٹے
میں اس حصار سے نکلوں تو اور کچھ سوچوں
میں اس حصار سے نکلوں تو اور کچھ سوچوں
تمہارے پیار سے نکلوں تو اور کچھ سوچوں
تری گلی کے علاوہ بھی اور قریے ہیں
تمہارے پیار سے نکلوں تو اور کچھ سوچوں
تری گلی کے علاوہ بھی اور قریے ہیں